تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بھارت کے انتشار میں پاکستان کی کامیابی تلاش نہ کریں

نئی دہلی کے تین روزہ فسادات کی آگ اگرچہ ٹھنڈی پڑ رہی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں اٹھنے والے سوالات ایسے سلگتے انگاروں کی صورت اختیار کررہے ہیں جن کا جواب ہندوستان کے اندر یا باہر کسی کے پاس نہیں ہے۔ بھارت کی حکمران پارٹی اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے کی بجائے اپوزیشن اور نئی دہلی کی حکومت پر الزام تراشی کے ذریعے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرنے کے علاوہ ذمہ داری سے گریز کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔
سرحد پار پاکستان میں ایک طرف بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پر رنج و غم کی کیفیت ہے تو بعض حلقوں کی جانب سے ہندوؤں کی انتہا پسندی، قیام پاکستان کی حجت اور بھارت میں فرقہ واریت کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی تقسیم کی وجہ سے ایک نیا ’پاکستان ‘ بننے کی امید سر اٹھانے لگی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ بھارت میں ہندو اکثریت کو جس طرح مسلمان اقلیت کے خلاف اکسایا جارہا ہے اور مختلف عقائد کے درمیان بداعتمادی اور نفرت کی جو دیوار کھڑی ہوگئی ہے، اس کا ایک ہی حل ہے کہ بھارت کے مسلمان اپنے لئے علیحدہ وطن کی کوشش شروع کردیں۔ یعنی وہ محمد علی جناح کے اس نظریہ کو تسلیم کرلیں کہ ہندو اور مسلمان مل کر نہیں رہ سکتے۔ اس’ خواب‘ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستانی عوام پر ٹھونسے گئے اسلامی برتری کے احساس اور جہادی مزاج سے قطع نظر تحت اشعور میں یہ خیال جاگزین ہے کہ حجم اور وسائل کے فرق کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔
ہندوستان میں فرقہ واریت کی بنیاد پررونما ہونے والی تقسیم اور بداعتمادی میں، اندر سے ہندوستان کو ٹوٹتا دیکھ کر پاکستانیوں میں اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش ایک فطری خواہش کہی جاسکتی ہے لیکن اس سوچ کو سیاسی ایجنڈا بنانے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کی موجودہ مشکلوں میں کئی گنا اضافہ کرسکتی ہے۔ ہندوستان ٹوٹنے کا ’خواب ‘ تو نہ جانے کب پورا ہو لیکن پاکستان کے اندر موجود اختلافات اور چاروں طرف سے لاحق خطرات کی وجہ سے اس کا اپنا وجود خطرے کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لئے پاکستان کا ہر دوست اور ملک اور اس کے عوام سے محبت کرنے والے سارے عناصر یہی خواہش وکوشش کریں گے کہ بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار پر بین کرتے ہوئے پاکستان میں ایسا کوئی فکری محاذ مستحکم کرنے کی کوشش نہ کی جائے جو ایک نئے جہادی کلچر کو فروغ دے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے شروع ہونے والی تباہ کاری کا سلسلہ ایک نئے طوفان کی شکل اختیار کرلے۔
بھارت میں ہندوتوا نظریات کا فروغ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہندو برتری کی بنیاد پر سیاست کا طریقہ ملک کی داخلی سیاست، لوگوں کے باہمی تعلقات، معاشی احیا، سماجی روابط اور انتظامی و سیاسی ڈھانچے پر دوررس منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اسی طرح جب نفرت اور تشدد کی بنیاد پر بھارت میں توڑ پھوڑ، ماردھاڑ اور گروہی تقسیم کا سلسلہ طول پکڑے گا تو دنیا کے تمام ممالک بھارت کے ساتھ وابستہ اپنے تمام تر مفادات سے قطع نظر ان عوامل کی ہلاکت اور دنیا پر ان کے منفی اثرات کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مودی کی ہندو توا حکمت عملی میں شدت کی صورت میں بھارت میں جاری خوں ریزی کو بہت دیر تک اس کا داخلی معاملہ قرار دینے اور اس سے نظریں چرانے کی پالیسی جاری نہیں رہ سکے گی۔
دنیا اس وقت ضرور مقبولیت پسند لیڈروں کے چنگل میں ہے۔ امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ ، برطانیہ کے بورس جونسن، بھارت کے نریندر مودی اور پاکستان کے عمران خان پاپولزم کے اسی رجحان کی پیدا وار ہیں۔ اس میں عوام کو درپیش مسائل کو سادہ لفظوں میں بیان کرتے ہوئے انہیں اپنی طرف راغب کیا جاتا ہے اور مقامی مسائل یا کوتاہیوں کو دور کرنے کی بجائے کسی ایک گروہ یا طبقہ کو دشمن کا درجہ دے کر اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے علاوہ میکسیکو کے تارکین وطن کو نشانہ بناکر سفید فام امریکیوں کو یقین دلایا کہ اگر ان گروہوں کے خلاف حلقہ تنگ کردیا جائے تو سفید فام امریکی شہری ’عظمت رفتہ‘ یعنی عظیم امریکہ کو ازسر نو دریافت کرسکتے ہیں۔ بورس جونسن جیسے لیڈروں نے برطانوی عوام کو متحدہ یورپی معیشت کے نقصانات کے خلاف یہ کہتے ہوئے اکسایا کہ باہر سے آنے والے لوگ ان کی بہبود اور معاشی بہتری کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے بدعنوانی اورشریف خاندان کو ولن کا درجہ دے کر توجہ و مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
بھارت کے نریندر مودی نے معاشی اصلاح کا نعرہ بلند کرکے سرمایہ دار طبقہ کی حمایت حاصل کی تاکہ سیاست میں آگے بڑھنے کے وسائل فراہم ہوسکیں لیکن وہ جمہوریت کو سیاسی کامیابی کا راستہ بنا کر اس سے نفرت عام کرنے کا کام لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملک میں عقیدہ کی بنیاد پر نفرت کا پیغام عام کرکے ہندوؤں کو اپنی دھرتی پر اختیار حاصل کرنے کا پیغام دیا جارہا ہے۔ اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کو قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ مسلمان نام رکھنے والے افراد اور خاندانوں نے ماضی میں اس ملک پر حکمرانی کی تھی۔ اسی مزاج کی وجہ سے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بنیادوں میں ہندو مقدس ہستیوں کی یادگاروں کو تلاش کیا گیا اور صدیوں سے مسلمان تہذیب کی علامت شہروں کے نام تبدیل کرکے اس تقسیم اور فاصلے کو راسخ کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ان طریقوں سےملک میں یگانگت اور عقیدہ ومذہب سے قطع نظر قانون و آئین کے تحت سب کے لئے مساوی حقوق کے اصول کو روندنے کا اہتمام کیا گیاہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے اقدامات اور اس سال کے شروع میں منظور کیا گیا ترمیمی شہریت قانون اسی مزاج اور حکمت عملی کا شاخسانہ ہے۔ اس قانون کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے اور ہندوؤں کو دراصل دھرتی کے سپوت قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمان اور غیر مسلموں کو یکساں طور سے بھارت کا دشمن اور اس کی روایات کا غدار کہا جارہا ہے۔
نفرت کی بنیاد پر حاصل کی گئی سیاسی مقبولیت اگرچہ ہر معاشرہ اور نظام کے لئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے لیکن امریکہ اور یورپی ممالک میں جہاں جمہوریت کی جڑیں گہری اور ریاستی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، یہ امید کی جارہی ہے کہ سیاسی مقبولیت کی اس لہر کو جمہوری شعور کے ذریعے ’مینیج‘ کرلیا جائے گا۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اگر سال رواں کا انتخاب جیت کر مزید چار سال کے لئے صدر منتخب ہو بھی جائیں تو بھی امریکی نظام اس نقصان کو برداشت کرنے اور اس سے باہر نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیوں کہ کوئی بھی صدر بہر صورت آٹھ برس سے زیادہ مدت تک اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔ دوسرے وہاں پر جمہوری روایت اور عوامی حقوق کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں گہرا شعور موجود ہے۔ ایک خاص ماحول میں کسی مقبول لیڈر کی حمایت کرنے والے بھی نفرت کا ماحول پیدا ہوتے دیکھ کر اپنی رائے سے رجوع کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہی صورت حال کسی حد تک یورپی جمہوری ملکوں میں بھی موجود ہے جہاں اظہار کی مکمل آزادی کے باوجود جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر نفرت پیدا کرکے مقبولیت حاصل کرنے والے گروہوں سے قانون کی گرفت کی بجائے جمہوری عمل کے ذریعے نبرد آزما ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں مغرب میں پھیلنے والے اسلاموفوبیا کا ذکر کرکے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن ا س کی بنیاد پر ان میں مساوی حقوق کا شعور پیدا کرنے کی بجائے مذہبی شدت پسندی راسخ کی جاتی ہے۔ اس سے خود پسندی یا سیاسی نرگسیت کی کیفیت جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں آباد کمزور طبقے اور مذہبی اقلیتیں نشانہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ابھاری گئی نفرت کی لہر کو پاکستان میں ماضی کی عظمت کی داستانوں کے ساتھ ملاکر پیش کرنے سے ویسا ہی جہادی مزاج مضبوط ہوسکتا ہے، جس نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان کی معیشت اور سماجی ساخت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس وقت ملک صرف بیرونی خطرات اور بھارت کی جارحیت کے خوف میں ہی مبتلا نہیں ہے بلکہ اس کی معیشت اور پیداواری ذرائع بھی ماضی قریب کی گمراہ کن سیاسی اور اسٹریجک پالیسیوں کی وجہ سے خطرناک حد تک متاثر ہوئے ہیں۔ اس تجربہ کی روشنی میں پاکستان میں بھارت کے حالات پر ذمہ دارانہ رائے سازی کی ضرورت ہے ۔ مذہبی منافرت یا گروہی تقسیم سے گریز کرنا ہی پاکستان کے مستقبل کے لئے مناسب اور بہتر ہوگا۔
اہل پاکستان کو 1971 کےسقوط ڈھاکہ سے حاصل کیا ہؤا سبق یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر صرف اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش بننے کی کوشش نہ کرتا۔ جس طرح متحدہ ہندوستان میں پاکستان بنانے کی ضرورت مسلمانوں کے معاشی اور سماجی استحصال کے خاتمہ کے لئے محسوس کی گئی تھی ، اسی طرح شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں مشرقی پاکستان کے لوگوں نےپاکستانی قیادت کے معاشی، سیاسی اور سماجی استحصال کو مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی تھی۔ اس المناک تجربے سے یہی سبق ملتا ہے کہ معاشرہ میں مذہب و عقیدہ کے نام پر احساس برتری پیدا کرنے سے کبھی سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اس کے لئے عوام کے ساتھ مساوی سلوک اورسماجی و معاشی انصاف بے حد اہم ہوتا ہے۔ ماردھاڑ اور نفرت اگر کامیابی کا ذریعہ بن سکتی تو پاکستان کے جہادی دھڑے بھی سرخرو ہوجاتے۔ اس کی بجائے ان کے کارناموں کی وجہ سے ریاست پاکستان داخلی طور سے زبوں حال کا شکار ہوئی ہے اور عالمی سطح پر نکتہ چینی کا سامنا کررہی ہے۔
اگر اسلامی جہادی ہتھکنڈے تباہ کاری کا سبب بنے ہیں تو ہندوتوا کی بنیاد پر تشدد بھی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ تاہم نفرت کے اس طوفان میں لاتعداد انسانوں کو جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو اس تباہی سے محفوظ رکھے۔ یہی وجہ ہے بھارت کے حالات پر پاکستان میں کامیابی کا خواب دیکھنے والوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس مزاج کی سرکاری یا غیر سرکاری حوصلہ افزائی پاکستان کی خستہ حالی میں اضافہ کرے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker