سید مجاہد علیکالملکھاری

پی ٹی ایم کے بارے میں آرمی چیف کی وضاحت خوش آئند ہے!۔۔ سید مجاہد علی

سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی نے بالآخر جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے اور امریکہ و چین کے علاوہ پاکستان اور بھارت بھی اسے اپنی اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری طرف پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے بعد اب وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی پی ٹی ایم کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔ تاہم ان بیانات کے لب و لہجہ سے لگتا ہے کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے تین روز قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں جو درشت لب و لہجہ اختیار کیا تھا ، حکومت اور فوج شاید اس سے ’بیک ٹریک‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مسعود اظہر کے معاملہ میں سلامتی کونسل کمیٹی میں چین نے فیصلہ کو معطل کرنے کا حق استعمال کررکھا تھا ۔ درپردہ سفارتی کوششوں کے نتیجہ میں اب اسے واپس لے لیا گیا ہے، جس کے بعد کمیٹی نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چین نے فروری میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی جانے والی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ اس معاملہ کو تعطل کا شکار کرنے کے اس چینی اقدام کو پاکستان کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات کے تناظر میں دیکھا جارہا تھا۔
چین چونکہ 2016 سے متعدد بار مسعود اظہر کا نام اس فہرست پر ڈالنے کی مخالفت کرچکا تھا اس لئے اس بار چین پر امریکہ اور اس کے دیگر یورپی حلیف ملکوں کا شدید دباؤ تھا۔ دوسری طرف چین، صدر ژی جن پنگ کی قیادت میں دنیا میں مواصلاتی اور معاشی اشتراک کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ دیگر ملکوں کے علاوہ بھارت کے ساتھ بھی تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا۔ اگرچہ بھارت ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے اہم حصےسی پیک کی مخالفت کرتا ہے اور چین کے خلاف امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر بھی ہے لیکن اس کے باوجود چین تصادم کی بجائے مصالحت اور تعاون کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔
فروری میں پلوامہ سانحہ کے بعد جس میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے چالیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، بھارت نے جیش محمد پر اس حملہ کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے ایک بار پھر مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش شروع کی تھی۔ پاکستان نے اس حملہ سے لاتعلقی ظاہر کی تھی ۔ اس کے باوجود امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے بھارت کی تائد کی اور مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کروانے کی کوششیں تیز کردی گئیں۔ چین پر بھی اس حوالے سے دباؤ تھا اور پاکستان بھی مشکل کا شکار تھا کیوں کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردوں کی اعانت کے معاملہ پر گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ مسعود اظہر کے معاملہ پر چین کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ اسے پلوامہ سانحہ سے منسلک نہ کیا جائے۔ امریکہ اور اس کے معاون تجویز کنندگان باہمی مشاورت سے اس اصول کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگئے جس کے بعد پاکستان کے پاس بھی اس پابندی کو مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ دراصل چین کی خاموش سفارت کاری کی کامیابی ہے۔ اگرچہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے اپنی حکومت کی سفارتی کامیابی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ گو کہ بھارت کے اندر سے ہی یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ بھارت ایک شخص کو اقوام متحدہ کے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کروانے کے معاملہ پر اس قدر بدحواس ہوکر زور کیوں لگاتا رہا ہے۔ کیوں کہ عملی طور پر اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تاہم نریندر مودی کو انتخابات کے موسم میں اس معاملہ کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کرنے کا موقع ملتا جس کی وجہ سے پلوامہ سانحہ کے بعد غیر ضروری طور پر اشتعال پیدا کیا گیا اور جارحیت کا اظہار سامنے آیا۔ چین نے البتہ سفارتی چابکدستی سے نریندر مودی کو یہ موقع فراہم نہیں ہونے دیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا جاسکا ہے جب بھارت کی 57ریاستوں میں 374 نشستوں پر پولنگ ہوچکی ہے۔ اب صرف 22 ریاستوں میں 169 نشستوں پر انتخاب باقی ہے۔ ان میں وہ ریاستیں شامل نہیں ہیں جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں کلیدی اہمیت حاصل ہوگی۔ اس طرح نریندر مودی، مسعود اظہر کے معاملہ کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
اصولی طور پر پاکستان کو کبھی بھی مسعود اظہر کے معاملہ پر چین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ کیوں کہ جیش محمد پر مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت میں کئے گئے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ مسعود اظہر کو 1999 میں انڈین ائیر کا ایک طیارہ اغوا کرکے بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔ اس لحاظ سے بھی وہ بھارت کے مجرم ہیں اور پاکستان کو اس معاملہ میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ تاہم حکومت اور فوج دونوں ہی عسکری گروہوں کے حوالے سے مشکل کا شکار رہے ہیں۔ ان گروہوں میں سے بعض کو ماضی میں ریاست کے اثاثے سمجھا جاتا رہا ہے ۔
یہ پالیسی ترک کرنے کے باوجود پاکستان پوری طرح ان گروہوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا ۔ پاک فوج کے ترجمان نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عملی جنگ کی وجہ سے کالعدم تنظیموں کی بیخ کنی کے لئے سے پوری شدت سے کارروائی نہیں کی جاسکی۔ تاہم اب فوج ان عناصر سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے اور امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے مشکوک گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کو مسترد کرنے کے لئے بھی ان گروہوں سے فاصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندی کو پاکستان کی طرف سے قبول کرنے کا اقدام حکومت کے لئے مثبت سفارتی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پابندی کو پلوامہ سانحہ سے نتھی کرنے کی بھارتی کوشش کو بھی ناکام بنایا گیا ہے۔ اس حد تک یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔
اس دوران پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف میجر جنرل آصف غفور کے الزامات اور کارروائی کرنے کی دھمکیوں کے بعد ملک میں انجانے خوف کی علامات موجود رہی ہیں۔ آج صبح مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرے کا ذکر کرتے ہوئے دراصل آئی ایس پی آر کے مؤقف کی تائد کی تھی جس سے فضا کھل نہیں سکی۔ البتہ اس کے بعد پشاور میں یونیورسٹیوں کے طالب علموں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے اس پریس کانفرنس کی شدت کو کم کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ پی ٹی ایم کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس تحریک کی طرف سے جن مسائل کی نشاندہی کی جارہی ہے وہ جائز معاملات ہیں۔ البتہ بعض افراد غیرملکی طاقتوں کا آلہ کار بنتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی کی وجہ سے تکالیف اٹھا چکے ہیں اور ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور افواج اس سے قطع نظر کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے، قبائیلی علاقوں کے باشندوں کے جائز مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ہمارے لئے سماجی و معاشی اقدامات کے ذریعے پائیدار امن کا قیام کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ افواج ان کوششوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنادیں گی‘۔
پشاور میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے والے طالب علموں کی طرح پاکستان کے سب شہری ان خیالات کی حمایت کریں گے۔ اس میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ موجودہ جنگی ماحول میں دشمن پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کرنےکی کوشش کرے گا۔ اپنے لوگوں کی اشک شوئی اور ان کے مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کرکے پاک فوج کے سربراہ نے اس بیان کی تلخی اور شدت کو کم کیا ہے جو نادانستگی میں آئی ایس پی آر کے سربراہ کی پریس کانفرنس سے پیدا ہوئی تھی۔
خارجہ طور پر مسعود اظہر کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور پی ٹی ایم کے بارے میں آرمی چیف کی وضاحت سے شکوک و شبہات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کو عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے اپنے لوگوں کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہے۔ غداری کے الزامات اور سختی سے نمٹنے کی دھمکیاں اس قسم کا اعتماد پیدا نہیں کرسکتیں۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker