پاکستان کے دیوالیہ ہوجانے کی باتیں یوں کی جارہی ہیں جیسے اس قسم کا کوئی سانحہ کسی ایک فریق یا پارٹی کے لئے کامیابی کا راستہ ثابت ہوگا۔ کوئی یہ ماننے پر آمادہ نہیں ہے کہ اگر ملک کو کسی بھی قسم کی معاشی یا سفارتی و سیکورٹی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس سے اس ملک کے سب شہری متاثر ہوں گے۔ اس میں امیر غریب، سیاسی حمایت یافتہ یا مخالف کی تخصیص نہیں ہوگی۔
اس کے باوجود جب ملکی سیاسی مباحث کو اس سطح پر پہنچا دیا جائے کہ قوم و ملک کی صلاحیت و حیثیت کسی ایک فرد سے مختص ہوجائے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کو قبول بھی کرنے لگے تو کوئی ملک ویسی ہی سنگین صورت حال کا سامنا کرتا ہے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہے۔ موجودہ حکومت کو کوئی رعایت دینا مقصود نہیں ہے لیکن یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جب شہباز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ملک پہلے سے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار تھا۔ ان حالات میں اگر نئی حکومت کو سیاسی کھیل کھیلنے پر مجبور کرنے کی بجائے معاشی حقائق کی روشنی میں فیصلے کرنے کا موقع دیا جاتا تو شاید اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر سمیت مختلف منصوبوں کے لئے وسائل کے حصول کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔ مسلم لیگ (ن) مفتاح اسماعیل کی غیر مقبول مالی پالیسیوں کی شدید دباؤ میں تھی اور عمران خان مسلسل سیاسی جلسے جلوسوں کے ذریعے اس دباؤ میں اضافہ کررہے تھے۔انہی حالات میں معاشی اصلاح کی پالیسی کو سیاسی ضرورتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے اسحاق ڈار کو لندن سے واپس بلا کر وزارت خزانہ ان کے حوالے کردی گئی۔ اسحاق ڈار نے پہلے دن سے آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر طریقے سے ڈیل کرنے اور تمام مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی رٹ ضرور لگائی لیکن نہ تو پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے سوا کوئی چارہ ہے اور نہ ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بغیر عالمی منڈیوں میں اعتبار بحال ہوسکتا ہے۔ حکومت کے سرپر مسلسل نئے انتخابات کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ صرف مرکز تک محدود وفاقی حکومت عالمی اداروں سے مالی معاونت کی کوشش کرتے ہوئے، دو بڑے صوبوں کے عدم تعاون کی صورت حال کا سامنا کرتی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی مالی منصوبہ حتمی شکل اختیار نہیں کرپاتا۔ اسحاق ڈار مزید محاصل عائد نہ کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے سامنے بظاہر ’دیوار‘ بننے کا تاثر دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ریت کی دیوار کے مانند ہیں اور بہر صورت انہیں آئی ایم ایف کی شرائط پر ہی کوئی معاہدہ قبول کرنا پڑے گا۔ حکومت کی آخری امید ملک میں سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے کچھ مراعات حاصل کرنا ہے تاکہ ادائیگیوں کی مشکل صورت حال سے بھی نکلا جاسکے اور سیاسی طور سے بھی کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
ان حالات میں قومی مفاد کا تقاضہ تو یہ تھا کہ سب سیاسی پارٹیاں بے شک سیاسی میدان میں مقابلہ کرتی رہیں لیکن معاشی شعبہ میں وسیع تر تعاون پر آمادہ ہوجاتیں۔ صوبے اندرونی معاملات جیسے جی چاہے چلاتے لیکن عالمی اداروں سے معاملات کرتے ہوئے، وہ وفاقی حکومت کے ہمرکاب ہوتے۔ لیکن پاکستان میں اس سے برعکس صورت حال ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ عمران خان نے ملک میں مہنگائی اور ادائیگیوں کی صورت حال کو موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اسے کسی بھی طرح انتخابات پر مجبور کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اب پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ کر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کروانے کے لئے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ یہ سارے سیاسی اقدامات ہیں جو معاشی مشکلات میں گھرے ملک کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی طاقت اپوزیشن اور حکومت کو مفاہمت پر آمادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔جس اسٹبلشمنٹ کے پاس یہ اختیار موجود رہا ہے، وہ گزشتہ ایک دہائی کی بداعتدالی کی وجہ سے اب کسی حد تک اپنی قوت جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ عمران خان کی حکومت قائم کرنے کا تجربہ صرف سیاسی لحاظ سے ناکام نہیں ہؤا بلکہ اس ناکام تجربہ کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ سابق آرمی چیف اور عمران خان کے درمیان اختلافات کی ایک بنیادی وجہ ملکی معاشی صورت حال بھی تھی۔ البتہ حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی سیاسی جوڑ توڑ کی سیاست کو ترک نہیں کیا گیا۔ ایک طرف عمران خان شہروں قصبوں کی خاک چھانتے ہوئے اسلام آباد فتح کرنے کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف اسلام آباد حکومت کو بدستور ’قابو ‘ میں رکھنے کے لئے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم کروانے کے منصوبہ پر عمل کروایا جارہا تھا۔ اب یہ کارنامہ سرانجام دینے والے کچھ کردار منظر نامہ سے غائب ہوچکے ہیں لیکن کچھ بدستور مختلف پوزیشن میں ملکی تقدیر کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ اس ملک کا المیہ البتہ یہ ہے کہ نہ تو ملکی مفاد سے کھلواڑ کرکے عہدے چھوڑجانے والوں سے سوال کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی قانون و آئین کی بجائے ’قومی مفاد‘ کی ڈاکٹرائن پر عمل کرنے والے عناصر سے اس کج روی کے بارے میں پوچھا جاسکتا ہے ۔
یاد کیجئے ریکوڈک کیس میں سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ ، جس کی وجہ سے ملک پر کثیر جرمانہ عائد ہؤا اور کئی سال کی خرابی کے بعد بالآخر اسی کمپنی سے وہی معاہدہ دوبارہ کرنا پڑا۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ایک صدارتی ریفرنس کے جواب میں نئے معاہدہ کو قانون کے مطابق قرار دیا ہے لیکن اس دوران اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی گئی کہ 9 سال پہلے اس معاہدہ کو کس بنیاد پر مسترد کیا گیا تھا۔ حالانکہ ملکی مالی حالت دیکھتے ہوئے یہ طے کرنے کی ضرورت تھی کہ سپریم کورٹ قانون پر عمل درآمد کروالے والا ادارہ ہے ، اسے مالی معاملات اور قومی تجارتی منصوبوں سے علیحدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یا عدالت خود کو پابند کرے کہ اگر وہ ایسے تجارتی منصوبے پر غور کرتی ہے جس میں عالمی ادارے میں ملوث ہوں تو فاضل جج عالمی قانون سازی و نظائر سے رجوع کریں اور کوئی حتمی رائے دینے سے پہلے ملکی مالی معاملات پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مسلمہ ماہرین کی رائے طلب کرلیں تاکہ اندھیرے میں تیر چلاتے ہوئے خود قومی وجود کو ہی تار تار نہ کرلیا جائے۔
یہ تو ایک معاملہ تھا۔ 2017 کے بعد سے ’عمران پراجیکٹ‘ کو کامیاب کروانے کے لئے عدلیہ نے جیسے بالواسطہ اعانت فراہم کی اور پاناما کیس میں اقامہ کا سراغ لگانے کے علاوہ ایک خاص ادارے کی غیر آئینی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کا جو رویہ اختیار کیا، اس سے پہنچنے والے نقصان کی ذمہ دار صرف عسکری قیادت نہیں ہے بلکہ ہائیبرڈ نظام مسلط کرنے کے منصوبہ میں سہولت کاری کرنے والے تمام جج بھی ملک و قوم کے مجرم ہیں۔ ایک مرحلہ پر اس معاملہ میں عدالتی گرم جوشی کا یہ عالم تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کو کچھ سچ بیان کرنے پر غیر معمولی عجلت میں عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ احتساب عدالتوں کو دباؤ میں لاکر ایک خاص ڈھب کے فیصلے کروانے کی روایت ڈالی گئی اور سول معاملات کی تحقیقات کے لئے بننے والی مشترکہ کمیٹیوں میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائیندے شامل کرکے عملی طور سے سول نظام کو عسکری کنٹرول میں دینے کا اہتمام کیا گیا۔
اب عمران خان نہایت ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان سے بیرونی ممالک کے لیڈروں سے ملنے والے تحائف کا حساب نہ مانگا جائے بلکہ وہ جسے چور کہہ دیں ، اسے چور کہا جائے تاکہ اقتدار پر ان کا حق فائق رہے۔ حالانکہ اس وقت معاملہ اقتدار پر قبضہ کا نہیں بلکہ ملک کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے کا ہے لیکن عمران خان جیسے کم نظر لیڈر یہ باور کئے ہوئے ہیں کہ اگر ایک بار اقتدار ان کے پاس آگیا تو سب معاملات درست ہوجائیں گے۔ انہیں جاننا چاہئے کہ اب معاملہ واجب الادا 127 ڈالر غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی، قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے اقدامات کے علاوہ عوام کو یہ یقین دلانے کا ہے کہ ملکی سیاسی قیادت مل کر معاملات درست کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شہباز شریف اس حوالے سے میثاق معیشت کی بات کرتے رہے ہیں لیکن عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف اس پر بات کرنے کی بجائے مسلسل سیاسی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اس حکمت عملی سے پارٹی کا تو نقصان ہوگا سو ہوگا لیکن ملکی معیشت کو مسلسل زک پہنچائی جارہی ہے۔عمران خان اب فوج کی نئی قیادت کو رجھانے اور اسے امر بالمعروف کا ساتھ دینے پر مائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ خود کو سچائی اور ایمانداری کی واحد علامت قرار دینے پر مصر ہیں۔ پاکستان میں اگر اس وقت کچھ امر بالمعروف ہوسکتا ہے تو وہ ملک کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے اور ایک ایسا نظام استوار کرنے کا کام ہے جس میں سب ادارے اپنے کام سے کام رکھیں اور ملکی قانون کو موم کی ناک بنانے کا طریقہ تبدیل کیا جاسکے۔ اگر عمران خان کی طرح قانون کی عمل داری کا مقصد اپنے لئے سہولت اور سیاسی مخالفین کے لئے قہر کو سمجھ لیا جائے گا تو تصادم کی موجودہ کیفیت ختم ہوسکتی ہے اور نہ ہی ملکی معیشت کو پٹری پر ڈالنے کے لئے مشکل سیاسی فیصلے کئے جاسکیں گے۔
کسی بھی جمہوری نظام میں انتخابات معمول کا طریقہ ہے لیکن کوئی انتخاب پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل نہیں ہوسکتے۔ اس کے لئے سیاست دانوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنے اور ملک کو حکمرانی کے ایک مہذب سویلین انتظام کی طرف لے جانے کی ضرورت ہوگی۔ سیاسی قبولیت کا طرز عمل عام کئے بغیر انتخابات نفرت اور بحران میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

