تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

بولنے کا وقت آیا تو مریم خاموش ہے! سید مجاہد علی

پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلہ نے ملک میں تقسیم نمایاں اور واضح کردی ہے۔ سابق آرمی چیف کو سزا دینے کا حکم سامنے آنےکے بعد یا تو فوج کی للکار سنائی دی ہے یا حکومت کی وضاحتیں۔ اس فیصلہ پر اپوزیشن کا رد عمل اس سناٹے میں اضافہ کررہا ہے جو خوف اور بےیقینی کی وجہ سے پیدا ہؤا ہے۔ قومی سطح پر صرف پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے رائے دینے اور جمہوری روایت کے لئے اس فیصلہ کی اہمیت سامنے لانے کا حوصلہ کیا ہے۔
ملک میں سامنے آنے والی یہ تقسیم اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ ا س میں ایک طرف عوام کی اکثریت ہے جو ایک ایسے عدالتی فیصلہ سے خوش اور مطمئن ہیں جس میں قانون کی بالادستی کے اصول کو پہلی مرتبہ کسی حقیقی طاقت ور شخص کے خلاف استوار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت خصوصی عدالت کے فیصلہ کے میرٹ یا اس میں پائی جانی والی کمی و بیشی سے بحث نہیں ہے۔ بلکہ اس اصول پر غور مطلوب ہے کہ ایک عدالت نے ایک ایسے سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلہ دینے کا حوصلہ کیا ہے، فوج جس کی پشت پر کھڑی ہے اور اعلان کررہی ہے کہ پرویز مشرف ہمارا ہیرو ہے اور قوم و ملک کے لئے ان کی خدمات ناقابل تردید ہیں۔
فوج کے اس بیان میں اس سچائی پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ کسی نے پرویزمشرف کی حب الوطنی، ملک کے دفاع میں خدمات اور قوم و ملک کے لئے ان کے جذبات سے انکار نہیں کیا۔ خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اس میں بھی پرویز مشرف کی خدمات کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہوگا۔ اس فیصلے کو جمہوریت کے لئے ایک درست قدم قرار دینے والوں نے بھی ان پہلوؤں سے پرویز مشرف کے کردار کا جائزہ لینے یا فوج پر حرف زنی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فوج کو فیصلہ سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد ہی ایک تند و تیز بیان میں اسے مسترد کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اور آج آرمی چیف نے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کا دورہ کرکے پرویز مشرف کے ساتھ یک جہتی کا بالواسطہ لیکن واضح اعلان کرنا ضروری سمجھا۔
فوج کیوں یہ باور کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ پرویز مشرف کے اقدامات ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ ادارے کا مشترکہ فیصلہ تھا؟ کیا اس نقطہ نظر سے فوج یا ملک کی بہتری کی کوئی صورت نکالی جاسکتی ہے؟ فوج کے لئے بہتری اور وقار کا راستہ تو یہ ہوتا کہ وہ اس معاملہ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرتی۔ فوج کا موجودہ طرز عمل ملک میں قانون کی بالادستی کے اصول کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج ایس ایس جی کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تمام دشمن قوتوں کو ناکام بنا کر ملک میں استحکام لائے ہیں اور کسی قیمت پر اس استحکام کو خراب نہیں ہونے دیں گے‘۔ کیا آرمی چیف جانتے ہیں کہ جس ملک میں قانون کے کئی معیار ہوں اور جہاں طاقت ور قانون اور عدالت کی بالادستی ماننے سے انکار کریں ، وہاں تباہی لانے کے لئے دشمنوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ معاشرہ خود بخود ہی توڑ پھوڑ اور انارکی کا شکار ہوکر انتشارکے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے۔ ملک میں احتساب کو نعرہ بنانے والی حکومت کی پشت پناہی کرنے والے جنرل باجوہ کس اصول اور معیار عدل کی بنا پر پرویز مشرف کو محسن قوم قرار دینے کے مشن پر گامزن ہیں؟
وزیر اعظم عمران خان نے حکمران جماعت کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کہا ہے کہ ’حکومت چاہتی ہے کہ ادارے مل جل کر کام کریں۔ وہ اداروں کے درمیان تصادم کی خواہش مند نہیں ہے‘۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک فرد کی قانون شکنی پر سزا کے اعلان سے وزیر اعظم کو اداروں میں تصادم کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ حالانکہ اگر ملک میں قانون کی بالادستی کا اصول ہی متعین ہے تو حکومت کو اس معاملہ میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ خصوصی عدالت ایک شخص کی آئین شکنی کے معاملہ پر غور اور فیصلہ کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ گو کہ نواز حکومت نے یہ عدالت قائم کی تھی لیکن انہی کی حکومت بعد میں پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھجوانے اور خصوصی عدالت کی کارروائی کو تعطل کا شکار کرنے میں بھی حصہ دار بنی۔ پرویز مشرف نے دوبئی میں بیٹھ کر کہا تھا کہ وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی وجہ سے ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوئے ۔ اسی اعلان سے واضح ہوگیا تھا کہ سول حکومت خواہ نواز شریف ہی کی کیوں نہ ہو ، فوج کے سامنے قانون کی بالا دستی کی بات نہیں کرسکتی۔
مسلم لیگ (ن) کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے کھل کر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی کارروائی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ کارروائی کے عین بیچ میں پراسیکیوٹر کو برطرف کرکے اور نیا پراسیکیوٹر مقرر کرنے سے گریز کیا گیا۔ پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے خصوصی عدالت کے فیصلہ کو رکوانے کا حکم حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ حکومت اس میں جزوی طور سے کامیاب ضرور ہوئی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا حکم دے کر حکومت کو اس کیس کی پیروی پر بھی مجبور کیا۔ اب وزیر اور مشیر، خصوصی عدالت کے فیصلہ کو ’خطرناک‘ قرار دے کر عوام کو ہراساں کررہے ہیں۔ عمران خان اپنے انتظامی اختیار یا سپریم کورٹ کی مدد سے خصوصی عدالت ختم کرنے کا اقدام بھی کرسکتے تھے۔ لیکن حکومت کا خیال تھا کہ یہ معاملہ گزشتہ پانچ برس کی طرح اب بھی تعطل کا شکار رہ سکتا ہے۔ اس طرح قانون کی بالادستی کا نعرہ بھی لگتا رہے گا اور پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی بھی سمٹی رہے گی۔ دیکھا جائے تو ملک کی عدالتوں نے اپنی کوشش سے اس معاملہ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا ہے۔ دیگر معاملات کی طرح پرویز مشرف کیس میں بھی حکومتی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ خصوصی عدالت کے فیصلہ نے حکومت کو ایک ایسے دوراہے پر پہنچا دیا ہے کہ نہ وہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ قبول کرسکتی ہے اور نہ یہ کہنے کا حوصلہ کرتی ہے کہ اگر سابق فوجی حکمران نے آئین شکنی کی تھی تو یہ معاملہ ان کے اور عدالتوں کے درمیان طے ہوگا۔ اپوزیشن لیڈروں کو عدالتی فیصلوں سے پہلے مجرم قرار دینے والے عمران خان اب ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جو ان کی اصول پسندی اور قانون سے محبت کا مشکل ترین امتحان ثابت ہوگی۔ تاہم جس حکومت کے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون پرویز مشرف کے وکیل رہ چکے ہوں ، وہ اس معاملہ میں غیر جانبدار فریق نہیں ہوسکتی۔ عمران خان، پرویز مشرف کیس میں اسی طرح اپنی انصاف پسندی پر مفاہمت کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں جیسی ہزیمت انہیں ملائشیا کانفرنس میں شرکت سے گریز کے ذریعے سفارتی طور سے اٹھانا پڑی ہے۔
تاہم یہ معاملہ صرف حکومت یا فوج کے ایک پیج پر ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ (ن) بھی اس پیج پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہورہی ہے۔ چند ہفتے پہلے شہباز شریف جب اپنے بھائی نواز شریف کو ملک سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوئے تھے تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے سول بالادستی کے بیانیہ کو بھی کولڈ باکس میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد سے مائنس ون کا نعرہ اور شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے امکانات کا اظہار بھی سامنے آنے لگا ہے۔ پرویز مشرف کیس کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کےجمہوری بالادستی اور ادارہ جاتی مداخلت کی روک تھام کے اصول کو مستحکم کرتا ہے لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس پر مہر بلب ہے۔
نواز شریف تو علیل اور زیر علاج ہیں۔ مریم نواز اس امید پر خاموش ہیں کہ انہیں بہر صورت ملک سے جانے کی اجازت مل جائے گی۔ گویا جب بولنے کا وقت آیا ، اس وقت وہ اپنے موقع پرست چچا کے بچھائے ہوئے سیاسی جال کا شکار ہوچکی ہیں۔ کیامریم صرف بیمار والد کی پریشانی میں خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں؟ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ پر ان کی خاموشی اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ زندگی یاموت اللہ کے ہاتھ میں اور نواز شریف کا علاج ڈاکٹروں کی صوابدید پر ہے۔ لیکن اس موقع پر خاموش رہ کر مریم نواز نے اپنے باپ کی سیاسی میراث کو دفن کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
موجودہ سیاسی منظر نامہ جو تصویر سامنے لارہا ہے، اس میں حکومت کے علاوہ اہم اپوزیشن پارٹیاں بھی جمہوریت اور انصاف کی قیمت پر فوج کی خوشنودی حاصل کرنے پر آمادہ و تیار ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عوام کے خلاف یہ سیاسی و عسکری اتحاد کب تک اپنے مقاصد حاصل کرتا رہے گا۔ خصوصی عدالت کے فیصلہ نے البتہ قانون کی بالادستی کا ایک واضح معیار متعین کیا ہے۔ یہ اصول عوامی حکمرانی کی جد و جہد میں اہم زاد راہ ثابت ہوگا۔

( بشکریہ : کاروان ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker