تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔حکومت گرانے سے معیشت نہیں سنبھلے گی

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ناکام معاشی پالیسیوں اور ملک میں بڑھنے والی مہنگائی پر وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں جذباتی تقریر کے دوران انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب وزیر اعظم کرپٹ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ اب عمران خان پارلیمان کو بتائیں کہ مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں لئے جانے والے قرضوں کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ اسٹیٹ بنک کے اعداد و شمار کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے 11 ہزار ارب روپے کے قرضے لئے ہیں۔ قرض لینے کی یہ شرح سابقہ تمام ادوار سے زیادہ ہے لیکن ملکی معیشت اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ غریب کا جینا محال ہوچکا ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ برسر اقتدار آکر قرض لینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے خود کشی کے لئے نہیں کہتے لیکن انہیں عوام کو اپنی تباہ کن پالیسیوں سے ریلیف دینے کے لئے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اسی سیشن میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے بھی ملک میں اچانک بڑھنے والی مہنگائی پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ ان کی پارٹی حکومت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گی لیکن یہ حکومت جلد ہی اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ سے گر جائے گی۔
اشیائے صرف کی مہنگائی کے علاوہ عدم دستیابی کے مسئلہ نے عوام کے لئے حالات کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس کا احساس عمران خان کو بھی ہورہا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جہاں آج مہنگائی کے معاملہ پر اپوزیشن نے خوب ہنگامہ آرائی کی ۔ بلکہ بلاول بھٹو نے تو یہاں تک کہا کہ ’وزیر اعظم ہی نہیں حکومت کا کوئی ذمہ دار وزیر اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہے۔ صرف جونئیر اور نائب وزیروں کو بھیج دیا گیا ہے یا سرکاری بنچ خالی پڑے ہیں۔ اس سے اس معاملہ پر حکومت کی غیر سنجیدگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے‘۔
تاہم حکومت پر تند و تیز حملے کرنے والے اپوزیشن لیڈر یہ بتانے سے قاصر رہے کہ عمران خان کے استعفی دینے یا موجودہ حکومت تبدیل ہونے سے ملکی معاشی مسائل کیسے حل ہوجائیں گے؟ اگر حکومت پریشان خیالی کے باعث بداعتمادی اور تصادم کی صورت حال پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے تو اپوزیشن کے پاس بھی اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے کہ حکومت کو تبدیل کرنے کا راستہ ہموار کیا جائے۔ کوئی اپوزیشن لیڈر یا جماعت ٹھوس طور سے یہ بتانے کے قابل نہیں ہے کہ حکومت کو کون سے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے سبب ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو۔
ملک کی سیاسی پارٹیاں اگر جمہوری طریقوں اور روایات پر یقین رکھتی ہیں تو انہیں غیر جمہوری سوچ سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ اور ان روایات پر عمل کرکے دکھانا چاہئے جو مسلمہ جمہوری معاشروں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اپوزیشن ضرور غیر معمولی مہنگائی اور بعض معاشی اقدامات کی ناکامی پر حکومت پر تنقید کرے لیکن یہ تنقید اسی وقت قابل قبول اور متاثر کن ہوسکتی ہے اگر یہ بھی بتایا جائے کہ حکومت سے کیا غلطیاں سرزد ہورہی ہیں ۔ حکومت یا تو اپوزیشن کے مشوروں پر عمل کرکے اصلاح کا راستہ تلاش کرلے یا پھر مستعفی ہوجائے تاکہ سیاسی جماعتیں کسی متبادل حکومت کے ذریعے مسائل کو حل کرسکیں۔ لیکن حکومت پر تنقید اور عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے یا اس حکومت کے گرنے کی پیش گوئیاں کرنے کے علاوہ اپوزیشن لیڈروں کے پاس کوئی ٹھوس تجویز نہیں۔
اس رویہ سے ان شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ معاملہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نہیں ہے بلکہ اقتدار کی رسہ کشی سے متعلق ہے۔ ایک منتخب پارلیمنٹ کے ارکان کا یہ طرز عمل افسوسناک بھی ہے اور اس سے ملک و قوم کو درپیش معاشی و دیگر مسائل حل ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ اگر بلاول بھٹو کی خواہش اور خواجہ محمد آصف کے قیاس کے مطابق موجودہ حکومت ختم ہوجاتی ہے یا عمران خان استعفیٰ دے دیتے ہیں تو اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک نئی دوڑ کا آغاز ہوجائے گا۔ اس وقت جو لب و لہجہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈر اختیار کئے ہوئے ہیں، وہی تلخی وتندی اپوزیشن لیڈر کے طور پر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بیانات میں سامنے آنے لگے گی۔
ایک طرف قومی اسمبلی میں مہنگائی کے سوال پر اپوزیشن لیڈر پھنکار رہے تھے تو دوسری طرف عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی سے نمٹنے اور غریبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے پندرہ ارب روپے کا پیکیج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ رقم مختلف بنیادی اشیا پر سبسڈی دینے اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں قیمتوں میں کمی لانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ یہ واضح ہے کہ اس رقم سے وسیع آبادی کے حامل ملک کے تمام غریبوں کا بھلا نہیں ہوسکتا تاہم سیاسی طور سے حکومت یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہوجائے گی کہ اس نے عوام کی مشکل کو محسوس کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے فیصلے بھی کئے ہیں۔ اس طرح البتہ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ مہنگائی کا معاملہ صرف اپوزیشن کی سازش یا عداوت نہیں ہے بلکہ حکومت خود بھی یہ تسلیم کررہی ہے کہ ملک میں افراط زر کی سطح ناقابل قبول حد تک بڑھ چکی ہے۔
اس سچ کو تسلیم کرنے کے بعد البتہ اس کی درستی کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ حقیقت بھی ہے کہ کابینہ نے مہنگائی میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے جو پندرہ ارب روپے صرف کرنے کا اعلان کیا ہے انہیں بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ سے لیا جائے گا۔ یعنی جو رقم بجٹ کے مطابق غریبوں کی مدد کے لئے مختص کی جاچکی ہے اسی کو کسی دوسرے نام سے استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ حکومت نے مہنگائی کے خاتمہ کے لئے عملی اقدام کئے ہیں۔ البتہ یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ جب غریبوں کی امدا د کے ایک منصوبہ سے رقم لے کر دوسرے منصوبہ پر لگائے جائیں گے تو مسئلہ تو وہیں رہے گا۔ اگر قیمتوں پر سبسڈی سے کچھ لوگوں کو فائدہ ہوگا تو جن لوگوں کی بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ سے ملنے والی امداد کم ہوگی یا بند کی جائے گی تو ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ حکومت نے دراصل غریب بمقابلہ غریب کی افسوسناک صورت حال پیدا کی ہے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا خواب دیکھا جارہا ہے۔
آج ہی وزیر اعظم نے ایک اجلاس میں معیشت کی صورت حال سے آگاہی کے لئے مسلم لیگ (ن) کے دور میں مالیات پر سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان سے رہنمائی حاصل کی۔ اس موقع پر عمران خان کی معاشی ٹیم بھی موجود تھی۔ ایکپرس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی وزارت خزانہ کی یک طرفہ معاشی احیا کی خوش آئند خبروں کی حقیقت جاننے کے لئے ’غیر جانبدار‘ ماہرین سے مشاورت شروع کی ہے۔ ہارون اختر بھی اسی سلسلہ میں وزیر اعظم کو تصویر کا دوسر رخ دکھانے کے لئے بلائے گئے تھے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نے دیگر ماہرین کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں سے ویڈیو لنک پر مشورہ کیا تھا۔ عمران خان نے عاطف میاں کو شروع میں اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل میں شامل کیا تھا لیکن ان کے عقیدہ پر سامنے آنے والے اعتراضات کے بعد انہیں اس منصب سے فارغ کردیا گیا تھا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ سرکاری مناصب پر فائز مشیروں و بیوروکریٹس کی مثبت و سہانی رپورٹس اور غیر جانبدار ماہرین کی قدرے منفی تصاویر کے تقابل سے عمران خان کس نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور ملکی مالی پالیسیوں میں کیا تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ درحقیقت حکومت کے مالی آپشنز محدود ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے وسائل فراہم کئے جاتے ہیں تو ادائیگیوں کا توازن خراب ہوسکتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز میں اضافہ سے آئی ایم ایف کی ناراضگی اور معاہدہ کی خلاف ورزی کا امکان پیدا ہوگا اور قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے جس اعتماد سازی کی ضرورت ہے وہ موجودہ حکومت کے آپشنز میں شامل نہیں ہے۔ اسی لئے سیاسی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں روز افزوں ہیں۔
اس دوران کرونا وائرس کی وجہ سے چین کو دیگر اندیشوں کی بجائے پیدا واری صلاحیت میں کمی کا خطرہ بھی ہے۔ چین کی قومی پیداوار پہلے ہی رو بہ زوال تھی اور اس سال کے دوران شرح نمو کا تخمینہ 6 فیصد تھا لیکن کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں چینی جی ڈی پی میں ایک فیصد سالانہ تک کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چین کی معیشت میں ضعف کا امریکہ جیسی بڑی اور مستحکم معیشت پر بھی منفی اثر مرتب ہوگا۔ آئی ایم ایف کے نمائیندوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی معیشت چونکہ چین پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اس لئے چین میں معاشی خرابی کا اثر پاکستان پر بھی مرتب ہو گا جس سے اس کی قومی پیداوار کی خراب صورت حال ابتر ہوسکتی ہے۔ ملک میں روزگار اور مہنگائی کا تعلق قومی پیداواری صلاحیتوں سے ہی ہوتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت جن مسائل کا سامنا کررہی ہے ان میں بنیادی اہمیت قومی پیداوار میں دو فیصد سالانہ تک کمی کا تخمینہ ہے۔ اگر یہ شرح تین فیصد سے بھی کم ہوگئی تو موجودہ حالات دگرگوں ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی دنگل اور الزام تراشی کے ماحول سے نکل کر معاشی احیا کے لئے پرسکون ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری حکومت کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ تاہم قومی اسمبلی میں ہونے والی زبانی گولہ باری سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی معاملات کو بڑی تصویر کے تناظر میں دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker