سہیل وڑائچکالملکھاری

سہیل وڑائچ کا کالم: غیر متوقع جیت اور متوقع مشکلات

پاکستان تحریک انصاف کو توقع تھی کہ ایک بار سینیٹ الیکشن گزر جائے پھر سکون ڈاٹ کام ہو گا اور اگلے اڑھائی سال آرام سے گزریں گے مگر سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سیٹ سے غیر متوقع کامیابی اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست سے ایک بالکل نیا منظر نامہ تشکیل پا گیا ہے۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کے باقی ماندہ اڑھائی سال آسانی سے نہیں گزریں گے اور اپوزیشن سینیٹ میں اپنی فتح کے بعد پر اعتماد ہو کر بار بار حکومت پر وار کرے گی۔
فی الحال عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر کے اپنے اوپر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سب کو علم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نا خوش اور ناراض ہیں۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر لابنگ اور دباؤ کے باوجود پانچ حکومتی ارکان اسمبلی کا یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ ڈالنا اور سات ووٹوں کا مسترد ہونا، تحریک انصاف کی اندرونی صفوں میں اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر اعظم کو ارکان قومی اسمبلی سے اپنی ملاقاتوں کو بڑھانا چاھیے، ان کے مسائل میں دلچسپی لینی چاہیے کیونکہ وہی تو وزیر اعظم کا حلقہ انتخاب ہے اگر وہی ناراض اور نا خوش رہا تو حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان جب سے برسر اقتدار آئے ہیں یوسف رضا گیلانی کی جیت ان کے لیے پہلا بڑا سیاسی دھچکہ ہے۔ یہ جیت دراصل ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی منصوبہ بندی اور سیاسی دانش کمزور تھی وگرنہ حکومت میں ہوتے ہوئے ایسی شکست ممکن نہ تھی۔
آخر کیا وجہ ہے کہ کئی درجن وزیروں ،مشیروں ، گورنروں اور پس پردہ کرداروں کی موجودگی میں حکومت کو یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ اس کے ارکان اسمبلی اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور دارالحکومت کی نشست پر حکومت کو شکست ہو جائے گی۔
شروع میں سننے میں آیا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کی حمایت کے لیے جہانگیر ترین متحرک ہوں گے مگر دورہ فیصل آباد کے علاوہ ان کی کوئی سر گرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس جہانگیر ترین جیسا ایک بھی اور شخص نہیں جو سیاسی ڈیلنگ کا ماہر ہو بلکہ حد تو یہ ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر قانون فروغ نسیم اہم ترین سیاسی وزارتوں کے انچارج ہونے کے باوجود سیاسی طورپر امور مملکت میں دخیل نہیں ہیں۔
وزیر اعظم کی کچن کابینہ غیر سیاسی افراد پر مشتمل ہے اسی لیے حکومت کو جو پہلا سیاسی امتحان درپیش ہوا حکومت اسی میں ڈھے گئی۔ آنے والے دنوں میں حکومت کا سفر دشوار گزار ہو گا، کئی بحران کئی مشکلات آئیں گی، ان سیاسی معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک تجربہ کار سیاسی ٹیم کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنی سیاسی ٹیم کو منظم کریں اور قابل و ہوشیار لوگوں سے رہنمائی لیں تاکہ حکومت آئندہ کسی اور گڑھے میں نہ گرے۔ حکومت کو فوری طور پر ایسے وزیر خزانہ کی تلاش بھی ہو گی جو حفیظ شیخ کا صحیح متبادل ہو جو ان ہی کی طرح آئی ایم ایف کو بھی مطمئن کرے اور پاکستان میں بجٹ کی تقسیم پر بھی سب کو خوش کر سکے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حفیظ شیخ کو اس شکست کے بعد جلد یا بدیر مستعفی ہونا ہو گا۔
یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد اپوزیشن کا حوصلہ بڑھ گیا ہے اوراب وہ حکومت کے راستے میں احتجاج، عدم اعتماد اور لانگ مارچ کے کانٹے بچھانے میں اور زیادہ سوچ و بچار سے کام لے گی۔
پی ڈی ایم سے حکومت کے خلاف تحریک کے پہلے مرحلے میں جو غلطیاں ہوئیں اب اجتماعی قیادت ان کے سدباب کی کوشش کرے گی۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت سے پی ڈی ایم اب پارلیمانی اور سیاسی محاذ، دونوں پر کھیل سکے گی وگرنہ پہلے پارلیمانی محاذ پر طویل عرصے سے خاموشی تھی۔
اب اس بات کا بھی امکان ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کا آپشن بھی استعمال کرے اور سیاسی دباؤ کے لیے لانگ مارچ بھی کرے۔
سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے امیدوار بنانے، ان کی لابنگ کرنے اور پہلے دن سے آخری وقت تک پر امید رہنے والے آصف زرداری بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں ان کی بچھائی ہوئی سیاسی بساط میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کا چیئرمین بنانے کی کوشش بھی کریں۔ اگر پی ڈی ایم کی قیادت زرداری صاحب کی اس تجویز کو مان گئی تو حکومت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ ان کے لیے قانون سازی کو مشکل بنا دے گا۔
سینیٹ کے حالیہ الیکشن اور یوسف رضا گیلانی کی جیت نے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈسکہ ضمنی انتخاب اور سینیٹ الیکشن کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اور ان کے ہمدرد طبقے یہ دعوے کر رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اب نیوٹرل ہو گئی ہے اس نے نہ تو ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں کوئی حصہ لیا اور نہ ہی سینیٹ الیکشن میں اس کا کردار ہو گا تاہم سینیٹ الیکشن سے دو روز پہلے کچھ سرکاری لوگوں نے ایم این ایز کو حفیظ شیخ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا اور اس پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے باقاعدہ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے شکایت بھی پہنچائی۔
کہا جا رہا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین کو آخری ایک دو دنوں میں رابطہ کیا گیا تاہم یہ طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے صادق سنجرانی کے نو کانفیڈنس ووٹ والا کردار ادا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکی کہ اس کی پیٹھ اب ننگی ہے۔
تحریک انصاف کو جتنی پہلے سپورٹ تھی وہ اتنی ہی توقع کر رہی تھی مگر اس بار اتنی سپورٹ نہ ملی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار، اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ حفیظ شیخ شکست کھا گئے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker