سبط حسن گیلانیکالملکھاری

رضا طور کا بستہ ۔۔ سبطِ حسن گیلانی

رضا ایک یتیم بچہ تھا۔وہ دوسال کا تھا جب اس کا باپ فوت ہوا۔باپ بھی ایک مزدور تھا جسے بیٹے کو پڑھانے کا شوق تھا۔یہ اس کا واحد خواب تھا جو ہر مزدور دیکھتا ہے مگر تعبیر کسی مقدر والے کو ہی ملتی ہے۔اس کے باپ کی زندگی میں ہم کبھی بھوکے نہیں سوئے۔وہ کام سے جب بھی گھر واپس لوٹتا رضا کے لیے تیلے پر لگی ہوئی میٹھی ٹافی ضرور لاتا جسے ننھا رضا چوستا رہتا اور وہ دیکھ کر خوش ہوتا رہتا۔ہمارے ہاں سالگرہ کا کوئی رواج نہیں تھا مگر رضا جب ایک سال کا ہوا تو اس کے باپ نے اس کی سالگرہ منائی۔ہم بازار سے اس کے لیے نئے کپڑے خرید کر لاے اور بڑا سا کیک بھی۔ایسا کیک پہلی مرتبہ ہمارے گھر آیا تھا۔میں نے اس کا ایک ٹکڑا اس کے منہ میں ڈالا تو وہ دیر تک میری انگلی چوستا رہا۔وہ لمس آج بھی میری انگلی پر ایک خوشبو کی طرح محسوس ہوتا ہے۔دوسری سالگرہ بھی ہم نے ایسی ہی منائی تھی۔پورے صحن کو رنگین غباروں سے سجا دیا تھا۔جب سالگرہ کے چوتھے دن وہ حادثہ پیش آیا جس نے دو سال کے رضا کو یتیم کر دیا تھا تو اس کے باپ کی لاش صحن میں جہاں لا کر رکھی تھی وہاں ابھی تک وہ غبارے ایک دھاگے سے بندھے جھول رہے تھے۔مجھے تو ہوش نہیں تھا ،ایک رشتے دار عورت نے وہ غبارے وہاں سے اتارے تھے۔ایک سرخ رنگ کا غبارہ دیکھ کر ننھا رضا مچل گیا تھا۔مگر وہ اسے نہیں دیا گیا۔جس کا مجھے آج تک افسوس ہے کیونکہ بعد میں ہمارے گھر ایسے غبارے کبھی نہیں آئے۔رضا کے باپ کے مرنے کے چوتھے روز رواج کے مطابق رضا کے سر پر باپ کے نام کی پگڑی باندھی گئی تھی۔پہلی بار اس کے نام کے ساتھ اس کے قبیلے کا نام پکارا گیا تھا۔رضا طور۔جو بعد میں اس کے سکول میں بھی لکھوایا گیا۔میں اکیلے میں اسے رضا طور کہہ کر بلاتی تو وہ اپنے سامنے والے دو دانت نکال کر ہنستا تو میں اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیتی۔وہ تھا بھی بہت پیارا بچہ جو بھی دیکھتا اسے پیار ضرور کرتا۔سرخ و سفید گالوں اور گھنے سیاہ بالوں والا موٹی بھوری آنکھوں والا بچہ۔اس کے باپ کے مرنے کے بعد رضا یتیم اور میں بیوہ ہو گئے تھے۔بس یہی ترکہ تھا جو ہمیں ملا۔ہاں ایک ٹوٹا پھوٹا مکان بھی تھا۔یہ مکان کہاں بس ایک کچی پکی جھونپڑی تھی۔شکر ہے کہ سر چھپانے کو چھت تو تھی۔مگر اب کما کر لانے اور کھلانے والا اس دنیا سے چلا گیا تھا۔اب مجھے ہی کچھ کرنا تھا۔مگر نہ تعلیم اور نہ ہنر۔گاؤ ں کے سکول سے پانچ جماعتیں پاس کی تھیں۔آ گے پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن لڑکیوں کا اس سے زیادہ پڑھنے کارواج نہیں تھا۔گاؤ ں کے لوگوں کے مشورے سے میں نے بچوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔جس سے دو وقت کے کھانے کا آسرا ہو جاتا۔ایک دو گھروں سے دودھ آ جاتا۔فصل کی بٹائی پر برادری اور گاؤ ں والے کچھ گندم دے جاتے۔ہر ماہ قرآن پڑھنے والے بچوں کے گھر سے کچھ نقد روپے بھی مل جاتے۔جو بچہ قرآن ختم کرتا تو اس کے ماں باپ مٹھائی کچھ نقد روپے اور ایک آدھ جوڑا کپڑوں کا دے جاتے۔جس دن مٹھائی آتی ننھا رضا بہت خوش ہوتا۔اسے مٹھائی میں لڈو سب سے زیادہ پسند تھے۔وہ چار سال کا ہوا تو میں نے اسے گاؤ ں کے سکول میں داخل کروا دیا تھا۔وہ لکھنے پڑھنے میں بہت لائق اور ہوشیار تھا۔پہلے چند ماہ میں ہی اس نے چھ تک پہاڑے یاد کر لیے تھے۔ایک ایک لفظ پر اپنی ننھی سی انگلی رکھ کر اپنا سبق یاد کرتا۔جس دن اس نے پہلا سپارہ ختم کیا میں اسے لے کر اس کے باپ کی قبر پرگئی تھی۔ہم دونوں نے اس دن اپنا سارا حال اسے بتایا تھا۔رضا نے اچھا اور بہت سارا لکھ پڑھ کر بڑا آدمی بننے کا اس سے وعدہ کیا تھا۔واپس آنے کو میں اٹھنے لگی تو رضا نے اپنے باپ کی قبر کے سرہانے والے پتھر کو گلے لگا کر اسے چوم کر کہا تھا۔بابا خدا حافظ۔تم فکر نہ کرنا میں دل لگا کر پڑھوں گا۔اس وقت وہ پورے پانچ سال کا نہیں تھا۔میں نے تو اسے ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔شاید باپ سے گلے ملنے کو اس کا دل کرتا ہو۔اس دن ہم ماں بیٹا گلے لگ کر بہت روے تھے۔اس کے چھوٹے سے دل کی دھڑکن اب بھی میرے دل کے ساتھ والی جگہ پر محسوس ہوتی ہے۔جہاں لگ کر اس کا یتیم اور دکھی دل رویا تھا۔اب میں اس کے سکول جانے سے پہلے اسے ساتھ لے کر سبزی منڈی چلی جاتی ،وہاں سے گری ہوئی سبزیاں اٹھا لاتی جس سے گھر کی ہانڈی پک جاتی۔اسے بھنڈی کی سبزی بہت پسند تھی۔اب وہ چھ سال کا ہونے والا تھا۔اب وہ اکیلا سبزی منڈی چلا جاتا۔میں اس کے جانے کے بعد ناشتہ تیار کر لیتی۔وہ سبزی کا تھیلا میرے ہاتھ میں دے کر جلدی سے ناشتہ کرتا اور بستہ اٹھا کر سکول چلا جاتا۔وہ سکول سے کبھی لیٹ نہیں ہوا تھا۔بس کبھی کبھی دیر سے اُ ٹھتا تو ضد کر بیٹھتا کہ آج سبزیاں لینے نہیں جاؤ ں گا۔اس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔کہنے لگا آج میں تھکا ہوا ہوں بس مجھے ناشتہ دو میں سکول جاؤ ں گا۔میں ناراض ہوئی کہ گھر میں کچھ نہیں ہے سکول سے واپس آ کر کیا کھاؤ گے۔کہنے لگا پہلے ناشتہ بنا کر دو بھوک لگی ہے پھر جاؤں گا۔میں نے لاڈ کرتے ہوئے پیار کرتے ہوئے اس کے گال چوم کر کہا نہیں میرے بچے اس طرح دیر ہو جائے گی ۔سبزی بھی نہیں ملے گی اور سکول سے بھی دیر ہو جائے گی۔بس وہ آخری بوسہ تھا جو میں اسے دے سکی۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک دھماکہ سنائی دیا۔میں ننگے سر ننگے پاؤ ں دوڑی۔وہاں پہنچی تو بکھری ہوئی مٹی میں ملی ہوئی سبزیاں اور کٹے پھٹے انسانی اعضاء  تھے۔میں ایک ایک کونے میں گرتی اسے پکارتی۔واپس آ جاؤ میرے چاند میرے دل کے ٹکڑ ے میرے یتیم میرے غریب بچے۔مگر وہ نہیں آیا۔پھرایک کونے سے مجھے ایک چھوٹا سا پھٹا ہوا گرد آلود جوتا ملا جس کے اندر خون کا ایک لوتھڑا تھا جسے میں نے اپنے منہ اور سینے پر مل لیا۔جوتے کو اپنے سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گئی۔شام کو طوری رشتہ دار ایک چھوٹی سی گٹھڑی گھر لائے تھے اور پھر رات کے اندھیرے میں اس کے باپ کی قبر کی پائنتی دفن کر آئے۔۔دوسرے دن میں اٹھی تو اس کا بستہ سینے سے لگایا اسے چوما اور جاکر اسے بھی اس کے باپ کی قبر میں اس کے سینے کے برابر رکھ کر دفن کر آئی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker