سید مجاہد علیکالملکھاری

کیا وزیر اعظم ڈیم بنانے کے لئے عاطف میاں سے بھی چندہ مانگ رہے ہیں؟/ سید مجاہد علی

وزیر اعظم عمران خان نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چیف جسٹس کے قائم کردہ فنڈ کو وزیر اعظم فنڈ میں تبدیل کرتے ہوئے دنیا بھر کے ملکوں میں مقیم پاکستانیوں سے ایک ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ اس طرح ڈیم کی تعمیر کے لئے مطلوبہ رقم دستیاب ہوجائےگی اور آئندہ پانچ برس میں پاکستان اپنے ہی وسائل سے نیا ڈیم تعمیر کرکے پانی کی شدید قلت پر قابو پالے گا۔ پاکستان میں پانی کی کمی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ماہرین اور ماحولیات کے لئے کام کرنے والے گزشتہ کافی عرصہ سے اس طرف توجہ دلوانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ حکومتوں کی سطح پر یہ معاملہ سیاست اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہوتا رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت سندھ طاس معاہدہ کے باوجود اپنے زیر نگیں علاقوں میں پاکستان کے حصے کے دریاؤں کا پانی ذخیرہ کرنے کے متعدد منصوبے شروع کرچکا ہے۔ معاہدہ کی اس خلاف ورزی پر پاکستان نے آواز بھی اٹھائی ہے لیکن عالمی سطح پر بھارت کی کامیاب اور پاکستان کی ناکام سفارت کاری کی وجہ سے اس جائز مطالبہ پر بھی کوئی شنوائی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اب دونوں ملکوں کے واٹر کمیشن کے حکام نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والی ایک ملاقات میں کچھ پیش رفت کا عندیہ دیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے اس حوالے سے کسی بڑی کامیابی کی امید کرنا عبث ہوگا۔
پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس امید کااظہار کیا ہے کہ پاکستانی تارکین وطن کے تعاون سے ڈیم تعمیر کرنے کے لئے وسائل جمع ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ متعدد ماہر اور گروہ اس طرف توجہ دلوا چکے ہیں کہ چندہ سے ڈیموں کی تعمیر کے کثیر المصارف منصوبے مکمل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ تاہم فی الوقت لوگوں کو مصروف رکھنے اور یہ تاثر دینے کے لئے کہ حکومت ان کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے، حکومت کے پاس شاید اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اہم قومی منصوبوں کے بارے میں بڑے فیصلے ہو رہے ہیں۔ اس قسم کےایک فیصلہ کے تحت اقتصادی مشاورتی کونسل قائم کی گئی تھی۔ جس کے اٹھارہ ارکان میں امریکہ اور برطانیہ میں مقیم تین پاکستانی نژاد ماہرین اقتصادیات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ ان ماہرین نے چونکہ عالمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں کام کرتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ میں مہارت حاصل کی ہے اس لئے یہ امید کی جارہی تھی کہ ان کی رائے اور رہنمائی میں پاکستانی حکومت معاشی مسائل اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے لائحہ عمل بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بدنصیبی سے یہ خواہش پوری ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔
حکومت کو مٹھی بھر انتہا پسند مذہبی گروہوں کے دباؤ میں امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر عاطف میاں کو اقتصادی کونسل سے علیحدہ کرنا پڑا کیوں کہ وہ احمدی عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی علیحدگی کے فوری بعد ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور اقتصادی کونسل کے دوسرے پاکستانی نژاد امریکی پروفیسر ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے بھی اقتصادی کونسل سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا ۔ ایک ٹویٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ گو کہ وہ یہ فیصلہ بھاری دل کے ساتھ کررہے ہیں لیکن بطور مسلمان وہ حکومت کی طرف سے ڈاکٹر عاطف میاں کو اقتصادی کونسل سے نکالنے کے فیصلہ کی تائید نہیں کرسکتے اور ان حالات میں وہ بھی اس کمیٹی کے ساتھ کام نہیں کرسکتے۔ ان کے بعد وزیر اعظم کی نامزد کردہ اقتصادی کونسل کے بیرون ملک مقیم تیسرے ماہر برطانیہ کے ڈاکٹر عمران رسول نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقتصادی کونسل کی رکنیت سے استعفی ٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے بھی اپنے پیغام میں یہی کہا کہ کہ جن حالات میں عاطف میاں جیسے ماہر اقتصادیات کو علیحدہ کیا گیا ہے، ان میں میرے لئے بھی اس کونسل میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر رسول کا کہنا ہے کہ ’ عقیدہ کی بنیاد پر فیصلہ میرے اصولوں سے متصادم ہے۔ یہ ان اقدار کے بھی خلاف ہے جو میں اپنے طالب عملوں کو پڑھانے کی کوشش کرتا ہوں‘۔
عاطف میاں کی اقتصادی کونسل سے علیحدگی کے بعد بیرون ملک مقیم دو دوسرے ماہرین کے استعفوں سے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات کے حوالے سے یہ اہم سبق سامنے آتا ہے کہ بیرون ملک اور خاص طور سے یورپ اور امریکہ میں رہنے والے پاکستانی تارکین وطن اس رویہ اور طرز عمل کو تسلیم نہیں کرتے جو پاکستان میں آباد بہت لوگ سامنے لاتے ہیں اور جن کی وجہ سے عمران خان کی حکومت کو مجبوری کے عالم میں عاطف میاں کو اقلیتی عقیدہ سے تعلق کی وجہ سے اقتصادی کونسل سے علیحدہ کرناپڑا تھا۔ پاکستان کے باشندوں کی اکثریت کسی نہ کسی وجہ سے اس فیصلہ کو خوشگوار سمجھتی ہے یا اس نامناسب فیصلہ پر خاموش رہنا ضروری خیال کرتی ہے۔ لیکن جمہوری معاشروں میں رہنے والے تارکین وطن اقلیت کے طور پر اپنے حقوق ، شناخت، سماجی اطوار اور عقائد کے تحفظ کی جد وجہد میں یہ سیکھ چکے ہیں کہ رنگ ، نسل، عقیدہ یا رہن سہن کی وجہ سے انسانوں کے کسی گروہ یا فرد سے امتیازی سلوک قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اسی اصول کی وجہ سے وہ غیر اسلامی معاشروں میں اپنے وجود کا جواز حاصل کرتے ہیں اور اسے عام کرتے ہوئے ہی وہ پاکستان میں متوازن، اور سب کو قبول کرنے والا معاشرہ تعمیر کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے عاطف میاں جیسے ماہر کو ایک اہم مشاورتی کمیٹی سے مذہبی عناصر کے دباؤ پر نکال کر ان تارکین وطن کو مایوس کیا ہے۔
اسے بھی حالات کی ستم ظریفی اور اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ جس روز عاطف میاں کو ان کے عقیدہ کی وجہ سے اقتصادی کونسل سے نکالنے کا اعلان ہؤا ، اسی شام وزیر اعظم نے ڈیم تعمیر کرنے کے لئے چندہ دینے کی اپیل کی۔ اس اپیل میں عمران خان نے تارکین وطن پاکستانیوں کو ملک میں پانی کی شدید قلت کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر وسائل فراہم کرنے کے لئے کہا ہے۔ ایسے میں یہ دلچسپ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا عمران خان نے یہ اپیل سب پاکستانی تارکین وطن سے کی ہے یا عاطف میاں کے عقیدہ کی وجہ سے اقتصادی مہارت سے استفادہ نہ کرنے کے فیصلہ کی روشنی میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اس فنڈ میں صرف اہل ایمان ہی کے عطیات قبول کئے جائیں گے۔ اگر ہر عقیدہ کے تارکین وطن اس فنڈ میں رقوم دیتے ہیں تو کیا چند برس بعد ان وسائل سے تعمیر ہونے والے ڈیم کے پانی اور بجلی کے بارے میں تو کفر کے فتوے سامنے نہیں آنے لگیں گے۔
پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بیرون ملک 76 لاکھ پاکستانی رہتے ہیں جن میں سے 40 لاکھ کے لگ بھگ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں مقیم ہیں جبکہ باقی نصف یورپ اور امریکہ یا دنیا کے دیگر ملکوں میں رہتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں کام کرنے والے بیشتر پاکستانی کم اجرت پانے والی لیبر میں شامل ہیں یا وہ بہت کم مشاہرہ پر غیر پیشہ وارانہ شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یہ واضح اکثریت بمشکل پاکستان میں اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے وسائل فراہم کرپاتی ہے۔ اس لئے ان میں سے اکثر وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق ڈیم فنڈ میں ایک ہزار ڈالر فی کس چندہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت اس فنڈ میں معاونت کر سکتی ہے۔ لیکن انہیں حکومت کی امتیازی پالیسی اور مذہبی گروہوں کی شدت پسندی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے فیصلہ سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔
یورپ و امریکہ کے پاکستانی تارکین وطن کے حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ ان سے مقامی معاشروں میں مساجد اور اسلامی سنٹر بنانے کے لئے اکثر و بیشتر چندہ دینے کی اپیلیں کی جاتی ہیں۔ یورپ کے متعدد ملکوں میں پاکستانی تارکین وطن کے چندوں سے بننے والی درجنوں مساجد کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبہ میں کام کرنے والی سینکڑوں سماجی اور مذہبی تنظیمیں بھی ہر سال مغربی ممالک کے تارکین وطن سے رجوع کرتی ہیں اور ان سے غریبوں کی مدد کے منصوبوں کے لئے رقوم طلب کی جاتی ہیں۔ یورپ کے جو پاکستانی تارکین وطن یہ وسائل فراہم کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں، ان کی اکثریت کسی نہ کسی طرح چھوٹے موٹے کاروبار جن میں دکانداری، ریستوران کا بزنس یا ٹیکسی کے کاروبار وغیرہ سے وابستہ ہے۔ اس طرح یہ لوگ ٹیکس چوری سے لے کر کسی بھی قسم کی چھوٹی موٹی قانون شکنی کو جائز سمجھتے ہوئے انہیں معمول کا رویہ سمجھتے ہیں۔
ان ملکوں میں مسلمان امام مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ مانگتے ہوئے یہ وضاحت تو کرتے ہیں کہ اس فنڈ میں زکوۃ یا صدقہ و خیرات کا پیسہ نہیں دیا جاسکتا لیکن کبھی یہ نہیں کہتے کہ جن لوگوں نے ٹیکس چوری کرکے یا مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے ذریعے وسائل حاصل کئے ہیں یا ان کی آمدنی شراب کی فروخت سے حاصل ہوئی ہے ، وہ بھی مسجد کی تعمیر کے پاکیزہ منصوبہ میں چندہ نہ دیں۔ ملک میں بد عنوانی کے خلاف تحریک کا آغاز کرنے کے دعوے دار عمران خان بھی کیا یہ واضح کریں گے کہ جن لوگوں کے پاس غیر قانونی وسائل ہیں وہ ڈیم بنانے کے قومی منصوبہ میں رقوم دینے کی زحمت نہ کریں یا غیر ملکوں میں غیر قانونی طریقوں سے دولت کمانے والے وطن پرست قرار پائیں گے۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چندہ مانگا ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اس اپیل پر لبیک کہتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں سے دس لاکھ لوگ بھی ایک ہزار فی کس کے حساب سے چندہ دیں تو بھی کل رقم ایک ارب ڈالر بنے گی۔ جبکہ 2008 میں تیار کئے گئے تخمینہ کے مطابق اس منصوبہ پر ساڑھے بارہ ارب ڈالر صرف ہوں گے جس میں افراط زر کی وجہ سے اب دس سے بیس فیصد اضافہ ہو گیا ہوگا۔ اس لئے یہ قیاس کر لینا کہ پاکستانیوں کے چندہ سے ڈیم تعمیر ہوجائے گا خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔ عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم ہاؤس میں کی جانے والی ’عیاشیوں‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو سچ بتائیں گے اور کچھ نہیں چھپائیں گے۔ لیکن بھاشا ڈیم کی لاگت کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے کہ اب دنیا بھی پاکستان کو قرضہ دینے کے لئے تیا رنہیں ہے وہ یہ بتانے سے گریز کرگئے کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ ڈیم گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقہ میں تعمیر ہو گا۔ عالمی ادارے اور حکومتیں اس منصوبہ میں مدد کے لئے پاکستان کو بھارت سے این او سی لینے کا مشورہ دے چکی ہیں۔ تعمیر کے مقام کی وجہ سے ہی گزشتہ حکومت نے اس ڈیم کو قومی وسائل سے بنانے کا قصد کیا تھا اور اس مد میں گزشتہ برس کے بجٹ میں 76ارب روپے فراہم بھی کئے گئے تھے۔ عمران خان یہ حقائق سامنے لانے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔
بھاشا ڈیم کے برعکس کالا باغ ڈیم غیر متنازع علاقہ یعنی میاں والی کے قریب تعمیر ہونا تھا اور اس پر بھاشا ڈیم کے مقابلے میں لاگت بھی نصف آئے گی لیکن اس منصوبہ کو علاقائی پارٹی سیاست کی نذر کردیاگیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس بارے میں حقائق بھی عوام کو بتائے جائیں اور مختلف منصوبوں کی تفصیلات اور ان کی تکمیل میں حائل حقیقی رکاوٹوں کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔اور وزیر اعظم اپنے خصوصی ذرائع سے عاطف میاں کو ضرور مطلع کریں کہ کیا وہ بھی ڈیم بنانے کے لئے قائم فنڈ میں چندہ دینے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker