2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

نوشتہ دیوار، نئے اورنگ زیب کا ظہور اور آزادی رائے / سید مجاہد علی

ہر ذی شعور پاکستانی ملک میں ’منصفانہ ‘ انتخابات اور معلق پارلیمنٹ کا یقین کئے ہوئے ہے۔ اگر 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے بعد نتائج اس سے مختلف ہوئے تو انہیں عمومی حکمت کے مطابق دھاندلی کا نتیجہ قرار دینا غلط نہیں ہو گا۔ اسی عمومی تفہیم کے مطابق ملک کے مؤثر عدالتی نظام کے تحت سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو تا حیات نااہل قرار دئیے جانے پر پر مہر تصدیق ثبت ہونا لازم ہے۔ یہ تصدیق متوقع منصافانہ انتخابات کے بعد ہی ممکن ہوگی کیوں کہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں معزول اور نااہل ہونے کے بعد نواز شریف خود بھی یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ ان کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ عدالتیں نہیں کرسکتیں بلکہ اس کا فیصلہ یوم انتخاب کو عوامی عدالت میں ہو گا۔ اردو محاورہ کے مطابق زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہئے۔ اس لئے جب چہار کھونٹ معلق پارلیمنٹ کا شہرہ ہے اور آصف زرداری جیسے سیاست کے گھاک شناور بھی یہ بتا رہے ہیں کہ چند ہفتے بعد منتخب ہونے والی اسمبلی میں کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی بلکہ آزاد ارکان کی بڑی تعداد بھی اسمبلیوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو گی ۔۔۔ تو یہ مان لینے کے سوا چارہ بھی کیا ہے کہ یہی نوشتہ دیوار ہے۔
تنازعہ تو اس وقت کھڑا ہو گا اگر انتخابات میں نتائج دیوار پر لکھی تحریر اور اور عمومی قومی ’تفہیم‘ کے برعکس سامنے آئے۔ اس قسم کی توقع مسلم لیگ (ن) کے رہبر نواز شریف کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی ہے۔ نواز شریف گزشتہ برس جولائی میں اپنے ساتھ ہونے والے توہین آمیز سلوک اور اس کے بعد سے احتساب عدالت کی پیشیاں بھگتنے کا انتقام لینے کے لئے انتخاب میں ایسی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ان کی ماضی کی ساری کامیابیوں کا ریکارڈ توڑ دے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایسے نعرے ایجاد کئے ہیں جن کی حرمت کا خود انہیں بھی پورا یقین نہیں ہے کیوں کہ وہ بہر حال گزشتہ تین دہائیوں سے اس سیاسی نظام کا حصہ بنے رہے ہیں اور اس کے نشیب سے آگاہ ہونے کی وجہ سے جانتے ہوں گے کہ ایسی کایا پلٹ کامیابی کیوں کر اور کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان بھی کچھ ایسی ہی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کہ 25 جولائی کو سجنے والے انتخابی میلہ میں وہ اتنی بڑی کامیابی سمیٹ سکیں گے کہ سارے مخالف منہ تاکتے رہ جائیں اور وہ جھٹ سے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال کر ملک کی تقدیر بدل دیں ۔ یوں تو عمران خان پہلے سیاست دان نہیں ہیں جو ملک اور اس میں آباد عوام کی تقدیر بدل دینے اور نئی سہانی صبح کی نوید دے رہے ہیں ۔ ان سے پہلے بھی سب سیاست دان خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بوسیدہ نظام کو گرا کر سماجی انصاف پر مبنی معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہوں یا ان سے 38 برس بعد ملک کے سیاسی منظر نامہ پر ابھرنے والے آصف علی زرداری ہوں جو پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہوں، اس قسم کی خواہش کا اظہارکرتے رہے ہیں۔ ۔ نواز شریف بھی ایسے ہی نعرے لگانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور ملک کو جنوبی کوریا سے لے کر فرانس تک جیسا شاندار ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ بنانے کے وعدے اور دعوے کرتے رہے ہیں۔ اب اس فہرست میں عمران خان بھی شامل ہو چکے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کا وزیراعظم بننا ضروری ہے۔ ’نیا پاکستان‘ از خود تعمیر ہو جائے گا۔ عمران خان نے جس طرح الیکٹ ایبلز کو تحریک انصاف میں شامل کیا ہے اور اب جس طرح ان کی اہمیت اور ضرورت پر بلیغ لیکچر دے کر اپنی ہی پارٹی کے مایوس کارکنوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس سے یہ بات عمران خان کے سوا سب کو سمجھ آرہی ہے کہ تحریک انصاف کا نیا پاکستان صرف اس حد تک نیا ہو گا کہ اس میں وزیر اعظم کا نام عمران خان ہوگا۔ ابھی کسی کے پاس یہ غور کرنے کا وقت نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کیا اور کیسے تبدیل ہوگا۔
عمران خان اور ان کے جاں نثاروں کو یقین ہے کہ ایک بار نواز شریف کا دھڑن تختہ ہو گیا اور اقتدار تحریک انصاف کے ہاتھوں میں آگیا تو حالات تبدیل ہوتے دیر نہیں لگی۔ یہ نرگسیت پسندی خواب دیکھنے اور نعرے لگانے کی حد تک تو قابل فہم ہے لیکن پاکستان کے معاشی، سماجی، عوامی اور سیاسی و انتظامی معاملات کا سرسری شعور رکھنے والا شخص بھی یہ بتا سکتا ہے کہ اس قسم کے خواب ہمیشہ سراب ثابت ہوتے ہیں۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ اس بار بھی پاکستانی عوام سیاست دانوں کے دکھائے ہوئے سہانے سپنوں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور پھر خراب قیادت اور بدعنوان لیڈروں کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ تاہم یہ جائزہ آج سے تیس پینتیس برس پہلے شاید درست ہوتا ہو گا ، اب پاکستانی ووٹر سیانا ہو چکا ہے۔ وہ سیاست دانوں کو پرکھتا ہے اور صرف اسے اپنے ووٹ کے قابل سمجھتا ہے جو منتخب ہونے کے بعد ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے سکے اور انہیں اس بات کا یقین دلا سکے وہ انتخاب کے بعد اپنے حلقہ اور اس کے عوام کو نہیں بھول جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جمال لغاری ہو ں یا سلیم خان مزاری یا سکندر حیات خان بوسن، انہیں جاگیرداری کے زعم کے باوجود اب نوجوان ووٹروں کے سخت سوالوں کا سامنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے کنگز پارٹی کا روپ دھارنے اور عمران خان کی طرف سے بنی گالہ کے دروازے چوپٹ کھلے رکھنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے سارے سیانے تحریک انصاف میں شامل ہونے اور پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے۔ اکثر الیکٹ ایبلز اپنے حلقہ کی سیاسی نبض کو سمجھتے ہوئے مستقبل کا سیاسی رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں۔ البتہ انتخابات کے بعد صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ پھر انتخابات 5 برس کی دوری پر ہوں گے اور وہ وقت آنے تک نو منتخب اراکین اسمبلی ’حکمرانوں ‘ کے لئے اپنی وفاداریاں اور خدمات پیش کرکے اپنے علاقے کے لئے کچھ نہ کچھ ترقیاتی فنڈز یا مراعات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے سیاسی لوٹوں یا گھوڑوں کی روش پر غور کرتے ہوئے اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اگر الیکٹ ایبلز وقت کے ساتھ وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں تو ووٹر بھی صرف اسے ووٹ دیتا ہے جو بعد از انتخاب ان کے جائز و ناجائز مطالبات اور خواہشات پوری کرسکے۔ اسی لئے الیکٹ ایبلز کے سہارے نیا پاکستان تعمیر کرنے کی خواہش رکھنے والے عمران خان کی سادہ لوحی ناقابل فہم ہے۔
اس حوالے سے یہ نکتہ علیحدہ بحث کا موضوع ہے کہ علاقے کی ترقی یا ووٹر خاندانوں کو ملازمتیں دلوانا قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا کام نہیں ہے۔ انہیں تو قانون سازی کے ذریعے نظام کو درست کرنے کا کام سونپا جاتا ہے لیکن ہر انتخاب کی بنیاد یہ مطالبہ بن چکا ہے کہ منتخب ہونے والا رکن علاقے یا حلقے کے لئے کیا کرے گا۔ سیاسی نظام کی اس کجی کی وجہ سے امیدواروں کو انتخابی مہم میں وعدے بھی کرنا پڑتے ہیں اور بعد از انتخاب انہیں پورا کروانے کے لئے جیتی ہوئی پارٹی کا ساتھ دینا بھی ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اس لئے الیکٹ ایبلز کو مطعون کرنے سے پہلے بہت سے دوسرے عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں یہ نظام مستحکم ہونے کی بنیادی وجہ ملک میں جمہوریت کے بارے میں شعور کی ناقص تفہیم ہے۔ سیاست دانوں اور پارٹیوں نے عوام کو نعروں اور خوابوں کے ذریعے رجھانے کا طریقہ اپنایا ہے اور ملک میں مناسب تعلیم اور ذہنی تربیت کے ماحول کی بھی کمی ہے ۔ اسی لئے ووٹر بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور صرف اسی کو جمہوریت سمجھنے لگے ہیں جس میں انہیں اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ درپردہ قوتوں کے لئے جمہوری نتائج کو کنٹرول کرنا سہل ہو جاتا ہے اور انتخابات سے قبل انتخابی نتائج کے بارے میں پیش گوئی کو یقینی امر قرار دینے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔ ذاتی مفاد کے لئے پارٹی یا امید وار کا انتخاب ہی نہیں بلکہ یہ بات بھی قومی تحت اشعور کا حصہ بنا دی گئی ہے کہ جمہوریت اداروں کی سرپرستی، تائد اور تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ایسے میں اسٹبلشمنٹ کے پروردہ نواز شریف کی بغاوت اسی طرح تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے جس طرح 60 کے عشرہ کے آخر میں ایوب خان سے علیحدہ ہو کر تاشقند کی پٹاری کھولنے کا نعرہ لگانے والے ذوالفقار علی بھٹو نظام اور حکومت کے لئے اندیشہ سمجھ لئے گئے تھے۔ نواز شریف کی سیاسی محرومی کے بعد ہونے والی کھینچا تانی میں عوام میں جمہوری شعور کی ایک نئی لہر بیدار ہوئی ہے۔ اس لہر کی قوت کے بارے میں کسی کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ جمہوریت نواز اور اینٹی اسٹبلشمنٹ یہ ووٹر عام طور سے ڈالے جانے والے پچاس ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ووٹروں میں شامل ہے یا یہ اس خاموش نصف تعداد کا حصہ ہے جو جمہوری انتخابات کو سعی رائگاں قرار دیتے ہوئے ووٹ دینے کی زحمت نہیں کرتے۔ 25 جولائی کو اگر یہ خاموش ووٹر جمہوریت دشمن قوتوں کے خلاف میدان میں نکل آیا تو اندیشہ ہے کہ پھر انتخابی نتائج کا نقشہ ہی نہیں بلکہ ملک کی تقدیر بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ دیوار پر تقدیر لکھنے والوں اور انتخاب سے پہلے نتائج کا پتہ دینے والوں کے لئے یہ اندیشہ کسی بھیانک خواب کی مانند ہے۔ اس کی تعبیر تو بہر صورت 25 جولائی کو ہی سامنے آئے گی لیکن تقدیر تبدیل کرنے کے سارے ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
انگریزی روزنامہ ڈان نے آج کے اداریہ میں اپنے اخبار کی ترسیل میں ڈالی جانے والی رکاوٹ کا گلہ کرنے کے علاوہ اپنے عملہ کو ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کیا ہے اور آئین کی شق 19 کی دہائی دیتے ہوئے آزادی رائے کا حق مانگا ہے۔ جس عبوری حکومت کے دور میں ملک کا سب سے معتبر اخبار خود کو بے بس اور لاچار بتا رہا ہو اور اس پر چہار سو سناٹا ہو ۔۔۔ اس دور میں نوشتہ دیوار اور عمومی تفہیم کے سنہری اصول کو مان لینے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ ملک کے عوام کو پتہ ہے کہ ان کا ووٹ ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا اس لئے وہ اسے اپنی قسمت یاوری کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی لئے شہباز شریف قومی حکومت کا نعرہ لگا کر اپنا ہاتھ بلند کررہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ اگر یہ مغلیہ دور ہوتا تو کیا شہباز شریف اپنے عہد کے اورنگ زیب نہ بن چکے ہوتے۔ جن کے نظم حکومت کے چرچے چہار دانگ عالم میں ہوتے۔ 25 جولائی کو یہی فیصلہ ہونا ہے کہ اس ملک کو ایک نیا اورنگ زیب عالمگیر چاہئے یا ایک ایسا نظام حکومت جو عوام کی رائے اور مرضی کی کسوٹی پر پرکھا جاسکے۔
(بشکریہ:کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker