سید مجاہد علیکالملکھاری

چیف جسٹس کی اصلاح کیسے ہو گی؟/ سید مجاہد علی

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو مسلسل خبروں میں رہنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ اسی قسم کا شوق ایک آمر کے حکم پر استعفی دینے سے انکار اور پھر عدلیہ بحالی تحریک کا موجب بننے والے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بھی تھا۔ انہوں نے بحال ہونے کے بعد قوم کا مسیحا بننے کے شوق میں میڈیا کو استعمال کرنے کی بد روایت کا آغاز کیا تھا لیکن اب خاموشی سے ایک سیاسی پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے دوسروں کی پگڑی اچھالنے کے کام میں مصروف ہیں۔ تاہم افتخار چوہدری قوم کی بھرپور حمایت اور عدلیہ بحالی تحریک سے ملنے والی غیر معمولی قوت کے باوجود کوئی ایسا اہم کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے جسے ملک کی عدالتی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہو۔ دو روز قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے جب یہ اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ ملک کا عدالتی نظام درست کرنے میں ناکام رہی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف موجودہ چیف جسٹس پر ڈالنا مناسب نہیں ہو گا بلکہ لگ بھگ 5 برس تک چیف جسٹس کے عہدہ فائز رہنے والے اور عوام کی امیدوں کا مرکز بننے والے افتخار چوہدری کو اس کے لئے جوابدہ ٹھہرانا مناسب ہو گا۔ انہوں نے بھی عدالتی نظام کی اصلاح کرنے اور عوام کو مقدمات کے طویل اور جاں گسل انتظار سے نجات دلانے پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنے عہدے کو ہائی پروفائل سیاسی مقدمات تک محدود کرتے ہوئے میڈیا میں تو خوب شہرت حاصل کی لیکن وہ نہ سپریم کورٹ کو فعال اور مؤثر ادارہ بنا سکے اور نہ ملک کے عدالتی نظام کے ذریعے عوام کو جلد انصاف دلوانے کا اہتمام کرسکے۔ ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس حضرات مختصر مدت کے لئے عہدہ سنبھالتے رہے ہیں لیکن عدالتی نظام میں اصلاح کے لئے کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔
جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ ایک برس کے دوران آئین کی شق 184 (3) کے تحت اقدام کرتے ہوئے کسی حد تک مقبولیت اور میڈیا میں شہرت حاصل ضرور کی ہے لیکن انہیں بھی اب یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ وہ عدالتی نظام کو درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اگر ملک کے چیف جسٹس کو اس ناکامی کا احساس ہو گیا ہے تو اب بھی وہ اپنے عہدے کی مدت کے باقی چند ماہ کے دوران اس طرف بھرپور توجہ دے کر ایک قابل قدر مثال قائم کرسکتے ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لئے جسٹس ثاقب نثار کو شہرہ عام کی لذت ترک کرنا پڑے گی اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت کرنے سے اجتناب کرنا ہو گا تاکہ وہ کام کیا جا سکے جو ان سے متعلق ہے اور جس میں خرابی کی وجہ سے ان بنیادی حقوق کی زیادہ خلاف ورزی ہوتی ہے جن کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ سو موٹو کا فراخدلانہ استعمال کرتی رہی ہے۔ چیف جسٹس کبھی ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں، کبھی وزیروں اور اعلیٰ افسروں کو طلب کرکے سرزنش کرتے ہیں اور کبھی ججوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھتے ہیں۔ اس کا اظہار گزشتہ دنوں لاڑکانہ کے دور ہ کے دوران ڈسٹرکٹ اند سیشن جج گل ضمیر سولنگی کی عدالت میں ان کا موبائل میز پر پٹخنے اور انہیں ڈانٹنے کے طرز عمل سے بھی ہؤا اور دیگر عدالتوں کے ججوں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس بھی اس رویہ کو واضح کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی نے جمعہ 29 جون کو ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کو مشورہ دیاتھا کہ وہ زیریں عدالتوں کے ججوں کی تضحیک نہ کریں۔ انہوں نے کہا تھا چیف جسٹس دوسری عدالتوں کے فیصلوں کو تبدیل کر سکتے ہیں لیکن انہیں ان کی تضحیک و توہین کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے استعفیٰ کی خبروں اور اس حوالے سے کراچی بار ایسوسی ایشن کی قرارد داد میں بھی یہی درخواست گزاری گئی ہے۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ کے شعبہ اطلاعات کے ایک افسر نے سولنگی کے استعفیٰ سے لاتعلقی ظاہر کی تھی لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہؤا کی یہ استعفیٰ دیا گیا یا اس بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی گئی تھیں۔ لیکن متعلقہ سیشن جج کی خاموشی اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی قرارداد بالکل مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ کراچی بار کی قرارداد میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ اگرچہ زیریں عدالتوں کا دورہ کرکے صورت حال کی بہتری کے لئے کام کیا جاسکتا ہے لیکن چیف جسٹس اگر ایسے دوروں کے دوران عدالتی افسروں کی توہین کریں گے اور اسے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا تو اس سے میڈیا کی ریٹنگ میں تو اضافہ ہوگا، عدالتی کارکردگی بہتر نہیں ہوگی۔‘ اس قرارداد میں چیف جسٹس کے لئے زیریں عدالتوں کے دورے کے دوران درست رویہ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس کو اطلاع دئیے بغیر کسی عدالت میں جا کر کارورائی کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ اس دوران اگر کوئی غلطی سرزد ہو رہی ہو تو اس کا نوٹس لے کر مجاز اتھارٹی کو مناسب کارورائی کرنے کے لئے کہا جائے۔‘
جسٹس شوکت صدیقی کے مشورہ اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی قرارداد پر غور کرنے کی بجائے چیف جسٹس نے 29 جون کو ہی جاری ہونے والے ایک حکم کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت 7 جولائی سے کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس صدیقی کے چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس سامنے آنے کے فوری بعد اس قسم کا حکم انصاف کی فراہمی سے زیادہ انتقامی کارروائی کا اظہار محسوس ہو گا۔ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف یہ ریفرنس اپنی سرکاری رہائش کی تزئین و آرائش پر غیر ضروری وسائل صرف کروانے پر 2015 میں دائر کیا گیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چیف جسٹس بذات خود کرتے ہیں اور اس میں سپریم کورٹ کے تین سینئر ججوں کے علاوہ ملک کی چار ہائی کورٹس کے دو سینئرترین جج بھی شامل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلیٰ عدلیہ کے متعدد دیگر ججوں کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہیں جن میں چیف جسٹس ثاقب نثار خود بھی شامل ہیں۔ بعض ججوں پر تو سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین پر فضول خرچی سے کہیں زیادہ سنگین الزامات عائد ہیں۔ ایسے میں ایک ایسے جج کے خلاف کاررو ائی کرنے کا اعلان جس نے چیف جسٹس کے رویہ کو غلط قرار دینے کا حوصلہ کیا ہو، حیران کن اور افسوسناک فیصلہ ہے۔ اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی بجائے یہ تاثر قوی ہو گا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ قانون کی بجائے ذاتی پسند اور ناپسند پر عمل کرتے ہیں۔ یہ تاثر چیف جسٹس کے رتبہ، ان کے عہدہ کے وقار اور ان وعدوں کے بھی خلاف ہو گا جن میں جسٹس ثاقب نثار آئین کی پاسداری اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔
ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا طرز عمل کسی بھی دور میں مثالی نہیں رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ماضی میں نہ صرف فوجی بغاوتوں کو آئین کے مطابق قرار دیا ہے بلکہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو تو تین برس تک آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ پاناما لیکس کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں عدالتوں میں نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح عدالتی نظام کی غیر جانبداری کے بارے میں شبہات قوی ہوتے ہیں۔ اسی طرح توہین عدالت کے مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیروں کو ٹارگٹ کرنے میں مستعدی دکھائی جارہی ہے لیکن بعض دیگر لوگوں کی عدالتوں اور ججوں کے بارے میں بدکلامی اور مغلظات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے امید وار کے خلاف اچانک نیب کی کارروائی اور سپریم کورٹ کی خاموشی بھی اس غیر متوازن رویہ کی واضح مثال ہے۔
چیف جسٹس اپنے عہدے اور اختیار کو کمرہ عدالت تک محدود کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ آئین کے تحت حاصل استحقاق کو اپنی صوابدید کے مطابق وسعت دینے پر مصر ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے بعد اب کراچی بار ایسوسی ایشن بھی چیف جسٹس سے فل کورٹ کا اجلاس بلا کر سپریم کورٹ کے دائرہ کار اور اختیار کی حدود مقرر کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس دوران چیف جسٹس سو موٹو اختیار کے تحت حکومتی انتظامی معاملات کے علاوہ اہم سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا اورحکم جاری کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ آج ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں دو ڈیم بنانے پر ’اتفاق رائے‘ کا اعلان کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بنکوں سے ناجائز طور پر قرض معاف کروانے والی 222 کمپنیوں سے وصول ہونے والے 52 ارب روپے سے یہ ڈیم تعمیر کئے جائیں۔ کیا ملک کا کوئی قانون دان یہ وضاحت کرسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کس حد تک قانون کو موم کی ناک بنانے پر اصرار کر سکتے ہیں۔ اول تو یہ طے ہونا مشکل ہے کہ یہ ڈیم کہاں تعمیر ہوں گے اور جو فیصلہ منتخب حکومت کو کرنا ہے، وہ چیف جسٹس اپنی مرضی کے ریفرنس گروپ کی مدد سے کیوں کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے کون سے ڈیم ہیں جو 52 ارب روپے کی رقم سے پایہ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں۔ یہ رقم بھی 222 کمپنیوں سے اکٹھی کی جائے گی جس کی وصولی میں کئی برس بیت سکتے ہیں۔ کسی بھی ڈیم کی تعمیر ٹیکنیکل منصوبہ ہونے کے علاوہ ایک اہم سیاسی اور مالی معاملہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کو اس شعبہ میں مہارت حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح عام طور سے ڈیم تعمیر کے لئے وسائل عالمی مالی اداروں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ حکومت کے نمائیندے ملک کے وسائل اور بجٹ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے اس قسم کا منصوبہ تیار کرتے ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار تو میڈیا کی شعبدہ بازی کا حصہ بننے کے بعد اپنے عہدہ سے ریٹائر ہو جائیں گے لیکن ان کے رویہ اور احکامات سے ملک کی سپریم کورٹ کی شہرت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت کوئی دوسرا تو چیف صاحب کی ’اصلاح ‘ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ اس لئے ملک کے نظام اور سیاستدانوں کی درستی کا بیڑا اٹھانے کی بجائے اگر جسٹس ثاقب نثار خود اپنے طرز عمل پر غور کرتے ہوئے اسے تبدیل کرسکیں تو یہ پوری قوم پر ان کا احسان ہوگا۔ اسی طرح ملک میں آئین کی بالا دستی کا یقین بھی کیا جا سکے گا۔ ورنہ آئین سے رو گردانی کوئی جنرل کرے یا چیف جسٹس، اس کا بار تو عام لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker