سید مجاہد علیکالملکھاری

جج، عدالت اور حکومت: غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر۔۔ سید مجاہد علی

ویڈیو اسکینڈل کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر جج ارشد ملک کو احتساب عدالت سے برطرف کر کے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے منگل کو اس حوالے سے ایک شہری کی درخواست پر سماعت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ جج ارشد ملک پر لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ لے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت مناسب احکامات جاری کرسکے۔ تاہم اس دوران اس معاملہ پر سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی زور شور سے جاری ہے۔


اب وزیر اعظم عمران خان ذاتی طور پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے اس بحث اور الزام تراشی کا حصہ بنے ہیں۔ جس روز ملک بھر میں تاجر حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف مکمل اور کامیاب ہڑتال کر رہے تھے، عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے جج ارشد ملک اسکینڈل کے پس منظر میں ٹوئٹ پیغام کے ذریعے یہ اعلان کیا ہے کہ ’ملک سے منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک دولت جمع کرنے والے عناصر سسلین مافیا کی طرح رشوت، دھمکیوں، بلیک میلنگ اور التجاؤں سے ریاست کے اداروں اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔
عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں اٹلی کی ایک پانچ سال پرانی خبر منسلک کی، جس میں اطالوی سیاست دانوں کے سسلین مافیا سے تعلق کا حوالہ اور جرائم میں کردار کا ذکر ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی مافیا بھی سسلین مافیا کے ہتھکنڈے اختیار کر رہا ہے تاکہ ان کی بیرون ملک منی لانڈرنگ سے منتقل کی گئی اربوں روپے کی دولت کو تحفظ مل سکے۔
ایک جج پر الزامات اور اس کی علیحدگی کے بعد گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بھی اس سے ملتی جلتی باتیں کی تھیں۔ تاہم اب اس معاملہ میں وزیر اعظم نے براہ راست شامل ہوکر سیاسی ماحول کی تلخی میں اضافہ اور تصادم کو بڑھاوا دیا ہے۔ عمران خان کے ٹوئٹ پیغام میں سسلین مافیا کا حوالہ اس لحاظ سے بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاناما کیس کے ابتدائی فیصلہ میں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بنچ کے سربراہ کے طور پر اکثریتی فیصلہ سے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے پاکستان میں بدعنوانی اور سرکاری وسائل کی خرد برد میں ملوث سیاست دانوں کے لئے ’مافیا اور گاڈ فادر‘ کے الفاظ استعمال کئے تھے۔
ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے ٹوئٹ میں اپوزیشن لیڈروں کے ہتھکنڈوں کو سسلین مافیا کے مماثل قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بیان پیش نظر نہ رہا ہو لیکن ایک ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ کو ایک جج کی دیانت اور اس کے فیصلوں کے بارے میں ایک اصولی اور اہم معاملہ پر غور کرنا ہے، عمران خان کی یہ ٹوئٹ عدالتوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں ہمنوا بنانے کی کوشش قرار دی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم کے ٹوئٹ پیغام کا براہ راست جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ آپ اس مافیا کا حصہ ہیں جو سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لیے ججز پر دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ آپ ہی ہیں جو ریاست کے اداروں کو استعمال کر کے اپنے مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرتے ہیں۔ جب کہ اس پورے عمل کے دوران انہیں بدنام کیا جاتا ہے‘۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بدعنوانی اور احتساب کے سوال پر اختلاف کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔


دلیل اور اس کی تفہیم کے مطابق ہر شہری اس معاملہ پر رائے قائم کرنے میں آزاد ہے۔ لیکن احتساب عدالت کے ایک جج کو اگر مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز معتوب قرار دے کر انہیں بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تو دوسری طرف حکومت ارشد ملک کی برطرفی کے عدالتی حکم اور اس معاملہ کے زیر غور ہونے کے باوجود احتساب عدالت کے سابق جج کو ’گلوری فائی‘ کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ عمران خان کے ٹوئٹ پیغام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اسی لئے مریم نواز کا براہ راست سخت جواب بھی سامنے آیا ہے۔
جج ارشد ملک کی ویڈیو کی صداقت اور نواز شریف کے خلاف ان کے فیصلے کی اصابت کے بارے میں تو اعلیٰ عدالتیں ہی فیصلہ کریں گی۔ سپریم کورٹ نے اب اس معاملہ کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہی یہ دیکھنا ہے کہ جج ارشد ملک کی علیحدگی کے بعد ان کے دیے گئے سب فیصلوں کی عام طور سے اور خاص طور سے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے کے حکم کی کیا قانونی حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔
اس لئے جج ارشد ملک کی حمایت میں وزیروں کی براہ راست بیان بازی اور اب وزیر اعظم کا بالواسطہ تبصرہ یہ واضح کرتا ہے کہ معاملہ احتساب اور ملک میں بدعنوانی کے نظام کی اصلاح سے زیادہ تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت مستحکم کرنے اور مخالف سیاسی قوتوں کو ہر قیمت پر منظر نامہ سے ہٹانے کی کوششوں سے متعلق ہے۔ اس مقصد کے لئے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے مقدموں کی آڑ میں ملک کے نظام عدل و احتساب کو استعمال کرنے کی شدید خواہش کو محسوس کرنا مشکل نہیں ہے۔
یہ خواہش اس قدر شدید ہے کہ ملک کے وزیر قانون، جج ارشد ملک کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کی واضح ہدایت اور ان کی کمزور و ناقص وضاحتوں کے باوجود، ارشد ملک کے بیان حلفی کو بنیاد بنا کر نواز شریف کے خاندان کو متعدد جرائم کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جج ارشد ملک کا فیصلہ درست اور میرٹ کے مطابق تھا لیکن مریم نواز اب اس ’ایماندار اور اصول پرست جج‘ کو بدنام کرنے کے لئے گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں۔
وزیر قانون نے اپنی حکومت کا سیاسی ایجنڈا سامنے لانے کے لئے نہ صرف خفیہ عدالتی دستاویزات میں شامل جج ارشد ملک کے بیان حلفی کے حوالے دیے بلکہ ایک نامور قانون دان کے طور پر وہ یہ تسلیم کرنا بھی بھول گئے کہ ایک تنازع میں یہ ایک فریق کا مؤقف ہے۔ اور یہ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس فوری طور پر ارشد ملک پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔
آج عمران خان نے عدلیہ کو ترغیب و تحریص دینے والوں کو مافیا قرار دے کر اس بحث میں اپنا وزن معزول جج ارشد ملک کے پلڑے میں ڈالنے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔ بجا طور سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ایک زیر غور معاملہ پر وزیر اعظم کا یہ تبصرہ کیا عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کا سبب نہیں بنے گا؟ اور کیا مریم نواز خاص طور سے اور اپوزیشن لیڈر عام طور سے احتساب کو دباؤ کا ذریعہ اور سیاسی ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے حکومت کے اسی طرز عمل کی طرف اشارہ نہیں کرتے؟
اس پس منظر میں اعلیٰ عدالتوں پر خاص طور سے بوجھ میں اضافہ ہؤا ہے۔ اب یہ بات کھل کرسامنے آ رہی ہے کہ احتساب کی آڑ میں صرف جرائم کی نشاندہی کا کام نہیں ہو رہا بلکہ احتساب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال گزشتہ دنوں ایک کالم نگار کو دیے گئے انٹرویو کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اس کا علی الاعلان اظہار کرچکے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال جو ماضی میں سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں، یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ نیب حکومت میں شامل عناصر کے خلاف کارروائی کرے تو حکومت فوری طور پر ختم ہوسکتی ہے لیکن وہ ملک کے سیاسی استحکام کی خاطر ایسا قدم اٹھانے سے گریز کررہے ہیں۔
ذاتی تعلی کے ایک خاص لمحہ میں کئے گئے اس دعویٰ پر نہ تو حکومت وقت نے نوٹس لیا اور نہ ہی ملک کی اعلیٰ عدلیہ جو متعدد مقدمات میں تبصرے کرتے ہوئے نیب کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتی رہی ہے، نے کوئی کارروائی کرنا ضروری سمجھا۔ حالانکہ سپریم جوڈیشل کونسل کو ازخود چئیر مین نیب کے ’سیاسی انجینئرنگ‘ کے اس اعتراف کے بعد ان سے جواب طلب کرنا چاہئے تھا۔ تاکہ ملک میں احتساب کے عمل اور نیب پر اٹھنے والے سوالوں اور چہ میگوئیوں کا تدارک ہوسکتا۔
اس کے برعکس حکومت کی درخواست پر صدر مملکت نے فوری طور پر سپریم کورٹ کے متنازع اور کسی نامعلوم سبب کی بنیاد پر ناقابل قبول فیصلے دینے والے خود مختار ججوں کے خلاف ریفرنس تو دائر کر دیا اور سپریم جوڈیشل کونسل وکیلوں اور مبصرین کی دو ٹوک رائے کے باوجود دو ججوں کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن صدر مملکت یا سپریم جوڈیشل کونسل نے چئیرمین نیب کی طرف سے احتساب کو مذاق بنانے کے طرز عمل کا نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا۔
اب سپریم کورٹ جج ارشد ملک کے معاملہ پر غور کرنے والی ہے۔ اس کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہئے کہ یہ صرف ایک شخص یا نچلی سطح کے ایک جج پر دباؤ یا اس کے ایک غلط فیصلہ کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سوال ملک کے عدالتی نظام کی غیر جانبداری کے بارے میں اٹھایا گیا ہے۔ دباؤ میں فیصلے کرنے کی عدالتی تاریخ افسوسناک ہے۔ ملک کے متعدد ادارے اور طاقتور لوگ بھی عدالتوں کو دباؤ میں لانے کے لئے مختلف النوع ہتھکنڈے اختیار کرتے رہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ واقعی عدالت عظمی کو ماضی کے اس بوجھ اور خود پر لگنے والے الزامات سے آزاد کروانا چاہتی ہے یا اب بھی ’نظام کی حفاظت یا قومی مفاد کی مجبوری‘ میں انصاف اور قانون کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے کی روایت کو زندہ رکھا جائے گا۔
اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں انصاف کی بالادستی اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول کا تعین ہی نہیں کرے گا بلکہ ملک کے آئینی جمہوری نظام پر اعتبار بحال کرنے کا موجب بھی بنے گا۔ اب بھی اگر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ’نظریہ ضرورت‘ کی مجبوریاں حاوی رہیں تو اداروں کی خود مختاری اور انصاف کی سربلندی کے نعرے بے مقصد ہو جائیں گے۔ اور ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی اور انتشار کی ذمہ داری صرف سیاسی عناصر اور لیڈروں پر عائد نہیں ہوگی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker