تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : لبیک تحریک نے حکومت اور شیخ رشید کو ناک آؤٹ کر دیا

ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے حکومت پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ جھوٹے وعدوں اور عارضی سہاروں کے ذریعے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کالعدم تنظیم کے تقریباً تمام مطالبات مان لئے ہیں اور کہا ہے کہ سوموار کو اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے وفد سے ملاقات کے بعد معاملات طے ہوجائیں گے اور بدھ تک سب لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ دوسری طرف ٹی ایل پی کی مجلس شوریٰ نے مذاکرات کی جزوی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا اس وقت تک مرید کے سے نہیں ہٹیں گے جب تک حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتی۔
وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے نیم سرکاری سہ روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید کو دوبئی سے لاہور پہنچنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے زیر حراست لیڈر سعد رضوی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی بھی طرح لبیک تحریک کے لانگ مارچ اور فیض آباد میں نیا دھرنا دینے کے معاملہ کا کوئی حل تلاش کریں ۔ وزیر اعظم نے ملک میں انتہائی سنگین ماحول کے باوجود سعودی عرب کی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کرنا اہم سمجھا۔ پاکستانی وزیراعظم کے اس دورہ کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز جب عمران خان اپنے بھاری بھر کم وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے تو مدینہ منورہ کے ڈپٹی گورنر سعود بن خالد الفیصل نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم اور ان کے وفد نے روضہ رسولؑ پر حاضری دی اور وہاں سے وہ مکہ معظمہ پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادا کیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں منعقد ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس دارالحکومت ریاض میں منعقد ہورہی ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق عمران خان اس کانفرنس میں شرکت کے لئے ایم بی ایس کی دعوت پر سعودی عرب کے تین روزہ دورہ پر ہیں۔
عمران خان ایک ایسے وقت میں ملک سے روانہ ہوئے ہیں جب فوج کے ساتھ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ وزیر داخلہ سمیت متعدد سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ جمعہ تک اس تقرری کے حوالے سے نوٹی فیکیشن جاری ہوجائے گا البتہ وزیر اعظم نے سعودی عرب کا ’اہم ترین‘ دورہ مکمل کرنے سے پہلے اس بارے میں کوئی ’حکم‘ جاری کرنے سے گریز کیا۔ دوسری طرف بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان آلیانی کے خلاف 33 ارکان اسمبلی کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر سوموار کو ہی ووٹنگ ہونے والی تھی ۔تاہم اب انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچستان میں اٹھنے والا سیاسی طوفان پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے اس معاملہ سے نمٹنے کے لئے خود پاکستان میں رہنا ضروری خیال نہیں کیا ۔ چئیر مین سینیٹ صادق سنجرانی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کو سیاسی فائیر فائیٹنگ کے لئے کوئٹہ روانہ کردیا۔
اسی طرح وزیر داخلہ شیخ رشید کو لاہور پہنچ کر تحریک لبیک پاکستان کے مطالبات ماننے کا ’حکم ‘ دیا اور خود سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ ملکی معاملات سے وزیر اعظم کی یہ بے گانگی ایک ایسے وقت میں شدید تشویش کا سبب ہے جب مہنگائی کے ہاتھوں لوگ شدید پریشانی محسوس کررہے ہیں اور سماج کے ہر طبقہ میں اس کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آرہا ہے۔ حکومتی ترجمانوں نے عالمی سطح پرقیمتوں میں اضافہ کا بہانہ کرتے ہوئے مہنگائی کی نئی لہر کو حکومت کی مجبوری ثابت کرنے کی کوشش کی اور بعد میں کم آمدنی والے خاندانوں کو پیٹرول کے علاوہ دیگر اشیا پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا لیکن اس کا کوئی طریقہ کار سامنے نہیں آیا۔ اس دوران اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی مہنگائی کو اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرچکی ہیں۔ معاشی حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو مزید چار ماہ کے لئے گرے لسٹ پر رکھنے کا اعلان اور آئی ایم ایف کی جانب سے بدستور 6 ارب ڈالر کے طے شدہ مالی پیکیج میں سے ایک ارب ڈالر کی قسط ادا کرنے میں تعطل کی وجہ سے بے یقینی میں اضافہ ہؤا ہے۔ ایسی خبریں عوام کو معاشی ریلیف دینے کی حکومتی کوششیں ناکارہ کردیتی ہیں اور مالیاتی منڈی کا اعتبار بھی متزلزل ہوتا ہے۔
اس کے باوجود مسائل سے فرار کا جو رویہ وزیر اعظم عمران خان نے کثیر الجہتی بحران کے درمیان سعودی عرب جاکر ظاہر کیا ہے، امور خزانہ کے مشیر شوکت ترین بھی اسی طریقہ پر عمل کرتے ہوئے عین اس وقت واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کو بیچ میں چھوڑ کر واپس روانہ ہوگئے جبکہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کو بعض ایسے مالی فیصلے کرنے پر مجبور کررہی تھی جس سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوگا اور ملک میں مہنگائی کی ایک نئی اور خطرناک لہر دیکھنے میں آئے گی۔ خبر ہے کہ شوکت ترین نے سعودی عرب میں وزیر اعظم کے وفد میں شامل ہونے کے لئے فوری طور پر واشنگٹن سے روانہ ہوئے تھے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ماحولیاتی کانفرنس میں وزیر اعظم کی ’انقلاب آفرین‘ باتوں سے متاثر ہوکر سعودی عرب شاید چند سو ملین کی رعایت دینے یا ادائیگی کے بغیر پیٹرول فراہم کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ اس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف عبوری اور فوری مشکل سے نکلنے کے لئے عارضی سہولت کے لئے ہاتھ پاؤں مارتی ہے لیکن اس کے پاس ملک کے وسیع تر مسائل سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح روڈ میپ نہیں ہے۔
جمعہ کو لاہو ر میں تحریک لبیک پاکستان کے لانگ مارچ کو روکنے کی ناکام کوشش میں تین پولیس افسر جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ حکومت ان اطلاعات کی تصدیق سے گریز کررہی ہے کہ مظاہرین میں سے کتنے لوگ جان سے گئے یا زخمی ہوئے تھے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس بارے میں سوال پر کہا کہ ’اگر ٹی ایل پی کی قیادت کوئی اعداد و شمار بتارہی ہے تو وہ درست ہی ہوں گے‘۔ پولیس پر مظاہرین کے حملوں اور ان میں جانی نقصان کی اطلاعات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک ٹوئٹ پیغام میں تمام قانون شکن عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیر داخلہ شیخ رشید نے سعد رضوی اور ٹی ایل پی کی قیادت سے آٹھ گھنٹے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ ’اصل بات یہی ہے کہ مذہبی لوگوں سے ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیے۔ جب عمران خان نے ختم نبوت کے سپاہی کو وزیر داخلہ بنایا ہو تو وہاں اور کیا بات کریں۔ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں ہے اور حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ لچک رکھے۔حکومت کا کام جوڈو کراٹے کھیلنا نہیں ہے‘۔ جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ ٹی ایل پی کے ہاتھوں جو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں انہیں انصاف کیسے ملے گا جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ ہمارے دو یا تین لوگ شہید ہوئے ہیں۔ باتیں دو ہیں۔ جھگڑا فساد بڑھائیں یا اس کو کنٹرول کریں۔سیاستدان کا کام یہ ہے کہ درمیانی راستہ نکالے۔ بدھ کے روز وہ اپنے اپنے گھر کو جائیں اور ان کے مطالبات کو ہم سنجیدہ لے رہے ہیں‘۔
کسی حکومت کی اس سے زیادہ لاچاری اور بے بسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کے تازہ دور کے بعد حکومت اس تنظیم کے تمام مطالبات ماننے پر آمادہ ہوچکی ہے۔ ٹی ایل پی کے تمام گرفتاری کارکنوں اور لیڈروں کو رہا کردیا جائے گا۔ فورتھ شیڈول پر اس تنظیم کے لیڈروں کے نام شامل کرنے کے معاملہ کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور حکومت نے سعد رضوی کی رہائی کے لئے کوئی راستہ نکالنے کے لئے کچھ وقت مانگا ہے۔ ٹی ایل پی کی قیادت کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو دو روز کی مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران لانگ مارچ کے شرکا مریدکے میں مقیم رہیں گے‘۔ گویا ایک غیر قانونی قرار دی گئی تنظیم پاکستان کی طاقت ور اور ایٹمی ریاست کی نمائیندہ حکومت کو بلیک میل کرکے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کررہی ہے۔ وزیر داخلہ اسے ’مسئلہ کا پر امن حل ‘تلاش کرنے کی کامیاب کوشش قرار دے رہا ہے۔ اور ملک کا وزیر اعظم سعودی عرب میں عبادت اور زیارات میں مصروف ہے۔حکومت نے نہ صرف سعد رضوی کو رہا کرنے پر نیم رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ شیخ رشید نے ایک بار پھر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ قومی اسمبلی میں لے جانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی کسی جماعت نے بھی اب تک اس غیر سفارتی، غیر پارلیمانی اور ناجائز مطالبہ پر کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا ۔ کوئی سیاست دان یہ کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا کہ کسی غیر ملکی سفیر کو قبول کرنے یا ناپسندیدہ قرار دینے کے معاملے پر کسی منتخب ایوان میں بحث نہیں ہوسکتی۔ مذہبی انتہاپسندوں نے صرف ملک کی حکومت ہی کو ناک آؤٹ نہیں کیا بلکہ تمام سیاسی جماعتیں بھی خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔
اس ماحول میں دینا کے ادارے کیسے اس بات پر اعتبار کریں گے کہ پاکستان مذہبی شدت پسندی اور اس کی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور خوں ریزی کے رجحان کو روکنے کی صلاحیت یا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ قومی رویہ مستقبل قریب میں پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ خارجہ تعلقات پر دوررس اور نقصان دہ اثرات مرتب کرے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker