تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ: سیاسی اور سفارتی پھندا ہے

پیرس میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اعلامیہ میں پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اگر جون تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام 27 نکات پر مکمل عملدرآمد نہ کیا تو اسے بلیک لسٹ یعنی اس کا عالمی معاشی بائیکاٹ کرنے کا انتہائی اقدام کیا جائے گا۔
پاکستانی حکومت اور پیرس اجلاس میں پاکستان کی نمائیندگی کرنے والے وفد کے سربراہ وفاقی وزیر حماد اظہر اگرچہ اس فیصلہ کو پاکستان کی کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کریں گے کہ اجلاس میں پاکستان کے مثبت اقدامات کو سراہا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ تبصرے بھی سننے میں آئیں گے کہ پاکستان جلد ہی باقی نکات پر بھی ہوم ورک پورا کرلے گا اور جون میں ہونے والے اجلاس سے بالآخر اسے کلین چٹ مل جائے گی۔ یہ اس معاملہ کا ایک ممکنہ حل ہوسکتا ہے کیوں کہ چین کے علاوہ امریکہ کے لئے بھی ایک ایسے مرحلے میں پاکستان کو مزید معاشی و سفارتی مشکلات کا نشانہ بنانا مناسب نہیں ہوگا جبکہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ تشدد ختم کرنے کے اعلان کی توقع کی جارہی ہے جس کے بعد باقاعدہ امن معاہدہ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز میں سراج الدین حقانی کی طرف سے جنگ ختم کرنے اور عسکری جھڑپوں کو روکنے کے بارے میں لکھے گئے مضمون سے اس عمل میں پاکستان کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ کی ضرورت مزید نکھر کر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو اس سال کے دوران انتخابی معرکہ کا سامنا ہے۔ اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی معاشی صورت حال اور عام امریکیوں کو پہنچائے گئے مالی فوائد کی وجہ سے انہیں انتخاب جیتنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ تاہم افغانستان میں امن معاہدہ اور وہاں سے امریکی فوجوں کی واپسی کا شیڈول دینے سے وہ اپنی انتخابی مہم کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے فلسطین کے بارے میں اپنے منصوبہ کو صدی کا سب سے بہتر معاہدہ قرار دیتے ہوئے عالمی سفارت کاری میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن اس منصوبہ کو فلسطینیوں کے علاوہ امریکہ کے قریب ترین حلیف ملکوں نے جانبدارانہ اور متعصبانہ قرار دے کر نظر انداز کیا ہے۔ اس لئے ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں سفارتی کامیابی کا نعرہ امریکی عوام کو بیچنے میں ناکام رہے ہیں۔
اب عالمی معاملات میں خود کو زیرک سیاست دان کے طور پر پیش کرنے کے لئے ٹرمپ کے پاس افغان معاہدے کی صورت میں واحد امکان موجود ہے تاکہ وہ امریکی عوام کو یہ خوش خبری سناسکیں کہ انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق چار سال کی مختصر مدت میں دو دہائیوں پر پھیلی ہوئی جنگ سمیٹنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے اور افغانستان میں تمام تر اثر و رسوخ کے باوجود معاہدے تک پہنچنے اور افغان طالبان کو تشدد سے باز رکھنے کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے آج ختم ہونے والے اجلاس کے دوران اسی لئے پاکستان نے یہ امید لگائی تھی کہ اگر امریکہ اس کی پشت پر کھڑا ہو تو اس کے لئے گرے لسٹ سے نکلنا آسان ہوجائے گا۔
شاہ محمود قریشی کی خواہش اور دل خوش کن میڈیا گفتگو کے باوجود امریکہ نے پاکستان کو یہ تعاون فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کی بظاہر دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ امریکہ افغان سفارت کاری کے مشکل ترین مرحلے میں پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس سے اپنی مرضی کا تعاون حاصل کیا جاسکے۔ اسی لئے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی بھارتی کوششوں کو زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس پالیسی کی دوسری وجہ امریکی صدر کا اسی ماہ کے دوران نئی دہلی کا دورہ بھی ہوسکتی ہے۔ امریکی صدر اس دورہ سے عین پہلے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد فراہم کرکے نریندر مودی کی حکومت کو ’مشتعل ‘ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
صدرٹرمپ اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے اس سلسلہ میں تیکھا بیان بھی دیا ہے لیکن وہ اس حکمت عملی سے تعلقات بگاڑنے کی بجائے بھارتی حکومت کو امریکہ کے ساتھ تجارت میں رعایات دینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف میں اس مرحلہ پر پاکستان کی بھرپور سفارتی تائد کرنے سے یہ مقصد حاصل ہونا مشکل ہوجاتا۔ اس لئے پاکستان کو گرے لسٹ پر قائم رکھتے ہوئے ایک طرف پاکستان کو ناراض نہیں کیا گیا تو دوسری طرف بھارت کو بھی امید دلائی گئی ہے کہ پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کے پھندے میں ہے۔
پاکستان کو جون 2018 میں بھارت کی سفارتی کوششوں اور اثر ورسوخ وجہ سے ہی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ پونے دو سال کی سرتوڑ سفارتی کوششوں، قانون سازی، انتظامی و عدالتی اقدامات کے باوجود فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اگر پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ پاکستان کی سیاسی و سفارتی ناکامی ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے 39 رکنی ایف اے ٹی ایف میں صرف بارہ ارکان کی حمایت درکار تھی۔ بظاہر اتنے ارکان پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے کہ اس نے ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور اس کی حکومت دہشت گردی کے قلع قمع میں سنجیدہ ہے۔ البتہ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لئے صرف تین ارکان کی مخالفت بھی پاکستان کو اس مشکل سے بچا سکتی تھی۔ چین، ترکی اور ملائشیا نے پاکستان کو یہ سفارتی سہولت فراہم کی ہے۔ ابھی تک یہ اطلاع سامنے نہیں آسکی کہ ایف اے ٹی ایف میں اس معاملہ پر پاکستان کو تین سے زیادہ ملکوں کی براہ راست حمایت حاصل ہوسکی ہے۔ یہ پاکستان کی واضح سفارتی شکست ہے اور بھارت کی جیت ہے۔
یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا مقصد اگرچہ دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے مالی معاونت کی روک تھام ہے لیکن اس گروپ کو دراصل مختلف ممالک پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ورنہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دہشت گردوں کو حقیقی مالی امداد و اعانت عرب ملکوں سے حاصل ہوئی تھی لیکن کبھی کسی عرب ملک کو وارننگ دینے یا اس کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی کیوں کہ ان ملکوں کے ساتھ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کے ہمہ گیر سیاسی، سفارتی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ اس کے برعکس شمالی کوریا کا دہشت گردوں کی مالی معاونت سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا لیکن اس کا نام مستقل طور سے بلیک لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ یا ایران سے سیاسی و سفارتی انتقام لینے کے لئے اسے بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے عالمی مالیاتی نظام میں دوررس اصلاحات کی ضرورت ہے اور کسی ایک کم وسیلہ ملک پر دباؤ ڈال کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ متعدد مغربی ممالک کے بنکاری نظام کو بھی ٹیرر فنانسنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہاہے لیکن ان میں سےکسی کی طرف انگلی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔
عالمی اداروں کی اس حکمت عملی کی وجہ سے اگرچہ بڑی طاقتوں کے دوہرے معیار کا پردہ فاش ہوتا ہے لیکن پاکستان جیسے کمزور ممالک اس حوالے سے مجبور محض بن کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ کمزور سفارتی صورت حال کی ذمہ داری اس کی ماضی قریب میں اختیار کی گئی پالیسیاں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریروں اور باتوں میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اب نئی حکومت ہے اور اب پاکستان ماضی کا پاکستان نہیں رہا۔ لیکن عالمی سطح پر ان باتوں کی خاص پذیرائی نہیں ہوتی اور نہ ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کل کے پاکستان میں جن طاقتوں نے بعض جنگجو گروہوں کو طاقت ور بنانے کی پالیسیاں بنائی تھیں ، آج کے پاکستان میں بھی فیصلہ سازی کا سارا اختیار ان ہی کے پاس ہے۔ اس لئے وزیر اعظم کے بیان دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یوں لگتا ہے کہ اب پاکستان میں قانون سازی اور بعض اقدامات کو بھی کافی نہیں سمجھا جارہا۔ اب افراد کے نام لے کر پاکستان سے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کو سزا دلوائی جائے۔ حافظ سعید کو حال ہی میں ملنے والی سزا کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور اسے ایف اے ٹی ایف کی کامیابی قرار دیا گیا۔ حالانکہ ایف اے ٹی ایف کا دائرہ کار کسی حکومت کے اقدامات اور قانون سازی تک محدود ہونا چاہئے۔ کسی ملک کی عدالت کسی معاملہ میں قانون کا کس طرح اطلاق کرتی ہے، قومی حکومت یا عالمی ادارے اسے کنٹرول کرنے کا اختیار حاصل نہیں کرسکتے۔ لیکن پاکستان کے ماضی اور طریقہ کار کی وجہ سے اب براہ راست ان معاملات میں کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کیا جاتاہے جو عدالتی نظام کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ حافظ سعید کے بعد اب مولانا مسعود اظہر کو قید کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ فہرست طویل ہوسکتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا معاملہ سیاسی و سفارتی ہے۔ بھارت اس وقت اپنا تمام اثر و رسوخ پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ہدایت نامہ پر عمل تو کررہا ہے لیکن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس نے ماضی کی غلطیوں کا کوئی وائٹ پیپر شائع کرکے اصلاح احوال کے لئے اپنے عزم کو واضح کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اس مشکوک صورت حال کی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی نظام میں سیاسی طاقت کے توازن میں عسکری اداروں کا پلڑا اب بھی بھاری ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker