سید مجاہد علیکالملکھاری

نیا سال عوامی شعور کی بیداری کا سال ثابت ہو گا۔۔ سید مجاہد علی

سال 2020 دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ پوری دنیا کی طرح اہل پاکستان بھی نئے سال سے کچھ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں لیکن کچھ خوف بھی دامن گیر ہیں۔ 2019 میں رونما ہونے والے متعدد واقعات نئے سال میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں اندیشے پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ یہ سال پاکستان میں جمہوریت کے لئے کشمکش کو کسی نہ کسی حتمی نتیجہ پر پہنچا سکتا ہے۔
گزرنے والا سال ان معنوں میں ایک نئے سیاسی تجربہ کا سال تھا کہ تحریک انصاف کی صورت میں ایک نئی پارٹی کی حکومت قائم تھی اور گزشتہ چار دہائیوں سے مختلف حیثیتوں میں ہیرو کے طور پر سامنے آنے والے عمران خان ملک کے وزیر اعظم تھے۔ عمران خان نے نیا پاکستان اور مدینہ ریاست کے نعروں کے ساتھ اگست 2018 میں وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی لیکن سال 2019 کے دوران وہ اپنے کسی وعدے کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بلکہ ملک میں معاشی احیا، روزگار کے خاتمہ اور سماجی اطمینان و سکون کی فضا پیدا کرنے کے لئے بھی کام نہیں کیا جا سکا۔ لاکھوں لوگوں کو گھر دینے اور روزگار فراہم کرنے کے وعدے ہوا ہوئے اور ملک میں غربا کا ایک نیا طبقہ پیدا ہؤا ہے جس کی تعداد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کٹوتی سے اضافہ کا اندیشہ ہے۔ ان لوگوں کو پہلے ایدھی یا دیگر تنظیموں کے دسترخوان سے مفت کھانا فراہم ہوتا تھا۔ اب مدینہ ریاست کی داعی حکومت بھی اس نیکی میں شامل ہوگئی ہے اور ملک میں سرکاری سطح پر لنگر کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے اسلام آباد میں لنگر خانے کے افتتاح کے باوجود یہ خبر نہیں ہوسکی کہ ایسے لنگر خانوں سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی ملک کی ایک تہائی آبادی میں سے کتنے لوگوں کو سرکار روزانہ کی بنیاد پر کھانا فراہم کررہی ہے۔
نئے پاکستان میں استوار کی جانے والی نام نہاد مدینہ ریاست کا یہی پہلو دراصل الجھن پیدا کرنے اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ عمران خان اور ان کے بیشتر ساتھی شہرت اور عوام کو رجھانے کے لئے اکثر اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ معیشت کے سدھار کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آسکا کیوں کہ پہلے چند ماہ ٹھوکریں کھانے کے بعد بالآخر معاشی معاملات کو آئی ایم ایف سے مستعار لئے ہوئے مشیروں اور اہلکاروں کے حوالے کردیا گیا۔
حفیظ شیخ کی سربراہی میں ملک میں جو معاشی فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں ان پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یعنی حکومت کے اندر حکومت کی طرز پر ایک ایسا کھلا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جو ملک کو قرض دینے والے عالمی اداروں کی ضرورتیں پوری کرکے معیشت میں بہتری کی نوید دینے لگا ہے لیکن عوام کی ضرورتوں اور احتیاج دور کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ یہ صورت حال اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب منتخب حکومت معاشی معاملات کو یوں ’آؤٹ سورس‘ کردے جیسا کہ عمران حکومت نے کیا ہے اور اپنے تئیں ملک کو ترقی کی منزل کی طرف گامزن کردیا ہے۔
آئی ایم ایف کنٹرول سے معیشت میں معاشی اشاریوں کو بنیاد بنا کر عمران خان یہ نوید سنا رہے ہیں کہ ملک کی مشکلات 2019 کے ساتھ ختم ہوجائیں گی اور 2020 ملک میں معاشی ترقی اور خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ عمران خان خود ماہر معیشت نہیں ہیں۔ انہیں جو بتایا جاتا ہے وہ اپنے سیاسی بیانیہ کو پر زور بنانے کے لئے اسے زیادہ پر کشش بنا کر نشر کردیتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ تصور کر بھی لیا جائے کہ نئے سال میں ملکی معیشت زوال سے بہتری کا سفر شروع کرنے والی ہے تب بھی یہ تو دیکھنا پڑے گا کہ آبادی، پانی کی قلت، موسمیاتی مشکلات، سیاسی بحران، سماجی افتراق، معاشی منصوبوں پر حاوی شکوک و شبہات کے سائے اور حکومت پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے ماحول میں کس طرح ایسی تبدیلی دیکھنے میں آسکے گی جس میں کل تک چولہا جلانے کی فکر میں غلطاں لوگ ایک مطمئن اور خوش حال زندگی گزارنے لگیں گے اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھے گا۔
یہ بات واضح ہے کہ جب تک کوئی بھی حکومت بنیادی معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل پر مکالمہ کرنے اور ان کے حل کے لئے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو ساتھ ملا کر چلنے کا عزم نہیں کرتی اس وقت تک مشکلات میں سہولت کا راستہ تلاش کرنے کا اہتمام نہیں ہوسکتا۔ جمہوی انتظام میں یہ کام پارلیمنٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بدقسمتی سے وزیر اعظم عمران خان نے اگرچہ اعتماد کا ووٹ تو پارلیمنٹ سے لیا ہے لیکن وہ اسے اپنی طاقت کا مرکز نہیں سمجھتے بلکہ ان کے خیال میں آرمی چیف کا اعتماد اور فوج کے ساتھ ایک پیج کی پالیسی ہی ان کی کامیابی اور اقتدار میں تسلسل کی ضمانت ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں جس سیاسی انتظام کو لازمہ کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے، اس کی روشنی میں تو یہ سوچ غلط نہیں ہے۔ لیکن اس طریقے سے قائم ہونے والی کوئی بھی حکومت اقتدار میں تو رہ سکتی ہے لیکن اس کے پاس اختیار نہیں ہوتا۔ یعنی وہ مسائل حل کرنے اور ملک و قوم کو ایک فلاحی معاشرہ میں تبدیل کرنے کے کسی ایجنڈے پر گامزن نہیں ہوسکتی۔ یہی اس انتظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ عمران خان بھی طویل سیاسی جد و جہد کے بعد اقتدار ملنے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح کسی بھی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے کو ہی مقصد اور کامیابی سمجھ رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ راستہ ان کے سیاسی زوال اور عدم مقبولیت کا راستہ ہے۔
آئی ایم ایف کی سیادت اور فوج کی نگرانی میں جو معاشی پالیسی رو بہ عمل ہے اس کے تحت آمدنی اور اخرجات کا میزانیہ تو وزارت خزانہ تیار کرتی ہے لیکن اس کے لئے اسے ان رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے جو یہ عالمی ادارے درحقیقت اپنے پیسے واپس لینے کے لئے وضع کرتے ہیں لیکن انہیں ملک کو مستحکم معاشی بنیاد فراہم کرنے کے منصوبے کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی دوسری قباحت یہ ہے کہ اس طریقہ سے پاکستان اور چین کے معاشی تعلقات اور سی پیک منصوبے میں دراڑ پیدا ہونا شروع ہوئی ہے۔ دونوں طرف شبہات موجود ہیں اور متعدد منصوبے یا تو سست روی کا شکار ہیں یاان پر کام روکا گیا ہے۔ کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان اس مشکل صورت حال سے کیسے باہر نکلے گا۔ دیگر بہت مسائل کی طرح اب سی پیک بھی پاکستان کے لئے ایسی کڑوی گولی بن چکا ہے جسے نہ نگلا جا سکتا ہے اور نہ اگلتے بنتی ہے۔ پاکستان مالی ہی نہیں سیاسی اور سفارتی لحاظ سے بھی چین کی اعانت اور ’دوستی‘ کا محتاج ہے جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بنک کی معاشی حکمت عملی امریکی مفاد کی ڈورسے بندھی ہوئی ہیں۔
معاشی منصوبہ بندی اور آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق میں ایک طرف پاکستان کے غریب عوام کی ضرورتوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے تو دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں سے نمٹنے کا کام حکومت کی ذمہ داری میں شامل کردیا گیا ہے۔ یعنی حکومت کو داخلی و خارجی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے فناشل ایکشن ٹاسک فورس کو مطمئن کرنا پڑے گا ورنہ آئی ایم ایف پیکیج کے تحت مالی معاونت نہیں مل سکے گی۔ یوں پاکستان کی سیکورٹی و سفارتی پالیسی کو کنٹرول کرنے کا تہ دار جال بنا جاچکا ہے ۔ حکومت اس مشکل کو سمجھنے اور اس سے باہر نکلنے کی کو ئی کوشش کرنے کی بجائے، سیاسی نعرے بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کا اہتمام ہی کافی سمجھتی ہے۔
عمران خان اگر اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ نیا سال پاکستان میں معاشی احیا کا سال ہوگا جس کی وجہ ان کی سیاسی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا تو دوسری طرف اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اس گمان میں مبتلا ہیں کہ اس سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومت مکمل طور سے ناکام ہوجائے گی جس کے بعد نئے انتخاب ہوں گے یا کسی دوسرے طریقہ سے انہیں اقتدار نصیب ہوجائے گا۔ اسی امید پر یہ جماعتیں بھی اسی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونا ضروری سمجھتی ہیں جہاں سے عمران خان اپنی سیاسی قوت حاصل کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں نئے انتخاب ہوں یا ان ہاؤس تبدیلی کا ڈول ڈالا جائے، معروضی سیاسی ڈائینامک تبدیل نہیں ہوں گے تاآنکہ سیاسی جماعتیں یہ تسلیم کرنے کی کوشش نہ کریں کہ چہرے بدلنے سے ملک کی تقدیر تبدیل نہیں ہو گی۔
پارلیمنٹ کو غیر مؤثر اور کمزور بنانے میں اگر حکمران جماعت نے کردار ادا کیا ہے تو اپوزیشن بھی اسے طاقت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس کی کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ سینیٹ میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن اپنا وجود منوانے میں کامیاب نہیں رہی ۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں قابل ذکر تعداد میں نمائیندگی کے باوصف اہم امور کو زیر بحث لانے اور ایوان کو فعال بنانے میں اپوزیشن کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صورت حال خاص طور سے دو امور پر بہت واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ پہلا معاملہ تو موجودہ آرمی چیف کے عہدہ میں توسیع کا معاملہ ہے۔ عمران خان اگر جنرل باجوہ کو توسیع دینا چاہتے ہیں تو اس کی وجوہ کا اندازہ کرنا مشکل نہیں لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملہ پر موقع فراہم کرنے کے باوجود اپوزیشن بھی ہڈی کے بغیر مخلوق کا کردار ادا کررہی ہے۔ اس حوالے سے دوسرا معاملہ الیکشن کمیشن میں بلوچستان اور سندھ کے ارکان کی تقرری اور چئیر مین مقرر کرنے سے متعلق ہے ۔ اپوزیشن ان دونوں معاملات میں معمولی اکثریت سے اقتدار میں آنے والی حکومت کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔
حکومت ہو یا اپوزیشن ان کے اس غیر جمہوری اور پارلیمنٹ دشمن رویہ کی بنیاد یہ ہے کہ وہ ووٹ کی طاقت کو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے کافی نہیں سمجھتے۔ اپوزیشن کا مطمح نظر محض یہ ہے کہ اداروں کی جو سرپرستی اس وقت تحریک انصاف کو حاصل ہے، اس کا رخ تبدیل ہوجائے۔ یہ طرز عمل ملک میں جمہوری سفر کو دشوار بنانے والے عوامل کو توانا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ ملک کے سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر انہوں نے عدلیہ میں خود مختاری کی لہر اور عوام میں سیاسی اسٹیٹس کو کے خلاف پیدا ہونے والی رائے کو محسوس نہ کیا اور جمہوریت کے نمائیندہ ادارے پارلیمنٹ کو طاقت کا مرکز و منبع بنانے میں کردار ادا کرنے سے مسلسل گریز کیا تو دو غلی سیاست کرنے والے سب لیڈروں اور پارٹیوں پر 2020 بھاری پڑ سکتا ہے۔
عوام میں اپنے حقوق کے لئے پیدا ہونے والا شعور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بیداری سیاسی جماعتوں کے علاوہ اقتدار کی سیاست کو کسی تھیٹر کا اسٹیج بنانے والی قوتوں کو یکساں طور سے سمجھنی چاہئے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ نوشتہ دیوار پڑھ لیا جائے۔ اسی سے ملک خوش حال ہوگا اور ادارے بھی محفوظ رہیں گے۔
اہل پاکستان کے لئے 2020 خوشیوں ، کامرانیوں اور نئی منازل کی جستجو کا سال ثابت ہو۔ یہ سال جمہوری سفر میں کامیابی اور نفرت و بیزاری کے خاتمے کا سال بن جائے۔ یہ سال عوام کو سرفراز اور منفی طاقتوں کو مایوس کرے۔ اس مقصد کے لئے زاد راہ میسر ہو اور عوام کو حوصلہ و توانائی نصیب ہو۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker