سید مجاہد علیکالملکھاری

قومی اسمبلی کی قرارداد “پیغام پاکستان” کے جھوٹ کی قلعی کھولتی ہے/ سید مجاہد علی

دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تشکیل دینے کی کاوش میں حکومت نے اس سال جنوری میں 1800 سے زائد علما سے فتویٰ لینے کے بعد ’پیغام پاکستان‘ کے نام سے یہ واضح کرنے کی کوشش کہ یہ قوم دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف متحد اور متفق ہے اور عقیدے کے نام پر کسی بھی قسم کی قتل و غارتگری یا تعصب اہل پاکستان اور حکومت کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ صدر پاکستان کی موجودگی میں اس بیانیہ کو لانچ کرنے کی تقریب میں ملک کے ممتاز سیاسی لیڈروں اور علمائے کرام نے شرکت کی اور سب نے بیک زبان تشدد اور مذہبی منافرت کے خلاف تقریریں کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ملک سے ہر قسم کی مذہبی منافرت کا خاتمہ کرکے باہمی احترام اور قبولیت کی بنیاد پر معاشرہ تعمیر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے بھوک ہڑتالیوں سے ملاقات کے دوران یہی یقین دہانی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کروائی تھی کہ ریاست ہر قسم کے عقیدہ اور ہر گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس ملک میں ہر مسلک اور مذہب کے لوگوں کو زندہ رہنے اور مساوی حقوق اور مواقع حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم آج مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے 20 دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی میں جو قرار داد پیش کی، اس میں بین السطور یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاشرہ مذہبی منافرت اور تعصب پر استوار ہے اور اس ملک کے تمام لیڈر اس طرز عمل کی حفاظت کرنے کے لئے ’متحد‘ ہیں۔
قومی اسمبلی نے آج جو قرار داد متفقہ طور سے منظور کی ہے، اس میں بظاہر صرف یہ کہا گیا ہے کہ ’دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے اس ملک میں نظام مملکت 1973 کے آئین کے تحت پارلیمنٹ کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے۔ اور پارلیمان کو اختیار ہے کہ وہ ملک میں قانون سازی کرے۔ اس لئے قرار داد پیش کرنے والے ارکان ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد کے شعبہ فزکس کا نام مشہور اور معروف سائنسدان ابو الفتح عبدالرحمان منصور الخزینی کے نام سے منسوب کیاجائے کیونکہ وہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے فزکس کے سائنسدان تھے‘۔ یہ قرار داد مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی نے پیش کی لیکن قومی بجٹ پر حکومت کے لتّے لینے والے اپوزیشن کے سارے اراکین نے خاموشی سے اسے منظور کرکے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ اس ملک میں مذہبی تعصب اور منافرت کا پرچار کرنے والی قوتوں کو برتری حاصل ہے اور جمہوریت، مساوات، اور باہمی احترام کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سارے لیڈر دراصل اپنا اپنا خوف چھپائے کمزور اور ناقص قراردادوں کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیپٹن صفدر کی قرارداد کو ایوان نے متفقہ طور سے منظور کرلیا۔ یعنی تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 342 ارکان نے اس قرارد داد میں پوشیدہ اس پیغام کی تائید و حمایت کی کہ یہ ملک چونکہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنایا گیا تھا اس لئے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ کسی قسم کے عقیدے کو قبول کرنے اور احترام دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص کوئی فقید المثال کارنامہ سرانجام دے یا ملک و قوم کا سر پوری دنیا میں بلند کرے تو بھی ایسے کسی شخص کی خدمات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ اس کی کامیابیوں کو مسترد کیا جائے اور اس کی ملک سے محبت اور علم کے میدان میں خدمات کو غیر اہم اور بے مقصد قرار دیتے ہوئے نظر انداز کردیا جائے۔ 3 مئی کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کے ذریعے یہ کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبد السلام کے بارے میں دنیا چاہے کچھ بھی کہتی رہے، پاکستان کے عوام چونکہ ان کے عقیدہ کو درست نہیں مانتے اس لئے ان کی سائنسی خدمات کو بھی وقعت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے آج ایک قرارداد کے ذریعے اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ ایوان آئینی ترامیم کے ذریعے صرف لوگوں کے بارے میں یہ طے ہی نہیں کرے گا کہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں بلکہ یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ اگر ہمارے ناپسندیدہ عقیدہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص علم و سائنس کی دنیا میں نیک نامی حاصل کرے گا تو ہم اس کی اس توقیر کو قراردادوں کے ذریعے مسترد کرکے یہ بتا دیں گے کہ اس قوم کو ’ڈکٹیشن‘ نہیں دی جاسکتی۔
ڈکٹیشن نہ لینے والی یہی قوم ’پیغام پاکستان ‘ جیسا بیانیہ جاری کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کرتی ہے تاکہ دنیا اسے امن سے محبت کرنے والے لوگوں کے طور پر تسلیم کرے۔ تاکہ بڑی طاقتوں سمیت مالی تعاون فراہم کرنے والے اداروں کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ہم مذہبی تقسیم اور منافرت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ چند شر پسند عناصر ہمارے پر امن عقیدے کو غلط معنوں میں پیش کرکے ہتھیار بند ہوئے ہیں لیکن پاکستان کے لوگ ان دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں بھی دے رہے ہیں اور ان کے خلاف شروع کی ہوئی جنگ جیت بھی رہے ہیں۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے گزشتہ دو برس کے دوران تواتر سے امریکہ اور اس کے دیگر حلیفوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے اور اس کی قربانیوں کو احترام دیاجائے۔ لاریب پاکستان کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جام شہادت نوش کیا ہے اور وہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ لیکن امریکہ اور دنیا پاکستان کی ان قربانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے، اسے مذہب کے نام پر تشدد عام کرنے والے عناصر کا سرپرست قرار دیتی ہے۔ اس رویہ کو مختلف نام دیئے جاتے ہیں لیکن اس کا مختصر مفہوم یہی ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر عدم برداشت کا رویہ عام ہے اور ملک کے ادارے اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ طرز عمل ملالہ یوسف زئی جیسی عالمی احترام پانے والی نوجوان بچی کے خلاف قومی سطح پر سامنے آنے والے متعصبانہ مباحث سے بھی عیاں ہوتا ہے اور جب بطور قوم ہم ایسے عناصر کی پذیرائی کرتے ہیں جو مختلف العقیدہ لوگوں اور گروہوں کے خلاف سرگرم ہوتے ہیں تب بھی اس سے ہمارے قومی مزاج کا سراغ ملتا ہے۔ یہی متعصبانہ منافرت دراصل اس مزاج اور رویہ کو جنم دیتی ہے جس کی کوکھ سے دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں جو بے گناہ لوگوں کو صرف اس لئے ہلاک کرتے ہیں کیوں کہ اس طرح وہ اپنے ایجنڈے کو سامنے لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کیپٹن صفدر نے پیش کی تھی اور باقی ارکان نے اس کی حمایت کی ہے۔ اس ’معصومانہ‘ قرارداد میں ڈاکٹر عبدالسلام کا نام شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ قومی اسمبلی کی مقدس دستاویز میں ایک احمدی کا نام شامل کرنا بھی مناسب نہ سمجھا گیا ہو۔ تاہم اس کے متن سے یہ واضح ہے کہ اب قومی اسمبلی متفقہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دسمبر 2016 کے اس فیصلہ کو مسترد کرنے کا اعلان کر رہی ہے جس کے تحت قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام فزکس میں نوبل انعام جیتنے والے نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نواز شریف نے اس موقع پر عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سائنسدان کی یاد میں پی ایچ ڈی کے پانچ وظائف دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ موجودہ قرارداد میں یہ تو واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان چونکہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا اس لئے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام بارھویں صدی کے مسلمان سائنسدان منصور الخزینی کے نام پر رکھا جائے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پی ایچ ڈی کے جن وظائف کا اعلان اس وقت کے وزیر اعظم نے کیا تھا کیا وہ بھی اب الخزینی کے نام سے منسوب ہو ں گے یا ان پر ایک گمراہ عبدالسلام کا نام درج کیا جاسکے گا۔ اس قرارداد میں جس طرح قائد اعظم یونورسٹی کے اسی شعبہ کا نام الخزینی کے نام پر رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جسے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا تھا، اس لئے یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہئے کہ اصل مقصد الخزینی کو اعزاز دینا نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالسلام سے اعزاز چھیننا ہے۔ لیکن کیا قومی اسمبلی کی ایک قرارداد دنیا بھر میں ڈاکٹر عبدالسلام کی تحقیق اور نکتہ رسی سے استفادہ کرنے والے طالب علموں اور ماہرین کو ان کے اسباق پڑھنے سے روک سکے گی۔
یہ قرارداد صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے سیاست دان خواہ وہ ملک میں ’خفیہ ہاتھوں ‘ کے خلاف کھڑے ہونے اور جمہوریت کے لئے جان کی بازی لگانے کے دعوے دار معزول وزیر اعظم کی پارٹی ہو یا نیا پاکستان تعمیر کرکے سب کو مساوی احترام اور مواقع دینے والی جماعت ہو، وہ دراصل مذہب کے نام پر تعصب کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتیں۔ ہمہ قسم سیاست دان انتخابات کے سال میں عام ووٹر کو یہ یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ ان تعصبات کی حفاظت کرے گا جو اس ملک کے مذہبی ٹھیکیداروں نے قوم کے دل و دماغ میں ٹھونس دیئے ہیں۔ اس مزاج کے ہوتے، ملک میں احترام اور وسیع المشربی کی باتیں محض افسانے اور کہانیاں ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker