تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آزاد خارجہ پالیسی اور شاہ محمود قریشی کی خوش بیانی ۔۔ سید مجاہد علی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی واضح کیا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی وزارت خارجہ میں ہی بنے گی ۔ گو کہ یہ معلومات انہوں نے اپنی پریس ٹاک میں فراہم نہیں کیں بلکہ ایک سوال کے جواب میں انہیں یہ کہنا پڑا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ خارجہ پالیسی پر اسٹبلشمنٹ کا کتنا اثر و رسوخ ہوگا۔ تاہم یہ جواب دیتے ہی نئے وزیر خارجہ کو یہ اضافہ کرنا پڑا کہ دنیا بھر میں سیکورٹی اداروں سے مشورہ اور فیڈ بیک لیا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اس لئے وہ ان الجھنوں اور حدود و قیود سے آگاہ ہیں جو وزیر خارجہ کے طور پر ان پر عائد ہیں۔ اوریہ بھی جانتے ہیں کہ سیکورٹی اداروں سے ملنے والے فیڈ بیک کے بعد دفتر خارجہ کس حد تک اس مشورہ نما حکم کے برعکس فیصلہ کرنے کا مجاز رہتا ہے۔ نئی حکومت کے نئے وزیر خارجہ اگر یہ کہنے کا حوصلہ کرتے کہ ملک کی خارجہ پالیسی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد تیار ہوگی اور ہمسایہ ملکوں سے لے کر دنیا تک سے مراسم کو عوامی نمائندوں کی رائے اور ’فیڈ بیک ‘ کی روشنی میں تیا رکیا جائے گا تو ان کی بات کو مختلف سمجھا جاتا۔ یوں تو ایک ایسے ملک کی پارلیمنٹ کے بارے میں بھی کوئی گمان رکھنا محال ہے جہاں سیکورٹی اداروں کی رائے کی روشنی میں ہی قراردادیں منظور ہوتی رہی ہوں اور جس ایوان میں کبھی خارجہ اور سیکورٹی امور پر کھل کر بحث نہ کی گئی ہو۔
عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت پر الزام ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے تعاون اور سہارے سے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ گو اسے لوگوں نے ہی ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا ہے لیکن ان ووٹوں پر اثر انداز ہونے کے لئے رائے عامہ تیار کرنے والے ہتھکنڈوں سے لے کر الیکٹ ایبلز اور سیاسی خانوادوں کو اپنی پارٹیاں تبدیل کرکے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے لئے تیار کرنے کا سارا عمل کسی خلائی مخلوق کا کارنامہ ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ چھ ماہ کی مختصر مدت میں تیس چالیس نشستیں جیتنے کی صلاحیت رکھنے والی پارٹی کیوں کر ایک سو سے زائد سیٹیں جیتنے کے قابل ہو سکتی تھی۔ پھر مکمل اکثریت سے دوچار ہاتھ دور رہ جانے کے بعد ایوان میں اکثریت حاصل کروانے کے لئے تحریک انصاف کو جس طرح آزاد ارکان کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس اور متحدہ قومی موومنٹ کی تائید و حمایت حاصل ہوئی ہے، اس میں عمران خان کی شخصیت کے سحر کے علاوہ محکمہ زراعت کی محنت کا اثر دیکھنا بھی مشکل نہیں۔ ان حالات میں نیا پاکستان تعمیر کرنے کے سفر پر گامزن ہونے والی نو منتخب حکومت کو چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے سے پہلے خود پر ووٹ چوری یا اقتدار ہتھیانے کے الزام کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے وزارت خارجہ میں سیکورٹی اداروں کے فیڈ بیک سے بننے والی خارجہ پالیسی کافی نہیں ہوگی بلکہ تحریک انصاف کو خود مختار، عوام دوست اور جمہوریت پسند پارٹی کے طور پر قومی اسمبلی میں خارجہ معاملات کو مباحث کے لئے پیش کرنا ہوگا۔ وہاں حکمران جماعت کے علاوہ اپوزیشن کی طرف سے جو تجاویز سامنے آئیں ان کی بنیاد پر خارجہ پالیسی تیار کرنے کا عزم ظاہر کرنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف اگر یہ کام نہیں کرسکتے تو انہیں غیر ضروری بڑھک بازی سے گریز کرتے ہوئے سر نہواڑے وہی پالیسی چلاتے رہنا چاہئے جو اس ملک میں نافذ ہے اور جس پر عمل کی بدولت ہمسائے نالاں ہیں ، امریکہ پریشان ہے اور پاکستان کی دنیا میں کہیں شنوائی بھی نہیں۔
پاکستان طویل عرصہ سے ایک سیکورٹی سٹیٹ کے طور پر کام کررہا ہے۔ پہلی افغان جنگ کے بعد سے ملک میں اسلحہ کی فراوانی کے علاوہ انتہا پسندی کا بیج بویا گیا ہے۔ 11ستمبر 2001 کونیویارک کے ٹوین ٹاورز پر ہونے والے دہشت گرد حملہ کے بعد یہ صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی۔ ملک کی فوجی حکومت نے افغانستان میں امریکی جنگ جوئی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف پھیلتی ہوئی جنگ میں پاکستان بھی ڈرون حملوں کی زد پر رہا ہے۔ کوئی حکومت ان حملوں کو ختم کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی حتی ٰ کہ امریکہ نے خود ہی اس طریقہ کار کو غیر مؤثر سمجھتے ہوئے ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ یادش بخیر عمران خان اور تحریک انصاف ڈرون حملوں کے خلاف 2014 کے شروع میں نیٹو سپلائی لائن بند کروانے کے لئے سڑکیں روکنے اور احتجاج کرنے کا راستہ بھی اختیار کرچکے ہیں۔ عمران خان افغانستان میں امریکہ کی جنگ کو پاکستان پر ٹھونسنے کی باتیں بھی زور شور سے کرتے رہے ہیں۔ اب شاہ محمود قریشی ہوں یا عمران خان جب افغانستان سے بہتر تعلقات کی بات کرتے ہیں تو انہیں اپنی پارٹی کی سیکورٹی پالیسی کو واضح کرنا پڑے گا۔ یہی پالیسی دراصل پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی حال سب سے بڑے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کا بھی ہے۔ اس کے ساتھ تنازعہ کی بنیاد کشمیر پر اختلافات سے زیادہ عسکری گروہوں کی سرحد پار سرگرمیاں ہیں۔ ان عناصر پر جن میں لشکر طیبہ یا جماعت الدعوۃ اور جیش محمد سر فہرست ہیں، بھارت میں دہشت گرد حملے کرنے کا الزام عائد ہے۔ حافظ سعید اور مولانا اظہر مسعود اب بھی آزاد ہیں اور حکومت پاکستان عالمی دباؤ کے باوجود انہیں گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دینے کی بجائے ان کی حفاظت کرنے پر مامور ہے۔
شاہ محمود قریشی کو اگر آزاد اور پاکستان کے مفادات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی بنانے کا حوصلہ ہے تو انہیں ان خطوط سے ہٹ کر بات کرنے کی ضرورت ہوگی جو گزشتہ چالیس برس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعارف بنے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ان دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچنا ہو گا جن کی سرگرمیوں کی وجہ سے امریکہ پاکستان پر سیخ پا رہتا ہے، بھارت پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف سرگرم ہے، افغانستان کے صدر اشرف غنی پاکستانی حکومت اور فوج سے دوستی کی کوششیں کرنے کے بعد بھارت کی گود میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور جن کی وجہ سے فناشل ایکشن ٹاسک فورس ۔ ایف اے ٹی ایف نےپاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالا ہؤا ہے ۔ ملک کی نئی حکومت دہشت گرد گروہوں کی اعانت کے الزام پر اگر امریکہ اور دیگر ملکوں کا مؤقف تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس اقدام کے پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سفارتی نیک نامی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر خارجہ اور ملک کی نئی حکومت کو علم ہونا چاہئے کہ ملک کی خارجہ پالیسی اس کی سلامتی اور معاشی پالیسیوں پر ہی استوار ہے۔ اس لئے کوئی وزیر خارجہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کی وزارت خود مختاری سے خارجہ امور طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ معاملات ایک طویل عرصہ سے سول حکومتوں اور فوجی قیادت کے درمیان تنازعہ اور اختلاف کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور سے پرویز مشرف کے دور آمریت کے بعد آنے والی دونوں سول حکومتوں کو فوج کے براہ راست اور بالواسطہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرت انگیز طور پر ان دونوں حکومتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ان کے رد عمل میں بھی مماثلت ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو میمو گیٹ کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے نکلنے کے لئے آصف زرداری کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو عہدے کی مدت میں توسیع دینا پڑی۔ نواز شریف کی حکومت کو اسی طرح ڈان لیکس کا سامنا کرنا پڑا اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں سعودی عرب میں اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کرنے کی اجازت دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے شوقین نئے نویلے وزیر خارجہ تو پیپلز پارٹی کی اس حکومت کا حصہ بھی رہے ہیں جو میمو گیٹ کیس میں الجھائی گئی تھی۔آزاد خارجہ پالیسی قدیم اور فرسودہ بیانیہ پر استوار نہیں ہو سکتی۔ دوسروں ملکوں کے ساتھ تعلقات اپنی خواہشات کی تکمیل کا عکس نہیں ہوتے بلکہ دو ملکوں کے باہمی مفادات میں تال میل کے ہنر کا نام ہے۔ پاکستان دہشت گردی اور کشمیر کے تنازعہ پر اپنا دہائیوں پرانا مؤقف تبدیل نہیں کرسکتا تو وہ نئی خارجہ پالیسی بنانے کا حوصلہ بھی نہیں کرسکے گا۔ پاکستان کے مسائل کی بنیاد سیکورٹی اداروں کی طرف سے بھارت اور دہشت گرد گروہوں کے بارے میں مخصوص نقطہ نظر ہے۔ افغانستان کو طویل عرصہ ’ اسٹریجک ڈیپتھ ‘ قرار دے کر طالبان کے ساتھ مراسم برقرار رکھے گئے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ مسلسل یہ سمجھتی رہی کہ امریکہ جلد یا بدیر اس خطہ سے نکل جائے گا لیکن پاکستان کو دشمن بھارت اور کمزور افغانستان کے ساتھ رہنا ہے۔ اس لئے کابل کی حکومت پر رسوخ اور دباؤ برقرار رکھنے کے لئے امریکہ اور افغان فوجوں کے مد مقابل گروہوں سے تعلقات کسی نہ کسی سطح پر بحال رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کا انتظار کرتے کرتے پاکستان کو اسٹریجک پارٹنر سے معتوب ملک کا درجہ مل چکا ہے اور بھارت جس کے موجودہ وزیر اعظم کو عہدہ سنبھالنے سےپہلے امریکہ کا ویزا دینے سے بھی انکار کیا جاتا تھا، اب امریکی صدور کے ذاتی دوست اور ان کا ملک امریکہ کا قریب ترین حلیف ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی کمزوری اور کوتاہ نظری کا احساس تک نہیں ہوتا۔
عمران خان کی حکومت سے بے پناہ امیدیں وابستہ ہیں۔ عمران خان کی ایک کے بعد دوسری تقریر ان امیدوں کو دو آتشہ کر رہی ہے۔ لیکن وہ جس حکومت کے سربراہ ہیں اس کی کابینہ کے بیشتر ارکان پرویز مشرف کے دور کی نشانیاں ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی پریس کانفرنس میں ’سب سے پہلے پاکستان ‘ کا جو نعرہ بلند کیا ہے وہ سابق آمر پرویز مشرف کا تکیہ کلام تھا۔ عمران خان نے قوم کے نام خطاب میں زکٰوۃ کے جس رہنما اصول کو متعارف کروایا ہے وہ سابق آمر جنرل ضیا کا اختیار کردہ ہتھکنڈا تھا اور نو منتخب وزیر اعظم نے ساٹھ کی دہائی کے جس پاکستان کو گڈ گورننس کا دور قرار دیا ہے وہ سابق آمر ایوب خان کا دور تھا۔ سلامتی کے ادارے ملکی معیشت کے وسیع حصہ پر قابض ہیں اور انہیں فراہم کئے جانے والے وسائل کا کوئی خود مختار آڈٹ نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان بدعنوانی ختم کرنے کا جو ہتھیار اٹھا کر انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں اور جس کے سہارے وہ اب ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں، وہ بھی اسٹبلشمنٹ کا آزمودہ اور پسندیدہ ہتھکنڈا ہے جو اس نے ہمیشہ سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرکے عوام کو سیاست سے بیزار کیا ہے اور جمہوریت کے راستے کو دشوار بنایا ہے۔
اب نئی حکومت اگر اپنے ماتھے کا کلنک مٹانا چاہتی ہے تو اسے ان نشانیوں سے جان چھڑانی ہوگی ورنہ اس کا ہنی مون پیریڈ بہت طویل نہیں ہو سکتا۔ قانون کی بالادستی ہوا میں معلق کسی انجان چیز کا نام نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وزیر ہو یا جنرل، قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ جس روز یہ سچ پاکستان کا سچ بن جائے گا، وہ دن عمران خان کی کامیابی کا دن ہو گا۔
ـ( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker