اختصارئےسبط حسن گیلانیلکھاری

وسوسوں مُغالطوں اور مکروفریب میں اُلجھی ہوئی زندگی ۔۔ سبط حسن گیلانی

یہ آج کا قصہ کہاں ہے۔ نہ دو چار برس کی بات ہے۔نہ صدی یا نصف صدی کی کہانی ہے۔یہ تو انسانی زندگی کی ابتدا کے ساتھ ہی موت کی طرح اُس کے گلے میں باندھ دی جانے والی ایک تلخ حقیقت ہے۔معلوم تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو تہہ در تہہ کھولتا چلا جاتا ہے۔کہ بنی نوع انسان کو ایک طبقے نے قدم قدم پر بہکایا،فریب دیا۔ وسوسوں میں مبتلا کیا۔جتنے بھی مذاہب اور ان کے بانی اس دنیا میں آئے، انہوں نے انسانی زندگی کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔بہت ساری کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ لیکن شومی قسمت کہ جب یہ مذاہب اس طبقے کے ہاتھ لگے جنہوں نے اسے اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنایا۔تب سے یہ مذاہب بھی اپنی اصل روح سے محروم ہوتے چلے گئے۔آج جب اس طبقے کی طرف اُنگلی اُٹھائی جاتی ہے تو یہ طبقہ توہینِ مذہب اور توہینِ انبیاء کے نام پر طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔اور اس کا الزام لبرل طبقے پر دھر دیتا ہے۔ کوئی ایسا بندہ بشر جو خود کو لبرل، جمہوریت پسند یا آزاد خیال کہتا ہو،پاگل ہی ہو گا جو کسی کی مذہبی دل آزاری کرے، یا اس سے بڑھ کر کسی مذہب یا اُس کے بانی کی معاذاللہ توہین کرے۔ ایسا کرنے والا مشرق ہو یا مغرب کسی بھی انسانی سماج میں عزت نہیں پا سکتا۔آپ مغرب کے کسی بھی آزاد سے آزاد خیال معاشرے میں چلے جائیں۔ وہاں کی اکثریت مذہب ِ عیسوی یا اس کے بانی یسوع مسیح کے متعلق کسی کو کوئی توہیں آمیز بات کہتے دیکھے یا سُنے ۔تو وہ ایسے فرد کو تشدد سے بچتے ہوئے تو دیکھ لیں گے۔ اس لیے کہ وہ بہرحال مہذب معاشرے ہیں لیکن اُس شخص کو عزت پاتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ ہر معاشرے میں چند دانے ایسے نکل آتے ہیں ۔مگر مہذب معاشرے ایسے لوگوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان سے نمٹنے کا یہی سب سے مناسب طریقہ ہے۔ مہذب معاشرے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سو فی صد جھوٹ کو بھی بولے جانے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اگر بولا نہیں جائے گا تو کھلے گا کیسے؟۔مشہور فرانسیسی دانشور والٹیر کا کہنا تھا۔ مجھے تم سے سو فی صد اختلاف کا حق ہے، لیکن میں تمہارے بولنے کے حق کے ساتھ کھڑا ہوں۔ہمارے تو مذہب کا طرہ امتیاز ہی یہ ہے کہ اس نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک صحرائی خانہ بدوش قبائلی معاشرے میں یہ اعلان کیا۔ اگر سچے ہو تو دلیل لے کر آؤ۔اگر آج ایک طبقہ بات سننے کو ہی تیار نہیں، اور وہ طبقہ خود کو مذہبی طبقہ کہے جانے پر مصر ہے تو وہ کہاں تک مذہبی ہو سکتا ہے؟ مذہب بالخصوص اسلام تو دلیل و برھان کو دعوت دینے والا مذہب ہے۔دوسری طرف بہت سارے ایسے معاملات و مسائل ہیں جن کا براہ راست مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔مثلاً نظریہ پاکستان، ریاست کی خارجہ و داخلہ پالیسی، جمہوری و غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش۔نیشنل سکیورٹی سٹیٹ یا ایک فلاحی ریاست ہونے کی بحث۔یہ ایسے معاملات ہیں جن پر کھلے عام بحث ہونی چاہیے۔ اس موضوع پر ایک مسلسل مکالمہ ہونا چاہیے۔تاکہ ہم ایک درست سمت کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ہماری ستر سالہ ملکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارا یہ سفر رائیگاں ثابت ہوا، آخر ہم کب تک دائرے کے سفر میں کنوئیں کے ایک بیل کی طرح جتے رہیں گے۔ کب تک ریاست اور مقتدر قوتیں ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس سفر میں شریک کیے رکھیں گی۔دائرے کے اس سفر نے پوری ایک قوم کا راستہ کھوٹا کیا ہے۔ ایک طبقے نے اقتدار پر قابض رہ کر اپنے گھر دولت سے بھر لیے ہیں اور عوام کی اکثریت روٹی کے دو نوالوں کو ترس رہی ہے۔ان کے پاس زندگی کی وہ بنیادی سہولتیں بھی نہیں ہیں جو ایک مجرم کے لیے قید خانے میں بھی اس کا حق سمجھ کر فراہم کی جاتی ہیں۔جب کوئی شخص مذہب کو اپنے سیاسی و گروہی مفادات کی خاطر استعمال کرنے والے طبقے کی طرف انگلی اٹھاتا ہے تو اس پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر اس پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ اور ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ سو فی صد غیر مذہبی معاملات پر انگلی اٹھانے کو بھی توہینِ مذہب قرار دے دیا جاتا ہے۔اب غداری و ارتداد کو ایک ساتھ ہی برتا جا رہا ہے۔ ریاست کی غلط پالیسیوں پر انگشت نمائی غداری اور ریاست کی نہ صرف مذہب بلکہ ایک خاص مسلک کی سرپرستی پر سوال اٹھایا جائے تو مذہب دشمنی کا الزام ۔ایک ریاست اِن طور طریقوں سے کتنی دیر چل سکتی ہے؟۔ اس ابہام نے ان وسوسوں نے ان غلط فہمیوں نے اور اس مکروفریب نے کسی شے کو نقصان پہنچایا ہے ، کسی کو کمزور کیا ہے۔ تو اس کا نام ہے پاکستان ہے۔تعلیم کا میدان ہو یا صحت کی صورتِ حال ، بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہو یا بین الاقوامی انسانی برادری میں برابری اور عزت کا کوئی مقام، پاکستان ہر جگہ ڈھلوان پر نیچے کی طرف لڑھکتا اور گرتا ہوا ہی نظر آتا ہے۔آج کی سب سے بڑی بین الاقوامی سچائی یہ ہے کہ کسی بھی قوم نے ترقی تعلیم کے بغیر حاصل نہیں کی۔کسی ایک قوم کا نام بتائیں جس نے تعلیم کے میدان میں پیچھے ہو کر بھی ترقی کی طرف قدم بڑھایا ہو؟۔جن معاملات پر ہم بحث کرنے سے روکتے ہیں ، جو معاملات ہم حل نہیں کر پا رہے۔جن سوالات کے جوابات ہمیں سوجھ نہیں رہے۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا آج سے پانچ سو سال پہلے ان معاملات کو طے کر چُکی ہے۔ان سوالات کے تسلی بخش جوابات دے کر ان کا حل بھی تلاش کر چُکی ہے۔ہم کب تک خود بھی اور عوام کو بھی ان بھول بھلیوں میں بھٹکتے اور بھٹکاتے رہیں گے۔ جب تک ہم ان معاملات کو طے کر کے آگے نہیں بڑھتے ترقی تو دور کی بات اس غربت تنگ دستی بنیادی انسانی حقوق کی عدم دستیابی جیسی دلدل سے ایک انچ بھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ بہتری کی طرف سفر کا نقطہ آغاز ہر موضوع پر کھلے دل سے مکالمہ ہے۔آج کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنے سفر کی ابتدا اسی مقام سے کی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker