تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔عمران خان لاک ڈاؤن کے خلاف’ جنگ‘ جیت کر کورونا سے کیسے نمٹیں گے؟

ملک میں کورونا وائرس کی ابتر ہوتی صورت حال میں وزیر اعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے اور مرحلہ وار کاروبار زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر پریس بریفنگ میں ان کا مؤقف طبی سے زیادہ سیاسی اور سماجی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غریبوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے لاک ڈاؤن جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے انہی غریبوں کو متنبہ بھی کیا ہے کہ اگر انہوں نے ’احتیاط‘ نہ برتی اور سماجی دوری اختیار نہ کی تو حکومت سخت لاک ڈاؤن پر مجبور ہوجائے گی۔ ہمیشہ کی طرح وزیر اعظم کی باتیں ’معمولی عقل‘ کے لوگوں کی فہم سے بالا ہیں اور وہ انہیں سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کورونا وائرس سے پھیلنے والی وبا سے نمٹنے کے لئے عمران خان نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اسے بعض لوگ تضادات کا مجموعہ قرار دیتے ہیں اور اس بات کے ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہیں کہ عمران خان بیک وقت مختلف باتیں کرتے ہیں۔ وہ کبھی لاک ڈاؤن کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہیں اور کبھی اسے اشرافیہ کی طرف سے نافذ کیا ہؤا جبر کہتے ہیں جس کی وجہ سے غریب اور نچلے طبقے کے لوگ سخت مشکل کا شکار ہیں اور انہیں روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عمران خان نے اب وائرس کی غیر واضح صورت حال کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی ، صنعتوں اور مواصلات کی بحالی کا اعلان کرکے اشرافیہ کی ’سازش‘ کو ناکام بنایا ہے ۔ وزیر اعظم کے ان نیک دلانہ اقدامات کے بعد یہ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ کورونا وائرس بھی عمران خان کی غریب نوازی کا احترام کرتے ہوئے پاکستان سے کوچ کرنے میں ہی عافیت سمجھے گا۔
اس دوران طبی ماہرین کے خیال میں مئی کے دوران ملک میں کورونا وائرس پھیلنے اور عروج پر پہنچنے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار سے زائد لوگ کورونا سے متاثر ہورہے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی چالیس افراد روزانہ تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کے بارے میں اصولی اختلاف کی صورت حال اور وزیر اعظم کے بیانات اور زمینی حقائق میں بُعد کی وجہ سے کورونا وائرس کے خلاف متفقہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جاسکی ۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے فروری میں کورونا کا پہلا مریض سامنے آنے کے بعد اس معاملہ پر دنیا بھر سے سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر سماجی دوری، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی سہولتوں کا انتظام کرنے کی پالیسی تیار کی تھی۔ اپنی سربراہی میں انہوں نے ایک ٹاسک فورس بھی بنائی تھی جس کے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر منعقد کئے گئے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کا اہتمام کیا جاسکے۔
شروع میں تو وفاقی حکومت نے سندھ میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں وہی رویہ اختیار کیا جو یورپی ملکوں اور امریکہ نے چین کے بارے میں ظاہر کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا خیال تھا کہ کورونا چین کا مسئلہ ہے ۔ یہ دونوں بلکہ اس بات پر مطمئن تھے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کئے جانے والے لاک ڈاؤن سے چینی معیشت دباؤ کا شکار ہوگی اور اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوگی۔ اس طرح امریکہ اور یورپ ایشیا میں اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ مل کر چین کے اس بحران کا معاشی اور اسٹریجک فائدہ اٹھا سکے گا۔ تاہم مارچ کے دوران ان امیدوں پر پانی پھرنے لگا اور ایک کے بعد دوسرا ملک اس عالمی وبا کا شکار ہونے لگا۔ اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں سنجیدگی اختیار کرنے میں ناکام رہے ۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کورونا متاثرین کا ایک تہائی امریکہ میں ہیں اور وہاں اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ امریکہ میں کووڈ۔19 سے مرنے والوں کی تعداد چین میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد سے بڑھ چکی ہے۔
پاکستان میں سندھ حکومت کے اقدامات کے بارے میں بھی مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم نے ویسی ہی لاتعلقی اور بے گانگی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم جب رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے بعد اور سعودی عرب سے عمرہ زائرین کی واپسی کے ساتھ کورونا وائرس خیبر پختون خوا اور پنجاب میں بھی پھیلنا شروع ہؤا تو اس حوالے سے عجلت میں اقدامات کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان فیصلوں میں یک سوئی نہیں تھی۔ لاک ڈاؤن کیا بھی جارہا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کے خلاف بیانات بھی جاری ہورہے تھے۔ یہ معلوم بھی تھا کہ یہ وائرس انتہائی تیزی سے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے لیکن کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو ضروری حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں ہوسکا ۔ شروع میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے متعدد ڈاکٹر اور عملہ کے دیگر لوگ محض حفاظتی کٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس وائرس کا شکار ہوئے۔
دنیا بھر کے ممالک میں عوام اور حکمران یکساں طور سے طبی عملہ کی خدمات اور انتہائی خطرے کے باوجود بے لوث محنت کی توصیف کررہے تھے اور نجی و سرکاری شعبے ڈاکٹروں اور نرسوں کو سہولتیں بہم پہنچانے، مفت سفر، کھانا یا مشروبات کی فراہمی کے انتظامات کئے جارہے تھے تاکہ یہ لوگ دل جمعی سے مریضوں کی دیکھ بھال کرسکیں۔ تاہم ایسے وقت میں پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں ڈاکٹر حفاظتی ساز و سامان کی فراہمی کے لئے احتجاج اور بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوچکے تھے۔ ایک طرف پولیس ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کررہی تھی تو ملک کی ایک ہائی کورٹ ڈاکٹروں کے احتجاج کو سیاسی قرار دے کر مقدمہ خارج کرنے کے علاوہ ان پر جرمانہ عائد کررہی تھی۔ یعنی کورونا کے خلاف جنگ میں اس سے لڑنے والے ’فوجیوں‘ کو ہی بے حوصلہ کرنے کی کوشش ہو رہی تھی۔
اس دوران ملک کے صنعت کاروں نے اپنے طور پر کوشش کرکے حفاظتی کٹس ، ماسکس اور دستانے وغیرہ تیار کرنے کا اہتمام کیا ۔ اور حفاظتی ساز و سامان کی فراہمی کسی حد تک ممکن ہوسکی۔ اب وفاقی وزرا اس ’کامیابی‘ کا سہرا بھی اپنے ہی سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس دوران چین کے تعاون سے کورونا ٹیسٹ کرنے کی سہولتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن دنیا کے مقابلے میں اب بھی پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ٹیسٹ کرنے کی تعداد بہت کم ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران ملک بھر میں روزانہ دس سے بارہ ہزار ٹیسٹ کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اسی رفتار سے کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ بھی ریکارڈ کیاجارہا ہے۔ اس سے یہ اندیشہ قوی ہوجائے گا کہ ملک میں کئی لاکھ لوگ کورونا سے متاثر ہیں اور مناسب لاک ڈاؤن نہ ہونے اور ٹیسٹس کے ذریعے ان کا سراغ نہ لگانے کی وجہ سے ان کا پتہ نہیں لگایا جاسکا۔ وائرس کا شکار ان نامعلوم لوگوں کو چونکہ علیحدہ رکھنے کا اہتمام نہیں ہوسکتا ، لہذا وہ اس دوران یہ لوگ وائرس کیرئیرز کے طور پر معاشرے میں گھومتے پھرتے رہے ہیں۔ ملک کی جن آبادیوں میں سماجی دوری کے بنیادی اصولوں پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا، ان میں کورونا پھیلنے کا امکان بھی زیادہ ہے۔
حیرت انگیز طور پر پاکستان اور امریکہ میں کورونا سے نمٹنے کے بارے میں سیاسی بدنظمی اور بے یقینی کا ایک سا ماحول دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گھمنڈ اور سیاسی مقبولیت قائم رکھنے کی کوشش میں کثیر وسائل اور صلاحیتوں کے حامل اس ملک کو کورونا وائرس کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک طرف وائرس کی سنگینی کو سمجھنے سے گریز کیا تو دوسری طرف لاک ڈاؤن کے بارے میں وہی رویہ اختیار کیا جو پاکستان میں عمران خان کا رہا ہے۔ البتہ امریکی صدر کا مسئلہ نومبر کا انتخاب اور اس سے پہلے کسی بھی طرح روزگار کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔ وہ اسی نقطہ نظر سے ڈیمو کریٹک پارٹی اور اس کے گورنروں کے ساتھ مسلسل تصادم کی صورت حال پیدا کرنا اپنے لئے سیاسی طور سے مناسب سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں وفاقی حکومت کا ہدف البتہ سندھ حکومت رہی ہے کیوں کہ باقی صوبوں میں تو تحریک انصاف کی ہی حکومت ہے۔ البتہ اس رویہ کی وجہ سے پاکستانی عوام میں لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے حوالے سے کبھی مکمل شعور پیدا نہیں ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے ملک کے مذہبی لیڈروں نے دباؤ ڈال کر رمضان المبارک میں مساجد کھلوائیں اور اس کے بعد تاجر عید سے پہلے اپنے کاروبار بحال کروانے کے لئے احتجاج کرتے رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک کے تجربہ سے البتہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی ڈسپلن اور فیصلوں میں یکسوئی بے حد ضروری ہے۔ اس وقت تک نہ تو کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسی دوا دستیاب ہوسکی ہے جس سے کورونا وائرس سے لاحق ہونے والے عارضے کا فوری اور مؤثر علاج کیا جاسکے۔ اس لئے فی الوقت حفاظتی اقدامات اور احتیاط ہی اس وائرس سے نمٹنے کا واحد علاج سمجھا جارہا ہے۔ چین اور دیگر ایشیائی ممالک فوری فیصلوں اور انہیں نافذ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اس وائرس کا امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں بہتر مقابلہ کرپائے ہیں۔ پاکستان کا طبی نظام کمزور اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لئے حفاظتی اقدامات پاکستان جیسے ملکوں کے لئے بے حد ضروری تھے۔
اس میں شبہ نہیں ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سماجی دوری کے جن اقدامات کی ضرورت ہے، اس میں تعلیم اور عوامی شعور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم اگر ملکی قیادت اس معاملہ کو سماجی و طبی مسئلہ کی بجائے سیاسی رنگ دینا شروع کردے تو ویسی ہی صورت حال دیکھنے میں آئے گی جس کا مشاہدہ امریکہ میں کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں اب بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے عوام کو کورونا سے بچانے کے لئے انہیں ذہنی طور سے تیا ر کرنا اور ہر ممکن احتیاطی اقدامات کرنا ضروری ہوگا۔
آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کی صورت حال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا عمران خان لاک ڈاؤن کے خلاف اپنا ’مقدمہ‘ جیتنے کے بعد کورونا کے خلاف قومی پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کرسکیں گے؟ اب بھی اگر سیاسی انتشار اور پوائینٹ اسکورنگ کا سلسلہ جاری رہا تو ملک میں کورونا کی صورت حال سنگین ہوسکتی ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker