تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : عورت مارچ ، برقع پوش مرد اور حیا والوں کی بے حیائی

اسلام آباد میں عورت مارچ کے جلوس پر حملہ کیا گیا۔ جوتے، لاٹھیاں اور پتھر پھینکے گئے۔ اس طرح تقدیس مشرق کے پاسبانوں نے واضح کردیا کہ مغرب سے درآمد کردہ ’بے حیائی‘ قابل قبول نہیں ہے۔ اگر یہ بے حیائی سماج میں عزت و وقار سے جینے اور مرد کے مسلط کردہ جبر سے آزادی کا نام ہے تو اس کا مظاہرہ تو خود حیا مارچ والوں نے بھی اپنے طور پر کیا۔ اس طرح بحث کے فریق اس بنیادی نکتہ پر متفق ہوگئے کہ کسی بھی معاشرہ میں کسی بھی نام سے کسی بھی طبقہ کو اس کے بنیادی انسانی حق سے محروم رکھنا قابل قبول طریقہ نہیں ہوسکتا۔
خواتین اور معاشرہ کے مظلوم و پسماندہ طبقات کے حقوق و تحفظ لئے پندرہ رکنی منشور کے تحت ملک بھر میں عورت مارچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پاکستان کی نامعلوم اخلاقی اقدار کی پاسبانی کے نام پر اس مارچ یا عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے مساوی حقوق کے مطالبات سامنے لانے کی اس کوشش کو گزشتہ کچھ عرصہ سے متنازعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اس بحث میں سیاست دانوں سے لے کر عام شہریوں تک نے بھرپور حصہ لیا اور ٹی وی ٹاک شوز نے اس موضوع پر اختلاف رائے سامنے لانے کا پورا موقع فراہم کیا۔ ان شوز کی آمدنی کا ذریعہ ہی کوئی تنازعہ کھڑا کرکے ریٹنگ اور اس کے نتیجہ میں اشتہاروں کا حصول ہوتا ہے لہذا عورت مارچ پر شروع کئے گئے مباحث سے ملنے والے موقع کو ’جانے نہ پائے‘ سمجھ کر برتنے اور تقسیم در تقسیم معاشرے میں مزید انتشار پیدا کرنے کے لئے بھرپور طور سے استعمال کیا گیا۔ تاہم آج جب عورت مارچ کے مقابلے میں منعقد ہونے والے مظاہروں حیا مارچ اور تکریم نسواں مارچ منعقد کرکے انہیں نعروں کو اپنانے کی کوشش کی گئی تو اس سے یہ تو واضح ہوگیا کہ مسئلہ خواتین کے حقوق کے لئے اٹھائی جانے والی آواز کا نہیں ہے بلکہ یہ آواز بلند کرنے پر اجارہ داری کا ہے۔
2020 کے یوم خواتین نے پاکستان کے حوالے سے یہ پیغام دیا ہے کہ معاشرے میں مساوات اور بعض سماجی علّتوں کے خلاف جد و جہد کے لئے بھی ’کیریکٹر سرٹیفکیٹ ‘ لینا ضروری ہے۔ حیا مارچ اور تکریم نسواں مارچ والوں نے چونکہ بزعم خویش یہ اسناد جاری کرنے کے جملہ حقوق اپنے نام ’ رجسٹر ‘ کروارکھے ہیں لہذا انہیں دوسروں پر طعنہ زنی کرنے اور سماجی انصاف کے حصول کی ایک جائز بحث کو کفر و اسلام کی جنگ بنانے کا اختیار بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ شاید اسی اختیارکو برتتے ہوئے آج اسلام آباد میں عور ت مارچ پر حملہ کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ گویا یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگر اس ملک کی عورتوں کو کسی قسم کی سہولت چاہئے تو ا س کے لئے پہلے کلیرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اور یہ سرٹیفکیٹ صرف ان گروہوں کو جاری کیا جاسکتا ہے جو سماجی استحصال کے موجودہ نظام کے سرپرستوں کی بالادستی قبول کرنے کا اعتراف کریں۔ عورت مارچ کا اہتمام کرنے والی خواتین کا سب سے بڑا قصور شاید یہی ہے کہ وہ اس اجارہ داری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
گالی گلوچ ، طعنوں، الزامات، سازشوں کے انکشافات، دین سے انحراف اور سماجی و اخلاقی اقدار سے روگردانی کے نعروں کے باوجود یہ واضح ہوگیا کہ ملک بھر میں خواتین کی بڑی اکثریت ان حقوق کی جد و جہد میں کسی گروہ یا طبقے کی بالادستی قبول کرنے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ وہ مولوی یا مولوی نما سیاست دانوں کی قیادت و سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ایک خود مختار پلیٹ فارم سے عورتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر اصرار کررہی ہیں۔ ایسے میں ان کے مقابلے میں حیا مارچ اور تقدیس نسواں مارچ کا اہتمام کرلیا گیا۔ اس بدحواسی میں یہ نکتہ فراموش کردیا گیا کہ اگر خواتین کے لئے مساوی حق مانگنا کسی مذہبی حکم یا اخلاقی قدر کے خلاف نہیں ہے تو اسے عورت مارچ کے بینر تلے مانگنا کیوں کر غیر اسلامی اور غیر اخلاقی قرار پاتا ہے ۔ اور کسی مارچ میں حیا اور تقدیس نسواں شامل کرنے سے وہی مطالبے کیسے جائز اور درست ہوجاتے ہیں۔
قول و فعل کا یہی تضاد دراصل عورت مارچ کی ضروت اور طاقت بن چکا ہے۔ جو مذہبی گروہ آج مختلف بینرز کے تحت اسلام کو خواتین کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلے تھے، وہ دراصل وہی لوگ ہیں جنہوں نے عقیدہ و مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرے میں صنفی امتیاز کی بنیاد رکھی ہے اور کسی بھی طرح اسے مسلط رکھنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ حیا ا ور عورتوں کی تکریم کے عنوان سے نکالی جانے والی ریلیاں دراصل دین کے ان اجارہ داروں کا اعتراف گناہ ہے لیکن وہ اپنے جرائم کا بوجھ بھی ان خواتین پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جوبالآخر معاشرے سے صنفی امتیاز کو ختم کروانے کا نعرہ لے کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
اب کبھی ان منتظمین کے سماجی رتبے پر سوال اٹھایا جاتا ہے ، کبھی شرکا کے لباس کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور کبھی مظاہرے کے دوران اٹھائے گئے بینرز کو بنیاد بنا کر اسے کفر و حق کی جنگ کا رتبہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ سادہ سی بات تو یہ ہے کہ اگر اسلام میں عورتوں کو خودمختارانہ سماجی رتبہ حاصل ہے اور بعض ناقص سماجی رسم و رواج نے بوجوہ ان کا یہ حق سلب کیا ہؤا ہے تو اسلامی روایت اور شرع کے پاسبانوں کو تو ان خواتین کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے ایک سنگین کوتاہی کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور اسلام کے پاسبانوں کو اس کی تلافی کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہیں تو اس جد و جہد میں ان کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے۔ کجا کہ گالی سے لاٹھی تک ہر حربہ آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے برعکس جب اسلام کو نسوانی حقوق کا محافظ قرار دیتے ہوئے ، ان کی تکمیل کا تقاضہ کرنے والوں کے خلاف استحصال و جبر کے پرانے ہتھکنڈے بروئے کار لائے جاتے ہیں اور انہیں الزامات اور فتوؤں کی زد پر لیا جاتا ہے تو اس سے ان قوتوں کا مکروہ چہرہ عیاں ہوتا ہے جو کسی بھی معاشرے میں عدم مساوات کے ماحول سے توانائی حاصل کرتی ہیں ۔ خواتین کے ایک گروہ کے چیلنج سے انہیں اپنی اس طاقت اور برتری کو خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ اس لحاظ سے عورت مارچ کی منتظمین ، پاکستانی سماج میں صرف خواتین کے حق کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ وسیع تر سماجی بیداری کے لئے بھی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہورہی ہیں۔
اسلام آباد میں یک طرف عورت مارچ پر حملہ کیا گیا اور متعدد خواتین کو زخمی کرکے بدحواس کرنے کی کوشش کی گئی۔ لال مسجد فیم مولوی عبدالعزیز کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسلام کے ایک ’مجاہد‘ نے برقع پہن کر عورتوں کے جلوس میں گھسنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تو دوسری طرف ملک میں سخت گیر شرعی نظام کی علمبردار جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے عورت مارچ کے مقابل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عورتوں کو وراثت میں شرعی حق دینے کی بات کی۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جماعت اسلامی آئیندہ کسی ایسے شخص کو انتخابات میں پارٹی کا ٹکٹ جاری نہیں کرے گی جو اپنی بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے سے انکار کرتا ہو۔ عورتوں کو ان کا حق دلوانے کے اس ’انقلابی‘ نعرے کے ذریعے ملک میں رجعت پسند قوتوں کے سرپرست رہنما نے دراصل یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں بھی ایسے پاکبازوں کی کمی نہیں ہے جو ملک میں اسلامی نظام تو لانا چاہتے ہیں لیکن اپنی بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ سراج الحق کو سوچنا چاہئے کہ جب ان کی اپنی صفوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی احکامات اور ملکی قوانین سے انحراف کرنے والے اس قدر طاقتور ہیں تو عام طور سے معاشرے میں خواتین کو اپنی بات کہنے، حق لینے اور عزت سے زندگی گزارنے کے لئے کن اور کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
عورت مارچ کے مخالف گروہوں اور لیڈروں کو سوچنا ہوگا کہ ان مٹھی بھر خواتین اور ان کے چند اکسانے والے پوسٹرز یا نعروں سے پہلے، کبھی عورتوں کو حقوق دلوانے اور معاشرے میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں کسی لیڈر یا ملاّ کو بات کرنے اور احتجاج کی ضرورت کیوں پیش نہیں آئی۔ سراج الحق ہی بتادیں کہ ان کی اپنی جماعت کو ملکی تاریخ میں پہلی بار کیوں یہ احساس ہؤا ہے کہ اپنی بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے سے انکارکرنے والے لوگ سماج دشمن ہیں۔ اگر انہیں اپنے قول و فعل کے تضاد کا احساس ہورہا ہے تو اس کی تلافی کے لئے انہیں خواتین کے ایک گروہ کو نشانہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ کیا اس رویہ کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ عناصر دین اور رواج کے نام پر عورتوں کو معاشرے کا دو نمبر شہری بنانے کے ضامن بنے ہوئے ہیں۔ وہ درحقیقت اس اصول کے داعی ہیں کہ عورت کو ملنے والی کوئی سہولت اس کا پیدائشی انسانی حق نہیں ہے بلکہ مرد کی دین ہے۔ جب مرد کا دل کرے گا وہ عورت پر احسان کرتے ہوئے اسے بھیک میں کچھ سہولتیں دے گا اور جب وہ مناب نہیں سمجھے گا تو اس سے انکار کردے گا۔ سراج الحق اور ان کے ہمنواؤں کو عورت مارچ کا یہ پیغام ہے کہ اب ملک کی خواتین اپنے حق کے لئے مردوں کی احسان مند نہیں ہونا چاہتیں۔ وہ اس اصول اور روایت کو مسترد کرتی ہیں۔
اگرچہ عورت مارچ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کا ہدف فی الوقت 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر پاکستان میں عورتوں کے ساتھ برتے گئے غیر منصفانہ سلوک کی طرف توجہ دلوانا تھا لیکن دراصل یہ آواز ایک ایسی بڑی تحریک کا پیش لفظ ہے جو اس ملک میں برپا ہونے کے لئے بے تاب ہے۔ یہ نعرے ملک میں دہائیوں سے جاری ناانصافی، ظلم اور زیادتی کا خاتمہ چاہنے والوں کی للکار ہے۔ اب اس پکار کو دعوؤں، وعدوں، دھتکار یا الزام تراشی سے دبانا ممکن نہیں ہے۔ عورت مارچ کے خلاف اٹھایا گیا تحریر و بیان کا طوفان درحقیقت اسی خوف کا اظہار ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker