تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آئین اور قانون کا راستہ : جنرل باجوہ کا اعلان ۔۔ سید مجاہد علی

سیاسی اور سماجی سطح پر مختلف لوگ اور گروہ اپنے اپنے طور پریہ آواز بلند کررہے ہیں کہ ملک میں لاقانونیت ہے، انصاف فراہم نہیں ہوتا، آئین کا احترام مفقود ہے اور عدالتوں کے فیصلے اشاروں یا دباؤ کے نتیجہ میں کروائے جاتے ہیں ۔ ملک کے سابق وزیر اعظم گزشتہ ہفتہ عشرہ سے یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ اور اس صورت حال کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عین اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلان کیا ہے کہ ’ ملک قانون اور آئین کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ اور تمام ادارے کام کررہے ہیں‘۔ 70 ویں یوم آزادی کے حوالے سے واہگہ پر قومی پرچم لہرانے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو علامہ اقبال اور قائد اعظم کا پاکستان بنایا جائے گا۔ کیا ان باتوں سے یہ سمجھ لیا جائے کہ پاک فوج نے سابق وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے قائد کی باتوں کو مسترد کیا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر کا اگر یہ مقصد نہیں تھا تو یہ سوال فطری طور سے ذہن میں آتا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر آئین کے راستے پر گامزن ہونے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ خاص طور سے ان حالات میں جبکہ ملک میں وسیع تر سطح پر یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے لئے آئین کی شق 62 کو جس طرح استعمال کیا ہے ، اس سے ملک میں جمہوری طریقہ سے منتخب ہونے والے لیڈروں پر سپریم کورٹ کو غیر ضروری بالادستی حاصل ہوگئی ہے۔ اسی لئے سابق وزیر اعظم یہ سوال کررہے ہیں کہ کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو پانچ جج کوئی جرم ثابت ہوئے بغیر معزول کرنے کا حق کیوں کر رکھتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم کے اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ملک کے آئین میں سابق فوجی آمر جنرل (ر) ضیا ء الحق کے دور میں معاشرے کو اسلامی بنانے کے نام پر جو شقات شامل کی گئی تھیں ، ان کی موجودگی میں سپریم کورٹ کسی وقت بھی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے جمہوری نمائیندوں کے خلاف کوئی بھی فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ اسی لئے اب ملک میں وسیع سطح پر یہ سیاسی تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آئین کی ایسی متنازعہ اور غیر ضروری شقات میں ترمیم کرنے کے لئے راہ ہموار کی جائے جو ضیاء الحق نے سیاستدانوں پر کنٹرول رکھنے کے لئے دستور میں شامل کی تھیں۔ اس کے بعد کے سالوں میں مختلف سیاسی قوتیں اپنے اپنے مفاد کے ہاتھوں اسیر رہیں اور ان شقات کو حذف کرنے کے لئے کام نہیں کیا جاسکا۔ اس دوران ملک کے مذہبی رہنماؤں نے جو اسلام اور اس کے پیغام سے زیادہ فوج سے وفاداری اور اس کے اشاروں پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں ، توہین مذہب کے سفاکانہ اور غیر منصفانہ قانون کی طرح ان آئینی شقات کی حفاظت کا بھی بیڑا اٹھا ئے رکھا تھا۔ اس عذر کے لئے پاکستان جیسے جذباتی اور تیزی سے شعور سے بے بہرہ ہوتے معاشرے میں ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ لگا کر لوگوں کو اشتعال پر آمادہ کرنا کبھی مشکل نہیں رہا۔
ان حالات میں جبکہ سیاست دانوں کے لئے آئین کو حقیقی معنوں میں جمہوری اور عوامی بنانے میں سیاسی مجبوریوں کا سامنا رہا ہے، سپریم کورٹ سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ایسی شقات کو استعمال کرنے سے گریز کرے گی جو بنیادی جمہوری تقاضوں سے متصادم ہیں لیکن ملک کے سیاسی ماحول کی وجہ سے ان میں ترمیم ممکن نہیں ہو پاتی۔ کل اوسلو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر نے بھی اس بات کا حوالہ دیا اور کہا کہ نواز شریف کو نااہل قرار دے کر سپریم کورٹ نے اپنے اختیار سے غیر ضروری تجاوز کیا ہے اور اس سے معقول اور متوازن رویہ اختیار کرنے کی جو توقع وابستہ کی گئی تھی ، سپریم کورٹ کے جج اس پر پورے نہیں اتر سکے۔
جنرل قمر باجوہ کی طرف سے ملک کے آئین اور قانون پر گامزن ہونے کی نوید سنانے سے پہلے عمران خان یہ انکشاف کرچکے تھے کہ ملک میں فوج اور سپریم کورٹ کے خلاف ’سازش‘ کی جارہی ہے۔ اور راولپنڈی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئین کی شق 62 کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف عوام کی مدد سے پر جوش احتجاج کریں گے ۔ عمران خان سے یہ سوال کرنا تو بے سود ہے کہ اگر عوام کے منتخب نمائیندے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے آئین میں کوئی ترمیم کرتے ہیں تو ایک سیاسی لیڈر اسے روکنے کے لئے احتجاج یا دھرنے کے ذریعے رکاوٹ ڈال کر کون سی جمہوریت عام کرے گا۔ ان حالات میں جب فوج کے سربراہ ملک کے آئین کے راستے پر گامزن ہونے اور اداروں کی مضبوطی کا اعلان کرتے ہیں تو اس بیان کے سیاسی پہلو کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔
پاک فوج کو واضح کرنا ہوگا کہ کیا اس کے سربراہ اب سیاسی بیان دینے اور ملک کے مباحث میں حصہ دار بن کر آئین سے اپنی اطاعت واضح کررہے ہیں یا یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں وہی آئین نافذ ہوگا جسے فوج کی تائد حاصل ہوگی۔ سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر فوج ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو سیاستدانوں کی بجائے فوجی قیادت اس ملک کو ایک بڑے بحران اور تباہی کی طرف دھکیلنے کا باعث بن رہی ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker