2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

بوڑھا ہوتا عمران خان اور وینٹی لیٹر پر رکھی شفاف جمہوریت / سید مجاہد علی

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین نے ایک تقریر میں دو دلچسپ اور قابل غور باتیں کہی ہیں۔ ایک تو انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بیگم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’وہ چار ماہ سے میرے ساتھ ہیں لیکن بشریٰ بیگم کا کہنا ہے کہ میں گزشتہ تین ہفتے میں بوڑھا ہو گیا ہوں‘۔ اس فقرے میں یوں تو کئی پیغام پوشیدہ ہیں لیکن عمران خان یہ کیفیت بتاتے ہوئے دراصل حالیہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے سلسلہ میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کررہے تھے۔ عمران خان نے خود پارٹی ٹکٹ دینے کی نگرانی کی ہے لیکن ان کی تقسیم پر سامنے آنے والی نکتہ چینی صرف مخالفین یا حریفوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ زیادہ ہنگامہ پارٹی کے اندر برپا ہے۔ عمران خان انتخاب کے بارے میں جو بھی دعوے کریں لیکن 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ان کا ایجنڈا ایک نکاتی ہے۔ کہ کسی بھی قیمت پر نواز شریف کی پارٹی کو ہرایا جائے اور خود وزیر اعظم بنا جائے۔
اس انتخابی منصوبہ میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ ملک کے اکثر سیاست دان اسی مقصد سے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں اور ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہی ایک سے دوسری یا تیسری پارٹی تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ انہی لوگوں کو اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے ’الیکٹ ایبلز‘ کا نام بھی دیاجاتا ہے اور انہی ’منتخب ہونے کے اہل‘ لوگوں کی تحریک انصاف میں بھرمار کی وجہ سے عمران خان تین ماہ میں بوڑھے ہونے کی خبر دے رہے ہیں۔ عمران خان کی اس مشقت سے قطع نظر جو وفادار ساتھیوں کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کو شکست دینے کے جوش میں الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ دینے میں صرف ہوئی ہے، ان کی اہلیہ کی تین ہفتے میں بوڑھا ہونے والی بات یوں بھی دلچسپ اور تعجب خیز ہے کہ 65 برس کا شخص اگر بوڑھا نہیں ہے تو اسے اور کیا کہا جائے گا۔ لیکن عمران خان خود کو سدا کا جوان سمجھتے ہیں۔ اسی لئے انہیں اپنی اہلیہ کا یہ بیان اپنے حامیوں کو سنانا پڑا کہ وہ کیسے انتخابات میں کامیابی کی لگن میں تین ہی ہفتے میں بوڑھے ہوگئے حالانکہ 65 برس کی عمر انہیں بوڑھا نہیں کرسکی تھی۔
عمران خان کی اسی تقریر میں یہ دلچسپ دعویٰ بھی شامل ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی متحد ہو جائیں گے۔ اگرچہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کہ یہ اتحاد تحریک انصاف کو ہرانے کے لئے انتخاب سے پہلے ہو گا یا یہ انتخابات کے بعد دیکھنے میں آئے گا۔ پارلیمانی جمہوریت میں مختلف الخیال پارٹیوں کے درمیان اشتراک اور اتحاد کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں جمہوری روایت کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار کی تقسیم پر متفق ہو کر ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کی بجائے ہر قیمت پر اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ان اداروں سے ہتھ جوڑی کرتی ہیں، جن کا ملکی آئین میں تو کوئی سیاسی کردار نہیں لیکن تفہیم عام میں یہ کردار بہر حال عسکری اداروں کا حق سمجھ لیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے کے لئے اس حق کو مستحکم کرنے کا سبب بنی رہی ہیں اور اس عاقبت نااندیشی کی قیمت بھی ادا کرتی رہی ہیں لیکن اس سے سبق سیکھنے اور اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
2008 کے انتخابات کے بعد میثاق جمہوریت کی روح پر عمل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مخلوط حکومت قائم کی تھی تاکہ بھرپور جمہوری طاقت سے ایک فوجی آمر کو اس کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔ لیکن ججوں کی بحالی کا قضیہ کھڑا ہونے یا کئے جانے کے سبب یہ اتحاد ختم ہو گیا اور مسلم لیگ (ن) نے مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان قوتوں سے اشتراک کرلیا جو میمو گیٹ اسکینڈل کی صورت میں پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی حکومت کے لئے بھیانک خواب بنی رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف یہ خدمت سرانجام دینے ہی کے صلہ میں مسلم لیگ (ن) کو 2013 میں حکومت سازی کا موقع مل گیا لیکن اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا بھی پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کی دیواروں کو پھلانگنے کےلئے بے چین دکھائی دینے لگا۔ لشٹم پشٹم نواز شریف نے اس مصیبت سے جان چھڑائی اور اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے وہ سب کچھ فوج کے حوالے کیا جو اقتدار پر اس کی مکمل دسترس کے لئے ضروری تھا لیکن پھر بھی ڈان لیکس کے بعد پاناما پیپرز کے بھوت نے بالآخر نواز شریف کو سیاست سے باہر کرکے ہی دم لیا۔
اب نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور وہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں جو ملک کو ناقابل بیان مشکلات کا شکار کرسکتی ہیں۔ ‘ گو کہ نواز شریف کا یہ بیان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے حوالے سے ہے لیکن نواز شریف کے علاوہ ملک کے تمام سیاست دانوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ غلطیاں صرف ادارے نہیں کررہے بلکہ سیاست دان بھی ماضی کا چلن تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے الیکٹ ایبلز ناگزیر سمجھے جارہے ہیں ، اسی لئے مفاہمت اور سودے بازی کے راستے کھلے رکھے جارہے ہیں، اسی لئے ذاتی اقتدار کو ہی تمام مسائل کا حل قرار دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ دعویٰ عمران خان بھی کرتے ہیں۔ آصف زرادری کا بھی یہی کہنا ہے اور شہباز شریف بھی اسی وقت پاکستان کے شہروں کو پیرس کی مانند بنا سکتے ہیں اگر لوگ ان کی پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے ووٹ دیں۔ اسی لئے عمران خان کو اندیشہ ہائے دور دراز کے سبب یہ متنبہ کرنا پڑا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پھر سے اتحاد کر لیں گی۔ حالانکہ اس قسم کا سیاسی اتحاد و اشتراک جمہوریت اور ملک کے مسائل کے حل کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتا ہے اور عمران خان کو بھی اس سیاسی مفاہمت کا حصہ بننے کا اشارہ دینا چاہئے ۔
لیکن ملک میں سیاست اقتدار کے لئے ہوتی ہے اور سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں یا عوامی حکمرانی کی جنگ نہیں لڑتیں بلکہ جمہوریت کو اقتدار میں آنے اور ’طاقتور اداروں ‘ کے سامنے اپنی وقعت میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ عمران خان خود ہی غور کرلیں کہ تحریک انصاف تو انہوں نے 1996 سے قائم کی ہوئی ہے۔ اس وقت سے وہ مسلسل ’نیا پاکستان ‘ بنانے کی بات کر رہے ہیں ۔ انہیں یا ان کی پارٹی کو 2013 کے انتخاب سے پہلے کیوں اس قسم کی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی جو انہیں اب حاصل ہے۔ اور ان پر یہ راز کی بات آج سے دس برس پہلے کیوں منکشف نہیں ہوئی کہ اقتدار میں آنے کے لئے الیکٹ ایبلز کا ساتھ ملنا اور ملانا ضروری ہے۔ اب تحریک انصاف میں نشستیں جیتنے والے بھاری بھر کم ’ہیوی ویٹ‘ تو شامل ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان کا ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ بھی مذاق بن کررہ گیا ہے۔ عمران خان کے سوا سب جانتے ہیں کہ اس حکمت عملی میں کامیاب ہونے والی تحریک انصاف کچھ تبدیل نہیں کرسکتی اور اختیار انہی قوتوں کے پاس رہے گا جن کے خلاف نواز شریف ووٹروں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نواز شریف یوں تو اسٹبلشمنٹ سے ٹکرانے کا اعلان کرتے ہوئے اس مزاج کو بدلنے کی بات کررہے ہیں جس نے 70 برس میں کسی وزیر اعظم کو اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اسی لئے ان کا ’مجھے کیوں نکالا‘ کا مضحکہ خیز نعرہ بھی مقبول ہؤا۔ سوال تو یہ ہے کہ پارٹی کے ٹکٹ بانٹتے ہوئے نواز شریف کو اس نعرے کے علاوہ اپنے انتخابی سلوگن ’ووٹ کو عزت دو‘ پر خود بھی یقین تھا یا نہیں؟ کیوں کہ اگر انہیں یہ یقین ہو تا کہ اسٹبلشمنٹ کی جمہوری عمل میں مداخلت کو عوام کی بڑی اکثریت کس شدت سے مسترد کررہی ہے یا ووٹ کے احترام کا تقاضا کرتے ہوئے خود بھی پارٹی کارکنوں اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو اہمیت دینا پڑتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ میں ووٹ کی قدر و قیمت پر اپنے اٹل یقین کا اعلان کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لئے شہباز شریف کسی نہ کسی طرح مفاہمت کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارٹی ان لوگوں کے ساتھ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے جو سب کے ’آزمائے‘ ہوئے ہیں۔ اسی لئے یہ شبہ قوی ہوتا ہے کہ نواز شریف کی جدوجہد جمہوریت کے لئے نہیں بلکہ اپنی حیثیت بحال کروانے کے لئے ہے۔ وہ ووٹ کو عزت دو کی بات کر کے ان لوگوں کے لئے ووٹ لینا چاہتے ہیں جو جمہوریت کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، ان کے وفادار ہوں اور ان کی سیاسی قوت کی علامت بن سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) کے الیکٹ ایبلز کا بازو مروڑ کر انہیں پہلے تحریک انصاف کی طرف دھکیلا جاتا رہا اور اب آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو نواز شریف اسے انتخاب سے پہلے انتخابی دھاندلی قرار دے رہے ہیں۔ ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے ایک امید وار پر تشدد کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی خبریں سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی دہائی دی ہے اور پنجاب کے غیر جانبدار وزیر اعلیٰ پروفیسر حسن عسکری کو ان کی آئینی ذمہ داریوں کی یاددہانی کروائی ہے۔ لیکن جس امید وار کو تھپڑ مار کر وفاداری بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اس نے اس واقعہ کو ’غلط فہمی ‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ گویا ’ زور آور مارے بھی اور رونے بھی نہ دے‘ والا معاملہ ہے۔ اس کے باوجود 25 جولائی کے انتخابات شفاف اور ہر قسم کی دھاندلی سے پاک ہونے کا اعلان ہے۔ ملک کے چیف جسٹس نے بنفس نفیس اس بات کی ضمانت دی ہے۔ پرویز مشرف کا یہ قول ہمارے مقبول چیف جسٹس ثاقب نثار پر بھی صادق آتا ہے کہ ’میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں‘۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker