تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔کورونا کا خطرہ اور اسد عمر کی گلفشانی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیاتی امور اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے اموات کی شرح دنیا بھر کے مقابلے میں کم ہے البتہ اس وبا کی وجہ سے ملکی معیشت پر ابتر اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا سے 24 افراد جاں بحق ہوتے ہیں، اس طرح مہینہ بھر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 720 بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹریفک حادثات میں ملک میں ہر ماہ چار ہزار لوگ جان سے جاتے ہیں۔ ان اموات کو روکنے کے لئے کوئی یہ نہیں کہتا کہ ٹریفک کو بند کردیا جائے۔
اسد عمر تحریک انصاف کی حکومت میں پڑھے لکھے اور ہوشمند رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پارٹی میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث انہیں اس وقت نائب وزیر اعظم کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ میڈیا میں اس تاثر کو یا تو پارٹی اور عمران خان ارادتاً قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا حکومتی حلقوں کے قریب رہنے والے اور درون خانہ خبریں نکالنے والے صحافی خود اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسد عمر کو اس وقت عمران خان کے بعد سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف عمران خان کے قریب ہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ سے قربت کا یہ عالم ہے کہ جب لاک ڈاؤن کے بارے میں وزیر اعظم مسلسل شبہات پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے اور سندھ حکومت کے اقدامات کو غریب دشمن قرار دے کر دعوے کررہے تھے کہ وہ ایسے لاک ڈاؤن کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے غریب بھوک سے مرنے لگے، عین اس وقت عسکری حلقوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ’کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر‘ بنا کر ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کو اس کا نگران بنا دیا۔ البتہ حکومتی نمائیندے کے طور پر اسد عمر کو اس نئے ادارے کا سربراہ بنایا گیا۔
اسد عمر کو ایک طرح سے کووڈ۔19 کے خلاف عملی اقدامات کرنے والی ’اتھارٹی‘ اور حکومت یا وزیر اعظم کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ وہ کنٹرول ایند کمانڈ سنٹر کے ’سربراہ‘ کے طور پر کورونا کے خلاف عملی طور سے کئے جانے والے اقدامات کی معلومات میڈیا کے ذریعے عام کرتے ہیں لیکن عمران خان کے وفادار کے طور پر یہ ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے سر لی ہوئی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی مخالفت میں کوئی ایسی بات کریں جس سے لوگوں کے دلوں میں شبہات اور بے یقینی میں اضافہ ہو۔ ٹریفک حادثات میں مرنے والے لوگوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے جس طرح کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا ذکر کیا ہے ، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کرنے والی اتھارٹی اور بظاہر حکومت سنبھالے ہوئے وزیر اعظم کی خواہشات کے درمیان پل بنانے میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں۔ اسی بدحواسی میں وہ ایسے بیان دینے پر مجبور ہیں جو نہ صرف سفاکانہ ہیں بلکہ عقلی حوالے سے بھی انہیں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا کا کوئی بھی ذمہ دار شخص کسی ایک سانحہ کا دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے پہلے کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ لیکن اسد عمر نے ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کے اعداد وشمار بتا کر کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کو ’جائز‘ قرار دینے کی عجیب و غریب کوشش کی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اگر ٹریفک اموات کو روکنے کے لئے ٹریفک نہیں روکی جاسکتی تو کورونا کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کیسے کیا جاسکتا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت شاید دنیا کے وہ واحد سربراہ حکومت ہیں جو کسی بھی قیمت پر معیشت بحال کرکے نومبر میں صدراتی انتخاب سے پہلے اپنے لئے امکانات پیدا کرنے کے خواہش ہیں۔ وہ اس جوش میں ہمہ قسم کی احمقانہ تجاویز اور مشورے دیتے رہے ہیں ۔ ان میں ایک یہ مشورہ بھی شامل تھا کہ صفائی کے لئے استعمال ہونے والی جراثیم کش دواؤں کو انسانی جسم میں داخل کرنے کا کوئی طریقہ اختیا رکیا جائے یا تیز روشنی کو کسی طرح انسانی جسم میں داخل کرکے، کوروناوائرس کو ختم کیا جائے۔ صدر کے بیان نے وہائٹ ہاؤس کی قیادت اور ری پبلیکن پارٹی کے زعما کو اتنا شرمندہ کیا کہ یہ بیان دینے کے بعد سے ٹرمپ کو روزانہ کی بنیاد پر شام کو پریس بریفنگ کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔ کورونا ختم کرنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیر ضروری گرمجوشی کے باوجود انہوں نے کبھی یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کیا کہ 35 کروڑ آبادی کے امریکہ میں اگر ساٹھ ستّر ہزار لوگ کورونا سے مرجاتے ہیں تو کیا ہؤا، ٹریفک حادثات اور دیگر عوامل کی وجہ سے بھی تو لوگ مرتے ہی رہتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 45 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ دو سو ممالک اس وبا سے اپنے شہریوں کو بچانے کے اقدامات کررہے ہیں۔ کسی ملک ، عالمی ادارہ صحت یا کسی ماہر نے یہ حجت پیش نہیں کی کہ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ چار ماہ میں اگر پونے آٹھ ارب کی آبادی میں اڑھائی لاکھ لوگ اس وائرس کی وجہ سے مر گئے ہیں تو کیا ہؤا، اس عرصے میں ویسے بھی تو دو کروڑ کے قریب لوگ انتقال کرچکے ہیں۔ یعنی روزانہ کی بنیاد پر دنیا میں پونے دو لاکھ لوگ کسی نہ کسی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ اگر کورونا کی وجہ سے روزانہ پانچ چھ ہزار لوگ مرجاتے ہیں تو دنیا کا کاروبار بند کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی معیشت دان ، سیاست دان یا سائنسدان کو وہ نکتہ پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی جو آج اسد عمر نے نہایت آسانی اور بھولپن سے پیش کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی بہت سادہ ہے۔ کووڈ۔19 ایک عالمی وبا ہے۔ اسے کنٹرول کرنے اور انسانی آبادی کو اس سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ کیوں کہ عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی یا سماجی پابندیوں کے ذریعے اگر روک تھام کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو وبا تیزی سے پھیلے گی اور اس کی ہلاکت کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ کسی وبا کو روکنے کے اقدامات نہ کئے جائیں تو اس سے ناقابل یقین ہلاکت و تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے کورونا کو صرف ان اعداد و شمار کی روشنی میں نہیں دیکھا جاسکتا جو سامنے آئے ہیں بلکہ ان اندیشوں کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی جو وباؤں سے نمٹنے کے لئے انسانی تجربے کا حصہ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں حکومت کے ترجمان البتہ کورونا کا ذکر کرتے ہوئے نہ عقلی جواز پیش کرسکتے ہیں اور نہ ہی بہادری سے کوئی ٹھوس سیاسی فیصلہ کرنے کے قابل ہیں۔ وزیر اعظم کورونا سے بچاؤ کے لئے لاک ڈاؤن کو امرا اور اشرافیہ کا فیصلہ قرار دیتے ہیں لیکن اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ پھر ملک میں کس نے لاک ڈاؤن کررکھا ہے۔ کون سے ایسی طاقت ہے جو ملک کے بااختیار اور غریب دوست وزیر اعظم کی مرضی نہیں چلنے دیتی اور ملک میں 9 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ گو کہ اسے سمارٹ لاک ڈاؤن کہا گیا ہے لیکن کیا کسی پابندی کو رکاوٹ کہنے سے اس کا اثر اور صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے؟
اسی طرح اسد عمر نے جس میڈیا بریفنگ میں یہ ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ٹریفک حادثات میں لوگ کورونا اموات کے مقابلے میں 6 گنا مرتے ہیں، اسی میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پاکستان لاک ڈاؤن کو مکمل طور سے ختم کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر وبا پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کنٹرول میں ہے اور اس کے پھیلنے کا اندیشہ نہیں ہے تو پھر حکومت حوصلہ کرکے ہر قسم کی پابندیاں ختم کرنے اور معیشت بحال کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟
اسد عمر نے پریس کانفرنس میں معیشت پر کورونا وائرس کے مرتب ہونے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے صرف ایک ماہ میں محاصل سے حکومت کی آمدنی 119 ارب روپے کم ہوگئی ہے۔ 7 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے جاسکتے ہیں جبکہ بیروزگار افراد کی تعداد میں ایک کروڑ 80 لاکھ کا اضافہ ہوجائے گا۔ یہ المناک اعداد و شمار ہیں۔ لیکن سب سے بنیادی سوال تو یہ ہے کہ اگر پاکستان میں لاک ڈاؤن نہ کیا جاتا اور معیشت حسب معمول کام کرتی رہتی تو کیا ملک کو اس مشکل صورت حال سے بچایا جاسکتا تھا؟ اس کا دوٹوک جواب نفی میں ہوگا۔ کیوں کہ گلوبلائز معیشت میں کوئی ملک ایک ایسے وقت میں خوشحالی کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا جب پوری دنیا میں کساد بازاری ہو، کاروبار بند ہوں، پیداوار ختم ہوچکی ہو اور موصلات روک دی گئی ہوں۔ پاکستان عالمی سماج اور معیشت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اگر پاکستان میں لاک ڈاؤن نہ بھی ہوتا تو بھی معیشت رک جاتی۔ تمام عالمی منڈیاں بند ہونے کی وجہ سے برآمدات نہیں ہوسکتی تھیں، روزگا رختم ہونے کے نتیجہ میں عرب ممالک سے آنے والا زرمبادلہ کم ہوجاتا اور جب عالمی طلب میں کمی کی وجہ ملک میں پیداوار بند ہوتی تو اس کا اثر سروسز کے شعبہ پر بھی پڑتا اور لوگ بھی بڑی تعداد میں بے روزگار ہوتے۔
اسد عمر سمیت تحریک انصاف کی حکومت کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایک وبا کے سوال پر سیاست کرکے ملک اور اس کے عوام کی کوئی خدمت نہیں کررہے۔ لاک ڈاؤن کو ایک ضروری عملی اقدام تسلیم کرنے کی بجائے اسے سیاسی ہتھکنڈا بنایا گیا ہے۔ اس سے عوام میں بے چینی اور بے یقینی بڑھی ہے اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان درست کہتے ہیں یا ہر نکڑ پر کھڑی پولیس اور فوجی دستوں کی طرف سے لوگوں کی آمد و رفت روکنا درست فعل ہے۔ پاکستان میں اعداد وشمار کے ناقص نظام اور کورونا کی نشاندہی کے لئے مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سرکاری ادارہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ درحقیقت ملک میں کوروناسے متاثرین کی کیا تعداد ہے۔ وزیر منصوبہ بندی صرف برطانیہ اور امریکہ میں ہونے والی ہلاکتوں کا پاکستان کی معلوم ہلاکتوں سے مقابلہ نہ کریں تو بہتر ہوگا ۔
دنیا میں کورونا کی صورت حال کا اندازہ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔ مثلاً برطانیہ کی آبادی ساڑھے چھ کروڑہے لیکن وہاں روزانہ ایک لاکھ لوگوں کا کورونا ٹیسٹ ہوتا ہے جبکہ 22 کروڑ آبادی کے پاکستان میں یہ تعداد سات آٹھ ہزار روازانہ سےنہیں بڑھ سکی۔ صرف اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کورونا وبا کے حوالے سے ملک کس قدر خطرناک صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker