بھارتی فوج کے کمانڈر جنرل بپن راوت آٹھ دسمبر کو ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنے خاندان سمیت لقمہ اجل بن گئے ۔ ہیلی کاپٹر میں جنرل بپن راوت کی بیگم سمیت گیارہ افراد سوار تھے یہ حادثہ تامل ناڈو کے علاقے نیلگری ہلز میں پیش آیا ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ ہیلی کاپٹر کی خرابی کے باعث پیش آیا ۔
جنرل بپن راوت اس وقت بھارتی فوج کی کمان سنبھالے ہوئے تھے ۔ جنرل بپن راوت 16 مارچ 1958 کو اترکھنڈ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان بھارتی فوج کا حصہ رہا ہے ۔ان کے والد لکشمن سنگھ راوت بھارتی فوج پر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک فائز رہے ۔
راوت نے 1958 میں بھارتی فوج میں کمشین حاصل کیا 11 گورکھا رائفل کی پانچویں بٹالین کا حصہ بنے اسی بٹالین کا حصہ ان کے والد بھی تھے ۔ 17 دسمبر 2016 کو بھارتی فوج کی کمان سنبھالی دلبیر سنگھ سوہاگ کے بعد 27 ویں آرمی چیف کا حلف اٹھایا ۔
دسمبر 2019 کو مدت ملازمت مکمل ہونا تھی لیکن بھارتی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کردی جس کے بعد ان کی مدت ملازمت بڑھی ۔
جنرل بپن راوت دیکھا جائے تو ایک ناکام جنرل ثابت ہوئے کیونکہ ان کی ہلاکت کے بعد ان کا نہ تو کسی مہنگی کالونی میں پلاٹ موجود تھا اور نہ ہی کوئی زرعی رقبہ حصے میں آیا۔۔ نا ہی کوئی اور ٹھاٹھ باٹھ تھے ۔
اور تو اور آنجہانی دوزخ مکانی کا دبئی میں کوئی محل یا کسی یورپی ملک میں کوئی جزیرہ بھی نہیں تھا۔۔ نا ہی بھارت کے اندر کسی شہر میں کمرشل ایریا میں سینکڑوں کینال کوئی سرکاری زمین حصے میں آئی ۔ اور نہ ہی کوئی بھائی پراپرٹی ڈیلر یا پراپرٹی سرمایہ کار سامنے آیا ۔ اور تو اور اس ہلاک ہونے والے جنرل کی امریکہ میں کوئی فوڈ یا پیزا چین بھی سامنے نہیں آئی ۔ ایک بڑی فوج کا بڑا جنرل ہوتے ہوئے وہ ان ”نعمتوں “سے محروم رہا ہے اس لیے وہ ایک ناکام جنرل ثابت ہوا ۔ حیرت کا امر تو یہ ہے کہ اس کو مرنے کے بعد نا تو کوئی جنت ملنی تھی نا حوریں اور نا ہی آسائشیں ۔ اس کے مذہبی عقیدے میں تو مرنے کے بعد کوئی حساب کتاب نہیں بس جل کر راکھ ہو جانا ہے لیکن پھر بھی اس ”فانی“ دنیا میں پلاٹ ، مکان ، جزیرہ ، کمرشل پلازے ، اربوں کا کاروبار کچھ نہ بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ناکام جنرل ثابت ہوا ۔ اگر جنرل بپن راوت اپنے بچوں کے لیے بڑی بڑی رہائش گاہیں ، جزیرے ، فوڈ چین اور کمرشل و زرعی رقبہ چھوڑ کر جاتا تو یقیناً کامیاب قرار پاتا ۔ لیکن جنرل بپن راوت نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا تو وہ ناکام ہوا۔یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ برما کے جرنیل یہ سب آسائشیں دنیا میںہی حاصل کر لیتے ہیں اور کوئی ان کے سامنے پر بھی نہیںمار سکتا ۔۔ دوستوجنرل راوت کی کہانی پڑھ کر آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہم بھارت کو یونہی تو برا نہیں کہتے ۔
فیس بک کمینٹ

