سید مجاہد علیکالملکھاری

پاکستانی جمہوریت: آگے راستہ ٹھیک نہیں ہے /سید مجاہد علی

پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابقہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے ساتھ ملاقات کی ہے اور پارلیمانی معاملات میں مل کر چلنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ وفد کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر کے عہدہ کے لئے تحریک انصاف کے نامزد امید وار اسد قیصر نے کی اور اس میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے علاوہ شفقت محمود اور پارٹی کے ترجمان فواد چوہدری شامل تھے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے لیڈروں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی اور انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ملک و قوم کو درپیش مسائل کی موجودہ صورت حال میں پارلیمانی پارٹیوں کے درمیان مفاہمانہ مواصلت اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کا رویہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں بھی متعدد آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑے گی۔ ان دونوں اسمبلیوں میں اسے بھاری بھر کم اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تحریک انصاف اگر اپنے انتخابی منشور پر کسی حد تک عمل کرنےکا ارادہ رکھتی ہے تو اسے جارحانہ انداز حکومت اپنانے کی بجائے مفاہمت اور مصالحت کو مشعل راہ بنانا ہو گا تاہم اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی۔
ملک کو اس وقت تین بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں مالی معاملات، خارجہ تعلقات اور سلامتی کے امور شامل ہیں۔ لیکن یہ تینوں معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسی ایک شعبہ میں کئے جانے والے اقدامات دوسرے شعبوں کی صورت حال اور مسائل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ خارجہ سطح پر امریکہ عمران خان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی پاکستان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ پاکستان کی امداد بند کرنے کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک انٹرویو میں پاکستان کو مزید قرضہ دینے کے بارے میں آئی ایم ایف کو متنبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی اداروں میں پاک فوج کے افسروں کے تربیتی کورسز کا پروگرام بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح امریکہ نئی پاکستانی حکومت پر قائم ہونے سے پہلے ہی یہ واضح کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر اس کی شرائط کو قبول نہ کیا گیا تووہ پاکستان کو تنہا کرنےاور اس کی مالی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔
مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں آئی ایم ایف سے ممکنہ قرضہ کے معاملہ کو پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات، سی پیک منصوبہ اور چینی قرضوں کی ادائیگی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ طرز استدلال پاکستان کو دھمکی دینے اور امریکی عوام کو گمراہ کن تصویر دکھانے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ امریکہ خود اپنے بجٹ کا توازن برقرار رکھنےکے لئے چین سے قرضے لیتا ہے اور چین کی بھاری بھر کم معیشت پاکستان سے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی پر انحصار نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ سی پیک کے تحت جاری متعدد منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں۔ معاہدہ کے مطابق منصوبوں پر قرضوں کی ادائیگی کا آغاز منصوبوں کے فعال ہونے کے بعد ہوگا۔ پاکستان نے ابھی تک آئی ایم ایف سے کسی قرض پیکج کی درخواست بھی نہیں کی ہے۔ البتہ نامزد وزیر خزانہ اسد عمر 12 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج کی بات کرچکے ہیں۔ امریکہ بھی ان حقائق سے آگاہ ہے لیکن وہ پاکستان کی نئی حکومت کو اس کے آغاز سے پہلے ہی دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پاکستان کو ادائگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لئے فوری طور سے کثیر قرض کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ نے عملی طور سے مجبور کیا تو آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینے سے گریز بھی کرسکتا ہے۔
خارجہ تعلقات کا یہ پہلو ملک کی معاشی صحت اور ضرورت کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کرنا چاہتا ہے۔ ملک کی فوج اور سابقہ حکومت ان مطالبوں کو پوری طرح ماننےسے انکار کر چکی ہیں۔ البتہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان حتی الامکان تعاون کا یقین دلاتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت جارحانہ اور کسی حد غیر سفارتی ہتھکنڈے اختیار کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے ہمسایہ ملکوں کینیڈا اور میکسیکو کے علاوہ چین اور یورپین ممالک کے ساتھ بھی اسی یک طرفہ اور غیر متوازن جارحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ کے اقدامات اور حال ہی میں ترکی کے ساتھ شروع کی گئی معاشی جنگ اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کو صدر ٹرمپ سے کسی بھلائی کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور معیشت ہے۔ اس کے ساتھ دشمنی کوئی آپشن نہیں ہے۔ تاہم امریکہ کے یک طرفہ اور ناجائز مطالبات کا سامنا کرنے کے لئے متبادل دوستیاں بنانا ہوں گی اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ کشیدگی اور تصادم کی صورت حال کو ختم کرنا ہوگا۔ اس حوالےسے افغانستان کے علاوہ بھارت سر فہرست ہے۔
نریندرمودی کی قیادت میں بھارت نے گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے اس لئے اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ بھارت کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے سوال پر کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے جبکہ پاکستان کا اصولی مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کوئی مذاکرات مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بغیر منعقد نہیں ہو سکتے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر پورے خطے میں پاکستان کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔ بھارت گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ کے قریبی حلیف کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ یہ دونوں ممالک سی پیک منصوبوں کے بھی مخالف ہیں اور کسی بھی ہتھکنڈے سے انہیں مؤخر یا ختم کروانے کے خواہشمند ہیں۔
نریندر مودی نے عمران خان کی کامیابی پر فون کرکے مبارک باد دی ہے اور تعلقات کی بہتری کا عندیہ بھی دیا ہے۔ لیکن عملی طور سے بھارتی حکومت کے مؤقف اور طرز عمل میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں اگلے برس انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انتخابات میں جیتنے کے لئے مودی انتہا پسند ہندو ووٹر کو اپیل کرنے اور اکسانے کی کوشش کرے گا۔ یہ مقصد پاکستان کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔
مالی اور خارجہ شعبوں میں درپیش مشکلات کا تعلق دراصل ملک کی سیکورٹی پالیسیوں سے رہا ہے۔ افغان طالبان سے پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے تصویر ہمیشہ غیر واضح رہی ہے۔ اسی طرح پاکستان ان چند عسکری گروہوں اور ان کی قیادت کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہؤا جن پر بھارت میں دہشت گردی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ پاکستان میں داخلی طور پر سیکورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک مکمل طور سے کنٹرول میں نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس بات کا انتباہ تھیں کہ دہشت گرد عناصر ابھی تک توانا اور منظم ہیں اور صرف افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر کو الزام دے کر یا یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا کہ بھارتی ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ ملک میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہؤا ہے اور فرقہ پرستی شدت پسندی اور نفرت کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ان حالات میں ٹیرر فنانسنگ کو کنٹرول کرنے والے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں ڈال دیا تھا جن کی نگرانی مقصود ہے۔ اس گرے فہرست سے نکلنے کےلئے بھی پاکستان کو انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے پڑیں گے۔ المختصر پاکستان کے معاشی اور خارجہ مسائل سے نکلنے کی کنجی دراصل اس کی سیکورٹی پالیسی کی تہ در تہ بھول بھلیوں میں گم ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران فوج نے ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے اس میں بھارت سے مقابلہ اور افغانستان سے فاصلہ بنیادی نکات ہیں۔ افغان طالبان اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی کسی نہ کسی سطح پر حمایت بھی کی جاتی ہے اور مسلح تصادم کی بجائے ان کےساتھ سیاسی مذاکرات کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ملک کی منتخب حکومتیں بھی ان پالیسیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور رہی ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ حکومت افغانستان میں مذاکرات سےزیادہ طاقت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ بھی کیا گیا ہے تاکہ وہ سیاسی حل کی بات کرنے کی بجائے امریکہ کی جنگ کو اب خود لڑنے پر آمادہ ہوجائے۔
منتخب حکومت کو اس پیچیدہ صورت حال سے نکلنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ نو منتخب وزیر اعظم پر جوں جوں مملکت کے اسرار و رموز افشا ہونا شروع ہوں گے ان کا راستہ اتنا ہی مسدود ہوتا چلا جائے گا۔ اس راستے پر تحریک انصاف کی پہلی ترجیح قومی ضرورت کے تحت خارجہ اور سلامتی امور میں فوج کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ یہیں سے ہر حکومت فوج کے عتاب کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ سول ملٹری تعلقات کے اس نازک موڑ پر منتخب حکومت اپوزیشن کے عدم تعاون کی وجہ سے تنہا ہوتی رہی ہے۔ نو منتخب حکومت کو اس دلدل سے باہر نکلنے یا بچنے کے لئے پارلیمنٹ کی سب پارٹیوں کے ساتھ تعاون اور بہتر تعلقات کی بنیاد رکھنا ہوگی۔
سیاسی جماعتیں باہم متفق ہوسکیں اور پارلیمنٹ کو مکمل با اختیار ادارہ بنایا جائے تو اس راستے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو گزشتہ پانچ برس کے سیاسی مخالفت پر مبنی سخت اور انتہا پسندانہ طرز عمل کو ترک کرنا پڑے گا۔ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا زبانی وعدہ کافی نہیں ہو گا بلکہ اس کے لئے عملی اقدام کرتے ہوئے اپوزیشن کو کچھ گنجائش دینا پڑے گی ۔ ابھی تک اس حوالے سے تحریک انصاف کے وعدے اور عملی اقدامات میں تضاد دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی تعاون کا معاملہ صرف انتخابی دھاندلی کی گتھی کو سلجھانے تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نیب اور عدالتوں کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کرنے کے طریقہ کو بدلنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
عمران خان کو اس بات کا ادراک بھی ہونا چاہئے کہ فی الوقت ان کا سامنا منی لانڈرنگ کے معاملات میں الجھے آصف زرداری اور تصادم سے گھبرانے والے شہباز شریف جیسےکمزور اپوزیشن لیڈروں سے ہے۔ تاہم آنے والے مہینوں میں اگر نواز شریف یا مریم نواز رہا ہو جاتے ہیں اور حقیقی مزاحمتی سیاست کو سڑکوں گلیوں تک لاتے ہیں تو حکومت کی مشکلات میں حقیقی معنوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ انتقامی سیاسی رویہ اختیار کرتے ہوئے قید لیڈروں کو مقید رہنے دیا جائے اور موجودہ اپوزیشن کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سیاسی مفاہمت کو حقیقی معنوں میں اپنا کر سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائیندوں کو طاقت ور کیا جائے۔ عمران خان کسی بھی طریقہ کا انتخاب کریں انہیں حوصلہ اور جرات کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ تاہم پہلا طریقہ اختیا رکرنے اور اسٹبلشمنٹ سے دوستی جاری رکھنے کی صورت میں وہ ملک و قوم کے لئے کوئی نتیجہ خیز فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker