تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔افغان امن پر مایوسی کے سائے اور شاہ محمود قریشی کی غیرضروری توقعات

افغانستان میں امن معاہدہ کے بعد امریکی افواج نے طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے ۔ اس سے پہلے قیدیوں کی رہائی کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے طالبان نے متعدد افغان چوکیوں پر حملے کرکے سیکورٹی فورسز کے متعدد ارکان اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔ جوابی امریکی کارورائی میں طالبان کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو حلیف کے طور پر افغان فورسز پر حملوں کے جواب میں کارورائی کرنا پڑی ہے لیکن امریکہ امن معاہدہ پر پوری طرح عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ طالبان کو بھی چاہئے کہ وہ تشدد کی بجائے تحمل سے کام لیں۔ ان جھڑپوں کے بعد انیس برس انتظار کے بعد ہونے والے امن معاہدہ کے مستقبل پر مایوسی کے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔ تاہم ان جھڑپوں سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق 10 مارچ سے شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ بڑھاہے۔ طالبان نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدہ کے مطابق افغان جیلوں میں قید ان کے پانچ ہزار کے لگ بھگ ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ان مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس طرح امریکہ اگر معاہدہ کے مطابق افغانستان سے اپنے فوجی واپس بلانا شروع بھی کردے تو بھی جنگ زدہ ملک میں پائیدار امن کا امکان نامعلوم ہی رہے گا۔
صدر اشرف غنی کی بظاہر ہٹ دھرمی دراصل ان کی بے چارگی اور سیاسی تہی دستی کی چغلی کھاتی ہے۔ افغانستان میں صدارت کے انتخاب میں شکست کھانے کے باوجود ان کے مد مقابل عبداللہ عبداللہ اپنی شکست تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ دو متحارب سیاسی گروہوں کے درمیان براہ راست تصادم امریکی مداخلت کی وجہ سے تھما ہؤا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے افغان حکومت کا سرپرست ہونے کے باوجود طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنے کی جلدی میں کابل حکومت کو نظر انداز کیا اور اسے امن معاہدہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ معاہدہ میں 10 مارچ سے جو بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، اس میں بھی خاص طور سے افغان حکومت کا ذکر موجود نہیں ہے۔ طالبان نے افغان حکومت اور اس آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جس کے تحت اشرف غنی افغانستان کے صدر کہلاتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کے بعد طالبان کے اس مؤقف کو دستاویزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ افغانستان میں کوئی آئین موجود نہیں ہے اور موجودہ حکومت غیر قانونی اور مسلط کردہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابی سال کی وجہ سے افغانستان سے فوجیں نکالنے کی جلدی تھی۔ اس لئے اس کے نمائیندوں نے ان سفارتی باریکیوں اور اہم نکات پر زور دینے کی بجائے دراصل صرف اس یقین دہانی کی بنیاد پر افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا اقرار کیا ہے کہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ اگرچہ طالبان کے اس وعدہ کو معاہدہ کا اہم ترین نکتہ اور اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے لیکن دراصل طالبان کو افغانستان کی مؤثر قوت تسلیم کرکےاور افغان حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اس معاہدہ میں طالبان کے حق حکومت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ بالواسطہ طور سے اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ افغان عوام کے نمائیندے بین الافغان مذاکرات میں ملک کے نظم و نسق کے حوالے سے فیصلے کریں گے۔ طالبان نے اس طرح اپنے اس مؤقف پر مہر تصدیق ثبت کروا لی ہے کہ افغان حکومت کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔
اشرف غنی دراصل اس ہزیمت کے بعد اپنی حکومت کی اہمیت منوانے کے لئے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ دباؤ کے اس ہتھکنڈے سے طالبان ان کی حکومت کو فریق ماننے پر آمادہ ہوجائیں گے تاکہ انہوں نے سال ہا سال کی محنت کے بعد امریکہ کے ساتھ بین الاقوامی افواج کی واپسی کا جو معاہدہ کیا ہے، اسے برقرار رکھا جاسکے۔ تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ دوحہ میں حاصل کی گئی سفارتی اور سیاسی کامیابی کو طالبان اتنی آسانی سے اشرف غنی کی سیاسی خواہش پر قربان کردیں گے۔ امریکہ بھی اس معاملے میں طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیوں کہ اس نے خود ہی یہ تسلیم کیا ہے کہ مذاکرات طالبان اور افغان حکومت کے مابین نہیں بلکہ افغان گروہوں کے درمیان ہوں گے اور خیر سگالی اور اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے ، افغان جیلوں سے طالبان قیدی اور طالبان کی حراست میں افغان فوجیوں کو رہا کیا جائے گا۔
اس پس منظر میں یہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر مستقبل قریب میں بین الافغان مذاکرات منعقد ہوتے ہیں تو اشرف غنی افغانستان کے صدر کے طور پر ان کا حصہ بن سکیں گے۔ جس صدر کا مدمقابل انہیں منتخب لیڈر ماننے کے لئے تیار نہیں ہے، اسے طالبان کیوں کر افغان حکومت کے سربراہ کے طور پر قبول کرلیں گے؟ امریکہ نے آج طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرکے معاہدہ کی روح سے از خود انحراف کیا ہے۔ 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدہ کے تحت طالبان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے نہ کرنے کا اقرار کیا تھا لیکن اس میں افغان فورسز کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ اب افغان فورسز کو ’حلیف‘ کہتے ہوئے طالبان پر حملے ، معاہدہ کے شروع میں ہی پیدا ہونے والی الجھنوں کو طاقت اور دباؤ کے زور پر حل کروانے کوشش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ امریکہ اور اشرف غنی اس غلط فہمی سے جتنی جلد باہر نکل آئیں، اتنا ہی بہتر ہوگا کہ طالبان اب کمزور پوزیشن میں ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ میں انہیں ایک ’دہشت گرد یا جنگجو‘ گروپ کی بجائے ایک سیاسی قوت کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ اس حیثیت میں طالبان کی سفارتی اور اخلاقی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔
اشرف غنی اور امریکہ طالبان کی پوزیشن کو تسلیم کرکے ہی امن کے لئے متفقہ اقدامات کی طرف پیش قدمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور سے اشرف غنی کو سیاسی اور سفارتی سطح پر اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اب امریکہ کو ڈھال کے طور استعمال کرنے سے گریز کرنا ہوگا تاکہ وہ افغانستان میں تنازعہ کو غیرضروری طور پر طول دینے کا سبب نہ بنیں۔طالبان کے جو لوگ افغان جیلوں میں بند ہیں ، وہ بھی امریکہ کے ساتھ جنگ جوئی کے الزامات میں قید کئے گئے تھے۔ جب امریکہ طالبان کو ایک حقیقت اور سیاسی قوت کے طور پر قبول کررہا ہے، تو اس کا مقصد ہے کہ امریکہ نے طالبا ن کی جنگ جوئی کو ’جائز‘ مان لیا ہے۔ اس جائز جنگ میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی رہائی کو طالبان پر دباؤ کے لئے استعمال کرنا، نہ صرف غلط ہوگا بلکہ اس سے تنازعہ زیادہ پریشان کن رخ اختیار کرسکتا ہے۔
اس دوران سینیٹ میں امریکہ طالبان معاہدہ پر تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے لئے افغانستان میں بھارت کا کسی قسم کا سیکورٹی کردار قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بات اس پس منظر میں کہی ہے کہ ماضی میں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کو اندیشہ ہے کہ اگر بھارت کو افغانستان کی سیکورٹی کے حوالے سے کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ یہ بات کہتے ہوئے البتہ پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یہ مقصد کس طرح حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
موجودہ افغان حکومت نے جسے پاکستان اس ملک کی جائز حکومت مانتی ہے، بھارت کے ساتھ قریبی مراسم استوار کئے ہیں۔ یہ مراسم صرف تجارت یا ترقیاتی شعبوں میں تعاون تک محدود نہیں ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹھوس عسکری تعاون بھی موجود ہے۔ اس تعاون کو بین الحکومتی انتظام کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان اگر اس انتظام کے خلاف ہے تو اس نے اس کے سد باب کے لئے اب تک کون سے اقدامات کئے گئے ہیں؟ کیا طالبان کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدہ میں ’سہولت کار‘ بنتے ہوئے پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ افغان امن معاہدہ میں پاکستان کے عسکری تحفظات کو دور کیا جائے اور افغانستان کی سرزمین کو بھارتی انٹیلی جنس اور عسکری اداروں کی پہنچ سے محفوظ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ پاکستان اگر مذاکراتی عمل کے دوران اپنا یہ جائز مطالبہ پیش کرنے اور منوانے میں کامیاب نہیں ہؤا تو اب اس کی خواہش کا کون احترا م کرے گا۔ سوال بدستور یہی ہے کہ کابل میں قائم ہونے والی نئی حکومت اگر بھارت کے ساتھ عسکری تعاون جاری رکھنا چاہے گی تو پاکستان کس حیثیت میں ایک خود مختار ملک کی حکومت کے فیصلوں پر انگلی اٹھا سکے گا۔
شاہ محمود قریشی نے اقرار کیا ہے کہ پاکستان نہ اس معاہدہ کافریق ہے اور نہ ہی اس معاہدہ کی کامیابی کا ضامن ہے۔ گزشتہ چالیس برس کے دوران افغانستان کے معاملات میں ملوث رہنے کے بعد پاکستان کو آخر کیوں افغانستان کے مستقبل سے متعلق ایک اہم معاہدہ کا فریق نہیں بنایا گیا؟ حالانکہ شاہ محمود قریشی حال ہی میں امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار اور اہمیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ اس معاہدہ کا سارا ہوم ورک پاکستان نے کیا ہے اور اسی نے اس معاملہ میں فریقین کو متفق ہونے کی بنیاد فراہم کی تھی۔ حیرت ہے کہ اتنا اہم کردار ادا کرنے والا ملک ان مذاکرات میں اپنے دفاع سے متعلق بنیادی خدشات کا تحفظ حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔
افغانستان کی جنگ جوئی میں پاکستان پر براہ راست فریق بننے اور طالبان کا سرپرست ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کا کریڈٹ لے کر پاکستان نے بالواسطہ اور براہ راست لگنے والے ان الزامات کو قبول کرلیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا عندیہ دینے کی بجائے ،پاکستان ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف دیکھے۔ وہ اگر بین الافغان مذاکرات کو کامیاب کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اسے انہیں ناکام کروانے کے لئے بھی ہاتھ پاؤں مارنے سے گریز کرنا چاہئے۔
مستقبل کے افغانستان میں پائیدار امن کے لئے صرف بھارت کے عسکری کردار کو ختم کرنا ضروری نہیں ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوگا اگر پاکستان سمیت افغانستان کے سارے ہمسایہ ممالک عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرنے کا واضح اور دو ٹوک اعلان کریں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker