سید مجاہد علیکالملکھاری

معاشی بدحالی عمران خان کی مقبولیت کو نگل لے گی۔۔سید مجاہد علی

بات سادہ ہے۔ ملک میں موجودہ تصادم کو ختم ہونا چاہیے۔ اس انتشار، بداعتمادی اور فساد کی کیفیت کو ختمکیے بغیر نہ معاشی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی سیاسی حالات دھندلکے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ جمہوری انتظام میں عام طور سے حکمران جماعت اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی کوئی صورت پیدا کرکے آگے بڑھنے کا راستہ نکالتی ہے لیکن موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ عمران خان نے یہ راستہ اختیار کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔ اسی لئے زیادہ بے چینی اور پریشانی پیدا ہورہی ہے۔
کیا سیاسی تصادم ختم کرنے کی درخواست کرنے کا مقصد یہ لیا جائے گا کہ کرپشن کے خلاف حکومت کی کوششوں کو ترک کردیا جائے؟ حکومت بلاشبہ اور تواتر کے ساتھ یہی بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اپوزیشن لیڈر دراصل کرپشن کے مقدمات سے بچنے کے لئے تصادم کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم بار بار اعلان کرتے ہیں کہ وہ ’این آار او‘ نہیں دے سکتے کیوں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کیے بغیر ترقی کا سفر شروع نہیں کیا جاسکتا۔
اس بات سے عمران خان کے بدترین دشمنوں کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن ایک جمہوری نظام میں بدعنوانی ہو یا کوئی دوسرا بڑا قومی مسئلہ، اسے حل کرنے کے لئے سب سیاسی قوتوں کے ساتھ ایک قومی ایجنڈا تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کے تکبر اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ اس نے جون میں قومی بجٹ کی منظوری کے موقع پر بھی اپوزیشن سے کسی قسم کی مفاہمت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بجائے آرمی چیف نے ایک سیمینار میں حکومت کی مالی پالیسیوں کی تائید میں بیان دیا اور بجٹ منظور کرلیا گیا۔
اپوزیشن کو بھی بجٹ سیشن کے بعد ہی پوری طرح یہ اندازہ ہؤا ہے کہ موجودہ حکومت کسی قسم کی سیاسی مفاہمت اور قومی ایجنڈے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ صورت حال کو اگر وزیر اعظم کے بیانات کی روشنی میں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ جاننے میں دقت نہیں ہوتی کہ موجودہ حکومت دراصل اپنے ساتھ شامل سیاسی گروہوں اور جماعتوں کے سوا کسی دوسری سیاسی قوت کو نہ تو حب الوطن سمجھتی ہے اور نہ ہی نیک نیت۔ ان سیاسی قوتوں میں ملک کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
گویا حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں بڑی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قومی مفادات یا علاقائی مسائل پر بات کرنے اور انہیں حل کرنے کے کسی منصوبہ کا حصہ بننے کی بجائے دراصل اسمبلیوں میں اپنی سیاسی قوت کو اپنے لیڈروں کی بدعنوانی کو چھپانے اور انہیں نیب کے چنگل سے بچانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
پیپلز پارٹی سندھ میں مؤثر اور طاقت ور جماعت ہے۔ اس وقت وہاں اسی پارٹی کی حکومت بھی ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائیندے بارہا یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ سندھ میں کسی وقت بھی حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن باقاعدہ انتخاب کے بغیر اگر پیپلز پارٹی کی اکثریت کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش ہوتی ہے یا صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے تو حالات دگرگوں ہوں گے۔ اس سے سیاسی سطح پر پائی جانے والی بے چینی عوام کی سطح تک محسوس کی جائے گی۔ ایسی صورت میں اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے حامیوں میں یہ احساس زیادہ شدت اختیار کرے گا کہ ان کے نمائندوں کو اختیار دینے سے انکار کر کے دراصل ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
تحریک انصاف کی خواہش اور کوشش ضرور ہوسکتی ہے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت کا متبادل بن جائے۔ تاہم یہ پارٹی ابھی تک سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی۔ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو تحریک انصاف کے حامیوں میں تبدیل کرنا موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم پیپلز پارٹی کی سیاسی مقبولیت سے چشم پوشی کا کوئی بھی دوسرا راستہ، سندھ کی صوبائی حکومت اور مرکز کے درمیان افتراق سے بڑھ کر خطرناک سیاسی بحران کی صورت اختیا ر کر لے گا۔ یہ بحران طویل مدت تک ملکی معیشت کے لئے بھی خطرناک جھٹکا ثابت ہوگا۔
پنجاب میں اگرچہ صوبے کی مقبول ترین پارٹی مسلم لیگ (ن) اقتدار میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے انتخابات سے پہلے حاصل ہونے والی سرپرستی اور اعانت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ’منقولہ سیاسی اثاثوں‘ کو ضرور اپنی قوت میں اضافہ کے لئے استعمال کیا جس کے نتیجہ میں اسے پنجاب اسمبلی میں بھی قابل عمل تعداد میں نمائندگی حاصل ہو گئی۔ تاہم حکومت سازی کے لئے اسے آزاد ارکان کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کی حمایت حاصل کرنا پڑی۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ تحریک انصاف نے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت کو توڑ دیا ہے اور اب تحریک انصاف ہی پنجاب کی اصل مقبول سیاسی پارٹی ہے۔
حقیقت احوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے میاں نواز شریف کو پارٹی کی قیادت سے دست بردار ہونے پر مجبور کرنے کے باوجود وہی اس پارٹی کے غیر متنازعہ لیڈر ہیں اور پنجاب میں ان کی مقبولیت بدستور قائم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں اپنا ایک سال مکمل کرنے والی ہے لیکن اس سال کے دوران مسلم لیگ (ن) کو توڑنے یا اس میں ہم خیال گروہ قائم کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ پارٹی کے تمام فیصلے بھی نواز شریف کی مرضی سے ہوتے ہیں اور لوگوں میں بھی ان کی مقبولیت قائم ہے۔ کرپشن کے الزامات اور نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں 7 برس کے لئے جیل بھیج کر بھی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت کو کم نہیں کیا جا سکا۔ اب مریم نواز کی بے باک قیادت اور باغیانہ طرز عمل سے پارٹی کارکنوں کی مایوسی ایک نئے ولولے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ بدعنوانی کے نعرے ملک کی دونوں اہم اور بڑی سیاسی پارٹیوں کی اہمیت اور حیثیت ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب معاملہ سیاسی لیڈروں کو سخت سزائیں دلوانے کی بات کرنے سے بڑھ کر نواز شریف اور آصف زرداری کے ائیر کنڈیشنر اور ٹی وی سیٹ ہٹوانے کے اعلانات تک پہنچ چکا ہے۔ اس نئی نعرے بازی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت احتساب کو نظام کا مؤثر ہتھکنڈا بنانے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسے عمل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو دراصل ریاست اور اس کے لوگوں کے خلاف جرائم کرنے والے عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔
این آر او نہ دینے اور ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کے نعرے لگانے کی بجائے تحریک انصاف کی حکومت اگر نیب کی خود مختاری کو یقینی بنانے، احتساب کو صرف سیاسی قیادت تک محدود نہ رکھنے اور تفتیش و تحقیق کے جدید اور مؤثر طریقے روشناس کروانے کی کوشش کرتی تو بدعنوانی کے خلاف جنگ فیصلہ کن موڑ اختیار کرسکتی تھی۔ عمران خان یا تحریک انصاف اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ پاناما کیس میں چار سو سے زائد پاکستانیوں کے نام تھے لیکن سزا صرف نواز شریف اور مریم نواز کو دی گئی ہے۔
تحریک انصاف نے شدت سے احتساب کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کے باوجود اس عمل کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لئے قانون سازی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عمران خان ایک طرف یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ لیکن دوسری طرف وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری جن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ ان کی حکومت نے نہیں بلکہ ان دونوں نے اپنے اپنے اقتدار کے دوران ایک دوسرے کو گرفت میں لینے کے لئے قائم کیے تھے۔
گویا وہ شفاف احتساب کے اصول کو خود ہی مسترد کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اور اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان لوگوں نے ایک دوسرے کے لئے جو جال بچھائے تھے، اب وہ دونوں ہی اس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی یہی باتیں احتساب کو سماجی برائی کے خلاف ریاستی کارروائی سے زیادہ سیاسی انتقامی اقدام قرار دیتی ہیں۔ عمران خان اپنی سادہ لوحی میں مسلسل یہ بتاتے ہیں کہ احتساب کا عمل سیاسی مقاصد سے آلودہ ہے لیکن ان کے دشمن چونکہ حصار میں ہیں، اس لئے وہ مطمئن اور خوش ہیں۔
کسی ملک میں احتساب کی کامیابی اور بلاتفریق تمام لوگوں کو اس کے سامنے جوابدہ کرنے کے لئے یہ بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ نظام سیاسی مداخلت سے آلودہ نہ ہو اور اس کی گرفت صرف حکمرانوں کے ایک خاص طبقہ تک ہی نہ ہو۔ اس وقت قومی احتساب بیورو میڈیا میں شہرت حاصل کرنے اور سیاسی لیڈروں کی گرفت کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے لیکن اس کے سربراہ کا کردار مشکوک ہے اور وہ اپنے اعمال کا جواب دینے کے لئے پریس کانفرنس یا پریس ریلیز جاری کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ عمران خان اگر احتساب کی حساسیت سے آگاہ ہوتے تو وہ غیر موافق فیصلہ لکھنے والے ججوں کے خلاف ریفرنس بھجوانے کی بجائے نیب کے سربراہ کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتے۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ سیاست دان کا احتساب ہو سکتا ہے لیکن کسی مقبول سیاسی پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے جسے بھی منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجیں ان کا احترام واجب ہے۔ اسمبلیوں میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائیندوں کو بے وقعت کرنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ عمران خان کو ملک میں وسیع تر سیاسی ہم آہنگی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ سیاسی مفاہمت اپوزیشن کی نہیں، حکومت کی ضرورت ہے۔ اسی کے ذریعے قوم کو موجودہ معاشی و سیاسی بحران سے بچایا جا سکتا ہے۔
سیاسی لیڈروں کی باہمی کشمکش کی وجہ سے ہی ملک میں جمہوریت، طاقت ور اداروں کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ عمران خان تصادم کو ختم کرکے قومی تعمیر کے منصوبہ پر عمل پیرا نہ ہوئے تو موجودہ معاشی بدحالی ان کی سیاسی مقبولیت کو نگل لے گی۔ پھر ایک پیج والوں کو بھی ان کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker