تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:حکومت گرانے کی بجائے پاکستان بچانے کی بات کریں

اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے انٹرنیشنل ٹرانسپرنسی کی طرف سے پاکستان میں کرپشن میں اضافہ کی اطلاع دینے پر وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مسلسل دوسرے سال ملک میں کرپشن کے اضافے کی اطلاع دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بدعنوان اور چور ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے حیدرآباد میں ایک کسان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر تسلسل سے وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ کافی عرصہ سے عوام کو یہ اطلاعات بھی بہم پہنچائی جارہی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی بھی لمحے ختم ہونے والی ہے۔ اس حوالے سے خبریں پھیلانے اور تاثر مضبوط کرنے کے لئے میڈیا بھی مقدرو بھر تعاون کرتا رہا ہے۔ کبھی ایک تقرری پر اختلاف سامنے آنے پر ایک پیج کی افادیت ختم ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے اور کبھی حکمران جماعت کے اجلاس میں اختلاف رائے کو اس قدر بڑھا چڑھا بیان کیا جاتا ہے گویا حکومت پر نزع کا عام طاری ہے اور اسے مصنوعی تنفس سے زندہ رکھا گیا ہے۔ یہ خبریں قیاس آرائیوں یا خوش فہمی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ اس کے باوجود سیاسی لیڈر انہیں پھیلانے میں پوری تندہی سے مصروف ہیں۔
یہ درست ہے کہ اپوزیشن کے اس جارحانہ رویہ کی وجہ سے حکومت مسلسل سیاسی مقابلے بازی کی حالت میں رہتی ہے اور اس کی زیادہ صلاحیت اپوزیشن کے الزامات کا تدارک کرنے یا کسی عدم اعتماد کی کوشش کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی میں صرف ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سیاسی حکمت عملی سے اپوزیشن لیڈر اپنا یہ مقصد حاصل کررہے ہوں کہ کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہو اور وہ آئیندہ انتخاب جیت کر ملک میں برسر اقتدار آسکیں ۔ لیکن اس رویہ سے ملک میں بے یقینی اور تصادم کی جو صورت حال پیدا ہوتی ہے ، وہ مجموعی طور سے قومی معیشت، عوام کی سہولت اور قابل قبول سیاسی مکالمہ کے لئے حالات کو مشکل بناتی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ عمران خان کی سربراہی میں قائم حکومت اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے ہی ملک کو بہتری کی جانب لے جانے میں کامیاب نہ ہوتی لیکن اپوزیشن نے روزا ول سے اس کے خلاف صف بندی کرکے حکومت کے لئے حالات کار کو مشکل بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کردار کو کسی صورت وسیع تر قومی مفاد یا ملک میں جمہوری احیا کے لئے سودمند نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے پاکستان اس وقت اگر سیاسی انارکی ، عالمی سفارتی تنہائی اور معاشی میلٹ ڈاؤن کا سامنا کررہاہے تو اس کی جزوی ذمہ داری اپوزیشن لیڈروں پر بھی عائد ہوگی۔ ملکی بحران کی بنیادی وجہ بے یقینی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان نے یقیناً اس بے یقینی کو پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن اپوزیشن لیڈروں نے سیاسی فضا کو پرہنگام رکھ کر اور قومی اسمبلی میں مثبت پارلیمانی کردار سے گریز کرکے حکومت سے زیادہ قومی حالات کو نقصان پہنچایا ہے۔
بجا طور سے اپوزیشن لیڈروں نے 2018 کے انتخابی نتائج کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد جس طرح چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان کو ساتھ ملاکر عمران خان کے لئے اعتماد کا ووٹ لینے کی فضا سازگار بنائی گئی تھی، اس پر بھی شدید تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر تسلسل سے عمران خان کو ’نامزد‘ وزیر اعظم کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت منتخب نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ نے مسلط کی ہے۔ اس واقعاتی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تو اپوزیشن کو کسی ’نامزد‘ حکومت کو مسترد کرنے کے علاوہ اپنے طرز عمل سے یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ وہ سول سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف ہیں اور ان کی سیاسی جد و جہد عمران خان کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن عملی طور سے اپوزیشن کا طرز عمل تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف عمران خان کو نامزد قرار دیا جاتا ہے لیکن توپوں کا رخ بھی عمران خا ن ہی کی طرف رکھا جاتا ہے۔
اگر بعض طاقت عناصر، اسٹبلشمنٹ یا فوج عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے کا سبب بنی ہے تو اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ اصل قصور وار تو وہ ادارے یا افراد ہیں جنہوں نے ملکی آئینی انتظام میں تحریف کا طریقہ اختیار کیا۔ اس صورت میں اپوزیشن کی تنقید کا اصل ہدف اسٹبلشمنٹ اور ایسے فوجی لیڈروں کو ہونا چاہئے تھا جو اس منفی، غیر جمہوری و غیر آئینی طریقوں کو اختیار کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر قصور وار اسٹبلشمنٹ کو قرار دیتے ہیں اور کیڑے موجودہ حکومت میں نکالتے ہیں۔ حالانکہ ان کی تنقید کسی غیر آئینی طریقہ کے خلاف ہونی چاہئے۔ اور اس انتظام کے تحت بنائی گئی حکومت کو عاجز کرنے کی بجائے ، اس طریقہ کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے یا عدالتی راستے اختیار کرنے کی منظم اور مسلسل کوشش ہونی چاہئے تھی۔ اپوزیشن کی جد و جہد میں یہ عنصر دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ جب گوجرانوالہ میں پاکستان جمہوری تحریک کی پہلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر انتخابات میں دھاندلی یا اپنی حکومت کے خلاف سازش کا الزام لگایا تو چند ہی ماہ کے اندر یہ اپوزیشن اتحاد منتشر ہوگیا۔ اس کی ایک وجہ نواز شریف کی تقریر اور مریم نواز کی دو ٹوک سیاست کو قرار دیا گیا تھا۔ یعنی اپوزیشن کے بیشتر عناصر یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ حکومت سازی یا انتخابی عمل میں عسکری اداروں کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے لیکن تہ دل سے اس کی مزاحمت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
اس حوالے سے یہ پہلو بھی قابل غور ہے ایک طرف اپوزیشن اسٹبلشمنٹ کی ’نامزد کردہ‘ حکومت یا وزیر اعظم کے خلاف پورے زور شور سے مہم جوئی میں مصروف ہے لیکن دوسری طرف خود عسکری حلقوں سے سیاسی انتظام کے بارے میں بالواسطہ یا براہ راست تعاون حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی مشغول رہتی ہے۔ اس کی تفصیلات ملک کے بچے بچے کو ازبر ہیں۔ اسی رویہ کا نتیجہ ہے مریم نواز کے مقابلے میں شہباز شریف کو زیادہ ’قابل اعتبار ‘ سمجھا جاتا ہے یا بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی چئیرمین ہونے کے باوجود آصف زرداری کے جوڑ توڑ کے مطابق ہی رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ جمہوری بالادستی کے اصول کو اپوزیشن بھی اسی حد تک اہم سمجھتی ہے جب تک اسے نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خود اپنے لئے سیاسی کامیابی کا راستہ ہموار کرلیا جائے۔ جس صورت حال کو ’زمینی حقائق‘ کہا جاتا ہے، اس کے تحت اپوزیشن اور حکمران جماعت ’ایک ہی پیج‘ پر کھڑے دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا مظاہرہ جنرل باجوہ کی توسیع کے لئے قانونی ترمیم کے موقع پر بھی دیکھنے میں آیا تھا اور اب منی بجٹ کی منظوری بھی اسی درپردہ اشتراک عمل کا ہی نتیجہ ہے جس کے تحت کوئی سیاسی پارٹی ایک ایسے نظام کو کمزور کرنے کی خواہش نہیں رکھتی جو بعض غیر تحریر شدہ ضابطوں کے سہارے کھڑا کیا گیا ہے۔
اپوزیشن اگر واقعی انتخابی دھاندلی کو حقیقی سمجھتی تھی اور موجودہ حکومتی انتظام کو ناقص اور مسلط شدہ کہتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی اس تجویز کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ اپوزیشن کے منتخب نمائیندے اسمبلیوں کا حلف اٹھانے سے انکار کردیں۔ اس انکار کی ہزاروں تاویلیں دی جاسکتی ہیں لیکن اس اقدام سے گریز کی ایک ہی وجہ ہے کہ عملی طور سے ملک کی تقریباً تمام سیاسی قوتیں سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کو تسلیم کرتی ہیں اور اسے تبدیل کرنے میں حصہ ڈالنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اسی رویہ کا مظاہرہ اسمبلیوں سے استعفوں کے سوال پر پی ڈی ایم میں پیدا ہونے والے اختلاف میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثریت کے باوجود سینیٹ میں اپوزیشن کی بار بار ناکامی سے بھی درپردہ اشاروں کی طاقت اور ضرورت کو تسلیم کرنے کی تصویر کے نقوش ہی نمایاں ہوتے ہیں۔
اسمبلیوں میں کثیر نمائیندگی کے باوجود اپوزیشن کی اس ناکامی کی واحد وجہ یہی ہے کہ وہ موجودہ انتظام کی ’افادیت‘ کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے ’بغاوت‘ پر آمادہ ہے اور نہ ہی ایسے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے جن میں سیاسی قوتیں مضبوط ہوں اور غیر منتخب عناصر کو ملکی سیاست میں بتدریج غیر مؤثر کیا جاسکے۔ یہ رویہ صرف اپوزیشن ہی کا نہیں ہے بلکہ عمران خان بھی مسلسل اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کا یہ دعویٰ کہ وہ اقتدار سے باہر زیادہ ’خطرناک‘ ہوں گے درحقیقت اسی مزاج کی نمائیندگی کرتا ہے کہ سیاست ملک کی بھلائی یا ترقی کے لئے تمام صلاحیتیں صرف کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اسے شخصی اقتدار کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا ہی اصل مقصد ہے۔ یہی وجہ ہے عمران خان کے اس بیان کے بعد ملک میں یہ بحث بھی کی جارہی ہے کہ یہ پیغام دراصل کسے دیا گیا تھا۔
عمران خان نے اپنے ’خطرناک‘ ہونے کا پیغام کسی کو بھی دیا ہو اور اپوزیشن کی سیاست کا محور خواہ حکومت کو دفاعی پوزیشن میں رکھنا ہی ہو ، اس طرز عمل سے نہ پاکستان کی خوشحالی کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی جمہوریت توانا ہوگی۔ اپوزیشن لیڈروں کو عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کی بجائے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرلیں ۔ تاکہ آئیندہ انتخابات میں جو پارٹی بھی منتخب ہوکر اقتدار تک پہنچے ، اسے بھی اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملے۔ موجودہ سیاسی انتظام میں ملک اور جمہوریت کی کم از کم اتنی خدمت تو کی جاسکتی ہے۔ سیاسی اقتدار کے لئے بے چینی میں ’ٹھنڈا کرکے کھانے‘ کی حکمت کو فراموش کرنا سود مند نہیں ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker