تجزیےسہیل وڑائچلکھاری

سہیل وڑائچ کا کالم: شہباز شریف واپس کیوں آئے؟

پاکستان کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے واپس آنے کی وجوہات بڑی واضح ہیں، بلاول بھٹو ان کی بیرون ملک موجودگی کو اپوزیشن کے غیر موثر ہونے کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بزدار سے ملاقاتیں اور ان منحرف اراکین کی طرف سے شریف خاندان کے بیرون ملک جانے کے طعنے ان کی فوری آمد کی بڑی وجہ ہے۔
حال ہی میں مریم نواز شریف کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر یہ کہنا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ہے ’ووٹ کو عزت دو‘ اور ’وزیر اعظم نواز شریف‘ اس بیانیے کے اصرار سے یہ واضح ہو گیا کہ ن لیگ کا ایک موثر گروہ ابھی تک نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کو ہی سٹرٹیجی قرار دیتا ہے اور وہ شہباز شریف کے مصالحتی بیانیے کو رہنما اصول ماننے سے انکاری ہے۔ان دو بیانیوں کے درمیان ن لیگ ایک نظریاتی اور سیاسی بحران کا شکار ہے جس کا واحد حل یہی تھا کہ نواز شریف یا شہباز شریف جیسا کوئی طاقت ور شخص آ کر پارٹی کے اندر اس تضاد کو ختم کرے۔
شہباز شریف کے اس دعوے سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ان کی فوری واپسی کی وجہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ملک میں رہیں اور پوری قوم مل کر اس وبا کا مقابلہ کرے۔ تاہم شہباز شریف جیسے تجربہ کار وزیر اعلیٰ نے سیاسی وجوہات کا بھی بغور جائزہ لیا ہو گا اور ان وجوہات کو بھی ضرور مدنظر رکھا ہو گا۔
شہباز شریف کی وطن واپسی کے ساتھ ہی پھر سے ڈیل کی افواہیں گرم ہو جائیں گی، ن لیگ کے بہت سے رجائیت پسند فوراً تبدیلی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے لیکن اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو کورونا وائرس اور معاشی مشکلات کی وجہ سے بجٹ تک کوئی سیاسی مشکل حل ہوتی نظر نہیں آتی۔
البتہ بجٹ کے بعد سیاست کروٹ لے گی اور اگر معشیت مزید بگڑ گئی تو یہ کروٹ بلآخر تبدیلی پر منتج ہو گی۔شہباز شریف کی واپسی کے موقع پر اگر اس مفروضے کا جائزہ لیا جائے کہ واقعی مقتدر قوتوں اور شریف خاندان کے درمیان ڈیل ہوئی تھی اور کیا اسی ڈیل کے نتیجے میں شریف خاندان کو ریلیف ملا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ن لیگ اور مقتدر طبقے لازماً ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اسے سٹرٹیجک دنیا میں ڈیل کرنا نہیں بلکہ انگیج کرنا کہتے ہیں۔
نواز شریف اور شہباز شریف کی لندن روانگی ہو یا پھر ن لیگ کی طرف سے آرمی چیف کی توسیع ہر قانون کی غیر مشروط حمایت یہ اسی رابطے رواں رکھنے کا نتیجہ نظر آتا ہے اسے ڈیل اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ اس بات چیت میں برابری کی بنیاد پر لو اور دو کا اصول کار فرما نہیں تھا۔
بلکہ نواز شریف کو باہر بھیجنا مقتدر قوتوں کی طرف سے ان کی بیماری کا احساس اور انھیں راستہ دینے کا ایک بہترین رویہ تھا جب کہ ن لیگ کی طرف سے آرمی چیف کے لیے ووٹ دینے کا معاملہ بھی جذبہ خیر سگالی کے تحت تھا اور شاید ن لیگ مخالف ووٹ دے بھی دیتی تو انھیں کیا ملتا اسی لیے انھوں نے اعلیٰ سیاسی اور اخلاقی اصول کو مدنظر رکھنے کی بجائے عملیت پسندی کو ترجیح دی۔
مسلم لیگ ن اس حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی یہی وجہ ہے کہ ایک مقتدر شخصیت، وزیر اعظم کی خواہش پر اہم ترین وزرا کے ایک وفد سے ملی اور اس وفد کو بتایا کہ شریف خاندان سے ایسی کوئی ڈیل نہیں، ایسا کوئی کم عقل ہی کرے گا کہ جنھیں خود نکالا ہو انھیں واپس بلا کر اقتدار دے۔
اس ملاقات کے بعد سب وزرا مطمئن ہو کر واپس آئے اس اہم ترین گفتگو میں یہ بتایا گیا کہ سب سیاسی قوتوں سے رابطے جاری رہتے ہے مگر کسی سے ایسی ڈیل نہیں ہو رہی کہ موجودہ حکومت کو فارغ کر کے کسی نئے کو لایا جائے۔
پاکستانی سیاست میں مقتدرہ کے کردار کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ مقتدرہ کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ تحریک انصاف ڈیلیور کرے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ ایسے لوگ ہوں جو صوبوں کو موثر طور پر چلائیں۔
پنجاب کے لیے چودھری پرویز الہی اور مخدوم احمد محمود جیسے نام بھی گردش میں رہے لیکن تاحال عمران خان ان تجاویز کو سختی سے رد کر چکے ہیں۔ مقتدرہ کی خواہش یہ ہے کہ نہ شریف خاندان اور نہ ہی زرداری خاندان کو مرکز میں کوئی بڑا کردار ملے مگر اس وقت مسئلہ یہ در پیش ہے کہ اگر تحریک انصاف کی مرکزی حکومت ہلتی ہے تو اس کا براہ راست فائدہ ن لیگ کو ہو گا اور اگر حالات یہی رہے تو اگلے الیکشن میں مسلم ن لیگ پنجاب میں بھاری اکثریت سے جیت جائے گی۔
مقتدرہ قوتوں کا خواجہ آصف اور شہباز شریف کے ساتھ ن لیگ سے رابطے ہیں کیونکہ فی الحال ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ جب تک ن لیگ کی طاقت کا کوئی متبادل یا شریف خاندان کا کوئی بڑا متبادل نہیں بن پاتا یہی سٹرٹیجی جاری رہے گی۔ شہباز شریف، خواجہ آصف اور بہت سے بڑے لیڈروں کی کوشش ہے کہ ن لیگ اور مقتدرہ قوتوں میں ایسی ڈیل ہو جائے جس سے انھیں دوبارہ اقتدار مل جائے اس حوالے سے وہ ماضی کی غلطیوں کی تلافی کے لیے بھی تیار ہیں۔
شہباز شریف کی واپسی کے بعد یہ رابطے مزید بڑھیں گے اور شہباز شریف کی حکمت عملی یہ ہو گی کہ وہ مقتدر طاقتوں کو موجودہ حکومت کی کمزوریوں اور اپنی پارٹی کی خوبیوں پر قائل کریں۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker