شوکت اشفاقکالملکھاری

اے پی سی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ ۔۔ شوکت اشفاق

تحریک انصا ف کی حکومت اپوزیشن جما عتو ں کی طرف سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کا نفر نس کو ٹائیں ٹائیں فش قرار دے رہی ہے، تمام وزراء،مشیر اور کارندے ایک مرتبہ پھر یک زبان دہرا رہے ہیں کہ کسی کو رعایت نہیں ملے گی اور کرپٹ مافیا حکومت کے خلاف بوجوہ جمع ہوا ہے،جیل ان کا مقدر ہے کیونکہ یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں،این آر او کی نئی درخواست قبول نہیں ہوگی،پتا یہ لگانا چاہیے کہ میاں نواز شریف کو نیا بیانیہ کون دے رہا ہے،مذکورہ اے پی سی کرپشن بچاؤ تو ہوسکتی ہے لیکن جمہوری نہیں ہے۔
ادھر اے پی سی کے شرکاء نے وزیر اعظم عمران خان سے براہ راست استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے جو انتخابی اصلاحات،احتساب کا نیا قانون،سیاسی قیدیوں کی رہائی اور میثاق جمہوریت کے لئے قائم نظر ثانی کمیٹی پر مشتمل ہے،10دن کا الٹی میٹم ورنہ اکتوبر سے تحریک کا آغاز،جنوری میں لانگ مارچ اور مناسب وقت پر دھرنا،تحریک عدم اعتماد کی آپشن اوپن رکھی گئی ہیں اور اس مقصد کیلئے پی ڈی ایم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک سیاسی پلیٹ فارم سے مشترکہ جدو جہد کا آغاز کریں،البتہ اسمبلیوں سے استعفیٰ آخر ی مرحلہ ہوگا۔
اپوزیشن جماعتوں کے تیور سے لگتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے اسلام آباد میں دھرنے کے بعد ان کے سیاسی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اس مرتبہ وہ زیادہ قوت،جوش و خروش اور مل کر حکومت کے خلاف محاذ بنانے جارہے ہیں جس کا دعوی بھی کررہے ہیں کہ ون پوائنٹ ایجنڈا یعنی حکومت کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔اب اپوزیشن اس میں کس طرح سیاسی کامیابی حاصل کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنے ہی وزراء اور مشیروں کے ہاتھوں اس حال تک پہنچی ہے کہ ایک ایسی اپوزیشن جو بوجوہ اکٹھی نہیں ہورہی تھی انہیں نہ صرف اکٹھا کرنے کا کارنامہ سرانجام دے دیا بلکہ مستقبل میں بھی ان کیلئے خاصی آسانیاں پیدا کردی ہیں ویسے بھی حکومت کی میڈیا ٹیم اتنی کمزور ہے کہ کسی ایشو پر مناسب بیان یا جواب دینے کی بجائے گالم گلوچ پر اتر آتی ہے پرانی دھڑے بندیاں اور پسند و ناپسند کی لڑائیاں اب برابر جاری ہیں اور بیان ایسے کہ سننے پڑھنے والا ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔اس مرتبہ بھی اپوزیشن کو حکومتی میڈیا ٹیم کا شکرگزار ہونا چاہیے جس نے انہیں اکٹھا ہونے کیلئے مسلسل راستہ فراہم کئے رکھا جو پی ڈی ایم میں تبدیل ہوچکا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے وزیر اور مشیر اگر اس اے پی سی کو آسان سمجھ رہے ہیں تویہ ان کی بھول ہوگی کیونکہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک کے اندر بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے،مہنگائی عروج اور ملکی کرنسی تاریخی تنزلی کا شکار ہے،کاشتکار پریشان اور صنعت کار شش و پنج میں ہے صرف تعمیراتی انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات نے شہروں کے اردگرد قیمتی زرخیز زمینوں کے ساتھ آکسیجن مہیا کرنے والے درختوں اور باغوں کا بھی صفایا کردیا ہے اب ایسی صورت میں عوام حکومت کے ساتھ رہتی ہے یہ حکومتی پر دھانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے ایک عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کیلئے کیا اقدام اٹھائے ہیں یا پھر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی طرح دورہ ملتان کو سرکٹ ہاؤس تک محدود رکھنے کے عمل کی حمایت کی ہے اور پروٹوکول کیلئے گھنٹوں ٹریفک روکنے کے عمل میں قیمتی انسانی جان کے ضیاع کو اہمیت دی ہے گوکہ پنجاب حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی تعمیر کررہی ہے جس کیلئے سرکٹ ہاؤس میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی مگر کیا اس عمارت کی تعمیر سے پہلے اس خطے کے وہ تمام کام مکمل کرلئے گئے ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں ادھر تقاریر اور دعوؤں میں جن کاموں کا نام لیا گیا ہے اس کیلئے کئی سالوں سے سن رہے ہیں اور گزشتہ حکومت نے اس پر کئی منصوبوں پر کام شروع کرنے کیلئے فنڈز بھی مختص کررکھے تھے لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے اب دو سال بعد وہی کام دوبارہ اعلان کرکے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ایم این ایس انجینئرنگ یونیورسٹی کا نیا کیمپس پہلے ہی تعمیر کیلئے منظور شدہ ہے،ڈسٹرکٹ جیل کی شہر سے باہر منتقل کیلئے جگہ اور فنڈز متعدد مرتبہ مختص ہوئے ہیں،نشتر ٹو کیلئے فنڈز پائپ لائن میں ہیں،غلہ منڈی،ٹمبر اور لوہا مارکیٹ کیلئے منصوبے پہلے ہی چل رہے تھے جبکہ خواتین پر تشدد کے واقعات کے سدباب کے مراکز بھی فعال ہیں۔وزیر اعلیٰ بزدار نے اب نیا کیا تیر مارا ہے وہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملتان گھر جانے والی ملتان پبلک سکول روڈ پر سٹریٹ لائٹس نہ ہونے کا سخت نوٹس لیا اور میٹر و پولٹین کے تین اہلکاروں کو معطل کرکے اسی محکمے کے افسر کو اس کا انکوائری افسر مقرر کردیا یہ ان کا بغیر پروٹوکول دورہ تھا۔اب متی تل روڈ پر سول سیکرٹریٹ کی تعمیر کے معاملات بھی جلد سامنے آنے والے ہیں کیونکہ یہاں پہلے ہی تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس اختلافات کا شکار ہے اور وکلاء کسی صورت یہاں جانا چاہتے ہیں اور نہ عدالتیں شفٹ کرنے دیتے ہیں۔مجوزہ ڈسٹرکٹ جیل کی اراضی بھی اسی جگہ ہے،خواتین یونیورسٹی کو اسی روڈ پر جگہ الاٹ ہوگئی ہے یہاں کچھ نہ کچھ تعمیرات کا کام بھی جاری ہے جبکہ 500کے وی ہائی ٹینشن پاور سپلائی بھی سروں سے گزر رہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ ہوا ہے کہ ابھی سیکرٹریٹ کی تعمیر کا اعلان نہیں ہوا تھا کہ یہاں اراضی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہے،برسبیل تذکرہ اس کھیل میں ارا ضی کا کاروبار کرنے والے کئی دوست راتوں ر ا ت کام دکھا چکے ہیں۔
جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر بابائے جمہوریت اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد بنانے کے ماہر نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی جدوجہد اور کاوشوں پر انہیں ڈیمو کر یسی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ڈیموکریسی ایوارڈ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نوابزادہ (مرحو م) کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ افتخار احمد خان کو 15ستمبر ورلڈڈیمو کریسی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں دیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker