سید مجاہد علیکالملکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔سنتھیا رچی کے الزامات اور ایف آئی اے کی مجبوری

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد سیشن کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ امریکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف شکایت درج کرنے سے متعلق اسلام آباد پیپلز پارٹی کے صدر شکیل عباسی کی درخواست مسترد کردے۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ صرف کوئی ایسا شخص ہی مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے سکتا ہے جو کسی کے الزامات سے براہ راست متاثر ہؤا ہو۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ شکیل عباسی کا بے نظیر بھٹو سے کوئی رشتہ نہیں ہے، اس لئے وہ بے نظیر بھٹو کے خلاف سنتھیا رچی کے الزامات سے متاثرہ افراد میں شامل نہیں ہیں۔ اس دوران میڈیا میں ایف آئی اے کے نام سنتھیا رچی کے ایک مکتوب کے مندرجات سامنے آئے ہیں۔ اس خط میں سنتھیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ چند برس سے ملٹری ایجنسیوں کے تعاون سے پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں تحقیقات کرتی رہی ہے۔ اس تحقیق کے دوران پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ’ ملک دشمن سرگرمیوں‘ پر استوار روابط کے شواہد سامنے آئے تھے۔ اس طرح اس خاتون نے پیپلز پارٹی کے لیڈروں پر اخلاقی نوعیت کے الزامات کے بعد اب قومی سلامتی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ الزام کسی ٹوئٹ پیغام، ٹی وی انٹرویو یا تحریر میں عائد نہیں کیا گیا بلکہ جرائم کا قلع قمع کرنے والے ملک کے سب سے بڑے ادارے ایف آئی کے نام خط میں یہ الزام لگایا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی ملک کی دوسری اہم ترین اپوزیشن پارٹی ہے۔ یہ سندھ میں بر سر اقتدار ہے۔ اس پر اگر کوئی غیر ملکی شہری ’ملک دشمن سرگرمیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے تو ایف آئی اے کے علاوہ تمام اہم ریاستی ایجنسیوں کو نہ صرف ان الزامات کی تحقیقات کرکے اصل صورت حال سے عوام الناس کو آگاہ کرنا چاہئے بلکہ یہ بھی بتانا چاہئے کہ یہ الزام عائد کرنے والی خاتون کون ہے اور وہ کس بنیاد پر ملک میں قیام پذیر ہے۔ ریاست یا حکومت کے کون سے بااختیار عناصر یا افراد اس کی پشت پناہی کرتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اسے اچانک پیپلز پارٹی کی مرحومہ لیڈر کے علاوہ موجودہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اہم لیڈروں پر کیچڑ اچھالنے اور الزام تراشی کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔
پانامہ کیس میں قائم ہونے والی جے آئی ٹی کے سربراہ کے طور پر شہرت پانے والے واجد ضیا اس وقت ایف آئی اے کے ڈائیریکٹر جنرل ہیں۔ انہیں حال ہی میں ایک بار پھر چینی اسکینڈل میں شوگر کارٹل کی سرگرمیوں کا راز ’فاش‘ کرنے پر داد و تحسین وصول ہوئی ہے۔ پاناما کیس میں جے آئی ٹی کی سربراہی کے دوران انہوں نے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائیندوں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا اور طویل جستجو کے بعد دبئی میں رجسٹر ایک ایسی کمپنی کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوگئے تھے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے کی ملکیت تھی اور انہوں نے جلا وطنی کے دنوں میں اس کمپنی کے ملازم کے طور اپنے والد کو متحدہ عرب امارات کا اقامہ دلوا دیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس اقامہ اور متعلقہ کمپنی میں ملازمت کے دوران نہ ملنے والی تنخواہ کو ’آمدنی‘ کے طور پر ظاہر نہ کرنے پر فیصلہ دیا تھا کہ نواز شریف ملکی آئین کی شق 62 کے تحت صادق و امین نہیں رہے۔ اس طرح ایک منتخب وزیر اعظم کو بیک جنبش قلم ان کے عہدے سے فارغ کرکے تاحیات کوئی عہدہ لینے کا نااہل قرار دیا گیا تھا۔
ایسے لائق اور ملک کی اعلیٰ ایجنسیوں سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک افسر کی نگرانی میں کام کرنے والا ادارہ ایف آئی اے اب پیپلز پارٹی کی اس شکایت کو تو مسترد کررہا ہے کہ ایک غیر ملکی خاتون ان کی شہیدلیڈر اور دو بار وزیر اعظم رہنے والی خاتون پر گھٹیا اخلاقی الزامات عائد کررہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ شکیل عباسی کا بے نظیر سے کیا رشتہ ہے کہ وہ سنتھیا رچی کے الزامات پر سیخ پا ہیں؟ لیکن اس خاتون کی طرف سے ملک کی سلامتی کے حوالے سے عائد ہونے والے الزامات پر رد عمل دینے کی بجائے اس خط کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر معاملہ کو دبانا ضروری سمجھتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں سنتھیا کے خط بنام ایف آئی اے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان کی روشنی میں سب سے پہلے ا س ملک کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو یہ جواب دینا چاہئے کہ جن ملک دشمن سرگرمیوں کا سراغ امریکہ سے آئی ہوئی ایک نامعلوم شناخت اور صلاحیت والی خاتون لگانے میں کامیاب ہوگئی، ان کے بارے میں یہ تمام ادارے کیوں ملک و قوم کو بتانے اور متعلقہ پارٹیوں کی سرگرمیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں؟
اس کے علاوہ ان ’فوجی اداروں‘ کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ کیا اب وہ ملک کی سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کے بارے میں غیر ملکی خواتین کے ذریعے تحقیقات کرواکے اور پھر مختلف طریقے سے ان کے پروپیگنڈا کا اہتمام کرکے قومی مفادات کی حفاظت کریں گے۔ ان فوجی اداروں کو یہ جواب بھی دینا پڑے گا کہ حساس معاملات پر سنتھیا رچی نامی خاتون کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کیا اس خاتون کی سیکورٹی کلیرنس کرلی گئی تھی۔ کیا یہ پتہ لگا لیا گیا تھا کہ یہ خاتون کون ہے، اس کا پس منظر کیا ہے، وہ کن مقاصد سے اور کیوں دس برس پہلے پاکستان آئی تھی۔ اسے پاکستان لانے اور یہاں پر اعلیٰ شخصیات سے ملوانے کا اہتمام کرنے والا کون تھا اور کس بنیاد پر اسے ملک کی سیاسی تنظیموں کے بارے میں ’تحقیقات‘ کا نازک کام سونپا گیا تھا۔ اب یہ معلومات ایف آئی اے کے نام سنتھیا رچی کے خط کی صورت میں سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس لئے ایف آئی اے سمیت ہر سرکاری ادارہ اس حوالے سے اپنے کردار اور کارکردگی سے آگاہ کرنے کا پابند ہے۔
پاکستان کو سیکورٹی کے حوالے سے گوناں گوں اندیشوں کا سامنا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں کی ایجنسیاں یہاں سرگرم رہتی ہیں اور ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے کام کرتی ہیں۔ اس لئے کسی امریکی شہری کی پاکستان آمد اور پھر یک بیک اعلیٰ ترین افراد اور اداروں تک رسائی بجائے خود ایک سنگین معاملہ ہے جس سے ملکی مفادات کی حفاظت کرنے والے اداروں کی صلاحیت ، کارکردگی، طریقہ کار اور نیت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایف آئی اے کے پاس یہ سنہرا موقع تھا کہ وہ ایک شہید قومی لیڈر پر ایک غیرملکی خاتون کے بے سر و پا الزامات کے بعد اپنے طور پر اس کی تحقیقات کا آغاز کرتی اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا جاتا۔ اس کے برعکس عدالت کی طرف سے جب یہ پوچھاجاتا ہے کہ اس معاملہ پر ایف آئی اے کیوں شکایت درج نہیں کی گئی تو ایف آئی اے نوکر شاہی کا پرانا ہتھکنڈا استعمال کرتے ہوئے قانونی موشگافیوں کا سہارا لینے کی کوشش کررہی ہے۔ کیا ایف آئی ا ے پر بطور ادارہ یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ایک غیر ملکی کی طرف سے قومی قیادت کو بدنام کرنے کی مہم جوئی کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ اگر ایسا کوئی سنگین جرم ہؤا جس کی سزا بہر طور ملنی چاہئے تو شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ متعلقہ افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔ اور اگر کسی خاص مقصد سے ایک غیر ملکی شہری کو ایک خاص پارٹی کو ٹارگٹ کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے تو ان درپردہ ہاتھوں کا سراغ لگایا جائے۔
پیپلز پارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف سنتھیا رچی کے ریمارکس ، ان الزامات کی گونج محسوس ہوتے ہیں جو ایک زمانے میں پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کو ’سیکورٹی رسک‘ قرار دے کر عائد کئے جاتے تھے۔ اسی طرح جہاں تک اس ملک کے عام شہریوں کا تعلق ہے وہ پشتون تحفظ موومنٹ کو پشتون نوجوانوں کی ایک ایسی تحریک کے طور پر جانتے ہیں جو ناانصافی اور ماورائے قانون اقدامات کے خلاف جد و جہد کے لئے سامنے آئی ہے۔ ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں کو ضرور اس تحریک کے بارے میں تحفظات رہے ہیں لیکن پاک فوج کے ترجمان پی ٹی ایم کے لیڈروں کو اپنے ’بچے‘ قرار دے کر ان کی شکایات کو درست بھی تسلیم کرتے رہے ہیں۔ اس تحریک کے خلاف کوئی باقاعدہ الزام عائد کرکے اسے کسی عدالت میں ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ اس کے برعکس پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر دوٹوک الفاظ میں خود کو آئین پاکستان کا وفادار کہتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ پشتون نوجوانوں کو مقدمہ چلائے بغیر اٹھانے کی بجائے ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلا کر سزائیں دلوائی جائیں تاکہ ریاستی اداروں کی تشویش بھی دور ہوجائے اور نوجوانوں کو بھی یہ یقین ہو کہ ملک کا عدالتی نظام انہیں انصاف فراہم کرے گا۔
ملک کے ادارے اگر ایک پر امن سیاسی تحریک کے علاوہ پچاس برس سے ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے والی ایک پارٹی کے خلاف ایک غیر معروف خاتون کو الزام تراشی کا موقع فراہم کریں گے۔ ملکی میڈیا اور عوام ریٹنگ یا سماعت کی لذت کے لئے ان الزامات کو شہرت دینے کا سبب بنیں گے تو کون ہے جو واقعی قومی مفادات کا نگہبان بن کر سامنے آئے گا۔ پگڑیاں اچھالنے اور الزام تراشی کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بننے والے ریاستی ادارے درحقیقت ملک کی شہرت اور عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ سنتھیا رچی کے الزامات کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور ہمدردوں کی بجائے ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سنتھیا رچی کے بارے میں حقائق سامنے لائیں اور یہ واضح کریں کہ ایک امریکی خاتون کو پاکستانی سیاست میں کردار ادا کرنے کا ’ٹھیکہ‘ دینے والا درحقیقت کون ہے۔
یہ خاتون اگر ذاتی حیثیت میں سرگرم ہے تو کیا ایجنسیوں اور سرکاری اداروں کو تشویش نہیں ہونی چاہئے کہ ایک پراسرار خاتون کیوں اچانک پاکستانی سیاست دانوں کا ’کچا چٹھا‘ کھولنے کے مشن پر گامزن ہے۔ سنتھیا رچی کے وطن امریکہ میں تمام سرکاری ادارے امریکی جمہوری نظام میں روس ، چین یا کسی غیر ملکی طاقت کی مداخلت روکنے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ کیا پاکستانی اداروں کو بھی اس سے کچھ سبق سیکھنا چاہئے؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker