سہیل وڑائچکالملکھاری

سہیل وڑائچ کا کالم: ’اعلانِ لاتعلقی‘

جس ملک میں بھی معاشی بحران آتا ہے وہاں نہ صرف گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں بلکہ خاندانی رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پنجاب کے شہر لودھراں کی راجپوت کالونی کے رانا شبیر احمد کے اخبارات میں شائع شدہ بڑے بڑے اشتہارات کا چرچہ ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے والد نے اپنے حقیقی بیٹے رانا محمد ارسلان سے ’بوجہ نافرمانی، گستاخی اور غلط چال چلن‘ اعلان لاتعلقی کر دیا ہے۔
رانا محمد ارسلان ضلع لودھراں سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
بظاہر تو یہ ایک نجی اور خاندانی معاملہ ہے مگر معاشی بحران کا دور اور رانا ارسلان کا تحریک انصاف کا ضلعی سیکریٹری جنرل ہونا اس اشتہار لاتعلقی کو معنی خیز بنا دیتا ہے۔
لاتعلقی کے اسی طرح کے اعلان مختلف اینکرز، کالم نگار اور تجزیہ نگار بھی سنہ 2018 میں تحریک انصاف کی حمایت کے حوالے سے کر رہے ہیں ہر ایک کا عذر اور بہانہ الگ ہے مگر موضوع مشترک ہے کہ ’ہم سے تحریک انصاف کی حمایت کر کے غلطی ہوئی اب ہم ماضی کے خیالات سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں۔‘
جولائی کا مہینہ پاکستان میں بارشوں کے موسم کا ہوتا ہے، مون سون گردو غبار کو بٹھا دیتی ہے، بارش تیز ہو تو کئی جھونپڑیاں اور مکان بہا کر لے جاتی ہے۔
توقع کے عین مطابق جولائی میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سیاسی موسم میں تبدیلی کی افواہیں زوروں پر ہیں، فی الحال گھٹا ٹوپ سیاہ بادل شمالی علاقوں سے پنجاب کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان سیاہ بادلوں میں سے بار بار بجلیاں چمک رہی ہیں، گویا اس بار پنجاب میں بارش برسی تو خوب برسے گی اور بہت سا خس و خاشاک بہا کر لے جائے گی۔
کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں متبادل پر سنجیدہ گفتگو شروع ہو چکی ہے۔ علیم خان، اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری تحریک انصاف کے اندر سے متبادل ہو سکتے ہیں لیکن گجرات کے چودھریوں کے حوالے سے ابھی تک ابہام ہے، ظاہر ہے کہ ان کے اس دعوے میں وزن ہے کہ انھوں نے پنجاب کو بہتر طور پر چلا کر دکھا دیا تھا اور اگر انھیں دوبارہ موقع دیا گیا تو وہ اور بھی بہتر طور پر چلا سکتے ہیں۔
مگر اس حوالے مسئلہ یہ ہو گا کہ عمران خان چودھری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی مخالفت کریں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اکثریت تو تحریک انصاف کی ہے، ایسے میں اتحادی ق لیگ کو پنجاب میں زمام اقتدار دینے کا مطلب تحریک انصاف کی چھٹی ہو گا۔
دوسری طرف گجرات کے چودھری سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کی سیاست کا مقابلہ ان کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ گجرات کے چودھریوں اور عمران خان میں اس حوالے سے شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
تحریک انصاف کے اندر سے پنجاب میں چاروں متبادل ناموں کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ کی قابلیت اور اہلیت کے حوالے سے حکمران پارٹی کے خواب مکمل طور پر بکھرتے ہوئے نظر آئے ہیں اور اب لاتعلقی کا معاملہ بہت قریب ہے۔
دوسری طرف علیم خان آج کل بار بار وزیر اعظم سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور تیزی سے اس خلا کو دور کر رہے ہیں جو ان پر نیب مقدمات کے دوران عمران خان اور اُن کے درمیان پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بڑے بزنس مین ہیں، پہلے بھی وزیر رہے ہیں، تجربہ کار ہیں اور تحریک انصاف پنجاب میں ان کا بڑا قد کاٹھ ہے۔
تاہم ان پر نیب مقدمات کا داغ ہے اور دوسری طرف چودھری بھی انھیں آسانی سے قبول نہیں کریں گے کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتبار اور اعتماد نہیں کرتے۔
وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت صاحب فکر و نظر مخدو م رکن الدین کے صاحبزادے اور خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی ہیں۔ باہر کے پڑھے لکھے قابل اور اپنے موضوعات پر دسترس رکھتے ہیں، شوگر سکینڈل نے مخدومزکو نقصان پہنچایا ورنہ ان کا چانس سب سے زیادہ ہوتا۔
وزیر اعلیٰ بزدار کو دو لوگ بہت کھلتے ہیں، علیم خان اور اسلم اقبال۔
علیم خان ایک تو انھیں خاطر میں نہیں لاتے، دوسرا ان کا سیاسی اور جسمانی قد بھی ان سے بڑا ہے۔ علیم خان کو بزدار صاحب کے اسی حسد و عناد نے نیب سے گرفتار کروایا تھا۔ میاں اسلم اقبال بھی بزدار صاحب کی ’گڈ بکس‘ میں نہیں ہیں، لاہور کے مقبول آرائیں کی نقل و حرکت سے وزیر اعلیٰ کو شک ہوتا تھا کہ کہیں اسلم اقبال وزیر اعلیٰ بننے کے لیے لابنگ تو نہیں کر رہے۔
اسلم اقبال لاہور میں ایک بیکری چین کے مالک ہیں۔ ان کے بھائیوں کا شہر میں وسیع حلقہ اثر ہے۔ عمران خان بزدار سے مایوس ہوئے تو بھی بزدار مکمل طور پر بے اثر نہیں ہوں گے، ان سے متبادل کے بارے میں رائے لی جائے گی تو وہ علیم خان اور اسلم اقبال کےخلاف ہی رائے دیں گے۔
چوتھے متبادل محسن لغاری ہیں۔ اعداد و شمار کے ماہر، بہترین مقرر، زراعت پر اتھارٹی اور صوبائی وزیر آب پاشی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اگلا امیدوار شہری پنجاب اور لاہور سے ہو گا، اگر ایسا ہوا تو پھر علیم خان اور اسلم اقبال میں سے ایک کو چُنا جا سکتا ہے، اور اگر بزدار کا متبادل جنوبی پنجاب سے ہی ڈھونڈنا ہوا تو پھر ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری میں سے ایک ہو گا۔
ہوسکتا ہے کہ محسن لغاری ’ڈارک ہارس‘ ثابت ہوں، چودھری برادران اس کی مخالفت نہ کریں اور بزدار بھی ان کی حمایت کریں تو محسن لغاری کی لاٹری نکل سکتی ہے۔
لاتعلقی کے اس موسم میں یہ سب تو اندازے ہیں، جب تبدیلی کا موسم قریب آتا ہے تو مینڈکوں کی پنیری میں کئی نئے امیدوار پھدک کر باہر آ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سید ذوالفقار بخاری المعروف زلفی بخاری نے لاہور کا دورہ کیا، افواہ یہ تھی کہ وہ اپنے کزن یاور بخاری کو متبادل بنانے کے امکانات کا جائزہ لینے آئے تھے۔ تاہم یہ سب افواہیں ہیں۔
پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے چودھریوں کے ساتھ کیا انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے اگلے امیدوار کے چناؤ کے لیے یہ اہم ترین عنصر ہو گا۔
اعلان لاتعلقی چاہے والد کی طرف سے بیٹے کی ہو، معاشرے کا فرد سے ہو یا فرد کا معاشرے سے، لیڈر کا اپنے وسیم اکرم پلس سے ہو یا سیاسی کارکنوں کا اپنے لیڈر سے ہو یا صحافیوں اور دانشوروں کا اپنے ماضی کے خیالات سے، انتہائی افسوسناک ہوتا ہے۔ لاتعلقی مشکل ترین فیصلہ ہوتا ہے اور یہ تبھی کیا جاتا ہے جب امیدیں دم توڑ جاتی ہیں توقعات ختم ہو جاتی ہیں۔
سیاست کے حوالے سے آج کل ایسا ہی وقت ہے، اُمیدیں ہوا ہو گئی ہیں، نئی امیدیں پیدا ہونے میں ابھی وقت لگے گا، اس وقت تک لا تعلقی کے اعلانات ہوتے رہیں گے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker