عمومی طور پر والدین کو اپنے بچوں سے شکوہ شکایت ہوتی ہیں لیکن بہت کم ایسا ہے کہ بچے والد کا شکوہ یا گلہ کسی عوامی تقریب یا مجمع میں کریں ۔ ملتان کے مخدوم شاہ محمود قریشی ایسا کرتے اکثر دکھائی دیتے ہیں ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی ملتان کے حلقہ 156 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہیں اور وزیر خارجہ جیسی اہم وزارت کا قلمدان بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے ۔ ملتان میں اپنے حلقے 156 یا بیٹے مخدوم زین قریشی کے حلقے این اے 157 میں عوامی اجتماعات میں جاتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں ملتان جو مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے خاص طور پر این اے 157 اور این اے 156 مسائلستان بنا ہوا ہے اس کی وجہ پچھلے حکمران ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس شہر میں حکومت کی یا اقتدار ان کے پاس تھا تو نہ انہوں نے اس شہر کے سیوریج مسائل کو حل کیا نا سڑکیں بناییں نا پارک بنائے نہ تفریح گاہوں پر توجہ دی نہ سکول کالج کی تعمیر کی دراصل ان کا اشارہ ماضی کے حکمرانوں کی طرف ہی ہمیشہ رہا ہے ۔ جبکہ "ماضی ” کے برسر اقتدار طبقے کی بات کریں تو مخدوم شاہ محمود قریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی بھی پنجاب کے گورنر رہے ان کا شمار بھی شہر کے برسر اقتدار طبقے میں آتا ہے ۔
مخدوم سجاد حسین قریشی 30 دسمبر 1985 سے 9 دسمبر 1988 تک پنجاب کے گورنر رہے اس دوران وہ صوبہ کے مظبوط عہدے پر براجمان تھے ۔ اگر وہ چاہتے تو اس شہر کی حالت بدل سکتے تھے ۔ ضیاء الحق کے بہت قریب تھے یہی وجہ ہے ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران اہم صوبے کے اہم عہدے پر فائض تھے اگر وہ چاہتے تو اس شہر کی حالت بدل سکتے تھے ۔ اس شہر کو جدید خطوط پر استوار کرسکتے تھے ۔ شہر میں جدید سیورج نظام ، صاف پانی کی فراہمی ، پختہ سڑکیں ، سہولیات کے مراکز ، تعلیمی درسگاہوں کا قیام ، علاج معالجہ فراہم کرنے والے ہسپتال ، بنیادی مراکز صحت سمیت اہم خدمات انجام دیتے تو آج ان کے فرزند مخدوم شاہ محمود قریشی عوامی اجتماعات میں "ماضی” کے حکمرانوں کو کوس نہ رہے ہوتے بلکہ عوامی اجتماعات میں خوشی سے بتاتے ہے کہ ان کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی نے اس شہر کو بدل دیا یہاں بہتر نظام زندگی لائے یہ وجہ ہے کہ جیسے مخدوم شاہ محمود قریشی اپنے والد سے شکوہ کرتے دکھائے دیتے ہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے اس شہر کی حالت نہ بدلی اور نہ کوشش کی اسی طرح مخدوم زین قریشی بھی والد اور دادا سے شکوہ کرتے دکھائے دیتے ہیں وہ بھی اپنے حلقے اور شہر کی ناگفتہ بہ حالات زار پر شکوہ کناں ہیں کہ "ماضی” کے حکمرانوں نے کیا کیا ؟ شاید ان کا اشارہ دادا مخدوم سجاد حسین قریشی سے زیادہ والد مخدوم شاہ محمود قریشی کی طرف ہوگا ۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی سیاست کا آغاز 1985 سے کیا وہ 1985 سے 1988 تک پنجاب سے رکن صوبائی اسمبلی رہے ، پھر 1988 سے 1990 تک اور پھر 1990 سے 1993 تک کی حکومت میں بھی رکن صوبائی اسمبلی پنجاب رہے ۔ وہ پنجاب کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے صوبائی وزیر پھر فنانس منسٹر پنجاب بھی رہے ۔ اس کے بعد 1993 سے 1997 رکن قومی اسمبلی رہے پھر 1997 میں مخدوم جاوید ہاشمی سے الیکشن ہارے تاہم پھر 2002 سے 2007 ، 2008 سے 2013 ، 2013 سے 2018 اور اب 2018 سے اب موجودہ حکومت میں رکن قومی اسمبلی رہے ہیں ۔ 1985 سے اب تک 36 سالوں کے دوران صرف 1997 سے 2002 میں رکن اسمبلی نہیں رہے ۔ باقی 31 سال وہ اپنے حلقے کے منتخب نمائندے رہے اس دوران وہ وزیر خارجہ بھی بنے اقتدار میں بھی رہے لیکن مدینہ اولیاء کا شہر ملتان جہاں ان کے بزرگ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی اور حضرت شاہ رکن عالم مدفن ہے لیکن اس شہر سے کے لیے کچھ نہ کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے مخدوم شاہ محمود قریشی "ماضی ” کے حکمرانوں کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور والد مخدوم سجاد حسین قریشی کی کارکردگی کو نہیں سراہتے بلکہ ان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ اسی طرح اب مخدوم زین قریشی بھی اپنے دادا سے زیادہ والد سے شکوہ کرتے ہوں گے کہ ” ماضی” کے حکمرانوں اور برسرِ اقتدار طبقے نے اس شہر کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تاہم اپنے آباؤ اجداد کے گلے شکوے عوامی اجتماعات میں کرنا بھی درست عمل ہے تاکہ عوام کو مستقبل میں "فیصلہ سازی ” میں آسانی ہو۔
فیس بک کمینٹ

