سید مجاہد علیکالملکھاری

میڈیا پر وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ کی بیک وقت کرم فرمائی۔۔ سید مجاہد علی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے اسلام آباد میں ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا کو نشانے پر لیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے پاکستانی میڈیا کو بہتر طریقے سے ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا بزنس ماڈل ناکارہ اور فرسودہ ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا اداروں کی مثالیں دیتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی میڈیا خود تحقیق و جستجو کرتا ہے اور اپنا بوجھ خود اٹھاتا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا حکومت کے وسائل پر چلنا چاہتا ہے۔
وزیر اطلاعات کا مؤقف تھا کہ حکومت پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ میڈیا کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے بھی میڈیا کو قومی سلامتی کے معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کو حکومت میں کیڑے نکالنے کی بجائے اس کے اچھے کاموں کی توصیف بھی کرنی چاہیے۔
اسلام آباد میں ’قومی سلامتی، قومی تعمیر اور ماس میڈیا‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے یہ خبر بھی سنائی ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ قومی ضابطے عالمی قواعد و ضوابط کے محتاج ہوجائیں گے۔ فواد چوہدری کی ان باتوں سے حکومت کے ارادوں کے بارے میں کوئی واضح تصویر بنانا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ حکومت میڈیا اداروں کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے اور مالکان کو یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ حکومت سرکاری اشتہارات کی مد میں اگر میڈیا کو کثیر رقوم فراہم کرتی ہے تو میڈیا پر بھی اس ’احسان‘ کا بدل دینے کے لئے کچھ ’فرائض‘ عائد ہوتے ہیں۔
اس طرح ملک کے وزیر اطلاعات یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت میڈیا کو اشتہارات عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لئے نہیں دیتی بلکہ اس کے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت میڈیا سے زیادہ وفاداری کا مطالبہ کررہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے یہ باتیں بالواسطہ طور سے کہی ہیں لیکن میڈیا ادارے جس طرح تند و تیز آواز والے مبصرین اور خود مختار رائے رکھنے والے تجزیہ نگاروں سے گلو خلاصی کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں، اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ میڈیا مالکان کو حکومتی نمائیندوں کی باتیں بہت واضح انداز میں پہنچائی جاچکی ہیں۔ اب وزیر اطلاعات علی الاعلان میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے اور سرکاری اشتہارات کے وسائل بند کرنے کی دھمکی دے کر قومی میڈیا کو مزید ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا کے لئے سرکاری اشتہارات کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ حکومت اپنے وسائل اور ضرورتوں کے مطابق اس حوالے سے بجٹ بنانے اور اشتہارات تقسیم کرنے میں آزاد ہونی چاہیے۔ وزیر اطلاعات کی یہ بات بھی درست ہے کہ کمرشل میڈیا کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور اسے حکومت کے وسائل کا محتاج نہیں رہنا چاہیے۔ لیکن یہ مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو بعض معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہوگی۔ میڈیا کو خود مختار اور آزاد بنانے کے لئے صرف سرکاری اشتہارات بند کرنا ہی کافی نہیں ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت ان اشتہارات کو میڈیا پر دباؤ کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بند کرے۔ وزیر اطلاعات نے میڈیا کانفرنس میں جو باتیں کی ہیں، ان سے صرف یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اس معاملہ کا بار بار ذکر کرکے دراصل میڈیا مالکان پر یہ جتانا چاہتی ہے کہ وہ کمرشل میڈیا ہاؤسز کو ملنے والے ان وسائل کا سلسلہ کسی بھی وقت بند کرسکتی ہے۔ میڈیا اشتہارات کے ہی حوالہ سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی تقسیم کا طریقہ کار بھی شفاف ہونا چاہیے۔ ایک واضح اور طے شدہ طریقہ کے مطابق اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ان کی اشاعت اور دیکھنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے اشتہارات فراہمکیے جائیں اور ان کی نگرانی کوئی سرکاری یا سیاسی کمیٹی نہ کرے بلکہ پروفیشل صحافیوں پر مشتمل کوئی خود مختار ادارہ ان معاملات کو دیکھے۔
آزاد میڈیا اور قومی معاملات میں اس کے کردار کے حوالے سے تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان جیسے بھاری بھر کم اداروں پر اجارہ داری کے ذریعے معلومات کی ترسیل پر اپنا اختیار ختم کرے۔ جن ملکوں کے میڈیا اداروں کا حوالہ دے کر وزیر اطلاعات پاکستانی میڈیا کو مالی لحاظ سے خود مختار ہونے کی ہدایت کررہے ہیں، وہاں سرکاری مواصلاتی ذرائع پر حکومتوں کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ جدید جمہوری ریاست میں ایسے میڈیا اداروں کا تصور بھی محال ہے جن پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہو اور جو بھاری بھر کم بیورو کریسی کی صورت میں حکومت وقت کی خوشامد اور کاسہ لیسی میں مصروف رہیں۔
اسی طرح حکومت کو پیمرا و پریس کونسل اوردیگر اداروں کے ذریعے میڈیا کو ہدایا ت دینے اور کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا ہوگی۔ سپریم کورٹ میں دھرنا 2007 کے بارے میں ہونے والی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پیمرا کے علاوہ بعض خفیہ ادارے بھی کسی قانونی اختیار کے بغیر میڈیا کو ہدایات دینے اور اپنے فیصلوں کے مطابق نشریات کو ترتیب دینے یا منظم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔ یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ اگر کوئی میڈیا ان ہدایات کو ماننے سے انکار کرنے کا حوصلہ کرلے تو کیبل آپریٹرز کے ذریعے اس چینل کو سامعین تک پہنچنے سے روکنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان ہتھکنڈوں کو ترککیے بغیر کوئی حکومت ملک میں میڈیا سے خود مختار ہونے یا ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی دوسرے ادارے اور کسی دوسرے پیشہ سے وابستہ افراد کی طرح میڈیا کے اداروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کو خصوصی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ ان پر بھی ملکی قوانین کا اطلاق اسی طرح ہونا چاہیے جیسے کہ عام شہری ان کے پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی عدالتیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا ہاؤس یا صحافی کے خلاف جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کارروائی کرنے میں آزاد ہوں۔ لیکن نہ تو کسی جرم کی دو سزائیں ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کے لئے مختلف ہتھکنڈوں اور اداروں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اگر میڈیا کو عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونا ہے تو حکومت کے بنائے ہوئے ریگولیٹری ادارو ں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ ستم ظریفی تو ضرور موجود ہے کہ میڈیا اداروں کے علاوہ عدالتیں بھی میڈیا کو ’کنٹرول‘ کرنے کے لئے پیمرا ہی کو مؤثر بنانا چاہتی ہیں یا دوسرے سرکاری اداروں پر ذمہ داری عائد کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔ مالی لحاظ سے خود مختار اور رائے سازی میں اپنی صوابدید کے مطابق کام کرنے والے میڈیا کے لئے اس قسم کی حدود و قیود کو قبول کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لئے صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے اخلاقی ضابطوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی۔ لیکن جب تک مواصلات کے اہم ترین ادارے حکومت کے کنٹرول میں رہیں گے، نجی اداروں سے مالی خود مختاری کا مطا لبہ کرنا درست نہیں ہو سکتا۔
اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور داخلہ شہر یار خان آفریدی نے بھی ملکی میڈیاکو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے اسے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ میڈیا حکومت پر نکتہ چینی میں تو بہت آگے ہے لیکن اس کی کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہ شکایت اس ملک کی ہر حکومت کو رہی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں ہوتی۔ حالانکہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی صورت میں مواصلاتی نظام پر مکمل کنٹرول کے ہوتے انہیں ایسا شکوہ کرنے سے پہلے اپنے الفاظ پر غور کرلینا چاہیے۔
شہریار آفریدی نے میڈیا کی جانبداری اور غیر متوازن رپورٹنگ کی مثال دینے کے لئے آسیہ بی بی کیس کا عافیہ صدیقی کیس سے موازنہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میڈیا نے آسیہ بی بی کے معاملہ کو غیر معمولی طور پر اچھالا ہے اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں حکومت کی کوششوں کا اتنی شدت سے ذکر نہیں ہوتا۔ داخلہ امور کا نگران ہونے کے باوجود شہریار آفریدی یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ آسیہ بے گناہ ہونے کے باوجود آٹھ برس تک پاکستانی جیلوں میں قید رہی ہے۔
ان میں سے سات برس اس کے سر پر سزائے موت کی تلوار لٹکتی رہی تھی۔ ملک کی زیریں عدالتیں جن میں ہائی کورٹ بھی شامل ہے آسیہ بی بی کو انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ بالآخر سپریم کورٹ نے اس کے خلاف بے بنیاد مقدمہ کو خارج کرکے اسے اس الزام سے بری کیا ہے۔ لیکن حکومت ابھی تک آسیہ کے خلاف کوئی دوسرا الزام نہ ہونے کے باوجود سیاسی کم ہمتی کی وجہ سے اسے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے فرینکفرٹ میں اس بارے میں بات کرتے ہوئے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسیہ بی بی اور ان کے اہل خاندان کو جرمنی کے پاسپورٹ فراہم کرے تاکہ وہ پاکستان سے باہر نکل سکے۔ اس مطالبہ کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی حکومت آسیہ بی بی کو اپنے ہی ملک میں عام شہری کے طور پر امن سے زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔
ایک ایسی خاتون کا عافیہ صدیقی کے معاملہ سے کیوں کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ عافیہ کے بارے میں پاکستان میں ایک خاص رائے بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے معاملہ کو امریکہ مخالف جذبات کے ساتھ ملا کر ایک خاص طرح کا مذہبی سیاسی مزاج اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن اس بحث میں پڑے بغیر بھی شہریار خان آفریدی کو یہ جاننے میں دقت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ آسیہ کی بے گناہی سپریم کورٹ میں ثابت ہوئی ہے جبکہ عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے دہشت گردی کے الزامات میں سزا دی ہے۔
آسیہ ایک سادہ لوح دیہاتی خاتون ہے جس پر پانی پینے پلانے کے تنازعہ پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جبکہ عافیہ صدیقی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں جن کی زندگی کے بہت سے گوشوں کے بارے میں پاکستان میں بات کرنا مذہبی حساسیت کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی قسم کے مقبول سیاسی بیانیہ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی بیشتر حکومتیں شدت پسند مذہبی گروہوں کی سرپرستی کا موجب بنتی رہی ہیں۔ اب تحریک انصاف کی حکومت بھی نئے پاکستان میں اسی پرانے بیانیہ کو اپنے سر کا سہرا بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے۔
وزیر اطلاعات اور داخلہ امور کے نگران وزیر کو خبروں کی ترسیل کے حوالے سے میڈیا کو دھمکانے اور آزادی رائے کی صورت حال کو مسدود کرنے کا باعث بننے کی بجائے، جمہوری حکومت کے نمائیندوں کے طور پر آزادی رائے اور مضبوط میڈیا کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کرنا چاہیے۔ ملک میں میڈیا کو جس مشکل صورت حال کا سامنا ہے وہ کسی ہوش مند سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کا اعتراف کرنے کی بجائے حکومتی نمائیندے جب میڈیا کو سرکاری مطالبات کی فہرست فراہم کریں گے تو ایسی حکومت کی جمہوریت پسندی اور عوام دوستی کے بارے میں شبہات قوی ہوں گے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker