2018 انتخاباتسبط حسن گیلانیکالملکھاری

یہ ہوتے ہیں انصاف کے تقاضے ۔۔ سبط حسن گیلانی

بیلجیم میں ہمارے ایک دوست تھے ۔بٹ صاحب ۔ جنرل سٹور چلاتے تھے ۔ یار باش اور زندگی سے لطف لینے والے بندے تھے ۔ جو کماتے سال بعد پاکستان جا کر لٹا آتے ۔ زیادہ وقت بازار حسن میں گزارتے ۔وہاں کی کہانیاں مزے لے لے کر سناتے ۔ ہم انہیں درپیش خطرات سے آگاہ کرتے مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اس طرح نکال دیتے جیسے چائے کے کپ سے مکھی نکالی جاتی ہے ۔ بٹ صاحب مگر جمعہ بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے باقی کے اوقات میں خوب محنت کرتے دکان پر شراب کی موجودگی سے دل گرفتگی کا اظہار بھی کرتے ۔ مگر مسجد کو چندہ اور رمضان شریف میں افطاری کا بندوبست کر کے اظہار اطمینان کرتے کہ رب کو بھی راضی کرنے کی کوشش کی ہے اور پھر اوپر آسمان کی طرف گھور کر دیکھتے جیسے وہاں موجود خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ پھر ٹھنڈی ساہ بھر کر کہتے ربا نک نک گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اس میٹھی دنیا سے منھ موڑ بھی نہیں سکتے مگر جانتے ہیں تو بخشن ہار ہے ۔ جو بھی ملنے جلنے والا دکان پر آتا ٹھنڈی ٹھار بیئر نکال کر فوراً پیش کرتے جو انکار کرتا تو کہتے سوہنڑیو کوئی گل نہیں کولا پی لوو پھر لپک کر کولے کا ٹن فریج سے کھینچ کر مہمان کی طرف بڑھا دیتے اور بیئر اپنے پاس سرکا لیتے ۔ دکان کے غلے کے ساتھ حیوان ذبح کرنے والی چھری سے خاصی بڑی اور تلوار سے قدرے چھوٹی کٹار بھی رکھی ہوئی تھی ۔ پوچھنے پر بتاتے کہ بٹ ہیں جوانی میں کشتی وغیرہ لڑ لیا کرتے تھے اب انج پیروں میں وہ جان نہیں رہی اس لیے اوکھے سوکھے ویلے واسطے یہ رکھ لی ہے ۔ ایک دن نصف شب کو ایک جنکی دکان میں داخل ہوا اور بیر کے تین چار ٹن ہاتھ میں پکڑ کر دکان سے کھسک گیا ۔ بٹ صاحب پیچھے کمرے میں رات کا کھانا کھا رہے تھے سی سی ٹی وی کیمروں سے بٹ صاحب نے یہ منظر دیکھ لیا ۔ لپک کر کٹار اٹھائی اور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے ۔ دوسری گلی کی نکڑ پر ہمارا فلیٹ تھا نیچے سے اونچی آوازیں سنیں تو آنکھ کھل گئی ۔ ساتھ ہی آواز بھی پہچان لی ۔ بالکونی سے جھانک کر دیکھا تو بٹ صاحب ہاتھ میں چمکتی کٹار لیے کھڑے ہیں پنجابی کی منھ بھر بھر کر گالیاں بک رہے ہیں اور سامنے ایک دبلا پتلا اونچا لمبا گورا کھڑا تھر تھر کانپ رہا ہے ۔ میں تیزی سے نیچے اترا دوڑ کر ان کے ہاتھ سے کٹار لی اور کہا بٹ صاحب پاگل ہو گئے ہیں یہ گجرات نہیں ہے بیلجیم ہے ۔ دو یورو کی بیر پیچھے بندہ قتل کرنے لگے تھے ۔ اتنے میں موقع دیکھ کر گورے نے بیر کے ٹن نیچے گرائے اور بھاگ کھڑا ہوا ۔ یہ دیکھ کر بٹ صاحب نے پھر سے تلوار میرے ہاتھ سے لی میں نے بڑھا دی سوچا کہ اب اپنے کیے پر نادم ہیں مگر اچانک بٹ صاحب نے پھر سے للکارا مار کر گورے کا پیچھا کرنا شروع کیا ۔ آگے سے وہ گلی بند تھی گورا بے چارہ چوہے کی طرح پھر گھیرا گیا ۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ بٹ صاحب گورے کو تلوار کی نوک کے آگے لگائے واپس آ رہے ہیں ۔ جب وہاں پہنچے جہاں میں ششدر کھڑا تھا اور بیر کے ٹن ابھی تک وہیں پڑے تھے ۔پاس آ کر بٹ صاحب نے اسے اشارہ کیا اور پنجابی میں ہدایت کی کہ انہیں چک ۔ گورے نے جب وہ ٹن اٹھائے تو فرمایا ہنڑ نس جا اتھوں فر مڑ کے پچھوں نہ ویکھیں نہیں تے ماریا جائیں گا ۔ پھر مجھ سے کہا شاہ جی اس کھوتے دے پتر نوں دسو میں بیر دے واسطے اس دے پچھے نہیں آیا میں اس واسطے آیاں واں کہ اسیں بٹ آ ں ہس کے کوئی سانوں لٹ وی لوے تے اسیں برا نہیں منادے مغروں کوئی سانوں دا لاوے تے اسیں زمین اسمان ہک کر دینے آ ں ۔ اب میں نے کچھ انگریزی کچھ نیدر لینڈ کے ٹکڑے جوڑ کر ترجمانی کی تو گورا جو حیران کھڑا تھا سر جھکا جھکا کر بدانکت بدانکت تھینک یو تھینک یو کرتے ہوئے چلا گیا ۔ اتنے میں کسی نے فون کر دیا ہو گا پولیس کا ہوٹر سن کر بولے شاہ جی مامے آ گئے نیں ہنر آپاں چلدے آں ۔ اس جیسے کافی سارے کارنامے ان کے نامہ اعمال میں لکھے تھے اس لیے جب نیشنیلٹی اپلائی کی تو درخواست نا منظور کر دی گئی ۔ بٹ صاحب نے کورٹ میں اپیل کر دی ۔ کہنے لگے جب کورٹ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جج کی کرسی پر جو گوری بیٹھی تھی وہ تو میری مستقل کسٹمر تھی ۔ وہ سائیکل پر میری دکان پر آتی اور سیگریٹ خریدا کرتی تھی ۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے میری دکان پر آ رہی تھی مگر نہ میں نے کبھی پوچھا نہ کبھی اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ جج ہے ۔ حالانکہ اس سے اچھی ہیلو ہائے تھی ۔ اب میں سمجھا کہ اب تو واقفیت نکل آئی ہے تو سمجھو کم بنڑ گیا ۔ مگر بٹ صاحب کو اس وقت حیرانی ہوئی جب اس نے فائل پر ایک نوٹ لکھا ۔ جس کے بارے میں بٹ صاحب کو اپنی وکیل سے بعد میں پتہ چلا ۔ وہ نوٹ یوں تھا ۔ اس بندے کو میں گزشتہ کئی سال سے جانتی ہوں ۔ اس کی دکان سے سیگریٹ خریدنے باقاعدگی سے جاتی ہوں ۔ اور اس پاکستانی دکان دار کے بارے میں ایک رائے رکھتی ہوں ۔ اس کے نتیجے میں ممکن ہے میرا فیصلہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہ اترے اس لیے میں اس بندے کی فائل کو کسی دوسرے جج کی طرف بھیج دینے کی سفارش کرتی ہوں ۔ بٹ صاحب کو بعد میں نیشنیلٹی مل گئی تھی اور اس کے بعد جج اگنس نے بٹ صاحب کی دکان پر آ نا جانا کم کر دیا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker