تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پاکستان کا سیاسی نقشہ ، میڈیا اور کشمیر کی آزادی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا ) نے تمام ٹیلی ویژن اسٹشینوں کو ہدایت کی ہے کہ رات 9 کے نیوز بلیٹن سے پہلے پاکستان کا سیاسی نقشہ دو سیکنڈ کے لئے دکھایا جائے۔ یہ ہدایت وزارت اطلاعات کی درخواست پر جاری کی گئی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی عوام کو ملک کا نیا ’سیاسی نقشہ‘ دکھانے سے کشمیر کی آزادی کا راستہ سہل ہوجائے گا یا دنیا بھر میں بھارتی استبداد کا پول کھلنے میں مدد ملے گی؟
روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وزارت اطلاعات نے پیمرا کو ایسی ہدایت جاری کرنے کے لئے خط لکھا تھا۔ ان کے مطابق حکومت، پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 5 کے تحت ایسا کر سکتی ہے۔ آرڈیننس کے سیکشن 5 میں لکھا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت جب بھی ضروری سمجھے، اتھارٹی (پیمرا) کو پالیسی کے معاملات پر ہدایت دے سکتی ہے اور ایسی ہدایات پر عمل اتھارٹی پر لازم ہو گا۔ اگر کوئی سوال پیدا ہو کہ معاملہ پالیسی کا ہے یا نہیں تو وفاقی حکومت کا فیصلہ حتمی ہوگا‘۔ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کی سہولت کے لئے بنائی گئی اس اتھارٹی کے ذریعے وزارت اطلاعات کی نگرانی و کنٹرول کے اس مظاہرے سے کشمیر آزاد ہو یانہ ہو البتہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ موجودہ حکومت کس حد تک قومی میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔ اس سے وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات کے ان دعوؤں کا پول بھی کھلتا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو آزادی رائے کا چیمپئن کہنے والے مغربی ممالک سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے۔
عمران خان تو یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ ملکی میڈیا میں آنے والی 70 فیصد خبریں اور تبصرے حکومت اور ان کے خلاف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی حقیقی کارکردگی سامنے نہیں آتی۔ چند روز پہلے قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے میڈیا کو یہ حکم نما مشورہ بھی دیاتھا کہ وہ مہنگائی کے ’حقیقی عوامل ‘سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے تعاون کرے۔ اس مشورہ کا اصل مقصد یہی تھا کہ قومی میڈیا کوئی ایسی خبر شائع یا نشر نہ کرے جس سے زمینی حقائق اور عوام کو درپیش مسائل سامنے آئیں بلکہ وہی بیان اپنے طور سے دہرائے جو اس وقت وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کا تکیہ کلام ہے کہ پاکستان میں تو مہنگائی کو بہت بہتر طریقے سے مینیج کیا گیا ہے۔ دنیا کے امیر ترین ملکوں کے عوام کورونا وبا سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں ۔ اس طرح پاکستانی عوام کو یہ تشفی ہوسکے گی کہ صرف وہی تکلیف میں نہیں ہیں بلکہ باقی دنیا ک لوگ ان سے بھی زیادہ پریشانی میں ہیں۔ حکومت کے شکنجے میں آیا ہؤا قومی میڈیا اب اس مؤقف کو سرکاری بیانات میں دہرانے کے علاوہ رپورٹس اور عوامی رائے کے ’جائیزوں‘ کے ذریعے قومی بیانیہ بنانے میں حکمران پارٹی کا دست راست بنا ہؤا ہے۔
اب مقبوضہ کشمیر کو ’متنازعہ علاقہ‘ بتانے والے سیاسی نقشے کو روزانہ کی بنیاد پر خبروں سے پہلے دکھانے کا جو حکم جاری ہؤا ہے، اس پر عمل کروانے میں بھی حکومت کو کوئی دقت یا پریشانی نہیں ہوگی۔ پیمرا کے پاس کسی بھی ٹیلی ویژن یا ریڈیو اسٹیشن کا نشریاتی حق منسوخ یا معطل کرنے کا اختیار ہے۔ کوئی بھی چینل یہ نہیں چاہے گا کہ اس مسئلہ پر پیمرا کے حکم کو نظرانداز کرکے غیر ضروری مشکل کا سامنا کیاجائے۔ یوں بھی پاکستانی میڈیا کشمیر کے سوال پر عام طور سے پاکستانی حکومت کے سرکاری مؤقف ہی کا ترجمان رہا ہے۔ کشمیر پر ایک مؤقف تو مقبوضہ حصے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں کے عوام کی رائے کو کچلنے کی صورت حال کے بارے میں ہے جو کسی بھی میڈیا کے لئے سامنے لانا ضروری ہے۔ پاکستانی میڈیا بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلکہ جب کشمیر کے سوال پر گفتگو کرتے ہوئے تاریخی حوالوں سے پاکستانی سیاسی مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے بعض سچائیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ، تو بھی پاکستانی میڈیا کسی تنقیدی رائے کا اظہار ضروری نہیں سمجھتا۔ اور تمام تر صحافتی اقدار اور اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہر قیمت پر حکومت پاکستان کا ترجمان بنا دکھائی دیتا ہے۔
اس قسم کی ترجمانی کی وجہ سے نہ صرف متعدد حقائق مسخ کئے جاتے ہیں بلکہ کشمیری عوام کی حقیقی رائے کے بارے میں بھی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آپاتی۔ جیسے پاکستان میں عام طور سے یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بس ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ اور بھارتی حکومت اس رائے کو دبانے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے خواہاں کشمیریوں کو جبر و ستم کا نشانہ بناتی ہے۔ کشمیر کے حالات، تاریخ اور کشمیری عوام کی جدو جہد سے باخبر کوئی بھی شخص جانتا ہے کہ یہ مکمل تصویر نہیں ہے لیکن غلط معلومات کی بنیاد پر پاکستانی عوام کو ایک دھوکے میں مبتلا رکھا جارہا ہے۔ رائے عامہ اس بات سے آگاہ نہیں ہوپاتی کہ بھارت کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہنے والے عوام اپنے پورے خطے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کا مستقبل کیوں کر خوشحال اور روشن دیکھتے ہیں۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں آباد کشمیریوں کو اپنی مرضی کے مطابق خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو نام نہاد آزاد کشمیر میں بھی کشمیریوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے لیکن پاکستانی حکومت، میڈیا یا عوام اس سچائی کو تسلیم یا تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
حال ہی میں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں مقامی سیاسی گروہوں کی بجائے پاکستان کی مین اسٹریم پارٹیوں کی جوش و خروش سے شرکت اور ’حسب روایت‘ اسلام آباد میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی بڑے پیمانے پر کامیابی سے ہی یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ اس خطے کے لوگوں کی رائے کو کیسے متاثر کر نے کی منظم کوششیں کی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت کو کبھی عالمی فورمز پر کشمیری عوام کی نمائیندگی کا حق نہیں دیا گیا بلکہ اس حق و اختیار پر اسلام آباد کے حکمران اپنا تصرف رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان خود کو کشمیری عوام کا سفیر اور حقیقی ترجمان کہتے ہیں۔ کہیں پر کوئی تو سوچتا ہو گا کہ جو ملک اپنے زیر انتظام کشمیریوں کو خود اپنے مستقبل کی بابت بات کرنے اور اپنا مقدمہ خود عالمی اداروں کے سامنے پیش کرنے کا حق دینے پر تیار نہیں ہے ، وہ کس حد تک واقعی کشمیری عوام کی آزادی کا ترجمان ہے یا اس کی کشمیر پالیسی کہاں تک محض اپنے مفادات کی عکاس ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں صورت حال ضرور بدتر ہے اور وہاں عوام کی رائے کچلنے کے لئے استبدادی طریقے اختیار کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی جاننا چاہئے کہ آزاد کشمیر میں بھی خود مختار کشمیر کی جد و جہد کرنے والے لبریشن فرنٹ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اگر برطانیہ سے آیا ہؤا کوئی کشمیری کسی چوک سے پاکستان کا پرچم اتار کر کشمیر کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو آزاد کشمیر کا نظام عدل اس کی ضمانت بھی نہیں لے سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں یہی مزاج بدتر طریقے سے مسلط کیا گیا ہے۔ بھارت کی مین اسٹریم پارٹیوں کو کشمیری سیاست میں حاوی کردیا گیا ہے اور مقامی مسائل کو سمجھنے والے لیڈروں اور جماعتوں کو مسترد کرنے کے لئے طویل عرصہ سے کام کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہاں آباد کشمیری ابھی تک حق آزادی سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے نئی دہلی نت نئے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے لئے مشکلات پیدا کرتا ہے یا مختلف سیاسی ہتھکنڈوں سے انہیں ترغیب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
نریندر مودی کی حکومت نے5 اگست 2019 کو کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اسے براہ راست وفاق کی انتظامی اکائیوں میں تبدیل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کے ذریعے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد ہونے، جائیداد خریدنے اور وہاں کا شہری کہلانے کا استحقاق دیا گیا ہے۔ نئی دہلی کی انتہاپسند ہندو حکومت چاہتی ہے کہ وادی کشمیر میں مسلمان اکثریت کی طاقت کو کم کرنے کے لئے ایسے ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ ہو جن کا کاکشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو ثقافتی، جذباتی اور سیاسی طور سے عمومی ہندوستانی رویہ کے حامل ہیں۔ مودی سرکار اور بی جے پی کا خیال ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر آبادی میں ’توازن‘ پیدا کرکے کشمیر میں آزادی کی تحریک کو ہمیشہ کے لئے دبایا جاسکے گا۔ یہ تجربہ کسی حد تک چین نے سنکیانگ کے صوبہ میں ایغور مسلمان آبادی کے خلاف کیا ہے جہاں ہان نسل کے لوگوں کو آباد کرکے مسلمان اکثریت والے صوبے پر مستقل غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
80 کی دہائی میں پاکستان کی طرف سے آزادی کشمیر کی تحریک کو کشمیری مسلمانوں کی جد و جہد میں تبدیل کرنے کی کوششیں بھی دراصل اسی مزاج کا پرتو تھیں جو کسی علاقے کی تہذیب و ثقافت اور اس بنیاد پر آزادی و خود مختاری کی کوشش کو خالصتاً مذہبی بنیاد پر شناخت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ پاکستان سے جانے والے جہادی گروہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام میں ’جذبہ جہاد‘ بیدار کرنے کے لئے انہیں اپنی تاریخی روایت، معاشی ضرورتوں اور سماجی رویوں کو نظرانداز کرنے پر آمادہ کیا۔ حالات و واقعات کے مطالعہ سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس مداخلت اور اثر و نفوذ کی وجہ سے آزادی کشمیر کی کاز کو نقصان پہنچا لیکن پاکستان ابھی تک کشمیر کو مسلمان شناخت سے پہچاننے کی سرکاری پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ برس کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان کا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا۔ اس میں مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔ اس کاوش کا مقصد شاید بھارتی حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کرنا تھا جس کے تحت وہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ البتہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی مؤقف پہلے ہی دنیا کے ہر قابل ذکر فورم اور دارالحکومت کے ریکارڈ پر ہے۔ اس لئے سیاسی نقشہ جاری کرنے کی سعی پاکستانی عوام کو حکومت کی کشمیر کے بارے میں تشویش و پریشانی سے آگاہ رکھنے کا حصہ تھی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی ہر حکومت نے کشمیر کو اپنی داخلی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے سیاسی نقشے کو جبراً نشر کروانے کا حکم ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب حکومت کو مہنگائی، انتہا پسندی، گورننس اور معاشی اور خارجی شعبوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یوں یہ طریقہ مسائل سے آنکھیں چرانے اور عوام کو نعروں سے لبھانے کی کوشش کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker