تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا دنیا امریکہ کی غنڈہ گردی برداشت کرتی رہے گی ؟

خبر ہے کہ تہران میں آیت اللہ خمینی کے جنازے کے بعد سے سوگواروں کا اتنا بڑا ہجوم نہیں دیکھا گیا جتنا بڑا اجتماع جمعہ کو امریکی حملہ میں مارے جانے والے ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے اکٹھا ہو ا تھا۔ نماز جنازہ کے دوران دیگر لوگو ں کے علاوہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی آنکھیں نمناک تھیں۔
جنرل قاسم سلیمانی کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ بعض خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ آئی کے بعد سب سے زیادہ طاقت ور شخصیت تھے۔ ان کی ہلاکت پر ایران کا غم و غصہ اور رد عمل غیر متوقع نہیں ہے۔ تاہم امریکی صدر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے اس میں مسلسل اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنرل سلیمانی ملک کی مذہبی قیادت کے قریب ہونے کے باوجود مذہبی انتہا پسند نہیں تھے بلکہ وہ قوم پرست لیڈر کی شہرت رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجود مذہبی حکومت کے مخالفین بھی ان کا احترام کرتے تھے اور ان پر امریکی حملہ کو ایران کے وقار اور خود مختاری پر حملہ سمجھتے ہیں۔ عراق میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ گزشتہ روز عراقی پارلیمنٹ نے اپنی سرزمین سے امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف مقابلے کے لئے امریکہ اور اتحادی ممالک سے مانگی جانے والی امداد کی درخواست وپس لے تاکہ ان ملکوں کی افواج ملک سے چلی جائیں۔
عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے بھی امریکی افواج کے انخلا کا اشارہ دیا ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شاید یہی عراقی عوام کے لئے بہتری کا راستہ ہوگا، اگرچہ اس فیصلہ سے ملک کو سیاسی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنرل سلیمانی پر ہونے والے حملہ کے بعد جس میں عراقی ملیشیا فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی جاں بحق ہوئے تھے، عراق میں تمام شیعہ گروہوں نے امریکی جارحیت کی مخالفت کی ہے۔ ان میں عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کی مخالفت کرنے والے گروہ بھی شامل ہیں۔ حتی کہ ملک کے اقلیتی عقیدہ کے حامل سنی قبائل بھی عراق کی خود مختاری پر امریکی حملہ سے برافروختہ ہیں ۔ اس طرح اس وقت ایران کے علاوہ عراق میں بھی قومی یک جہتی کا انوکھا اور ناقابل یقین منظر نامہ سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا تو اس صورت حال کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں یا داخلی سیاسی مسائل سے نکلنے کے لئے اپنی بدزبانی کو مقبولیت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے حملہ میں صدر ٹرمپ نے صرف ایران کو ہی چیلنج نہیں کیا ہے بلکہ عراقی خود مختاری پر بھی حملہ کیا ہے۔ اس کے بعد عراق سے کسی قسم کی معذرت کرنے کی بجائے جب عراقی پارلیمنٹ میں صدر ٹرمپ کے ناجائز اور عالمی قانون سے متصادم اقدام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیااور پارلیمنٹ کے ارکان نے اس امریکی پالیسی کا دو ٹوک اور فوری جواب دینے کی قرارداد منظور کی تو اس کے جواب میں خاموشی اختیار کرنے یا درپردہ ڈپلومیسی کے ذریعے ’ڈیمیج کنٹرول‘ کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر عراق نے امریکی فوجوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا تو وہ عراق پر ایسی سخت اقتصادی پابندیں لگائیں گے کہ ایران پر نافذ پابندیاں بھی ان کے سامنے ہیچ ہوں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق کو امریکی فوجوں کو نکالنے سے پہلے اس امریکی ائیر بیس کی قیمت چکانا ہوگی جو اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔
اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ امریکہ نے ناقص اور جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر 11/9 کے بعد عراق پر حملہ کیا تھا کیوں کہ وہ صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ کر مشرق وسطیٰ کو پوری طرح امریکی تسلط میں لانے کا خواہش مند تھا۔ اس ناجائز اور جابرانہ جنگ کے نتیجہ میں کئی لاکھ عراقی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ اس جنگ کے بطن سے ہی شام کی خانہ جنگی اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیم نے جنم لیا جس کی وجہ سے خطے میں تباہی و بربادی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہؤا۔ اب اگر امریکی صدر عراقی سیاسی لیڈروں کی خواہش کے مطابق فوج نکالنے کے سوال پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور عراقی عوام کی زندگی اجیرن کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو پوری مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا کہ کیا امریکہ کو دنیا میں کھلی غنڈہ گردی کرنے اور مرضی کے مطابق فیصلے تھوپنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اگر آج عراق کے ایک خود مختارانہ فیصلہ کے بعد امریکہ کو اس قسم کا کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت دی گئی تو کل کو دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکی جارحیت اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ عراق میں امریکی موجودگی کا حق مانگنے کے لئے ایک ائیر بیس پر صرف ہونے والے وسائل کا حوالہ دے رہے ہیں لیکن امریکہ عراق پر ناجائز جنگ مسلط کرنے، اسے انتشار و افتراق کا شکار بنانے ، وہاں مرضی کی سیاست مسلط کرنے اور عراقی عوام کی وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کے علاوہ اس ملک کے وسائل کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ عراق سے اگر ایک ائیر بیس کی قیمت مانگی جائے گی تو امریکہ کو اس تمام نقصان کا ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا جو اس کی وجہ سے عراقی عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنے کے باوجود کہ امریکہ سپر پاور ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت جن میں چین اور روس بھی شامل ہیں، امریکہ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لیکن امریکی عوام اور ان کے لیڈروں کو کسی نہ کسی موقع پر یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ مہذب دنیا کا لیڈر کہلاتا ہے۔ اس کی جارحیت اور عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کو اس عذر کی بنیاد پر بھی قبول کرلیا جاتا ہے کہ امریکہ بنیادی انسانی اقدار کا علمبردار ہے۔ تاہم اگر امریکی صدر ان بنیادی اقدار سے انکار کرتے ہوئے ، کسی مافیا باس کی طرح غنڈہ گردی، دھمکی اور زبردستی کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کرے گا تو امریکہ کی اخلاقی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔
امریکی صدر نے ایک روز پہلے ایک ٹوئٹ میں ایران کے 52 اہداف کو نشانہ بنانے کی بات بھی کی ہے ۔ اس بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان میں ایران کے قیمتی ثقافتی اثاثے بھی شامل ہیں۔ دنیا میں پائی جانے والی ثقافت اور انسانی تہذیب کی علامتوں کو مشترکہ انسانی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ علامتیں مختلف خود مختار ممالک میں ہونے کے باوجود بنی نوع انسان کی تاریخ اور ترقی کے شواہد سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لئے اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو دنیا بھر میں مختلف مقامات کا جائزہ لے کر ان کی تاریخی اور تہذیبی قدر و قیمت کا اندزاہ کرتا ہے اور ان کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کئے جاتے ہیں۔ جنگ میں بھی دشمن افواج ان تہذیبی آثار کو مٹانے کی کوشش نہیں کرتیں۔ اسی لئے جب طالبان نے 2001 میں بامیان کے پہاڑوں میں بدھا کے مجسموں کو تباہ کیا یا داعش نے 2014 کے دوران شام اور عراق میں تہذیبی ورثوں کو نشانہ بنایا تو اسے دہشت گردی ہی کی قسم سمجھا گیا تھا جس کا مقصد خوف پھیلانا اور ناجائز جنگ میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔
اب اگر امریکی صدر اسی قسم کی دھمکیاں دے رہا ہے اور کسی مرحلے پر ایرانی ثقافتی مقامات پر حملہ کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو اسے خوف و دہشت پھیلانے کا اقدام ہی کہا جائے گا۔ یہی امید کی جاسکتی ہے کہ صدر ٹرمپ یہ بیان اور دھمکیاں محض سیاسی یا سفارتی فائددہ حاصل کرنے کے لئے دے رہے ہیں ۔ امریکہ کبھی اس انتہائی اقدام کی طرف نہیں جائے گا کہ وہ عراق کی خود مختاری تسلیم کرنے سے انکار کردے یا ایران کے ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے کا اقدام کرے۔ لیکن اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے امریکہ کی اخلاقی قیادت کے حوالے سے سنجیدہ سوال سامنے آئیں گے۔ اسی لئے امریکہ میں بعض ڈیموکریٹک لیڈروں کی طرف سے اس طرز عمل کو مسترد کرتے ہوئے ان دھمکیوں کو جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی حکومت نے اگر ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو دنیا میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر مزاحمت دیکھنے میں آئے گی۔
اس دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی پرائی جنگ کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بدقسمتی سے یہ اعلان لفاظی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ پاکستان امریکی جارحانہ اقدام یا صدر ٹرمپ کی غیر انسانی دھمکیوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اس تنازعہ میں غیر جانبداری کا اعلان ضرور کررہا ہے لیکن سعودی عرب اور اس کے حلیف ملکوں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے پاکستان کی غیر جانبداری صرف اعلان ہی کی حد تک ہے۔ عملی طور سے پاکستان امریکی پالیسی کی حمایت کرنے پر مجبور رہا ہے۔ اس صورت حال میں غیر جانبداری کے علاوہ ثالثی کروانے کی پیشکش کے دعوے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ایران امریکہ تنازعہ بڑھنے کی صورت میں یہ جنگ پاکستان کی سرزمین پر آنے کا تو کوئی امکان نہیں ہے لیکن پاکستان کو اس کے اقتصادی نتائج سے نمٹنا ہوگا۔ فوری طور پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تصادم کی صورت میں اس میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو اپنی غیر جانبداری کا کھوکھلا دعویٰ دہرانے کی بجائے نئی صورت حال میں پیدا ہونے والے اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے اور عوام کو اس بارے میں آگاہ کرنا چاہئے۔ پاکستان میں ہر قسم کے ایندھن کا قحط ہے۔ عرب ملکوں سے گیس اور تیل درآمد کرنے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ ابتر معاشی صورت حال کی وجہ سے ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ادھار تیل لینے پر مجبور ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کے بڑھنے سے ایسے سب معاہدے سب سے پہلے نشانے پر ہوں گے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ امریکہ اور ایران براہ راست جنگ نہیں چاہتے اور سخت بیان بازی کے باوجود کوئی احمقانہ اقدام کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم پاکستان کو ملک پر اقتدار کی سیاسی اور ادارہ جاتی کشمکش سے باہر نکل کر ایسی ٹھوس خارجہ اور معاشی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی بحران کا سامنا کرسکے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker