تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

توہین عدالت پر سزاؤں کا موسم ۔۔ سید مجاہد علی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس لیا ہے اور انہیں چھ فروری کو عدالت میں پیش ہو کر جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے پہلے جسٹس آصف نواز کھوسہ کی قیادت میں دو رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر سینیٹرنہال ہاشمی کو ایک ماہ قید، 50 ہزار روپے جرمانے کے علاوہ پانچ سال کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔ نہال ہاشمی کو پانامہ مقدمہ کی سماعت کے دوران گزشتہ سال مئی میں ایک اشتعال انگیز تقریر کرنے پر سزا دی گئی ہے جس میں انہوں نے مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں اور ان کے حکم پر کام کرنے والی جے آئی ٹی کے ارکان کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا تھا۔ طلال چوہدری کو ایک حالیہ تقریر پر توہین عدالت کا نوٹس جاری ہؤا ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد اور پنجاب ہائی کورٹس نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی متفرق درخواستوں کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے انہیں جوابدہی کے لئے طلب کیا ہے۔سینیٹر نہال ہاشمی کو سزا دینے کا فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے غیر مشروط معافی طلب کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کی کارروائی جاری رکھی اور آج انہیں باقاعدہ سزا دینے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس فیصلہ میں نہال ہاشمی کے معافی نامہ کو ان کی پشیمانی کے طور پر قبول کرنے کی بجائے ، ان کے اعتراف جرم کے طور تسلیم کرتے ہوئے سزا کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں ہی لاہور میں ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ عدالت مناسب وقت آنے پر نواز شریف اور عدلیہ کے خلاف تقریریں کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ لگتا ہے کہ اب وہ وقت آچکا ہے اور نہال ہاشمی کے خلاف سزا کا اعلان کرکے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس حوالے سے اس کا موڈ کیا ہے۔گزشتہ جولائی میں پاناما کیس میں نااہل قرار دیئے جانے کے بعد نواز شریف اور ان کے حامیوں نے نہ صرف عدالتی فیصلہ کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا بلکہ اکثر صورتوں میں عدالتوں پر بھی تنقید کی تھی۔ یہ تاثر بھی دیا جاتا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک سازش کے تحت نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ بعد میں ان الزامات کو متعدد بار دہرایا جا چکا ہے۔ ان تبصروں میں بلاشبہ ایک فیصلہ پر تنقید کی بجائے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کونشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے اور عدالت کو بطور ادارہ متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سینیٹر نہال ہاشمی کو سزا دے کر سپریم کورٹ کے ججوں نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے خلاف ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ گو کہ عدالت عظمی کے جج یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سزا حقائق اور شواہد کی روشنی میں دی گئی ہے لیکن کوئی بھی شخص اس فیصلہ کے سیاسی مضمرات سے انکار نہیں کرسکتا۔سپریم کورٹ کی طرف سے اس سزا کو اس صورت میں تو شاید مناسب کہا جاسکتا اگر سینیٹر نہال ہاشمی اپنی غلطی تسلیم کرنے اور غیر مشروط معافی مانگنے سے گریز کرتے۔ عدالتوں کی روایت رہی ہے کہ جج حضرات عام طور سے ادارے کا احترام برقرار رکھنے کے لئے ہی توہین عدالت جیسی شقات کو بروئے کار لاتے ہیں ۔ اسی لئے متاثرہ شخص اگر معافی مانگ لے اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو عام طور سے اس معافی نامہ کو قبول کرلیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال تو اٹھے گا کہ پاناما کیس میں ایک متنازعہ اور قانونی لحاظ سے کمزور فیصلہ دینے کے بعد اب سپریم کورٹ کے جج تنقید کرنے والوں کو معافی کے باوجود سزائیں دینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی آئینی شق 184 کے تحت سنایا گیا تھا۔ اس شق کے تحت جن معاملات کی سماعت ہوتی ہے ، ان میں متاثرہ فریق کو اپیل کا حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ فیصلہ یک طرفہ اور سو فیصد ججوں کی صوابدید کا مظہر ہوتا ہے۔ یہ بات ملک کی عدالتی تاریخ کا حصہ رہے گی کہ سپریم کورٹ نے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے حاصل اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اکثریت سے منتخب ہونے والے ایک وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس سے پہلے افتخار چوہدری کی قیادت میں جون 2012 میں توہین عدالت کی شق کا اطلاق کرتے ہوئے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اس قسم کے عدالتی فیصلے سپریم کورٹ کے اختیار کی نظیر بننے اور احترام میں اضافہ کرنے کی بجائے، ملک کے اعلیٰ ترین ادارے میں شامل ججوں کی ذاتی پسند اور ناپسند کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان فیصلوں کو ملکی سیاست میں سپریم کورٹ کی غیر ضروری مداخلت ہی قرار دیا جائے گا۔اب توہین عدالت کے معاملات پر اعلیٰ عدالتوں نے سزا دینے اور ایسی د رخواستوں پر اقدام کرنے کی جو روایت قائم کرنا شروع کی ہے ، اسے بھی ملک کی سیاست میں سپریم کورٹ کی مداخلت ہی کہا جائے گا۔ خواہ یہ فیصلے میرٹ پر کئے جائیں اور سزا پانے والے نے واقعی متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہی کی ہو۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ یا دوسری اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے تحمل کا مظاہرہ ہی بہترین پالیسی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اعلیٰ عدلتوں کی اتھارٹی کو تسلیم کروانے کے لئے توہین عدالت کی شقات کا استعمال کرنے کی روایت استوار ہوگئی تو اس سے عدالتوں کے وقار میں اضافہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ سیاست دانوں کو اپنے خلاف فیصلوں پر آپے سے باہر ہونے کی بجائے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صورت حال کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ لیکن جب عدالت کے بارے میں یہ شبہ قوی ہورہا ہو کہ وہاں سے سیاسی بنیادوں پر فیصلے صادر ہورہے ہیں تو توہین عدالت کے قانون کے تحت سزائیں دینے کے عمل سے عدالتوں کی ساکھ بہتر ہونے کا امکان نہیں ہے۔اس حوالے سے یہ غور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ایک طرف ملک کی عدالتوں میں ہر سطح پر مقدمات کی بھرمار ہے لیکن دوسری طرف عدالتیں مقبول نوعیت کے مقدمات کی سماعت، سو موٹو کے تحت اقدامات اور توہین عدالت مقدمات پر وقت اور صلاحیت صرف کررہی ہیں۔ سوموٹو کا اختیار دراصل شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے دیا گیا ہے ۔ اس لئے عدالتوں کے ججوں کو یہ غور بھی کرنا چاہئے کہ عدالتوں میں برس ہا برس تک فیصلوں کے انتظار سے کیا شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مقدمات کا دباؤ کم کرنے کے لئے خود اتوار کو بھی کام کرنے کا آغاز کیا ہے۔ لیکن کیا خیر سگالی کا یہ اظہار واقعی عدالتوں سے انصاف کی توقع کرنے والے لاکھوں لوگوں کی داد رسی کرسکے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker