ادبکتب نمالکھاری

”شگفتہ نامہ“ اور شگفتہ شفیق .. سراج احمد تنولی

”شگفتہ نامہ“ معروف شاعرہ ، افسانہ نویس اور کالم نگار شگفتہ شفیق کے افسانوں ، نظموں ، غزلوں ، مقالات، فن و شخصیت پر مضامین اور انٹرویوز پر مبنی ضخیم کتاب ہے ۔ اس سے قبل آپ کے تین شعری مجموعے شائع ہو کر قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔

” میردل کہتا ہے“ ۰۱۰۲ میں ، ”یاد آتی ہے “۲۱۰۲ میں ،”جاگتی آنکھوں کے خواب“ ۳۱۰۲ میں شائع ہوئے ۔ ان کے ادبی ذوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے وہ ہاﺅس وائف ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا کام کر رہی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ”شوق کا کوئی مل نہیں“ اسی محاورے پر شگفتہ شفیق پورا اترتی ہیں ، جس سے ان کی محنت اور لگن کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شگفتہ شفیق سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم برسوں سے آشنا ہیں ۔جب کبھی ان سے فون پر بات ہوتی ہے تو اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت اور مزاج اپنے نام کی طرح نہایت ہی شگفتہ اور شفیق ہے۔ مسکراہٹ ہمیشہ ان کے چہرے کی زینت بنی رہتی ہے ۔ہمیشہ دھیمے اور نرم لہجے میں بات کرنا ان کا خاصہ ہے ۔
تمام لکھنے اور پڑھنے والے شگفتہ شفیق کی تخلیقی صلاحیتوں کے متعرف ہیں۔

ان کا شمار پاکستان کی بہترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے ۔ نظم اور غزل کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ چاہے نظم ہو ، غزل ہو، افسانہ ہو ، مضامین ہوں یا پھر مختصر کہانیاں ہوں شگفتہ شفیق اس میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ان کی شاعری عورتوں کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں امن ، محبت ، ہجر،اداسی اور خوشی کا ذکر ملتا ہے۔جس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی کی تلخ حقیقتوں سے وہ آشنا ہیں اسی لیے ان کی شاعری میں تقریباً حقیقت کا عنصر موجود رہتا ہے۔

”شگفتہ نامہ“ میں ان کے افسانے بھی شامل ہیں ۔وہ بہترین افسانہ نویس بھی ہیں۔اچھے اور معیاری افسانے لکھ کر قاری تک پہنچانابھی ان کے سر ہے۔۴۱ افسانے ” شگفتہ نامہ ‘ ‘ میں شامل ہیں جن میں ”تیری گلی میں ، نقش وفا، سلسلے چاہ کے ، چہرے نہ دیکھ ، خود آگہی، ہم اکیلے ہیں، کھیل مقدر کا، سحر کا اندھیرا ، وہ اک لمحہ ، خالی گھر کے مکین، ایک سوال ، حقیقی سہارا ہے وہ، ایک موڑ ایسا آیا اور ایک روشن تاراڈوب گیا شامل “ہیں۔ ان کے افسانوں میں معاشرے میں موجود منافقت ، سماج کے دوہرے رویے، عدم برداشت اور معاشرے کے مختلف مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔
آپ بہترین نعتیہ کلام بھی لکھتی ہیں۔ نعت گوئی ایک مشکل فن ہے، عمومی طور پر اسے تیز دھار تلوار پر چلنے سے تشبیہہ دی جاتی ہے کیوں کہ یہ معاملہ رسول کریم ﷺ کی ہستی مبارک کا ہے جو وجہ کائنات و جانِ جہان ہیں۔نعت کہنے کے لیے دل و جان عشق نبی ﷺ میں مبتلا ہو تو اللہ پاک شعر کہنے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں کیوں کہ نعت ایک ایسی برکت والی صنف سخن ہے جو صرف عشاق کے ہاں ہی ظہور پذیر ہوتی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker