2018 انتخاباتکالملکھاری

انتخابات کی شفافیت اور قومی ساکھ داؤ پر ہیں/سید مجاہد علی

پاکستان کے مسائل کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اور نہ ہی ان سے لاعلم رہنا ممکن ہے۔ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص ان مسائل سے روزمرہ کی بنیاد پر دوچار ہوتا ہے اس لئے وہ بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اس معاشرہ میں کون سی برائیاں جڑ پکڑ چکی ہیں۔ معاشی انحطاط کی وجہ سے دھوکہ دہی، چوری ڈاکہ معمول بن چکا ہے۔ بدعنوانی کےخلاف قومی سطح پر مباحث اور پرجوش نعروں کے باوجود معاشرہ کی ہر سطح پر رشوت ستانی عروج پر ہے۔ نہ رشوت لینے والے محتاط ہوئے ہیں اور دینے والے خوفزدہ ہیں۔ دونوں اسے نظام کی مجبوری بلکہ انتظام کا حصہ سمجھ کر قبول کررہے ہیں۔ جانے والی حکومت نے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن شدید گرمی میں اب بھی متعدد علاقوں کے لوگوں کو بجلی کی کمیابی کا سامنا رہتا ہے۔ انتہا پسندی میں کمی کی بجائے اب اس کی کئی نئی اقسام سامنے آچکی ہیں۔ اس مزاج کا نشانہ عام لوگ تو بنتے ہی ہیں لیکن بطور ملک پاکستان کی شہرت کو عالمی سطح پر شدید خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے تجارت سے لے کر قومی اہمیت کے اہم سیاسی معاملات پر بڑی طاقتوں کے علاوہ چھوٹے ملکوں کی حمایت حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
اس کی تازہ مثال فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کا آج سامنے آنے والا فیصلہ ہے جس میں پاکستان کو دہشت گردی کے لئے وسائل فراہم کرنے کے حوالے سے مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا اعلان فروری میں ہی ہو گیاتھا کہ جون میں پاکستان کو اس ادارے کی گرے لسٹ میں ڈال دیا جائے گا تاہم اس ہفتہ کے شروع میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستان کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی جس کے بعد امید کی جارہی تھی کہ ایف اے ٹی ایف شاید پاکستان کو مزید مہلت دینے کے لئے تیار ہوجائے۔ تاہم یہ معاملہ دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے صرف مالی معاملات کی بجائے سیاسی اور سفارتی پہلو بھی لئے ہوئے ہے۔ اس لئے ڈاکٹر شمشاد اختر کے دلائل بے سود رہے۔ امریکہ کی خواہش پوری ہوئی ۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے گزشتہ روز بھارت کے دورہ کے دوران ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ بدستور پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو تحفظ فراہم نہ کرے۔ پاکستان کی طرف سے بار بار اس الزام کی تردید کے باوجود امریکہ کے اعلیٰ حکام پاکستان اور دہشت گردی کے رشتے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔ جب کوئی امریکی اہل کار بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک میں جاکر اس کا اعلان کرتا ہے تو اس کا سیدھا سادا یہ مطلب ہے کہ امریکہ پاکستان کو عاجز کرنے کے لئے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔
پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں کی توصیف چاہتا ہے لیکن توصیف کی بجائے ان کی تصدیق بھی حاصل کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ فروری میں جب ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا نوٹس دیا تھا، اس وقت پاکستان ناقص سفارت کاری اور عالمی فورمز پر اپنی بےاعتباری کی وجہ سے ہی معتوب ٹھہرایا گیا تھا۔ اس فورم پر امریکہ اور اس کے مغربی حلیف تو پاکستان کے خلاف سرگرم تھے ہی لیکن ترکی، چین اور سعودی عرب بھی پاکستان کی مدد نہیں کرسکے تھے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو اس ادارے کی مستقل رکنیت کا لالچ دے کر پاکستان کی حمایت ترک کرنے پر آمادہ کیا تھا اورچین نے یہ دیکھ کر کہ اس کی حمایت کے باوجود پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں ڈالنے کا فیصلہ ہو جائے گا ،پاکستان کی حمایت سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ آخر میں صرف ترکی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کررہا تھا۔ قواعد کے مطابق اگر تین رکن ملک پاکستان کے خلاف مقدمہ کو مسترد کردیتے تو پاکستان اس مشکل سے نکل سکتا تھا لیکن قریب ترین دوست ملکوں کے رویہ سے واضح ہو گیا کہ ہر ملک اپنے مفاد اور ضرورتوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔سفارت کاری میں دوستی اور مخالفت مفادات کے لئے سودے بازی کا نام ہے۔ جس کو جہاں فائدہ دکھائی دیتا ہے ، وہ اسی طرف ہو جاتا ہے۔
پاکستان اس سے پہلے 2012 سے 2015 کے دوران بھی اس دارے کی گرے لسٹ پر رہا تھا۔ اگرچہ گرے فہرست پر آنے کے بعد عالمی تجارت اور مالی معاملات میں رکاوٹ حائل نہیں ہوتی لیکن ایسے ملک کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اضافی مصارف بھی برداشت کرنا ہوتے ہیں جو پاکستان جیسے غریب ملک کے لئے نامناسب بوجھ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے اس حوالے سے قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ ’ ایف اے ٹی ایف کی گرے فہرست میں شامل ہونے سے پاکستان کی معیشت پر اثر نہیں پڑے گا لیکن اس سے پاکستان کو دنیا میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔ یہ بیان جزوی طور سے درست تھا لیکن پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی قیادت کو ابھی تک یہ احساس نہیں ہو سکا کہ کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے حامل ملک کے لئے دنیا میں اعتبار اور اعتماد کا رشتہ استوار کرنا کتنا ضروری ہے ۔ یہ اعتبار ختم ہونے لگے تو اس کی معیشت پر دباؤ بڑھنا بھی لازم ہے۔ اس کے مظاہر حال ہی میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں اور برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی بھی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ جب عالمی ادارے کسی ملک کے بارے میں شبہات کا اظہار کرنے لگیں تو اس کے لئے حالات دگرگوں ہونے لگتے ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان کا قومی مزاج اور پالیسی کا بنیادی ڈھانچہ انہی اصولوں پر استوار ہے جو دنیا کے ساتھ ملک کے تصادم کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ فروری میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے بعد پاکستان نے اپنی شہرت کو بہتر کرنے کے لئے بعض انتہا پسند گروہوں کے خلاف اقدامات کئے تھے لیکن یہ اقدامات کسی پالیسی شفٹ کا اعلان نہیں تھے بلکہ ایک خاص وقت میں پیش آنے والی مشکل سے نمٹنے کی کوشش تھے۔ یہ امر حیرت اور استعجاب کا سبب ہونا چاہئے کہ جس وقت دہشت گردی کے لئے مالی معاونت کے حوالے سے عالمی ادارہ پاکستان کے مقدمہ پر غور کررہا تھا، اسی وقت پنجاب حکومت کے دانشور نگران وزیر اعلیٰ پروفیسر حسن عسکری دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل پارٹی اہلسنت والجماعت کے قائد مولانا احمد لدھیانوی کا نام دہشت گردی کے مشتبہ افراد کے فورتھ شیڈول سے ہٹانے اور ان کے تمام مالی اثاثے غیر منجمد کرنے کا حکم دے رہے تھے۔ یہ سانحہ اتفاقی امر بھی ہو سکتا ہے لیکن کیا واقعی ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ اور حکومت کو اس قسم کے فیصلوں کے دہشت گردوں کی سرپرست ریاست کے طور پر پاکستان کی شہرت پر مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ نہیں ہے۔ پروفیسر عسکری سیاسیات کے استاد ہیں اور سال ہا سال سے ملکی سیاست میں انتہا پسندی جیسے موضوعات پر غور و فکر کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی حکومت نے قومی انتخابات کی حرکیات میں مناسب کردار ادا کرنے کے جوش میں ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالا ت اور سامنے آنے والے شبہات کسی حد تک درست ہیں۔
ملک کی معیشت، سفارت اور شہرت کو لاحق خطرات سے قطع نظر اس وقت ملک کے اہم ترین اداروں کو اس بات کی فکر لاحق ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کوئی ’انہونی‘ نہ ہوجائے۔ نواز شریف کی سیاسی قوت میں اضافہ یا کسی ایک سیاسی پارٹی کی واضح اور بڑی کامیابی کو قومی سطح پر سانحہ سمجھا جارہا ہے اور اس کی روک تھام کے لئے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اب یہ عزم اس قدر واضح ہو چکا ہے کہ شہباز شریف کو بھی نیب کے اقدامات کو انتخابی عمل میں مداخلت قرار دینا پڑا ہے اور نواز شریف نے متنبہ کیا کہ انتخابات پر اثر انداز ہونے اور ان کی پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری رہیں تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ پاکستان کی حد تک بیانات اور مباحث جولائی میں ہونے والے انتخابات پر فوکس ہیں۔ لیکن دنیا سے پاکستان کا تعلق اور بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں کے اشارے اور مطالبے ملک کی تقدیر کے بارے میں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ انتخابات صرف اس صورت میں پاکستان کی تقدیر تبدیل کرنے کی طرف قدم ثابت ہو سکتے ہیں اگر یہ آزادانہ ہوں اور نو منتخب قومی اسمبلی ان غلط پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا اقدام کرسکے جن کی وجہ سے ملک میں بے چینی، انتہا پسندی اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والی ذمہ دار ریاست سمجھنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ موجودہ مسائل اور عالمی سفارتی ناکامی اور شرمندگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منتخب اسمبلیاں اپنا کردار ادا کرنے میں ’آزاد ‘ نہیں ہوتیں۔ اسی لئے جولائی کے انتخابات بنیادی اہمیت کے حامل ہو چکے ہیں کہ کہیں یہ اسٹیٹس کو توڑنے کا سبب نہ بن جائیں۔
انتخابات کی شفافیت کو مشتبہ بنانے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ملکی سطح پر انتشار بڑھے گا اور قومی مزاج کی اصلاح کا ایک اہم موقع کا ضائع کردیا جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان فاش غلطیوں کو درست کیاجائے جو ہمسایہ ملکوں سے تعلقات ، مذہبی رواداری، انتہا پسندی اور عسکری جنگجوؤں کے حوالے سے گزشتہ کئی دہائیوں میں سرزد ہوئی ہیں۔ یہ اصلاح ایک منتخب اور بااختیار پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ قومی پالیسی سازی میں اداروں کو باختیار رکھنے کے لئے پارلیمنٹ کو مسلسل جزو معطل بنانے کی کوشش ایک المیہ کے علاوہ قومی جرم ثابت ہو گی۔ یہ سچائی ہاتھ کی لکیروں کی طرح واضح ہے۔ اسے پڑھنا اور سمجھنا قطعی دشوار نہیں ہے۔ لیکن اس کے لئے غلطیوں کا ادراک کرکے اصلاح احوال کی طرف قدم اٹھانا ہوگا۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker