سید مجاہد علیکالملکھاری

نواز شریف کی سیاست: ووٹ کی عزت سے ضمانت کی بھیک تک۔۔سید مجاہد علی

طبی بنیاد پر نواز شریف کی چھے ہفتے کے لئے رہائی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور مریم نواز نے اللہ کا شکر ادا کیا ہے۔ کل رات ہی کوٹ لکھپت جیل سے نواز شریف کو جاتی عمرہ ان کے گھر پہنچانے کے لئے رہائی کی عدالتی روبکار کو نجی طیارے میں اسلام آباد سے لاہور لانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اہل خاندان کی طرف سے اپنے ایک قیدی باپ، بھائی یا بیٹے کی رہائی کے لئے کی جانے والی یہ کوشش قابل فہم ہے لیکن اس کاوش کے دوران سیاسی قد کاٹھ کے ساتھ کھڑے ہونے والے لیڈر کی شبیہ ماند پڑی ہے۔
نواز شریف کے وکلا نے العزیزیہ کیس میں سزا کی معطلی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں کا فیصلہ ہونے تک ضمانت کی درخواست کو میڈیکل بنیاد پر رہائی دلوانے کی کاوش تک محدود کرلیا تھا۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ درخواست ناکافی ثبوت ہونے کی وجہ سے مسترد ہوگئی تھی۔ تاہم اس دوران متعدد میڈیکل بورڈ متعین ہونے اور ایک سے دوسرے ہسپتال لے جانے کے توہین آمیز طریقہ کے خلاف خاموش احتجاج کرتے ہوئے نواز شریف نے جیل سے باہر قدم نہ رکھنے کا عہد کیا تھا۔
اس فیصلہ کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے تحریک انصاف کی منتقم مزاجی اور سیاسی ہتھکنڈوں پر الزام دھرتے ہوئے نواز شریف کے لئے ہمدردی کا ایک ماحول بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کا ماحصل سپریم کورٹ پر دباؤ میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ ضمانت کی درخواست قبول کر لے۔ اب یہ مقصد حاصل ہو چکا ہے اور مسلم لیگ(ن) کے حامی خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ تاہم قیاس یہی ہے کہ چھے ہفتوں بعد یہ خوشی دوبارہ مایوسی اور حکومت مخالف نئے بیانات کی صورت اختیار کرنے والی ہے۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کی روشنی میں یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ عدالتیں نواز شریف پر عائد الزامات کے بارے میں مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ نہ ہی اس اصول کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ سیاسی لیڈروں پر کرپشن کے الزام عائد کرکے بدعنوانی کا خاتمہ تو نہیں ہوسکتا لیکن سیاسی تصادم، باہمی نفرت اور سماجی انتشار میں ضرور اضافہ ہوگا۔ اس کے مظاہر سیاسی لیڈروں اور وزیر اعظم سمیت حکومت میں شامل لوگوں کے بیانات میں روزانہ کی بنیاد پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس افسوسناک صورت حال میں اگر شاہد خاقان عباسی، نواز شریف کی ضمانت کو سچ کی فتح اور حکومت کے جھوٹ کاپول کھلنا قرار دیتے ہیں تو عمران خان، نواز شریف کو این آر او نہ دینے پر اصرار کرتے ہوئے درشت اور سخت لب و لہجہ اختیارکرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی سیاسی مخالف خواہ کتنا ہی برا ہو، اگر وہ علیل ہے تو اس کے بارے میں نرم لب ولہجہ اور متوازن طرز عمل خود حکومت کے وقار میں اضافہ کا سبب ہو گا۔
یہ انسانی رویہ اختیار کرنے کی بجائے وزیر اعظم نے یہ طعنہ دینا ضروری سمجھا کہ شریف خاندان تیس برس حکمران رہنے کے باوجود کوئی ڈھنگ کا ہسپتال نہیں بنوا سکا جس پر انہیں شرم آنی چاہئے۔ حالانکہ اگر یہ بات سو فیصد درست بھی مان لی جائے تو بھی جیل میں قید ایک بیمار شخص کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں کے اعمال نامہ پر غور کرنے کی بجائے یہ دیکھا جائے گا کہ حکومت وقت اپنی ذمہ داری کس حد تک پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اگر نواز شریف کو جیل میں مناسب سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی گزند پہنچتی تو اس کا بوجھ تحریک انصاف کی حکومتوں کو ہی اٹھانا پڑتا۔
عمران خان سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے شاہ سے زیادہ وفاداری کی مثال کو زندہ کرنے والے فواد چوہدری، نواز شریف کی ضمانت پر یہ فرما رہے ہیں کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس کر کے جہاں چاہتے ہیں چلے جائیں۔ اس تصویر کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ہی روز پہلے وزیراعظم ایک بار پھر یہ فرما چکے تھے کہ نیب پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ لیکن ان کے وزیر اطلاعات کی گفتگو سے تویہی لگتا ہے جیسے نیب نواز شریف کی رہائی کے لئے حکومت کے اشارے کا انتظار کر رہی ہے۔ جوں ہی نواز شریف اپنے ’خزانے‘ کا منہ کھول کر حکمت کی امیدوں کے مطابق تاوان ادا کردیں گے، وہ نیب کو اشارہ کرے گی اور نواز شریف کو رہا کردیا جائے۔ جس خواب کی تکمیل میں فواد چوہدری اور ان کے ہمنو ا یہ دل خوش کن قسم کے بیان دیتے ہیں، اس کی تکمیل کا امکان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
نواز شریف بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نہیں ہیں جو فائیلوں کو پہیہ لگانا ہی اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھتے رہے ہیں۔ اور اب سپریم کورٹ کے ذریعے معاملات طے کرنے کے لئے ساڑھے چار سو ارب روپے کی ڈیل کرتے ہوئے بھی وہ یہی سمجھ رہے ہوں گے اس بار ’پہیہ لگانے‘ پر خرچہ کچھ زیادہ ہو گیا۔ لیکن بحریہ ٹاؤن یہ رقم ان لوگوں سے وصول کرے گا جنہیں وہ اپنے منصوبوں میں پلاٹ فروخت کرکے اس ملک کا اہم ترین مالیاتی گروپ بننے میں کامیاب ہؤا ہے۔ نواز شریف کے لئے یہ سیاسی معاملہ ہے۔ وہ اگر حکومت کی خواہش کے مطابق رقم ادا کرنے کی حیثیت میں بھی ہوں تب بھی وہ کبھی یہ اقدام نہیں کریں گے کیوں کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کی سیاست کے لئے موت کا پروانہ ثابت ہوگا۔ اگر انہوں نے سیاست کو خیر آباد کہنا ہوتا تو وہ بستر مرگ پر اپنی عزیز اہلیہ کو برطانیہ میں چھوڑ کر گرفتاری دینے کے لئے پاکستان نہ آتے۔
فواد چوہدری کا بیان نہ صرف نیب کے اختیار اور دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہے بلکہ تکنیکی لحاظ سے یہ توہین عدالت کا موجب بھی بن رہا ہے۔ نواز شریف کو نیب عدالتوں نے دو مقدمات میں سزا سنائی ہے۔ ایک میں انہیں ضمانت ملی ہے جبکہ دوسرے مقدمہ کی سزا بھگتنے کے لئے وہ کوٹ لکھپت جیل میں بند تھے۔ اب طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت پا کر وہ جاتی عمرہ میں فرو کش ہیں۔ ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ انہی اپیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ضمانت دینے کے حکم میں قرار دیا ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں سزا دینے اور گرفتار کرنے کا حکم دیتی ہے تو اسے انہیں جیل بھیجنے کا اختیار ہوگا۔ یعنی سپریم کورٹ کی طرف سے ملنے والی عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس صورت حال کا سامنا کرنے والے شخص کو فواد چوہدری رقم ادا کرکے رہا ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ خود بھی وکیل ہیں اور جانتے ہوں گے کہ نیب بھی کسی مقدمہ میں سزا پانے والے شخص کو انہی معاملات میں پری بارگین کی سہولت فراہم نہیں کرسکتی۔ یہ معاملہ عدالتوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس لئے وزیر اطلاعات کا بیان ملک کے مروجہ قانون اور طریقہ عدل پر براہ راست حملہ کے مترادف سمجھا جانا چاہئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات اس قسم کے بیان داغتے ہوئے دراصل سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا چاہتے ہیں اور یہ گراؤنڈ ورک کر رہے ہیں کہ اگر کل کلاں کسی مجبوری میں نواز شریف کے ساتھ کوئی ’سمجھوتہ ‘ کرنا پڑے تو وہ اپنے بیانات کی آڑ لے کر کوئی عذر تراش سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان این آار اور نہ دینے پر اصرار کرنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ جن لوگوں کو این آر او کی ضرورت ہے، وہ واضح کرچکے ہیں کہ انہیں ایسی کوئی سہولت نہیں چاہئے۔
معاملہ کی سیاسی نوعیت مسلمہ ہے۔ اسی لئے حکومت کے رویہ کو مسترد کرنا ضروری ہے۔ اور اسی لئے طبی بنیاد پر ضمانت حاصل کرنے اور جیل سے مختصر مدت کی رہائی کے لئے توہین آمیز عمل سے گزرنے والے نواز شریف سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ ووٹ کی عزت اور منتخب حکومت کے اختیار کی بحالی کا نعرہ لگاتے لگاتے آخر وہ کون سا کمزور لمحہ تھا کہ انہیں جیل سے نجات پانے کے لئے اپنی بیماری کو عذر بنانا پڑا۔
نواز شریف، ان کے اہل خاندان، حامیوں اور مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ یہ سزائیں دراصل ان کے سیاسی بیانیہ کی وجہ سے دی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ جرم نہیں کیا۔ لیکن عوام کے حق انتخاب کے لئے آواز بلند کرنے والا کوئی قد آور لیڈر ’سیاسی مؤقف‘ کی وجہ سے ملنے والی سزا سے نجات پانے کے لئے بیماری کو عذر بنانے کی بجائے، جیل کی صعوبت اور حکومت کی ناانصافی کو برداشت کرنے کا حوصلہ دکھاتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر نواز شریف کا ساتھ دینے اور ان کے خلاف مقدمات اور اقدامات کی مخالفت کرنے والے اس ملک کے لاکھوں لوگو ں کو نواز شریف کی موجودہ حکمت عملی اور اس پر مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کے ’جشن کامیابی‘ پر حیرت اور افسوس ہؤا ہے۔
’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس سے ملک کو درپیش حقیقی مسائل کی نشان دہی ہوتی ہے۔ اس نعرہ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آزادیوں کو کن مصلحتوں کی بنا پر کیسے ہتھکنڈوں سے مصلوب کیا جاتا ہے۔ نواز شریف اگر اس نعرے کی حرمت کو برقرار رکھ پاتے تو ملک کی سیاسی تاریخ میں ان کے قد تک پہنچنا آسان نہ ہوتا۔ تاہم چھے ہفتے کی عبوری ضمانت کو فتح و نصرت قرار دینے والے لوگ کیوں کر اس قوم کی تقدیر تبدیل کرنے کا حوصلہ کر سکیں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker