2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

جمہوریت پر چاند ماری جاری ہے / سید مجاہد علی

نواز شریف کی نااہلی کے سال بھر بعد احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے بعد شروع ہونے والے مباحث میں یہ نکتہ غیر واضح ہوتا جارہا ہے کہ سابق وزیر اعظم یاا ن کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی غلطیاں گنواتے ہوئے، اداروں کے ساتھ نواز شریف کے اختلافات، ڈان لیکس پر پیدا ہونے والا تنازعہ اور خارجہ امور پر اختلاف رائے کا حوالہ کیوں ضروری ہوتا ہے۔ اور اگر یہ حوالہ حالات کو سمجھنے یا مکمل تصویر دیکھنے کے لئے کیا جاتا ہے تو مبصر یہ بتانے سے کیوں گریز کرتے ہیں کہ اگر ایک منتخب وزیر اعظم ملک کی مسلح افواج اور دیگر اداروں سے اپنے طریقے، اصولوں اور نقطہ نظر کے مطابق طرز عمل اختیار کرتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ جب بھی جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے تو اس سے یہی مراد لی جانی چاہئے کہ عوام جس گروہ یا پارٹی کو منتخب کرکے پارلیمنٹ میں اکثریت عطا کریں، وہ اپنے منشور، پروگرام اور سوچ کے مطابق تمام امور طے کرنے میں آزاد ہو۔ اس تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو فوج کے سربراہ سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کرنے کی جو ’غلطی‘ نواز شریف سے منسوب کی جاتی ہے، اسے تو ہر منتخب لیڈر کو دہرانا چاہئے۔ بلکہ انتخابات کے موجودہ موسم میں ایک سابق وزیر اعظم کو سزا ملنے کے بعد اس بات پر بغلیں بجانے کی بجائے کہ کئی باقی سیاسی لیڈر وں کے راستے کی بڑی رکاٹ دور ہو گئی، محض زبانی دعویٰ کی حد تک ہی سہی لیکن یہ اعلان تو سامنے آنا چاہئے کہ اگر ان میں سے بھی کسی کو اقتدار مل گیا تو وہ بھی نواز شریف ہی کی طرح یہ مطالبہ کرے گا کہ سیاسی معاملات میں عسکری اداروں کی مداخلت بند کی جائے اور عدالتیں امور مملکت چلانے اور حکومت کے کام میں روزانہ کی بنیاد پر مداخلت کرنے کا کام کرنے کی بجائے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے اور عدالتی نظام کو بہتر و مؤثر بنانے اور مقدمات کی طویل فہرست کو کم کرنے کے لئے زیادہ مستعدی سےکام کریں۔
موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ روشن مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہفتہ اتوار کو چھٹی کے باوجود کام کرتے ہیں۔ تاہم نہایت احترام سے یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ عدالتوں میں مقدمات پر فیصلوں کا طویل انتظار صرف چند ججوں کے ہفتہ اتوار کو کام کرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے لئے چیف جسٹس کو یہ جائزہ لینا اور فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ آئین کی شق 184(3) کے تحت ملنے والے اختیار کو استعمال کرنے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں اور روٹین میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات نمٹانے کو کتنا وقت اور صلاحیت دے پاتے ہیں۔ سو موٹو اختیار کے تحت کئے جانے والے اقدامات سے ہو سکتا ہے کسی ایک آدھ معاملہ میں کسی شہری کے حقوق کا ازالہ کرنے کا کام بھی ہؤا ہو لیکن عدلیہ بحالی تحریک کے بعد سامنےآنے والی سپریم کورٹ کے ججوں نے اس اختیار کو درحقیقت سیاسی معاملات میں اپنی دلچسپی اور رائے ظاہر کرنے اور وزرائے اعظم کو دھمکانے اور معزول کرنے کے لئے ہی استعمال کیا ہے۔ سپریم کورٹ کو یہ بھی طے کرنا ہے کیا منتخب وزرائے اعظم کے خلاف اقدامات کرنے سے واقعی آئینی فرائض پورے کئے جارہے ہیں یا اس سے حاصل ہونے والی شہرت اور پبلسٹی کا ’چسکا‘ دراصل اعلیٰ ترین عدالت کے بعض ججوں کے لئے ایک لت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ بہتر ہو گا یہ فیصلہ خود سپریم کورٹ ہی کرلے۔ اس مقصد کے لئے فل کورٹ کا سیشن بلا کر سو موٹو اختیار کی آئینی حیثیت، حدود و قیود اور ضابطہ و طریقہ کار کیا جائے۔ اس حوالے سے متعدد قانون دان اور بار کونسلیں بھی تجویز دے چکی ہیں اور یہی طریقہ اس متنازع اختیار کے بارے میں قابل قبول راستہ نکالنے کا بہتر حل بھی ہوسکتا ہے۔
اس وقت ملک میں جن سیاسی مباحث پر زیادہ تند وتیز گفتگو ہوتی ہے یا رائے کااظہار سامنے آتا ہے، ان میں سپریم کورٹ سو موٹو اختیار استعمال کرتے ہوئے ’فریق‘ بنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورت حال کسی بھی فعال جمہوریت کے لئے پسندیدہ نہیں ہو سکتی ۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت برائے نام ہے جسے سیاسی رہنما اختیار حاصل کرنے اور بدعنوانی کے ذریعے دولت سمیٹنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس دلیل کو مان بھی لیا جائے تو بھی یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اگر سیاست دانوں کی بدعنوانی کی وجہ سے حکومت کی بطور ادارہ کارکردگی متاثر ہوتی ہے تو سپریم کورٹ سمیت ریاست کے باقی اداروں کو بھی اس ’غیر فعال‘ جمہوری نظام میں من مانی کرنے اور آؤٹ آف لائن جانے کی اجازت دے دی جائے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہونا چاہئے کہ اگر سپریم کورٹ نے سو موٹو اختیارکے بارے میں اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا اور بنیادی حقوق کے نام پر حاصل اس ختیار کو سیاست اور جمہوریت پر چاند ماری کرنے کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو جس طرح 2007 میں فوجی استبداد کے ستائے ہوئے لوگوں نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں عدلیہ بحالی تحریک کی حمایت کی تھی تاکہ میں صحت مند عدالتی اور جمہوری روایت بحال ہو سکے، اسی طرح مستقبل میں عدالتی استحصال اور جبر کےخلاف ’ہمیں عدالتوں کے انصاف سے بچاؤ‘ قسم کی کوئی تحریک منظر عام پر نہ آجائے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے حال ہی میں عافیہ صدیقی کی امریکہ میں سزا کے خلاف درخواست یہ کہہ کر مسترد کی ہے کہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں پر رائے نہیں دی جا سکتی کیوں کہ اگر امریکی عدالتوں نے پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں کو مسترد کرنا شروع کر دیا تو ہماری عدالتوں کی کیا عزت رہ جائے گی۔ چیف صاحب کو یہ سنہرا اصول قومی عدالتی تناظر میں بھی برتنے کی ضرورت ہے۔ اس طرف بھی چیف جسٹس خود ہی گزشتہ دنوں آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کے سامنے شاہراہ عام کو کھلوانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے فیصلہ کو معطل کرتے ہوئے نشاندہی کر چکے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے حکم کو چیف جسٹس نے اس نکتہ پر معطل کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو سوموٹو حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔ لیکن چیف جسٹس کے سامنے لایا جانے والا مقدمہ چونکہ ملک کی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی کے بارے میں تھا، اس لئے اس معاملہ میں دادرسی ہو گئی۔ لیکن ہائی کورٹ کا کوئی جج یہی اختیار کسی مجبور اور کم حیثیت فرد یا ادارہ کےبارے میں اختیار کرتا ہے تو ہو سکتا ہے متاثرہ شخص ’ انصاف ‘ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ تک جانے کی استطاعت ہی نہ رکھتا ہو۔ اسی حوالے سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر کسی اختیار کو ہائی کورٹ کا کوئی جج کسی قانونی جواز کے بغیر استعمال کرسکتا ہے تو ایسی غلطی عدالت عظمیٰ کےجج یا چیف جسٹس سے بھی سرزد ہو سکتی ہے۔ اسی لئے سو موٹو کے حوالے سے فل کورٹ کی طرف سے واضح حدود کا تعین اور اس کے استعمال میں برد باری اور تحمل اختیار کرنا اس وقت ملک کے جمہوری و عدالتی نظام کی کامیابی کے لئے اہم ترین قدم ہو گا۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ نواز شریف نےاگر سیاست میں اداروں کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی ہے تو اسے جمہویت کے لئے ان کی خدمت سمجھا جائے گا یا اسے سیاسی عاقبت نااندیشی قرار دے کر مسترد کیاجانا چاہئے۔ اصولی طور پر تو نواز شریف کے اس طرز عمل کی تحسین ہونی چاہئے اور وزیر اعظم بننے والے ہر شخص کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ وہ فوج یا عدالتوں کو پارلیمنٹ کے اختیار میں مداخلت کرنے اور عوامی نمائیندوں کے احترام کو تار تار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس معاملہ میں سیاست دان تو اپنی مصلحت بینی اور سیاسی دشمنی کے اسیر بن کر اصولی جمہوری بحث کا حصہ بننے سے معذور ہو چکے ہیں لیکن جب ملک کے بیشتر دانشور،سیاسی تجزیہ نگار اور جمہوریت کی بحث کو دوٹوک الفاظ میں عوام کے حق حکمرانی کے غیر مشروط احترام کا معاملہ سمجھنے اور اسے اسی طرح پیش کرنے میں ناکام ہونے لگیں تو سوچنا چاہئے کہ اس ملک میں جمہوریت سے کیا مراد لی جا رہی ہے اور اس بحث کو درست سمت میں موڑنے کے لئے کیا اقدام ضروری ہے۔
نواز شریف یا دیگر سیاست دانوں کی بدعنوانی اور بد عملی کو بنیاد بنا کر جمہوری روایت اور اصول کو مسترد کرنے یا اس کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کوئی کوشش ملک میں جمہوری عمل کےتسلسل کے لئے درست قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس وقت یہ صورت پیدا ہو چکی ہے کہ جمہوری روایت کی بات کرنے والے کو بدعنوان سیاست دانوں کا تنخواہ دار قرار دے کر معاملہ کو الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوئی جمہوریت پسند کسی قسم کی بدعنوانی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن مالی بدعنوانی کے ایک خاص معاملہ کو موضوع بحث بناتے ہوئے اگر کچھ عناصر جمہوریت کو غیرضروری اور ناقص قرار دینے کی کوشش کریں اور سیاسی، انتظامی اور قانونی بداعتدالی کو مالی بدعنوانی کی طرح اہم سمجھنے اور اس کے تدارک کے لئے سرگرم ہونے سے گریز کریں تو اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کے خزانے سے چوری ناقابل قبول ہے اور ایسے بدعنوانوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے لیکن عوام کے جمہوری اختیار پر ڈاکہ ایک ایسا جرم ہے جس پر خاموشی ناقابل معافی گناہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ سچ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جس الزام کا سامنا اس وقت شریف خاندان کو ہے کل تک بھٹو خاندان اور آصف زرداری اسی قسم کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ یادش بخیر یوسف رضا گیلانی کو آصف زرداری کی کرپشن کا تحفظ کرنے کےجرم میں ہی 2012 میں وزارت عظمی سے معزول کیا گیا تھا حالانکہ اس وقت زرداری ملک کے صدر تھے۔ اسی طرح ہر فوجی آمر نے سیاست دانوں کی بدعنوانی کا راگ الاپتے ہوئے ہی ہر سول حکومت کو برطرف کیا تھا۔ حتیٰ کی آئین کی شق 58 ٹو بی کے تحت سویلین صدور نے بھی وزرائے اعظم کو فارغ کرنے کے لئے یہی عذر تراشا تھا۔ اب تک یہ بحث شروع نہیں کی جا سکی کہ کرپشن بڑا الزام تھا یا آئین شکنی اور حلف سے غداری بڑا جرم تھا۔ ملک کے درجنوں جج پی سی او کے تحت حلف لے کر خود بھی آئین شکنی کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب اس بحث کو سیاست دانوں کی بدعنوانی سے علیحدہ کرنے اور ملک کے معاملات پر عوام کے مکمل اختیار کے بنیادی جمہوری حق کو تسلیم کروانے کے اصول پر استوار کرنا اہم ہے۔
بدعنوانی کا معاملہ تو نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلہ میں بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ جج بشیر احمد نے یہ قرار دینے کے بعد کہ نیب سرکاری فنڈز میں خرد برد کا کوئی الزام ثابت نہیں کرسکی، ملزمان کو طویل سزائیں دی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ قانون کے ساتھ کھلواڑ کے اس پہلو اور اس کے پس پردہ قوتوں اور عوامل کا بھی ذکر ہوجائے۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ کی آڑ میں عوام کے حقوق کی دست برد اور جمہوریت کو تماشہ بنانے کا کھیل اب ختم ہونا چاہئے۔ تاہم اس مقصد کے لئے ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقہ کو واضح تصویر دیکھ کر رہنمائی کرنے کا کردار نبھانا ہوگا۔ سیاست میں غلطیوں اور ٹائمنگ کے غیر ضروری مباحث کی بجائے یہ کہنے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ انتخاب میں عوام جو ووٹ ڈالتے ہیں، وہ ڈالے جانے سے پہلے ہی مقدس نہیں ہوتا بلکہ ان کے نتیجہ میں جو لوگ بھی منتخب ہو کر آتے ہیں، ان کے حق حکمرانی سے انکار بھی اس تقدیس کو مجروح کرتا ہے۔
(بشکریہ: ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker