سید مجاہد علیکالملکھاری

نواز شریف صاحب! اب روڈ میپ واضح ہونا چاہئے / سید مجاہد علی

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد گجرات میں کوٹلہ کے مقام پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے جمہوری نظام میں ستر برس سے لگی ہوئی بیماری سے نجات حاصل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالتوں کے فیصلے صرف اس وقت مانیں گے جب عوام بھی انہیں مسترد کر دیں۔ نواز شریف کو ان دونوں باتوِں کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو درست ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے دو مرتبہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پہلے گزشتہ برس جولائی میں انہیں وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا گیا۔ اور جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کی اکثریت کے بل بوتے پر انتخابی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے نااہلی کے باوجود اپنی پارٹی کی صدارت کرنے کی راہ ہموار کرلی تو سینیٹ انتخاب سے چند روز پہلے یہ کہتے ہوئے انہیں پارٹی صدارت کے لئے نااہل قرار دیا گیا کہ آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل ہونے والا شخص کسی سیاسی پارٹی کی سربراہی کرنے اور اہم قومی معاملات کی ڈوریاں ہلانے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ سپریم کورٹ کے یہ دونوں فیصلے متنازع ہیں۔ پہلے فیصلہ میں ملک کے وزیر اعظم کو کوئی جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اس گمان پر نااہل قرار دیا گیا ہے کہ وہ کرپشن میں ملوث ہؤا ہو گا۔ اس کے لئے مشرف آمریت کے دور میں نواز شریف کی طرف سے اپنے بیٹے کی دوبئی میں قائم کمپنی کےصدر کے طور پر تنخواہ وصول نہ کرنے کو ’جھوٹ اور خیانت‘ سے تعبیر کیا گیا۔ ملک کے منتخب وزیر اعظم کو نااہل کرنے کے لئے یہ کمزور عذر تھا۔ سیاسی مبصرین اور آئینی ماہرین اس فیصلہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے جب نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کے لئے قانون میں ترمیم کی تو سینیٹ انتخاب سے پہلے نہ صرف اس قانون کو آئین کے خلاف قرار دیا گیا بلکہ پارٹی صدر کے طور پر نواز شریف کے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ اپنے مضمرات کے حوالے سے نہایت سخت تھا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہی تھی۔ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے امید واروں کو ایک نیا موقع دینے کے لئے نئے صدر کے تحت دوبارہ نامزدگیوں کا حق دینا ماناسب نہیں سمجھا اور مقررہ شیڈول پر انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے حکمران جماعت کو اتنی رعایت ہی دی کہ اس کے امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے سکے تھے۔ اس فیصلہ کی شدت سے بھی زیادہ اس کی ٹائمنگ حیرت و استعجاب کا باعث بنی ہے۔ پہلے انتخاب سے چند روز پہلے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نااہل قرار دینے اور ان کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کا مختصر حکم جاری کیا گیا پھر سینیٹ انتخاب سے ایک روز پہلے اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اپنے اس فقرے کے ذریعے میڈیا میں خوب تشہیر حاصل کی کہ جو شخص بادشاہ بننے کے لائق نہیں، وہ بادشاہ گر یا کنگ میکر کیسے ہو سکتا ہے۔ اس طرح سینیٹ انتخاب سے ایک روز پہلے بڑی وضاحت سے یہ بات سامنے لانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نواز شریف کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اس لئے اگر یہ کہا جارہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ کا اعلان بھی فوری حکم کی طرح ایک خاص وقت میں ایک خاص مقصد حاصل کرنے کے لئے کیا گیا تھا تو اس دلیل کو آسانی سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ایک جمہوری نظام میں ووٹوں سے منتخب ہو کر قیادت سنبھالنے کے عمل کو بادشاہت سے تشبیہ دے کر بھی کوئی اچھی عدالتی روایت قائم نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں قانون کی زبان استعمال ہونی چاہئے۔ تاہم اگر عدالتی فیصلوں اور سیاسی جلسوں کی زبان میں فرق کرنا مشکل ہو جائے تو شبہات اور مسائل پیدا ہونا لازم ہے۔ یہ شبہات سپریم کورٹ کے بارے میں بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ ان شبہات کو ختم کرنے کے لئے عدالت عظمی کی طرف سے کبھی یہ اعلان ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت کی پاسبان ہے، کبھی پارلیمنٹ کو سپریم ماننے کا اقرار کیا جاتا ہے اور کبھی یہ وعدہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ عدالت کے سیاسی فیصلوں پر تند و تیز سیاسی مکالمہ کو روکنے کے لئے متعدد اہم افراد کے خلاف توہین عدالت کے اقدام بھی کئے جارہے ہیں۔ نہال ہاشمی تو ایک ماہ کی سزا بھگت کر حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے ہیں اور رہائی کے بعد انہوں نے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورت حال سپریم کورٹ کی خود مختار اور غیر جانبدار ادارے کے طور پر شہرت کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔
سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے امید واروں کی کامیابی اور ایوان بالا میں بھی سب سے بڑی جماعت بننے کے بعد نواز شریف اور ان کے حامیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ اب عدالتوں اور ان کے فیصلوں پر حرف زنی کی زیادہ تلخ فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ نواز شریف نے آج کوٹلہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اس کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ رہی سہی کسر ان کی صاحبزادی مریم نواز نے پوری کردی اور کہا کہ عوام نے بار بار عدالتی فیصلوں کو مسترد کردیا ہے۔ سیاسی کامیابی کو ذاتی جرائم کی پردہ پوشی کے لئے استعمال کرنے کا رجحان اگرچہ نیا نہیں لیکن اس رویہ سے بہتری کی امید لگانا بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔ اگر بعض عدالتی فیصلوں میں کچھ غلطی سرزد ہوئی بھی ہو تب بھی کسی جلسہ میں ہاتھ کھڑے کروا کے انہیں مسترد کرنے کی روایت قائم کرنا مستحسن نہیں ہوسکتا۔ خاص طور سے جب تین بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والا شخص اس قسم کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اس سے تشویش اور پریشانی پیدا ہونی چاہئے۔ نواز شریف نے آج کے خطاب میں دو اہم باتیں کی ہیں۔ 1) ملک میں ستر برس سے جو بیماری لاحق ہے اس کا علاج کرنے کا وقت آگیا ہے۔ نواز شریف کے نزدیک اس کا سہل علاج یہ ہے کہ 2018 کے انتخابات میں عوام مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کروائیں۔ 2) کہ وہ اس وقت تک اپنے خلاف کسی عدالتی فیصلہ کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک عوام انہیں بطور لیڈر قبول کرتے رہیں گے۔
نواز شریف کی یہ دونوں باتیں غیرواضح اور خطرناک ہیں۔ ان کے خلاف احتساب عدالتوں میں کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ وہ ان الزامات سے بری بھی ہو سکتے ہیں لیکن انہیں سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی عدالتی فیصلہ غلط یا درست ہو سکتا ہے۔ اسی لئے اپیل کا حق عدالتی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض فیصلے اعلی ٰ ترین عدالت تک پہنچنے کے باوجود مکمل طور سے انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ لیکن کسی بھی قانونی نظام میں مجاز عدالت کا فیصلہ ہی قابل قبول بھی ہوتا ہے اور مثال بھی بنتا ہے۔ کوئی فرد خواہ وہ کتنا ہی مقبول ہو، اپنے خلاف فیصلو ں کو عوام کی تائید سے مسترد نہیں کرسکتا۔ نواز شریف یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں فی الوقت عدالتوں سے ان کی مرضی کا انصاف نہیں مل رہا لیکن یہ کہنا کہ وہ جب تک عوام میں مقبول ہیں، اس وقت تک عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کرتے رہیں گے، ملک میں فکری اور انتظامی انتشار و انارکی پیدا کرنے کی کوشش کے مترادف ہوگا۔ خاص طور سے نواز شریف کی سطح کے لیڈر کو اس قسم کی مقبول زبان استعمال کرتے ہوئے غیر معمولی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
اس وقت تک نواز شریف کو اس بات کا کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ وہ ناموافق فیصلوں پر تنقید کرنے کے باوجود انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد کوئی آئینی یا پارلیمانی بحران پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے۔ اسی طرح وہ احتساب عدالتوں میں ہونے والی کارروائی کو انتقامی اقدام سمجھنے کے باوجود عدالت میں پیش ہوکر اپنا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ ان کی اس ’قانون پسندی‘ کی وجہ سے بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوام کی تائید ہی کی وجہ سے ان کی پارٹی ابھی تک ٹوٹ پھوٹ سے بچی ہوئی ہے۔ ورنہ جو ڈرامہ بلوچستان میں رچایا گیا تھا، اسے پنجاب میں بھی کھیلا جا سکتا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کا تعلق اس طبقہ سے ہے جو اسی پارٹی میں شامل ہوتی ہے جسے اقتدار ملنے کی امید ہو۔ یہ لوگ نواز شریف کی چاہ کی بجائے، عوام میں ان کی پذیرائی کی وجہ سے ابھی تک ان کا ساتھ چھوڑنے کا حوصلہ نہیں کر سکے۔ اس لئے نواز شریف کو بھی ان عوامل کا احترام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے وہ مقبول ہو رہے ہیں اور ان کی حکومت کی غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود اب لوگ انہیں شفاف جمہوری نظام کے قیام کی تحریک کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ اگر وہ عدالتی فیصلوں کو عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر مسترد کرنے کی بات کریں گے تو قانون پسند رہنما کے طور پر ان کی شہرت داغدار ہوگی اور اس طرح ان کی سیاسی مقبولیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح جب نواز شریف یہ اعلان کرتے ہیں کہ اب 70 برس سے لاحق بیماری کو ختم کرنا ہوگا تو انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ کس بیماری کی بات کر رہے ہیں اور اس کے علاج کے لئے ان کے پاس اپنی پارٹی کی سیاسی کامیابی کے علاوہ کیا نسخہ ہے۔ اس ملک کے عام لوگ یہ بات بھولے نہیں ہیں کہ نواز شریف اسی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں جس کے خلاف وہ اس وقت برسر پیکار ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ زیادہ دور کی بات ہے جب پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل کروانے کے لئے نواز شریف خود اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار اور عدالتوں کے معاون بنے ہوئے تھے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں وزیر اعظموں کو نکال باہر کرنے کا کھیل ختم ہونا چاہئے تو انہیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ وزیر اعظموں کی چھٹی کروانے کے لئے ماضی میں بھی اسی طرح سیاستدانوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے جیسا کہ اس بار ہؤا ہے۔ نواز شریف خود بھی اس کھیل میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ملک میں جمہوریت کو پنپتا دیکھنے کے خواہشمند نواز شریف کی غلطیوں کو معاف کر کے اور ماضی کو بھلا کر جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے ان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں۔ لیکن نواز شریف کو بھی یہ واضح کرنا پڑے گا کہ عوام اگر ایک بار پھر ان پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کون سے آئینی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے سیاسی ایجنڈے میں اپنی بحالی کے علاوہ نظام کے استحکام کے کون سے نکات شامل ہیں۔ ان ترامیم میں کون سے نکات ہوں گے جو ایک طرف پارلیمنٹ کو طاقتور بنائیں تو دوسری طرف عدالتوں کی خود مختاری بھی برقرار رہے۔ ایک فنکشنل جمہوری نظام طاقتور اور خود مختار عدالتوں کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔
نواز شریف وزیر اعظم کے طور پر نااہل ہونے کے بعد یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے نظام کو بچانے کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں اور وزیر اعظم کے طور پر بہت سے ناجائز فیصلے قبول کئے تھے۔ اگرچہ وہ وقت آنے پر ان مشکلات کو بتانے کا وعدہ کرتے رہے ہیں جو بطور وزیر اعظم انہیں درپیش رہی ہیں تاہم کسی کو یہ توقع نہیں کہ وہ کبھی یہ تفصیلات سامنے لاسکیں گے۔ لیکن انہیں واضح طور سے یہ وعدہ تو کرنا پڑے گا کہ اگر ان کی پارٹی کو ایک بار پھر موقع مل گیا تو وہ ماضی کی طرح پھر سے ویسی ہی مصالحت پر آمادہ نہیں ہوگی اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کران سازشوں کا راز کسی وزیر اعظم کی قربانی سے پہلے فاش کیا جائے گا۔
جناب نواز شریف کو خبر ہو کہ اس ملک کے جمہوریت پسند صرف اسی صورت میں ان کا ساتھ دے سکیں گے اگر وہ خود اپنے سیاسی ایجنڈے کے بارے میں ایک واضح روڈ میپ پیش کریں گے اور عوام کو اس پر اعتماد میں لیں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker