تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔عمران خان کی دیانت اور خود احتسابی کا پول کھل چکا ہے

وزیر اعظم عمران خان نے آج قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پسماندہ علاقوں پر توجہ دینے کے علاوہ ایسے شعبوں میں سرمایہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جہاں نوجوانوں کے لئے روزگار کے امکانات پیدا ہوں۔ اس کے علاوہ شعبہ صحت کو ترجیح دینے اور وزیر اعظم کے الفاظ میں ’اپ گریڈ‘ کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ آج ہی پیرس کلب سے وابستہ ممالک نے کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کو واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے بجٹ کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا جس میں ترقیاتی منصوبوں پر مصارف کا جائزہ لیا گیا اور ان منصوبوں پر غور کیا گیا جن پر مستقبل میں سرمایہ کاری کی جاسکے گی۔ اجلاس کے دوران یہ بات بھی واضح ہوئی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے حکومت کے متعدد اقتصادی اقدامات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے سخت کوشش کے بعد قومی معیشت کو درست کرنے کے لئے اقدامات کئے تھے لیکن کورونا بحران کی وجہ سے ان تمام کوششوں پر پانی پھر گیا۔ کورونا وائرس نے عالمی سطح پر انسانی صحت اور ممالک کی معیشت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے ہیں۔ وبا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں سے پوری دنیا میں معیشت کا پہیہ جام ہوگیا ۔ اس طرح پیدا واری صلاحیت اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ یہ منفی معاشی صورت حال امیر غریب ہر طرح کے ممالک کے لئے یکساں طور سے تکلیف دہ اور مشکلات کا سبب بنی ہے۔ تاہم پاکستان جیسے قرضوں اور بیرونی امداد پر انحصار کرنے والے ملک کی ناکام حکومت کورونا بحران کو اپنی نااہلی کے عذر کے طور پر استعمال کررہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت پونے دو سال کے دوران کسی بھی شعبہ میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ حتیٰ کہ کرپشن کے خاتمہ کا وعدہ جو چند ماہ پہلے تک عمران خان اور حکومتی نمائیندوں کا مرغوب نعرہ رہا ہے، اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر سیاست کرنے اور وزیر اعظم سمیت ان کے وزیروں مشیروں نے باقاعدگی سے کرپشن کو سیاسی اپوزیشن کی کردار کشی کے لئے ضرور استعمال کیا لیکن شریف و زرداری خاندان سمیت تمام سیاسی لیڈروں کے خلاف جن مقدمات پر قومی احتساب بیورو نے سرگرمی دکھائی، گرفتاریاں کیں اور یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ لوٹی ہوئی قومی دولت ہر قیمت پر واپس قومی خزانے میں لائی جائے گی، وہ تمام مقدمات کئی کئی دہائی پرانے تھے جو اس وقت کی سیاسی رسی کشی کی وجہ سے ایک دوسرے پر قائم کئے گئے تھے۔ ان میں سے کئی مقدمات پر تو عدالتی حکم کے تحت کارروائی بھی بند کردی گئی تھی لیکن بدلتے ہوئے سیاسی ماحول اور ایک پاک باز ، نیک طینت اور بدعنوانی پر مفاہمت نہ کرنے والے لیڈر کی امیج بلڈنگ کے نقطہ نظر سے ان پرانے مقدمات کو تازہ دم کرکے ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس سے یہ تاثر قوی تر ہوجائے کہ عمران خان اقتدار کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں لیکن کسی بدعنوان کے ساتھ مفاہمت نہیں کریں گے۔ سچائی اس کے برعکس ہے۔
اپوزیشن کی کردار کشی اور عمران خان کی شخصیت کو قد آور اور اصول پرست دکھانے کے لئے اگست 2018 میں تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے میڈیا کو تسلسل سے استعمال کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ اپوزیشن لیڈروں پر لگائے جانے والے الزامات سو فیصد درست ہیں اور انہیں ان الزامات کی سزا مل کررہے گی۔ عدالتوں میں الزامات لے جانے اور کرپشن کے دعوے درست ثابت کرنے کی بجائے ، اس کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے میڈیا کابازو مروڑ کر اسے سرکار کا تابع فرمان کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ جنگ گروپ سے ناراضی کےاظہار اور پرانی عداوت کا بدلہ لینے کے لئے اس کے مالک و ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کو تین ماہ سے تیس سال پرانے جائیداد کے ایک مقدمہ میں نیب کی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے خلاف الزامات عائد کرنے اور عدالتی کارروائی آگے بڑھانے کی بجائے نیب اور حکومت کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ قید میں رہیں تاکہ کرپشن کے بیانیہ کو کسی ثبوت کے بغیر فروخت کرکے سیاسی فائدہ حاصل کیاجاسکے۔ میر شکیل الرحمان کے علاوہ بیشتر سیاسی لیڈروں کو طویل مدت تک تفتیش کے نام پر گرفتار رکھ کر ملک میں سیاسی انتقام کی بد تر ین مثال قائم کی گئی ہے۔ ان حربوں سے یہ پیغام عام کیا جارہا ہے کہ سرکار کی اطاعت گزاری ہی نئے پاکستان میں ’آزادی رائے‘ کہلائے گی۔ ملک کے پرائیویٹ میڈیا کو دھونس، دھمکی اور لالچ کے ذریعے، سرکاری مؤقف کا ترجمان بنایا گیا ہے۔
اس دوران البتہ تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے باوجود ان سیاسی لیڈروں کے خلاف کوئی نیا مقدمہ قائم کرنے، مؤثر تحقیقات کروانے اور بدعنوانی کے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی واحد کامیابی نیب کے مردہ جسم میں جان ڈال کر اسے انتقام کے لئے استعمال کرنا ہے۔ اس معاملہ میں عمران خان صرف ایک اصول کو مانتے ہیں کہ مخالف سیاسی قوتوں کو نیچا دکھانے اور کمزور کرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا جاسکتا ہے۔ مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف عمران خان کا بلند قامت بت استوار کرنا ہے ۔ تاہم نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اور بیرون ملک روانگی کے علاوہ اب شوگر اسکینڈل میں اپنا اور اپنے ساتھیوں کا احتساب کرنے کی بجائے سابقہ حکومتوں پر الزام عائد کرکے آگے بڑھنے کے طریقہ نے عمران خان کی سچائی اور دیانت داری کا بھرم کھول دیا ہے۔ ہیرو پرستی میں مبتلا عمران خان کے حامی کبھی نہ دلیل سنیں گے اور نہ ہی حقائق تسلیم کریں گے لیکن ’فورنزک رپورٹ‘ کے نام پر شوگر اسکینڈل میں اپنے ساتھیوں کو محفوظ رکھنے کے بعد اب گزشتہ 25 برس کے دوران سبسڈی دینے اور شوگر کارٹل کی لاقانونیت کا جائزہ لینے کے لئے نیب، ایف آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں کو تحقیقات کرنے کا مشورہ دیاگیا ہے۔
اس سال کے شروع میں چینی اور گندم کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ حکومت میں شامل عناصر نے مصنوعی قلت پیدا کرکے غیر معمولی منافع خوری کی تھی۔ شروع میں خاموش رہنے کے بعد غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے وزیر اعظم کو تحقیقات کروانے کا حکم دینا پڑا۔ اس کے بعد سے اس معاملہ کو مسلسل عمران خان کی دیانت اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ روز ریاستی اداروں کو شوگر اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا پیغام دیتے ہوئے ، ایک بار پھر اسے کرپشن کے خلاف عمران خان کے عزم کی مثال بنا کر پیش کیا گیا۔ حالانکہ عمران خان اگر واقعی احتساب پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں بتانا چاہئے کہ ملک میں شکر کی کمی کے باوجود حکومت نے اسے برآمد کرنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم خود ملوث ہیں لیکن وہ خود احتسابی کی بجائے الزام تراشی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور اسے ہی دیانت داری کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ صریح دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی ہے۔
اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے شکر برآمد پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس طرح وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہئے اور مل مالکان یا سابقہ حکومتوں پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنے فیصلوں کے افسوس ناک نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ لیکن عمران خان خود احتسابی نام کی اصطلاح سے ناآشنا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کا سامنا کرنے اور تحریک انصاف اور اس کے چئیرمین کا نام صاف کروانے کی بجائے، اس معاملہ کو التوا میں ڈالنے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اسی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پشاور میٹرو پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ، بےقاعدگی اور گھپلوں کی تحقیقات کرنے اور خیبر پختون خوا حکومت کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین کے خلاف دھول اڑا کر اپنے ہاتھ صاف دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن شوگر اسکینڈل میں عمران خان کے طرز عمل سے یہ سارا معاملہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔
عمران خان اپنے ہی بلند کئے ہوئے نعرے کے مطابق اپنے کردار کو پرکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی حکومت میں شامل متعدد لوگوں کو کرپشن الزامات کا سامنا ہے لیکن نیب ’وسیع تر ‘ قومی مفاد کے نام پر ان کے خلاف کارروائی کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ واضح ہورہاہے کہ عمران خان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے لیکن انہیں قوم کے سامنے یہ اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں کہ وہ بے اختیار ہیں اور ان سے کسی قومی منصوبہ کی توقع نہ کی جائے۔ عمران خان جزوی طور سے 2018 کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں کی گئی انجینئرنگ سے برسر اقتدار آنے کے بعد ، ڈلیور کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں کہ اب ان کے پاس بیان دینے اور پروٹوکول لینے کے سوا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ سچائی مزید کیسے واضح ہوگی کہ عمران خان کا واحد مقصد اقتدار حاصل کرنا تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ ان میں تو اپنی بے اختیاری کا اعتراف کرنے اور ایک ایسے عہدہ سے علیحدہ ہونے کا حوصلہ بھی نہیں ہے جو اعزاز کی بجائے تہمت بن چکا ہے۔
ان حالات میں وزیر اعظم قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں جو بھی کہیں ، وہ بے مقصد اور زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ قرضوں اور خیرات پر بنائے گئے بجٹ میں ملک کے نظام صحت کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کی بہبود کے منصوبے شروع کرنے کے دعوے خود فریبی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker