تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔عورت مارچ کی بحث نے معاشرہ کے فکری زوال کو آشکار کیا ہے

عورت مارچ پر فتوؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ شبہات پیدا کرنے کے لئے بھی پورا زور لگایا جارہا ہے کہ 8 مارچ کو ہونے والے اس مارچ کے درپردہ کوئی غیر ملکی ایجنڈا ہے جس سے پاکستان کو کمزور کرنے کا کام لیا جارہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے چند بے ضرر نعرے معاشرے کی تعمیر کا بوجھ اٹھائے جغادریوں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
دلیل، حجت اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھنے والی دنیا میں یہ کام بھی پاکستان کے مبلغ، عالم اور لیڈر ہی انجام دے سکتے ہیں کہ بنیادی حقوق کے لئے کئے جانے والے ایک مظاہرے کو نہ صرف قومی منظر نامہ پر حاوی کردیاجائے بلکہ ان مباحث سے پیدا کئے گئے بے ہنگم شور میں ملک کے مستقبل کے حوالے سے درپیش اہم ترین معاملات کو نظر انداز کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اس صورت حال کو اگر عورت مارچ کو پاکستان کی نظریاتی اساس اور سرحدوں پر حملہ قرار دینے والے عناصر کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو پوچھنا چاہئے کہ اس وقت ملک کو عملی طور سے لاحق خطرات اور اندیشوں کو مسترد کرکے عورتوں کے ایک نعرے پر نفرت انگیز بحث کرنے والےگروہ کس دشمن کے ’ایجنڈے‘ پر کام کررہے ہیں۔
8 مارچ تو گزر ہی جائے گا۔ ایک ڈرامہ باز ڈرامہ نگار کی شروع کی گئی شرمناک بحث کے باوجود ملک کی باشعور خواتین اس روز حسب پروگرام ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا اہتمام بھی کر لیں گی۔ البتہ خواتین کے حقوق کے لئے بیداری کی اس کوشش کو نقصان پہنچانے کے لئے جو عناصر بھی زبان و بیان کی پوری قوت سے مصروف عمل رہے ہیں ، انہیں اس دن کے بعد ضرور سوچنا چاہئے کہ اگر وہ کسی خاص ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں تو وہ ایک ایسے مقصد کی تکمیل میں آلہ کار کیوں بنے جو واقعی اس ملک کو معاشی ، سیاسی، سماجی اور جغرافیائی لحاظ سے کمزور کرنا چاہتا ہے۔
یہ معاملہ کسی مضمون نگار کے دائرہ کار میں نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی رد عمل کے اسباب جاننے کی کوشش کرے اور ان پہلوؤں پر قلم اٹھائے جن کے بارے میں اسے معلومات حاصل نہ ہوں۔ یوں بھی کسی کی نیت پر شبہ کرنا اور ایک بار اس کا تعین کرلینے کے بعد متعلقہ لوگوں پر کیچڑ اچھالنے کی مہم شروع کرنا کسی بھی ذمہ دار شہری کو زیب نہیں دیتا۔ البتہ اس قسم کے اقدامات کے اثرات اور ان سے پہنچنے والے نقصانات کا احاطہ کرتے ہوئے ضرور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ملک میں ایسے منفی مباحث پر میڈیا سمیت معاشرہ کے سارے بااثر طبقات اپنی صلاحیتیں صرف کرنے پر آخر کیوں کمر بستہ ہوجاتے ہیں، جن سے قوم و ملک ایک طرف فکری بحران کا شکار ہوجائے تو دوسری طرف ان مباحث کے ذریعےحقیقی مسائل سے درگزر کا اہتمام کیا جائے ۔
پاکستان کو اس وقت قومی اور بین الاقوامی سطح پر جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ آبادی میں اضافہ، پانی کی قلت، شہروں کی بے ہنگم آبادی، تعلیم کی کمی، سماجی تصادم کی کیفیت، فرقہ پرستانہ تقسیم اور ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات جیسے وسیع البنیاد امور سے قطع نظر پاکستان کو عالمی سفارتی تنہائی، بھارتی جارحیت، افغانستان میں رونما ہونے والے نئے حالات، سیاسی بے چینی، معاشی بد انتظامی کے علاوہ اقتصادی منصوبہ بندی کی شدید قلت ، مہنگائی، طبقاتی تقسیم اور عقیدہ و مذہب کے نام پر پھیلی ہوئی نفرت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ان میں سے ہر معاملہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ملک میں ہم آہنگی پیدا کی جائے، اختلاف رائے کو ایک سلیقہ سے بیان کرنے کا کلچر متعارف کروایا جائے، بہتری کے لئے حامی یامخالف کی تقسیم ختم کرکے یہ شعور پیدا کیا جائے کہ کسی رائے یا مشورہ سے اہل پاکستان کو کس حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مسائل میں کیوں کر کمی کی جاسکتی ہے۔ اس کی بجائے اگر ایسے بحرانی دور میں خواتین کے ایک گروہ کی جانب سے سماجی ناانصافی کے ان پہلوؤں کی نشان دہی کی جاتی ہے جن کا تدارک بطورقوم اس ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہو، تو ان پر غور کرنے اور ان مطالبات کی حمایت میں اپنی آواز ملانے کی بجائے مذہب و اخلاقیات کی آڑ لے کر طوفان بدتمیزی کیوں برپاکیا گیا ہے ۔ دریں حالات اس طریقہ کار کی ضرورت اور اسے برتنے والوں کی نیت کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔
خواتین کو پاکستانی سماج میں ہر سطح پر امتیازی سلوک اور مشکلات کا سامنا ہے۔ جنسی استحصال اور جرائم کے علاوہ، سماجی برابری، حقوق کی فراہمی اور بنیادی سہولتوں کے معاملہ میں ہر سطح پرمتعصبانہ برتاؤ روا رکھا جاتا ہے۔ حتی کہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کم سن بچیوں کو جنسی تشدد و درندگی کا نشانہ بنایا جائے تو اس پر عذر تراشنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس پہلو کو تو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ کیا ہم اپنی خواتین کو جائیداد میں قانونی حصہ دینے پر آمادہ ہوتے ہیں؟
پاکستانی سماج کی ساخت کچھ یوں بنادی گئی ہے کہ گھروں میں لڑکی کو نظرانداز کرکے لڑکوں کی ضرورت پوری کرنا ایک فطری اور ضروری رویہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس ملک کا کون سا ایسا شہری ہے جس نے بیٹی کی ذبردستی شادی اور بیٹوں کی بے راہروی پر آنکھیں بند رکھنے کا رویہ اگر برتا نہ ہو تو اسے دیکھا یا محسوس نہ کیا ہو اور اس پر زبان بند رکھنا ہی ضروری نہ سمجھا ہو۔ یا شاید ملک میں بے حسی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس امتیاز، زیادتی اور قانون شکنی کو محسوس کرنے کی حس و صلاحیت ہی ختم ہوچکی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی گروہ عورت کو صرف صنفی بنیاد پر پرکھنے کی بجائے اس کے ساتھ انسان کی بنیاد پر سلوک کا تقاضہ کرتا ہے یا سماج کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہے تو اس میں خلاف اسلام یا اخلاق سے گری ہوئی کون سی بات ہے؟ لیکن ملک کی آدھی آبادی کو اس بات پر قائل کرلیا گیا ہے کہ اس مساوات کی بات کرنے والے قابل گردن زدنی ہیں۔
یہ رائے کون لوگ استوار رکرہے ہیں؟ اور کون کون سے ادارے ان کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ غور سے دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح خواتین کے حقوق کی بات کو سماجی انتشار کی بحث میں تبدیل کرکے کن کن اداروں کو غیر مؤثر اور ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ اس میں سب سے پہلے میڈیا کا نام آتا ہے۔ ٹاک شوز کی رونق بڑھانے اور مباحث میں گرمی پیدا کرنے کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈے کو ’آزادی رائے‘ کی آڑ میں جائز قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہی میڈیا ملک کے سیاسی، سیکورٹی و اسٹریٹیجک ، خارجہ اور معاشی امور پر کھل کر رائے دینے کا روادار نہیں ہے۔ میڈیا مالکان سرکاری اشتہارات اور مراعات و سرپرستی کے حصول کی خاطر سب سے پہلے آزادی رائے کو ہی قربان کرتے ہیں۔ تاہم سماجی انتشار کے مباحث کو فروغ دینے میں حصہ دار بن کر میڈیا نے ہر طرح کی رائے سامنے لانے کی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے تعصب اور امتیاز سے بھرپور ایک ایسے مزاج کی آبیاری کی ہے جو معاشرے میں نفرت اور تعصب کو راسخ کرنے کا سبب بنے گا۔
اس کے بعد سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں کی باری آتی ہے۔ ملکی حکومت اگر سیاسی انتقام کے لئے ہر ریاستی ادارے کو اپوزیشن لیڈروں کے خلاف استعمال کرنے کا اہتمام کررہی ہے تو اپوزیشن لیڈر پارلیمانی جمہوری نظام میں خود پر عائد آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے منکر ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو پارلیمنٹ میں محض چند ارکان کی برتری حاصل ہے لیکن بھاری بھر کم اپوزیشن کے ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ میں عوامی مسائل پر مباحثہ سننے کو نہیں ملتا البتہ یہ گفتگو زور شور سے کی جاتی ہے کہ کس گروہ کے کون سے نعرے سے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس بات چیت میں جس ’نظریہ‘ کو محفوظ بنانے کی بات کی جاتی ہے اسے گروہی یا ذاتی مفاد کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔
اس بحث میں سب سے نمایاں ملک کا دین دار طبقہ یا مذہبی رہنما ہیں۔ یہ لوگ بعض بیانات، کسی ایک گفتگو یا نعرے کی بنیاد پر فتوؤں کی پٹاری چوراہے کے بیچ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی اس ملک کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی سماجی علتوں کا شکار عناصر کی حمایت میں دین کے احکامات سنا کر معاملہ ٹھپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہاپسند گروہوں کے تشدد کو انسانیت پر ظلم قرار دینے والے کتنے مسلمان مذہبی رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان میں اقلیتی ارکان کو قتل کرنے، ان کے گھروں کو جلانے یا کسی قصور کے خلاف قید کرنے جیسے واقعات کے خلاف آواز بلند کی ہو؟ البتہ ا س ملک کے در و دیوار نے ایک بے گناہ کو پھانسی کا حکم دینے سے انکار کرنے والے ججوں کے خلاف صاحبان جبہ و دستار کی چیخ و پکار ضرور سنی ہے۔
میڈیا، سیاستدان اور علمائے دین اس سماج کے اہم ادارے ہیں۔ ان پر معاشرتی تشکیل و تعمیر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن عورت مارچ کی بحث میں ان سارے عناصر نے مل کر نفرت و عناد کا ایسا ماحول پیدا کیا ہے کہ معاشرے کی رہی سہی ساکھ بھی برباد ہوگئی۔ لیکن سب سے بڑا نقصان یہ ہؤا ہے کہ اہم امور پر غور و فکر کا راستہ مسدود کردیا گیا۔ قوم و ملک کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈالا گیا اور معاشرے کے ان تین اہم شعبوں کو جزو معطل بنا دیا گیا۔ فکری زوال وبے راہری کی اس سے بدتر مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔
اگر یہ ملک و قوم کے خلاف کوئی سازش ہے تو جاننا چاہئے کہ اس سازش کا محرک کون ہے۔ پیش منظر میں تو صرف گماشتے دکھائے دیتے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker