سید مجاہد علیکالملکھاری

جمہوریت کے کھڑے پانی میں پیر افضل قادری کا علیل پتھر۔۔ سید مجاہد علی

لبیک تحریک کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری نے تحریک سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ماضی میں اپنی تقریروں پر معافی مانگی ہے اور اعلان کیا ہے کہ لبیک تحریک کی قیادت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کے کارکن ملک کے قانون اور آئین پاکستان کا احترام کریں اور کسی قسم کی خلاف قانون کارروائی کی اجازت نہ دی جائے۔ پیر صاحب نے حکومت، پاک فوج اور عدلیہ سے بھی اپنی بدکلامی کی معافی مانگی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی سنسنی خیز پریس کانفرنس کے بعد لبیک تحریک کے بانی قائد کے اس اعلان اور معافی نامہ میں سمجھنے والوں کے لئے عبرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔
لبیک تحریک کا آغاز پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی سے بچانے کے لئے ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر پھانسی کی سزا پانے کے بعد ممتاز قادری کی نماز جنازہ تزک و احتشام اور عقیدت و احترام سے ادا کی گئی اور اسی شان و شوکت سے اس کی تدفین عمل میں آئی۔ اس کے بعد یہ تحریک ختم نبوت کی داعی بن کر ریاست کی تمام علامتوں کو للکارنے لگی۔ انتخابات کے نامزدگی کاغذات کے حلف نامہ کی عبارت پر پیر افضل قادری اور مولانا خادم رضوی کی ولولہ انگیز قیادت میں 2017 میں بیس روز طویل دھرنا دیا گیا اور صرف دو اڑھائی ہزار کارکنوں کے ساتھ وفاقی حکومت اور ریاست کے تمام اداروں کو مفلوج اور معذور بناکر یہ واضح کردیا کہ اصل طاقت ’قوت ایمانی‘ کی ہوتی ہے۔
وفاقی حکومت نے جب فوج کو یہ دھرنا ختم کرنے کا ’حکم‘ دینا چاہا تو آرمی چیف نے واضح کیا کہ حکومت ریاستی تشدد کی بجائے اپنے لوگوں کے ساتھ مفاہمت کا رویہ اختیار کرے۔ پھر سب نے دیکھا کہ ایک فوجی جرنیل نے جب دھرنا دینے والوں کو ’محبت‘ سے سمجھایا اور ان کی تشفی کے لئے ہزار ہزار کے لفافہ بند نوٹ تقسیم کیے تو لگ بھگ تین ہفتے تک ملک کی حکومت اور عدالتوں کو للکارنے والے مظاہرین ریشہ خطمی ہوگئے۔ اگرچہ اس دوران وہ ملک کی بڑی اکثریت سے قائم حکومت کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کرچکے تھے۔
اس دھرنا کے دوران ایک جمہوری نظام میں عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا اور ہر کس و ناکس کو فرد کی طاقت کا اندازہ ہوگیا۔ اگرچہ اس طاقت کا مظاہرہ 2014 میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف اور علامہ طاہر القادری کی قیادت میں پاکستان عوامی تحریک نے دو بھائیوں کے طور پر بھی کیا تھا لیکن اس وقت متحدہ پارلیمنٹ کسی حد تک اس وار کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ اسی لئے عوام کی حقیقی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے افضل قادری اور خادم رضوی جیسے منہ پھٹ اور لاف زنی کرنے والے لیڈروں کو سامنے آنا پڑا۔
اگرچہ پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے اس دھرنا کے بارے میں اپنے فیصلوں میں متعدد نکات اٹھائے جن میں قانون کے احترام، حلف کی پاسداری، اداروں کی تابعداری جیسے معاملات پر رائے دی گئی تھی لیکن فیض آباد دھرنا نے جس جذبہ ایمانی کو بیدار کیا تھا اسی کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے انتخابات میں لبیک تحریک کے امیدواروں نے 22 لاکھ کے لگ بھگ ووٹ لئے۔ لبیک تحریک اگرچہ قومی اسمبلی میں تو کوئی نشست حاصل نہیں کرسکی بلکہ سندھ میں صرف دو صوبائی نشستوں پر ہی اس کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اس ’انتخابی کامیابی‘ نے اہم حلقوں میں ناقابل قبول پارٹیوں کے ووٹ توڑنے کا کام بخوبی سر انجام دیا اور ایک ایسی پارلیمنٹ وجود میں آئی جسے قومی مفاد کے مطابق ’مینیج‘ کرنا آسان ہوگیا۔ اور عوامی مقبولیت کے زعم میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے والوں کو بھی سبق سکھانے کا اہتمام کر لیا گیا۔
میجر جنرل آصف غفور نے قومی سیاست اور ملکی سلامتی کے بارے میں دو روز قبل جو اہم پریس کانفرنس منعقد کی تھی اس میں بنیادی نکتہ پشتون تحفظ موومنٹ جیسے ’ملک دشمن ایجنڈے‘ پر عمل پیرا گروہوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لانا تھا۔ اسی لئے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے متعدد جلسوں، ریلیوں اور دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ ’پی ٹی ایم بتائے کہ اس مقصد کے لئے انہیں کہاں سے کتنی رقم وصول ہوئی‘ ۔ یاوش بخیر فیض آباد دھرنے سے چہار دانگ عالم شہرت حاصل کرنے والی پیر افضل قادری کی لبیک تحریک کے مالی وسائل کے بارے میں بھی لوگوں کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججوں نے کچھ ایسا ہی استفسار کیا تھا۔
تاہم دیگر اداروں کے علاوہ ملک کی سلامتی کے لئے چوکس آئی ایس آئی نے عدالت عظمی کو یہ ٹکا سا جواب دے دیا تھا کہ مختلف تنظیموں کے وسائل کی چھان بین اس کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہے۔ میجر جنرل آصف غفور چونکہ آئی ایس آئی کی بجائے آئی ایس پی آار یعنی شعبہ تعلقات عامہ کے نگران ہیں، اسی لئے وہ براہ راست پی ٹی ایم سے پوچھ رہے ہیں کہ فلاں فلاں ایجنسیوں نے کن کن ذرائع سے کس کس موقع پر رقم فراہم کی۔ لبیک تحریک کے وسائل کے بارے میں ایسا سوال کرنے کی نوبت یوں نہیں آئی ہوگی کہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں اس معاملہ پر غور کررہی تھیں۔ عدالتی معاملات میں مداخلت کسی محب وطن شہری کو زیب نہیں دیتا۔
پیر افضل قادری کا معافی نامہ اور بر بنائے صحت و جسمانی معذوری تحریک کی قیادت سے علیحدگی کے علاوہ، اس کی سرگرمیوں سے تائب ہونے کا بیان، ان کی ذاتی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جن میں ایک وجہ چند سنگین جرائم میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بندی بھی ہے۔ لبیک تحریک کے قائد کے طور پر انتشار پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے کے علاوہ ان پر ریاست کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات بھی عائد ہیں۔ اب یہ تو ملک کے شفاف عدالتی نظام پر منحصر ہے کہ وہ ایک بوڑھے اور اپنے کیے پر شرمندہ شخص کی معافی قبول کرتے ہوئے اسے علاج کروانے کے لئے گھر جانے کی اجازت مرحمت کرتا ہے یا نہیں۔
البتہ اس بیان اور معافی سے یہ واضح ہوگیا عوامی مقبولیت کا گھوڑا بھی اسی وقت تک سواری کا مزہ دیتا ہے جب تک سائیس اس گھوڑے کو رک جانے اور سوار کو گرا دینے کا اشارہ نہیں کرتا۔ خاک چاٹتے ہوئے پیر صاحب اب معافی مانگ کر اپنا بڑھاپا سکون سے گزارنے کے خواہشمند ہوں گے۔ عدالت میں حاضری کے دوران اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی بجائے جیل سے جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں عفو و درگزر کی درخواست کرنے سے تو یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لبیک تحریک کے ریٹائیرڈ جرنیل عدالت کی بجائے یہ پیغام کہیں اور پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس پیغام کا مکتوب الیہ کون ہے، اس کا علم تو پیر افضل قادری کے علاوہ انہی لوگوں کو ہوگا جنہوں نے جیل میں بھی ویڈیو ریکارڈ کرنے اور پھر اسے عام کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ لیکن عام لوگوں کے لئے سمجھنے کو یہ اشارہ ہی کافی ہے کہ انسان بوڑھا اور مجبور بھی ہو جاتا ہے۔
دو روز قبل میجر جنرل صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد ملک بھر میں سناٹا بدستور گہرا اور مہیب ہے۔ اس دوران پیر افضل قادری نے اپنے پیغام سے ملک کی بوجھل اور خاموش فضا میں کچھ ارتعاش پیدا کیا ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ ملک کے جمہوری جمود میں اپنے معافی نامے کا بھاری پتھر پھینک دیا ہے۔ ورنہ جید صحافی تو ’بھاگ لگے رہن‘ کی دعائیں دیتے ہوئے یہ استفسار کرنے پر مجبور ہیں کہ انہوں نے ’منشی گیری کی ذمہ داری کب تک نبھانی ہے‘ ۔ یہ تو ریاست کے چوتھے پائے کا حال ہے جس کے اینکر اپنے پروگراموں میں حکومت گرانے اور بنانے کا فریضہ ادا کرنے پر مامور رہتے ہیں۔ عوام کی خدمت کے لئے سیاست کرنے والے تو ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے ’چپ ہی بھلی‘ کے اصول کو پلے سے باندھے ہوئے ہیں۔
پیر صاحب کی حالت زار، سیاست دانوں کی کیفیت اور میڈیا کے ’ترلوں‘ کو دیکھ کر ہر کس و ناکس کو سوچ لینا چاہیے کہ کیا واقعی اس ملک میں جمہوریت کا کوئی مستقبل ہے۔ یا یہ محض چند سرپھرے لبرلز، سیکولر اور نام نہاد جمہوریت پسند عناصر کی رومانیت پسندی ہے؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker