سید مجاہد علیکالملکھاری

ایک نئے باجوہ ڈاکٹرائین کی ضرورت۔۔سید مجاہد علی

پاکستانی نژاد امریکی محقق اور مصنف شجاع نواز کو گزشتہ چند روز سے خبروں میں نمایاں جگہ ملی ہے۔ اس کی وجہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ان کی نئی کتاب کی تقاریب کو منسوخ کرنے کا اعلان تھا۔ مصنف نے خود اپنی فیس بک پر بتایا ہے کہ یہ تقریبات فوج نے منسوخ کروائی ہیں تاہم انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ چھوٹا سا واقعہ ملکی سیاست اور فوج کے تعلق کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس ناخوش گوار واقعہ سے سامنے آنے والی صورت حال کا تقاضہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ معروضی حالات کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور سوچ کو کسی نئی ڈاکٹرائن کے ذریعے سامنے لائیں۔
شجاع نواز امریکی تھنک ٹینک میں کام کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ایک سابق آرمی چیف جنرل (ر) آصف نواز کا بھائی ہونے کی وجہ سے ان کے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ راہ و رسم رہے ہیں۔ ان تعلقات کی وجہ سے ان کی باتوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کی جس کتاب(Battle For Pakistan) پر پاکستان میں فوج کی طرف سے پابندی لگوانے کی بات کی جارہی ہے، اسی کے تعارف میں انہوں نے فوج کے سابق سربراہان جنرل (ر) پرویز مشرف، جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) جہانگیر کرامت، جنرل (ر) راحیل شریف اور موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بالخصوص شکریہ ادا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شکریہ اس تعاون کے لئے ادا کیا گیا ہے جو ان فوجی افسروں نے کتاب میں شامل کی گئی معلومات جمع کرنے کے لئے فراہم کی ہوں گی۔
اس لحاظ سے یہ سمجھنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ جب ماضی قریب میں فوج کے سب سربراہان نے شجاع نواز سے مراسم استوار رکھے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مصنف کی پاکستان دوستی پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ یعنی ان کی بیان کی گئی بعض باتیں غلط یا ناقص ہوسکتی ہیں لیکن ان پر کسی دشمن ملک کے اشارے پر ’پاکستان مخالف‘ مواد شامل کرنے کا الزام عائد نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود جب فوج زیربحث کتاب کی تشہیر کو اپنی شہرت اور قومی مفاد کے لئے مناسب نہیں سمجھتی تو بہت سے ایسے سوال سامنے آتے ہیں جن کے جواب میسر نہیں ہیں۔
شجاع نواز کے اس انکشاف کے بعد کہ ان کی کتاب فوج کی مداخلت یا منع کرنے کی وجہ سے پاکستان میں لانچ نہیں کی جا سکتی، فوج کی طرف سے بھی اگر کوئی وضاحت سامنے آ جاتی تو صورت حال زیادہ پیچیدہ اور دشوار نہ ہوتی۔ پھر دو مختلف مؤقف سامنے ہونے کی وجہ سے کہا جا سکتا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی بات مکمل طور سے درست نہیں ہے۔ لیکن فوج کی خاموشی نے شجاع نواز کے بیان کو تصدیق کی سند عطا کی ہے۔ یعنی فوج نے ہی ان کی کتاب کی پاکستان میں تشہیر کو روکنے کا اہتمام کیا ہے۔ فوج کا یہ اقدام اور اسے تسلیم کرنے کا یہ رویہ دو طرح سے قابل توجہ ہے۔
ایک تو یہ کہ اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ فوجی ادارے جب چاہیں کسی سویلین تقریب کو منسوخ کرنے یا کوئی رائے سامنے لانے کی کوشش کو ناکام بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ اسے سادہ لفظوں میں سنسرشپ کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت چونکہ فوج کی چہیتی حکومت قائم ہے لہذا اس وقت میڈیا پر جو پابندیاں عائد ہیں یا صحافیوں کو درست خبر رپورٹ کرنے اور صورت حال پر تبصرہ کرنے میں جو مشکلات پیش آرہی ہیں، وہ صرف ایک نام نہاد منتخب حکومت کا کام نہیں ہے بلکہ فوجی ادارے بھی اس کام میں حکومت کی اعانت کررہے ہیں۔ شجاع پاشا کی کتاب کی تشہیر روکنے سے پہلے بھی کراچی میں فنون عالیہ کی مستند استاد عدیلہ سلیمان کی آرٹ نمائش کو نامعلوم لوگوں نے روک دیا تھا۔
اس نمائش میں فنکارہ نے 444 کتبوں کے ذریعے ان افراد کی نشان دہی کی تھی جو سابق پولیس افسر راؤ انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت کارروائیوں میں ہلاک کئے گئے تھے۔ ان ہی میں سے ایک نجیب اللہ محسود بھی تھا جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور راؤانوار نے سپریم کورٹ کی مداخلت پر گرفتاری دی تھی۔ تاہم جلد ہی انہیں ضمانت مل گئی اور ان کے خلاف مقدمہ کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ اس واقعہ میں بھی ملک کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاگیا تھا لیکن وہ چونکہ ایک آرٹسٹ کی نمائش کا معاملہ تھا اور منتظمین نے بھی اس نمائش سے دست برداری اختیار کر لی تھی، لہذا اس پر کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور یہ معاملہ چند دن خبروں میں رہنے کے بعد پس منظر میں چلا گیا۔
شاید شجاع نواز کی کتاب پر فوج کے رد عمل کا معاملہ بھی جلد ہی پس منظر میں چلا جائے گا لیکن مصنف کی سماجی حیثیت اور اس کتاب میں سامنے آنے والی معلومات اور آرا کی وجہ سے اس سوال نے شدت اختیار کر لی ہے کہ فوج کا کوئی ادارہ کس اختیار کے تحت کسی سویلین تقریب یا نمائش کو روکنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ فوجی قیادت کی طرف سے ملک میں جمہوریت اور آئین کے ساتھ مکمل وابستگی کے اعلانات کی روشنی میں ایسے اقدامت ناقابل فہم ہیں۔ اسی لئے اس حوالے سے دوسرا اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا فوج واقعی جمہوریت کو پنپتا دیکھنا چاہتی ہے یا وہ صرف ایسی صورت حال کو ہی جمہوریت اور قومی مفاد سمجھتی ہے جو اس کے اپنے طے کردہ اصولوں اور لائحہ عمل کے مطابق ہو۔ یعنی فوج ملک کے جمہوری نظام میں بھی قومی مقاصد کے لئے اپنا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتی ہے۔
گزشتہ سال کے آغاز پر ہی پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے باجوہ ڈاکٹرائن کا ذکر کرتے ہوئے آرمی چیف کے سیاسی، سفارتی اور معاشی نظریہ پر روشنی ڈالی تھی۔ اس کے چند ہفتے بعد ہی جنرل قمر جاوید باجوہ نے منتخب صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ ایک طویل نشست میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق قومی معاملات پر کھلے دل سے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس ملاقات میں کی جانے والی باتیں ’آف دی ریکارڈ‘ تھیں اس لئے نہ تو فوج نے اس پر کوئی باقاعدہ بیان جاری کیا اور نہ ہی اس کی براہ راست رپورٹنگ کی گئی۔ اگرچہ بالواسطہ بیانات، خبروں اور تبصروں میں اس ملاقات میں ہونے والی ساری ہی باتیں عوام تک پہنچا دی گئی تھیں۔
باجوہ ڈاکٹرائن کے حوالے سے دستیاب معلومات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جنرل باجوہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے علاوہ وسیع البنیاد امن قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بھی امن چاہتے ہیں اور انہوں نے افغان قیادت پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان اب نام نہاد ’اسٹریٹیجک ڈیپتھ‘ کی حکمت عملی ترک کر چکا ہے اور خود مختار افغانستان میں مکمل امن کا خواہاں ہے۔ اس کا اظہار بعد میں افغان امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے بھی کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ بھارت کے ساتھ جنگ کی بجائے تنازعات ختم کر کے پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد سے کرتار پور راہداری کا سفارتی اقدام کیا گیا تھا۔ البتہ نریندر مودی کے لئے انتہا پسندانہ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان دشمنی کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنا ضروری تھا، اس لئے پاکستان کی تواتر سے کی گئی کوششوں کے باوجود پاک بھارت مذاکرات یا امن کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔
آرمی چیف سے منسوب ڈاکٹرائن میں ملک کے اندر سیاسی انتظام اور معیشت کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا گیا تھا۔ اس نظریہ کے مطابق ملک میں ایسا سیاسی انتظام ہونا چاہئے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی بجائے تعاون اور قبولیت کا ماحول پیدا ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اداروں کے درمیان تعاون و ہم آہنگی کے جس ماٹو کو اپنا امتیاز بنایا ہے، وہ دراصل باجوہ ڈاکٹرائن کا ہی ایک پہلو ہے۔
یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ جنرل باجوہ کی سربراہی میں فوج نے مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کو باجوہ ڈاکٹرائن کے خد و خال پر عمل درآمد میں رکاوٹ سمجھا۔ اس حکومت پر ڈان لیکس کا الزام تھا جس کے تحت فوج کی لائن پر چلنے کی بجائے فوج کو سول حکومت کی نگرانی میں لانے کی پالیسی کا ’انکشاف‘ ہؤا تھا۔ اس لئے دیکھا جا سکتا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کے سیاسی، سفارتی اور معاشی تصورات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک ایسی حکومت کا اقتدار میں آنا ضروری تھا جو دل جمعی سے ان منصوبوں پر عمل کرنے میں فوج کے ساتھ تعاون کا نیا باب شروع کر سکے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے فوج کی مکمل تابعداری کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔ حتی کہ سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کی آئین شکنی کے حوالے سے اپنے ماضی کے مؤقف سے برعکس رویہ اختیار کر کے فوج کو راضی رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ تاکہ باجوہ ڈاکٹرائن لفظی اور معنوی لحاظ سے کامیاب ہو سکے۔
تاہم ہر نظریہ و تصور یا خواہش کی طرح گزشتہ سال کے شروع میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام سے سامنے آنے والے بیشتر تصورات پر عمل ممکن نہیں ہوسکا۔ تحریک انصاف کی حکومت کا قیام اس ڈاکٹرائن کی سب سے بڑی کامیابی کہی جاسکتی ہے۔ لیکن اس حکومت نے معیشت، سفارت کاری اور سیاسی میدان میں جس نااہلی اور خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد یہ تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ قوم و ملک کی محبت میں وضع کئے گئے ان تصورات میں ضرور کچھ خامی رہی ہو گی۔ یا انہیں حاصل کرنے کے لئے اختیار کیا جانےوالا طریقہ درست نہیں تھا۔ اسی لئے ضروری ہے کہ جنرل باجوہ اب ایک نئی ڈاکٹرائن پر کام کریں۔
اس نئی ڈاکٹرائن میں ان غلطیوں سے سبق سیکھا جاسکتا ہے جو پہلی ڈاکٹرائن کے متعین اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ بنی ہیں۔ گزشتہ دو سال کی صورت حال یہ سیکھنے میں ممد و معاون ہوسکتی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت خواہ اقتدار کی کشمکش میں فوج کی کاسہ لیسی میں کسی حد تک جانے پر آمادہ ہو، اب عوامی رائے سیاست میں فوجی مداخلت کو تسلیم نہیں کرتی۔ اگر اس رائے کو سمجھ لیا جائے تو پاک فوج کو ان ناخوشگوار واقعات سے بھی نجات مل جائے گی جن میں بعض پرجوش سیاسی کارکن فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور پولیس ان کے خلاف مقدمے قائم کرنے کی تگ و دو کرتی ہے۔
شجاع نواز کی کتاب کے مندرجات میں ایسی کوئی ڈرامائی معلومات نہیں ہیں جو پہلے سے عام نہ ہوں لیکن اس کتاب نے ان قیاس آرائیوں کو درست ثابت کیا ہے جو 2014 یا اس سے پہلے بعض فوجی عناصر کی طرف سے جمہوریت کا بستر گول کرنے کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی طرح اس کتاب سے یہ اہم سبق ملتا ہے کہ معاملات کو خواہ کتنے ہی پردوں میں چھپا کر رکھا جائے جلد یا بدیر عام و خاص کی ان تک رسائی ہوجاتی ہے۔ آج اگر جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل ظہیرالاسلام کی خواہشات یا مساعی کا راز عام ہوگیا ہے تو آج کے پاکستان میں درپردہ کئے جانے والے اقدامات بھی کسی اسٹیج پر سامنے آ جائیں گے۔ اس لئے بہتر ہے کہ سیاسی و حکومتی معاملات بیک اسٹیج سے کنٹرول کرنے کا طریقہ ترک کرکے حقیقی سرخروئی کا راستہ اختیار کیا جائے۔
جنرل باجوہ سے زیادہ کوئی اس بات سے آگاہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملہ میں برتی گئی بدانتظامی اور کم فہمی کی وجہ سے فوج اور اس کے سربراہ کو مشکل صورت حال میں ڈالا ہے۔ ایک نئی ڈاکٹرائن سے پہلے جنرل باجوہ اگر یہ سمجھ سکیں کہ اداروں میں ہم آہنگی اور ملک کے علاوہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ امن کے جو منصوبے انہوں نے عمران خان کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، وہ کیوں ناکام ہوئے ہیں۔
پہلے قدم کے طور پر وزیر اعظم کو یہ واضح پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ مئی 2020 میں جب جنرل باجوہ کو سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی توسیع کی مدت ختم ہوگی تو وہ مزید توسیع کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شاید اس طرح معاملات کو درست سمت لانے کا عمل شروع ہو سکے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker