تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔لا پتہ وزیراعظم اوراٹھارویں ترمیم کی لڑائی

اجداد کی گدی اور جاگیر پر اترانے اور سیاست کرنے والے وزیر خارجہ کے منصب پر فائز شاہ محمود قریشی نے آج سینیٹ میں اپنی سفارتی مہارت کا لازوال مظاہرہ پیش کیا ۔ انہوں نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ حکومت آئین کی اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتی اس لئے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی سانس میں البتہ انہوں نے یہ واضح کردیا کہ حکومت اس ترمیم کے ’برے پہلوؤں‘ کو پسند نہیں کرتی لیکن انہیں تبدیل کرنے کے لئے اس کے پاس دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی جو محاذ جنگ گرم کررہے ہیں، اس پر ان کی حیثیت نقارچی سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ لڑائی نہ شاہ محمود قریشی کی ہے او رنہ ہی عمران خان یا تحریک انصاف کی، لیکن یہ سب ہرکارے جنگ کا میدان گرمانے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہیں جہاں ملک میں ایک بار پھر بے یقینی اور تناؤ کی ایسی کیفیت پیدا ہو جس میں صرف ایک ہی طاقت کے سایہ عافیت میں پناہ لینا واحد اور مناسب ترین حل قرار پائے۔ ملک میں نام نہاد اقتدار تک پہنچنے اور اس پر قائم رہنے کا راستہ چونکہ صرف ایک ہی چھتری تلے سے ہوکر گزرتا ہے ، اس لئے کرسی کی اس دوڑ میں قومی مفاد، عوامی بہبود اور پاکستان کا مستقبل بے معنی اور ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔ ورنہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو ایک کے بعد دوسری آفت کا سامنا ہے تو نیا پاکستان تعمیر کرنے اور پاکستان کے فلاحی نظام کو مدینہ ریاست کے مماثل بنانے کا دعوے دار شخص ، پارلیمنٹ اور منتخب نمائیندوں کی بجائے ایسی طاقت کا زیرنگیں ہوکر کام کرنے پر کیسے تیار ہوسکتا ہے جس کے بنیادی حلف میں سیاست سے گریز اور منتخب حکومت و آئین کی تابعداری درج ہے۔
عمران خان اپنی دیانت داری کو اپنی سب بڑی خوبی سمجھتے ہیں ۔ انہیں ویسے بھی ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ ’صادق و امین‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ عطا کرچکی ہے۔ تاہم دیانت داری کے دعوے میں یہ گمان کرنا ناانصافی اور گمراہ کن رویہ ہوگا کہ کسی ذمہ دار عہدے پر فائز شخص سے اس کی اہلیت و لیاقت، کارکردگی ، لائحہ عمل اور پالیسی کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ کے اجلاس میں شرکت سے گریز کے ذریعے دراصل جوابدہی کے بارے میں اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ طریقہ کار دیانت داری ، جواب دہی اور شفافیت کے مسلمہ اصولوں سے برعکس ہے۔
ملک کے وزیر اعظم خود کو کسی بھی قسم کی تنقید یا سوال و جواب کے لئے پیش کرنا کسرشان سمجھتے ہیں۔ عمران خان سمجھ سکیں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ پارلیمنٹ ہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں انہیں اپنی دیانت اور خلوص نیتی کا ثبوت فراہم کرنا ہوتاہے۔ اگر وہ اس پلیٹ فارم کو عزت و احترام نہیں دیں گے تو ان کی اہلیت کے علاوہ دیانت داری کے بارے میں بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔ دیانت داری کوئی ایسی اصطلاح نہیں ہے جس کی وضاحت کے لئے خالی کھیسہ یا بنک اکاؤنٹ دکھانا کافی ہو۔ حکومت کے سربراہ کے طور پر مسائل سے نمٹنے کا طریقہ اور ناکامیوں کا دیانت داری سے اعتراف کے علاوہ اصلاح احوال کے لئے مناسب مشوروں کو ماننا بھی دیانت داری اور شفافیت ہی کی صفات میں شامل ہوگا۔
سینیٹر شیری رحمان نے آج سینیٹ میں وزیر اعظم کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’ وزیر اعظم لاپتہ ہیں۔ ان کی پالیسی نامعلوم ہے، اتحاد کے لئے ان کا اقرار و اعلان مفقود ہے۔ بتایا جائے وزیر اعظم کہاں ہیں۔ اس ملک کو آخر کون چلا رہا ہے؟‘ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرنے والا لیڈر ذاتی دیانت و ایمان داری کے دعوے کے پیچھے نہیں چھپ سکتا۔ اس سوال کا جواب یوں بھی لازم ہے کہ عمران خان پر نامزد وزیر اعظم ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے جسے وہ خود سول ملٹری اشتراک کی کامیاب کہانی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اور خاص طور سے کورونا وائرس کے خلاف پالیسیاں وضع کرتے ہوئے، امور حکومت پر وزیر اعظم کی دسترس کے بارے میں سنگین شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں وہ ان شبہات کو دور کرنے کا اہتمام کرسکتے تھے۔ لیکن دوسروں کی بے ایمانی اور اپنی ایمان داری کے زعم میں وہ پارلیمنٹ کو حقیر اور اپنی شان سے کم تر لوگوں کا اجتماع تصور کرتے ہیں۔ اس معاملہ کے دونوں پہلوؤں کو ایمانداری کی وسیع ترتفہیم کے ساتھ سمجھا جائے تو عمران خان کو اپنے کردار کی اس اکلوتی خوبی کے بارے میں حقیقی تشویش لاحق ہونی چاہئے۔
عمران خان کو پارلیمنٹ نے اعتماد کا ووٹ دے کر وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ اگر وہ اس معیار کی بجائے کسی دوسرے اشتراک کی وجہ سے خود کو ملکی قیادت کا اہل سمجھتے ہوئے پارلیمنٹ کو نظر انداز کررہے ہیں تو وہ اپنے آئینی حلف اور ووٹروں سے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی کے مرتکب کہے جائیں گے۔ ایسے وعدہ خلاف کو ایمانداری کی کس تعریف کے مطابق دیانت دار تصور کیا جائے گا؟ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ آئینی لحاظ سے اس ملک کا اعلیٰ ترین اور سب سے بااختیار ادارہ ہے لیکن عمران خان کی سربراہی میں حکومت نے اسے بے اختیا ر بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اسی صورت حال کی وجہ سے سینیٹ میں اپوزیشن کے لیڈر راجہ ظفرالحق کو یاد دلانا پڑا کہ پارلیمنٹ ہی وہ اہم ترین ادارہ ہے ، صلاح و مشورہ کے لئے جس سے رجوع کرنا حکومت کا فرض ہے۔ حکومت کے دیانت دار سربراہ کو بتانا چاہئے کہ وہ کون سی اہم ذمہ داریاں ہیں جو پارلیمنٹ میں شرکت سے زیادہ اہم سمجھی جارہی ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب ملک کو ایک طرف کورونا بحران کا سامنا ہے اور دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر اپنا دعویٰ مستحکم کرنے کے لئے سفارتی اور ٹیکٹیکل اقدامات شروع کئے ہیں۔ ان میں سے ایک بھارت کے سرکاری ٹی وی دور درشن کی نشریات میں آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کے موسم کا احوال بتانا شامل ہے۔ یہ شرانگیز اقدام مقبوضہ کشمیر سمیت تمام کشمیری علاقے کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے کی بھارتی پالیسی سے متصادم ہے۔ اس سے پہلے بھارت کے سیاسی و فوجی لیڈر طاقت کے زور پر آزاد کشمیر کو پاکستان سے چھین لینے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ بھارت کی اس اشتعال انگیزی کا جواب سینیٹ میں شاہ محمود قریشی کی دھؤاں دار تقریر یا وزیر اعظم کے جذباتی ٹوئٹ پیغامات سے نہیں دیاجاسکتا۔ اس مقصد کے لئے پوری قوم کو متحد ہونے، اختلافات ختم کرنے اور بھارتی جارحیت کے خلاف یک آواز ہونے کی ضرورت ہوگی۔
حکومت اس قومی اتحاد کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ پہلے کورونا وائرس کے حوالے سے مسلسل سندھ حکومت کو نشانہ بنا کر اشتراک و تعاون کے نادر موقع کو سیاسی دنگل اور الزام تراشی میں تبدیل کیا گیا۔ پھر وزیر خارجہ نے قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں پیپلز پارٹی پر صوبائی عصبیت پھیلانے کا الزام لگا کر آگ بھڑکانے کی کوشش کی ۔ اس دوران وزیر اعظم سے لے کر ان کے تمام چہیتے وزیروں نے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں تبدیلی کو قومی منصوبہ کے لئے ضروری قرار دینا شروع کیا۔ عمران خان خود اپنے گریبان میں جھانکیں اور بتائیں کہ کیا اسی طرح وہ قوم کو بھارت جیسے دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار کریں گے؟ اور کیا لاک ڈاؤن سے لے کر مالی وسائل کی تقسیم کے معاملات پر بٹی ہوئی قوم ایک عیار دشمن کی چالاکی اور جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
اٹھارویں ترمیم کے خلاف اسد عمر، شبلی فراز اور شاہ محمود قریشی کی حیثیت ڈھنڈورچی سے زیادہ نہیں ہے۔ ملک کی اسٹبلشمنٹ 2010 میں کی گئی اس ترمیم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس ترمیم پر تحفظات ظاہر کرچکے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ عسکری ادارے اس ترمیم میں تبدیلی کے ذریعے وفاق کی طاقت میں اضافہ کے خواہاں ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ رائے عامہ ہموار کرنے کے بعد سیاسی تائد و حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ قیاس ہے مسلم لیگ (ن) کو خدمت کا موقع دیا گیا تو وہ سر کے بل ماضی کی ’غلطی‘ کی تلافی پر تیار ہوگی۔ لیکن کیا موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کا یہی مناسب ترین طریقہ ہے۔ کیا اسی طرح وہ قوم تیار کی جائے گی جو کوروناکو بھگانے کے علاوہ ، بھارتی جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرے گی؟
وفاق مضبوط کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقے کو نام نہاد ون یونٹ ذہنیت کہا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی کو مشرقی پاکستان گنوانے کے باوجود 2010 تک اپنایا گیا۔ دوسرا طریقہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ یعنی صوبوں کو احترام دیا جائے اور تعاون و اشتراک کی فضا پیدا کرکے وفاق کو مضبوط کیاجائے۔ وفاق کو فوجی طاقت اور دھونس کی بنیاد پر مضبوط کرنے کی کوئی کوشش فی زمانہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جو سیاسی عناصر وقتی ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے نوشتہ دیوار پڑھنے سے گریز کررہے ہیں ، وہ دراصل اسی شاخ کو کاٹنے کا سبب بن رہے ہیں جس پر ان کا آشیانہ ہے۔
پاکستان کی سالمیت، اتحاد اور حفاظت صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے اور تمام علاقوں کے احساس محرومی کو ختم کرکے ہی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ للہ اس شاخ کو کاٹنے سے گریز کریں جو اس ملک کے اتحاد اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ عسکری طاقت یا ایٹم بم سے کسی قوم کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker