سید مجاہد علیکالملکھاری

چیف جسٹس کی درد مندی: مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر/ سید مجاہد علی

ملک کے عوام کو پانی کی نایابی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے دو ڈیم بنانے کے منصوبے منظور کروانے اور ان کے لئے نادہندہ کمپنیوں سے رقم وصول کرنے کا حکم دینے کے بعد اب پاکستان کے مسیحا صفت چیف جسٹس نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی آبادی تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے حالانکہ قوم کے پاس اس بڑھتی ہوئی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لئے وسائل نہیں ہیں۔ آبادی کے سوال پر ازخود نوٹس یعنی سو موٹو اختیار کے تحت مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئےچیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا ہے کہ ‘اس قوم نے خود کو کس مشکل میں گرفتار کرلیا ہے’۔یہ درمندانہ سوال اور آبادی جیسے گمبھیر مسئلہ پر تشویش کا اظہار کوئی ایسا ہی شخص کرسکتا ہے جو واقعی اس ملک میں آباد لوگوں کی زندگی کو سہولتوں اور آسودگی سے بھر دینے کا خواب دیکھتا ہو۔ ورنہ چیف جسٹس کے منصب پر فائز ثاقب نثار کو کیا ضرورت تھی کہ وہ آبادی جیسے مسئلہ پر سو موٹو لیتے اور مختلف محکموں کو طلب کرکے یہ منصوبہ بندی کرتے کہ کس طرح اس قوم کے لوگوں کو کم بچے پیدا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ قلق تو صرف اس بات کا ہے کہ آئندہ جنوری میں قوم کے ایسے ہمدرد چیف جسٹس کی رخصتی کے بعد کیا ہوگا۔
یہ قوم قدر کرنے والی ہوتی تو اس مسیحا کو پہچانتی اور انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑ کر دست و گریبان ہونے کی بجائے معاملات کی درستی کے لئے چیف صاحب کو نعمت خدا وندی سمجھ کر ان کی رہنمائی میں اپنا قبلہ درست کرنے کی کوشش کرتی۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہی ہیں کہ پاکستان میں آباد لوگوں کا تو وہی حال ہے کہ’ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی ‘۔جس وزیراعظم کو 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نکال باہر کرنے کی تیاریاں کی گئیں ، دھرنا دیا گیا اور بالآخر پاناما پیپرز کی طویل مسافت سے ہوتے ہوئے گزشتہ برس اسی چیف جسٹس کی سپریم کورٹ نے قوم کو اس بدعنوان لیڈر سے نجات دلانے کا راستہ ہموار کیا۔ لیکن اب جوں جوں انتخاب کا دن قریب آتا جارہا ہے اسی کے ساتھ نواز شریف کو ووٹ دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
بتائیے کہ اس قوم کے بارے میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے جو سپریم کورٹ کے سند یافتہ ‘جھوٹے اور بددیانت ‘ لیڈر کے پر فریب نعروں ‘مجھے کیوں نکالا ‘ یا ‘ووٹ کو عزّت دو’ کا اعتبار کرتے ہوئے اسے پھر سے اختیار سونپنا چاہتی ہے۔ بندہ پوچھے کہ بھئی کل تک جو لیڈر بد عنوان اور ملک دشمن تھا اور عوام کے پر زور اصرار پر جس کے خلاف یوں مقدمات قائم ہوئے کہ جیسے ٹڈی دل کسی شہر پر حملہ آور ہو لیکن وہ پھر بھی کہتا ہو کہ یہ سازش ہے اور جواب دیا جائے کہ مجھے کیوں نکالا اور لوگ اس کی باتیں سننے کے لئے سڑکوں پر ٹوٹے پڑتے ہوں ، ان عوام کا کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے چیف جسٹس کی تشویش بجا ہے کہ ‘اس قوم نے اپنا کیا حشر کرلیا ہے’۔ یوں تو چیف جسٹس سے درخواست کی جاسکتی ہے کہ ایسے جاہل لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر وہ آگے بڑھیں اور اپنے عہدے کی مدت پوری کرکے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاریں ۔ لیکن اللہ نے جسٹس ثاقب نثار کے سینے میں ایسا نرم دل رکھ دیا ہے کہ وہ ہر دم اس قوم کی حالت پر تڑپتا ہے اور کسی بھی طرح حالات تبدیل کرکے ان لاعلم لوگوں کو سہولت بہم پہنچانا چاہتا ہے۔
اب یہی دیکھا جائے کہ چیف جسٹس تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر عوام کی سہولت اور بہبود کے لئے راولپنڈی کے ‘چائیلڈ اینڈ مدر’ ہسپتال کا معائنہ کرنے چلے گئے۔ حالانکہ یہ اتوار کا دن تھا اور پوری قوم چھٹی مناتی ہے لیکن یہ چیف صاحب کا ہی حوصلہ ہے کہ وہ اپنے اہل خاندان کا حق تلف کرکے ہفتہ اتوار کو بھی عدالت لگاتے ہیں اور عوام کی محرومی ختم کرنے کی غرض سے ہسپتال کا دورہ کرنے چلے گئے۔ ملک میں اگرچہ ‘بے اختیار’ نگران حکومت امورمملکت دیکھ رہی ہے لیکن پھر بھی جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا کہ وہ کچھ نہیں جانتے، عوام کو سہولت ملنی چاہئے۔ ہسپتال کا جو منصوبہ پرویز مشرف کے دور سے تعطل کا شکار ہے ، اسے ہر قیمت پر ڈیڑھ برس میں پورا کیا جائے۔ نگران حکومت کے نمائندے تو ایسے موقع پر گردن ہلانے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن یہ سوشل میڈیا کے شیطانوں نے اس بات کا بتنگڑ بنالیا۔ کہا جانے لگا کہ چیف جسٹس نے شیخ رشید کے ساتھ ہسپتال کا دورہ کرکے ایک خاص سیاست دان اور اس کی پارٹی کی حمایت کی ہے۔
اب چیف صاحب بار بار کہہ رہے ہیں کہ بھئی خود ہی دیکھو میں تو عوام کی محبت میں یہ سب کام کررہا ہوں ۔ میرا کسی پارٹی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سیاست دان جانیں اور ان کا کام لیکن اب اللہ نے مجھے اختیار اور موقع دیا ہے تو میں تو مقدور بھر عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ اسی لئے چیف جسٹس نے آج بھری عدالت میں شیخ رشید کو مخاطب کرکے کہہ دیا کہ ‘ آپ کی سیاست جو بھی ہو۔ آپ جانیں ، آپ کا کام۔ میرا آپ کی پارٹی یا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں’۔ اتنی صاف اور سادہ بات بھی لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ لیکن اس مسیحا صفت شخص کے حوصلہ کی داد تو بنتی ہے کہ اس کے باوجود وہ ہر وہ کام کرنے کے لئے تیار ہے جس میں اپنے نام پر چاہے بٹہ لگے لیکن عوام کا بھلا ہو جائے ۔ اب اس میں مضائقہ ہی کیا ہے کہ اگر ایک ہسپتال کے دورہ میں شیخ رشید بھی ہمراہ تھے اور معاملات کو سمجھنے میں چیف جسٹس اور عدالت کی معاونت کررہے تھے ۔ لوگوں کو تصویروں پر غور کرنے کی بجائے نیت کو دیکھنا چاہئے۔ لیکن اس مزاج کا کیا ہو کہ پھر بھی یہ ہنگامہ ہوگا کہ کیا یہ چیف جسٹس کے کرنے کے کام ہیں؟
حالانکہ اس اعتراض کا سادہ جواب تو یہ دیا جاسکتا ہے کہ اگر چیف جسٹس کی ذرا سی توجہ سے عوام کا بھلا ہوتا ہے تو بھئی آپ کو کیا شکایت ہے۔ لیکن یہی لوگ ہیں جنہوں نے آبادی تو بڑھا لی ہے لیکن اس بات کی فکر نہیں کی کہ اتنے لوگوں کو کھانے کو کیسے ملے گا اور رزق کیسے میسر ہوگا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ملک کا مولوی ہر دم اقتدار پر قابض اداروں کی دوستی کا دم بھرتا ہے ورنہ کوئی منہ بھر کے یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ‘ تم کون ہو جی یہ رزق کی دہائی دینے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ پیدا کرتا ہے تو رزق اس کے ساتھ ہی روانہ کردیتا ہے۔ تم جا کر ان لوگوں کو پکڑو جو اس رزق پر قابض ہیں’۔ یہ آبادی کا معاملہ تو ایک سو موٹو کی وجہ سے بیچ میں آگیا ۔ اصل نکتہ تو یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب سے عوام کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی اور وہ اس کا تدارک کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
ایسے میں اگر آئین کے تحت ملنے والے اختیار کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے اختیار میں اضافہ کرلیتے ہیں تاکہ عوام کے مسئلے حل ہو سکیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد چیف صاحب کی تحسین کرنے کی بجائے ‘جاہلوں ‘ کے اس ملک میں ہمہ وقت ایک ہنگامہ بپا رہتا ہے۔ حالانکہ 25 جولائی کے انتخاب میں سب کام درست طریقے سے کروانے کی خاطر اس ملک کے خیر خواہ اداروں نے منہ زور میڈیا اور بزعم خویش سچ خبر باہر نکالنے کے دعویدار صحافیوں اور لکھاریوں کی زبان بندی کرنے کا اہتمام کیا ہوا ہے اور چیف صاحب نے عوامی بہبود کے اس ‘عظیم منصوبہ ‘ کی تکمیل کے خیال سے آئین کی شق 19 کو محو استراحت رہنے دیا ہے تاکہ یہ بھانت بھانت کی بولی بولنے والے ملک کے ‘شفاف اور منصفانہ ‘ انتخات کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹ نہ بنیں ۔ آزادی اظہار کا کیا ہے ، وہ تو انتخابات کے بعد اکثریت حاصل کرنے والوں کی پگڑی اچھالنے کے لئے کسی وقت بھی ‘عطا’ کی جاسکتی ہے۔ اس رکاوٹ اور قدغن کے باوجود کہیں نہ کہیں سے چیف جسٹس کے عوامی بہبود کے منصوبوں کے خلاف آواز سنائی دے ہی جاتی ہے۔
چیف جسٹس غور کریں تو جان سکیں گے کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اس مقصد کے لئے انہیں عوامی بہبود کی بجائے بطور منصف ا علی اپنے حلف کے مطابق ذمہ داریوں پر توجہ دینا ہو گی۔ ہسپتال بنوانے ، ڈیم منظور کروانے اور آبادی کو کنٹرول کرنے کا کام انہیں کرنے دینا چاہئے جن کو لوگ اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ یوں تو یہ صدا بھی کہیں نہ کہیں سے سنائی دے گی کہ اگر سیاست دان کام نہیں کرتے تو جو کرنا چاہتا ہے اور کرنے کی کوشش کررہا ہے تو اس میں کھنڈت ڈال کر اس قوم کا کیا بھلا ہو سکتا ہے۔ جواب تو اس کا بھی سادہ ہے اور چیف صاحب کے پاس وقت ہو تو وہ بھی اس پر غور کرسکتے ہیں۔
بنی نوع انسان نے مطلق العنانیت سے جمہوریت کا سفر اسی لئے طے کیا ہے کہ اقتدار کا ایک شخص یا ایک ادارے میں ارتکاز مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اب وہ شخص فوج سے آیا ہوا آمر ہو یا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، اختیار پر مکمل قبضہ کا طریقہ راستہ ہموار کرنے کی بجائے مسائل پیدا کرنے کا باعث ہی بنے گا۔ پاکستان نے ستر برس میں چار ایسے خوش گمان فوجی آمروں کو بھگتا ہے جو سب کے سب قوم کا کلیان کرنے ہی کے لئے اپنے عہد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔ لیکن اس کا جو نتیجہ نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔ حالانکہ ملک کی عدالتوں نے اسی گمان پر ان فوجی حکمرانوں کی آئین شکنی کو قبول کیا تھا کہ وہ بدعنوان اور نااہل سیاست دانوں سے عوام کی جان چھڑا کر قوم کی تعمیر و بہبودکے منصوبے شروع کریں گے۔ لیکن بند گلی کے ہر سفر کے بعد یہی حقیقت سامنے آئی کہ ترقی اور بہبود کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے متفقہ اصول کے مطابق سب کو مل کر چلنا پڑتا ہے۔ اکیس کروڑ کی آبادی میں کوئی ایک شخص ‘ عقل کل ‘نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے اجتماعی دانش اور کاوش ضروری ہے۔
25 جولائی کا انتخاب اصلاح احوال کے اسی بنیادی فرق کو سمجھنے کا دن ہے۔ اگر جمہوریت کے اصول کو تسلیم کر لیا گیا تو یہ قوم آبادی سمیت اپنے تمام مسائل حل کرنے کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔ اگر مسئلے حل کرنے کے لئے شارٹ کٹ کی تلاش کا اصول جیت گیا تو چند برس بعد کوئی دوسرا ثاقب نثار قوم کا کھیون ہار بن کر سامنے آئے گا۔
(بشکریہ:کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker