سید مجاہد علیکالملکھاری

فوجی عدالتیں قبول ہیں تو فوجی حکمرانی میں کیا برائی ہے؟۔۔سید مجاہد علی

30 مارچ سے ملک میں فوجی عدالتوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے کیوں کہ 2017 میں آئینی ترمیم کے ذریعے ان عدالتوں کو دی جانے والی توسیع کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کا اصرار ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لئے ایک بار پھر فوجی عدالتوں کو نئی توسیع دی جائے تاکہ ایسے خطرناک افراد سے نمٹنا آسان ہوجائے جو معاشرے میں انتشار، بدامنی اور خوف پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس توسیع کے لئے اپوزیشن سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ برسر اقتدار پارٹی کو اس وقت اتحادی جماعتوں کے تعاون کے باوجود محض معمولی اکثریت حاصل ہے اور وہ بڑی اپوزیشن پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر آئینی ترمیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، جس کے لئے ایوان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اگرچہ 2015 میں قومی ایکشن پلان کے تحت خطرناک دہشت گردوں کے معاملات فوجی عدالتوں میں سماعت کے لئے بھیجنے کی حمایت کی تھی لیکن دو سال قبل جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فوجی عدالتوں کو مزید دو سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا تو پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت نہیں کی تھی۔ اب بھی پیپلز پارٹی اس مؤقف پر قائم ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملہ کی توسیع کی کھل کر مخالفت نہیں کی ہے لیکن یہ پارٹی اس انتظام کے اصولی طور پر خلاف نہیں۔
حکومت اور وزیر اعظم نے اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اقتدار میں ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈروں جیسا لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔ وہ مخالف پارٹیوں کو اسی طرح للکارتے اور ان کے خلاف ویسے ہی الزام تراشی کرتے ہیں جیسا وہ مشہور زمانہ اسلام آباد دھرنے کے دنوں میں کیا کرتے تھے۔ حالانکہ اس دھرنے کے مقاصد بھی حاصل کئے جا چکے اور اس کے نتیجے میں عمران خان کو اس قدر سرخروئی نصیب ہوئی کہ وہ ایک آؤٹ سائیڈر سے یک بیک چہیتے بن گئے اور مسلم لیگ (ن) کے متبادل کے طور پر قبول کرلئے گئے۔ لیکن اب یہ انتظام چلانے کے لئے جس مفاہمت اور سیاسی شعور یا گٹھ جوڑ کی مہارت درکار ہے، تحریک انصاف اور اس کے چئیرمین اس کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اسی لئے حکومت کے مستقبل کے بارے میں گوناں گوں سوالات اس وقت تجزیوں اور تبصروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کو ملک میں انسانی حقوق اور اعلیٰ جمہوری روایت کی پاسبان ہونے کا اعزاز حاصل نہیں رہا۔ تاہم دو برس قبل سپریم کورٹ نے نواز شریف کو صادق و امین ’نہ ‘ ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی کی رکنیت کا نااہل قرار دیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں انہیں وزارت عظمی سے دست بردار ہونا پڑا تھا۔ اس عدالتی ہزیمت کے بعد نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو اور ایک ملک میں دو حکومتوں کے طریقہ کار‘ کے خلاف سیاسی بیانیہ سامنے لائے ۔ یہ وہ وقت تھا جب آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اپنے ہی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی عوامی رابطہ مہم کو ترک کرتے ہوئے ’گٹھ جوڑ‘ کی سیاست پر کاربند ہو رہی تھی۔
اس کے نتیجے میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کے علاوہ، چئیرمین سینیٹ کے طور پر ایک غیرمعروف صادق سنجرانی کو منتخب کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ حالانکہ نواز شریف نے اس سیاسی سازش کو ناکام بنانے کی غرض سے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ پیپلز پارٹی اپنے ہی سینیٹر اور سینیٹ چئیرمین کے طور نیک نامی کمانے والے رضا ربانی کو امید وار نامزد کردے تو مسلم لیگ (ن) ان کی حمایت کرے گی۔ تاہم رضا ربانی کی اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کی شہرت کے سبب، ان عناصر کو ان کی نامزدگی منظور نہیں تھی جنہیں خوش کرتے ہوئے آصف زرداری مستقبل کی سیاسی شطرنج پر پیپلز پارٹی کے مہروں کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے چالیں چل رہے تھے۔
یہ بازی آصف زرداری کی خواہش اور اندازے کے مطابق کامیاب نہیں ہوسکی۔ اب وہ اپنی بہن کے علاوہ دیگر متعدد ساتھیوں کے ہمراہ منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا بیشتر وقت ایک ضمانت ختم ہونے کے بعد دوسری کا انتظام کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے والد کی غلط اور بے وقت سیاسی بازی کی وجہ سے منی لانڈرنگ کیس میں ملوث کئے جارہے ہیں بلکہ وزیر اعظم سمیت متعدد وزیروں کی توپوں کا رخ بھی اس نوجوان سیاست دان کی طرف ہوتا ہے۔
دو روز قبل گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے پیپلز پارٹی کی بد عنوانی پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے اور سندھ کی پسماندگی اور مسائل کا سارا الزام اس پارٹی اور اس کی ’بدعنوان‘ قیادت کے سر تھوپا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کے ذریعے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے تاکہ پہلے مرحلے میں فوجی عدالتوں کو توسیع دی جائے اور اس کے بعد اٹھارویں ترمیم کے ’ناقابل قبول‘ پہلوؤں کو آئین سے خارج کروانے کے لئے میدان ہموار کیا جائے۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ وسائل اور اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔ تاہم اس انتظام پر اقتدار کے مراکز سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم کے علاوہ فوجی عدالتوں کے بارے میں بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرچکی ہے۔ اگرچہ سیاسی داؤ پیچ میں یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اور کس مجبوری میں آصف زرداری جیسا لیڈر یہ کہتے ہوئے نیا مؤقف سامنے لے آئے کہ ’ سیاسی مؤقف کوئی آسمانی صحیفہ تو نہیں ہوتا‘۔ پیپلز پارٹی کے برعکس فوجی عدالتوں کے سوال پر حکومت کے لئے مسلم لیگ (ن) سے تعاون حاصل کرنا آسان ہوگا۔ ایک تو اس پارٹی کی حکومت خود دو سال پہلے ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کی روایت قائم کرچکی ہے۔۔ دوسرے شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) ’ ووٹ کو عزت دو یا منتخب حکومت کو آزاد کرو‘ جیسا انقلابی اور ’باغیانہ ‘ نعرہ لگانے سے گریز کررہی ہے۔
نواز شریف نے جیل جانے اور وہاں تکلیف برداشت کرنے کے باوجود ابھی تک اس نعرے سے دستبردار ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن وہ خود اور ان کی صاحبزادی نے گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنے سیاسی بیانیہ پر اصرار بھی نہیں کیا ہے۔ اسی لئے یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ نواز شریف اپنی جارحانہ سیاست کو روک کر اپنے بھائی شہباز شریف کو مفاہمانہ سیاست کے گر آزمانے کی آزادی دے چکے ہیں۔ تاکہ ایک طرف نواز شریف کے علاوہ شریف خاندان کے دیگر ارکان کو ریلیف مل سکے اور مسلم لیگ کے اسٹبلشمنٹ نواز دھڑوں کی ہمت بندھائی جا سکے تو دوسری طرف مستقبل کے منظر نامہ میں اپنے خاندان کے لئے جگہ پیدا کی جاسکے۔ زیر بحث آئینی ترامیم کا معاملہ اور ان پر مسلم لیگ (ن) کا تعاون، اسی سیاسی لین دین کا محتاج ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شہباز شریف فوجی عدالتوں کی توسیع کے لئے تعاون فراہم کرکے عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بنیں گے یا وہ اس تعاون کے نتیجہ میں مستقبل قریب میں عمران خان کے عہدے کے طلب گار ہوں گے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی وکالت کرتے ہوئے اپوزیشن سے تعاون حاصل کرنے کی خواہش تو ظاہر کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر اپوزیشن نہیں چاہے گی تو ’ قومی اتحاد کی قیمت ‘ پر فوجی عدالتوں میں توسیع کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان تکنیکی لحاظ سے بے بنیاد ہے کیوں کہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے بغیر حکومت چاہنے کے باوجود مطلوبہ آئینی ترمیم نہیں کروا سکتی ۔ اس طرح فوجی عدالتوں کا باب بند کرنا پڑے گا۔ لیکن اس انداز میں یہ بیان دینے کے دو مقاصد ہوسکتے ہیں۔ ایک اپنی حکومت کی مجبوری کو واضح کرتے ہوئے یہ بتانا کہ خدمت گزاری کی خواہش کے باوجود یہ حکومت بعض کام کرنے سے قاصر ہے ۔ اس بیان کا دوسرا مقصد سیاسی چو مکھی میں ایک قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے نیا وار کرنے کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی فوجی عدالتوں کے سوال پر مجبوری تسلیم کرکے اٹھارویں ترمیم کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ تاہم سوال پھر بھی وہی رہے گا کہ اس تعاون کے بدلے میں تحریک انصاف، شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو جو ’پیکیج‘ پیش کرے گی وہ کس حد تک تحریک انصاف کو قومی سیاست میں غیر متعلق کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
آئینی ترامیم کے سوال پر درپردہ ہونے والے معاملات کے پیچدگیوں سے قطع نظر، اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ کسی سول انتظام میں فوجی عدالتوں کا اہتمام جمہوری نظام، بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کے خلاف ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ بھی غلط تھا حالانکہ اس حوالے سے ضروری ’تحفظات‘ فراہم کر کے اسے سیاسی طور سے قابل قبول بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز کو مسترد نہیں کیا، اس طرح یہ انتظام گزشتہ چار برس سے کام کر رہا ہے۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ برس 75 معاملات میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو تبدیل کیا تھا جن کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں ہنوز سماعت کی منتظر ہے۔ اس وقت بھی پشاور ہائی کورٹ 90 مقدمات میں وزارت داخلہ سے ثبوت فراہم کرنے کا تقاضہ کر رہی ہے۔ اس طرح عملی طور سے فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفر کردار پہنچانے کا مقصد حاصل نہیں ہو پا رہا۔ یوں یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرجائے گا کہ پھر ایسا انتظام کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
ملک میں منتخب پارلیمنٹ موجود ہے اور عوام کے ووٹ لینے والی پارٹی جمہوریت کے نام پر برسر اقتدار ہے۔ گویا جمہوری نظام کام کر رہا ہے۔ اگر حکومت فوجی عدالتوں کی توسیع پر اصرار کرتی ہے تو یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر فوجی عدالتوں کے بغیر انصاف نہیں ہو سکتا تو فوج کے تعاون کے بغیر حکومت کیسے کام کر سکتی ہے؟ اور اگر جمہوریت کے لباس میں فوج ہی بااختیار ہے تو ایسے جمہوری ڈھونگ کی کیا ضرورت ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker