تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس: جیت کس کی ہوئی

سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف مس کنڈکٹ کا صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا ہے۔ جج صاحب کو جاری ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کےشو کاز نوٹس کو بھی ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بنچ نے البتہ انکم ٹیکس کمشنر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں سے برطانیہ میں خریدی گئی املاک کے بارے میں معلومات حاصل کرکے دو ماہ کے اندر باقاعدہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقدمہ کی سماعت کے دوران اگرچہ حکومت نے اس معاملہ کو اپنی انا کا سوال بنایا ہؤا تھا اور وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے تند و تیز لہجہ بھی اختیار کیا تھا لیکن اس بات کی تحسین کی جانی چاہئے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اطمینان بخش کہا ہے۔ اور واضح کیا کہ وزیر اعظم سمیت حکومت کا ہر رکن عدالت کی خود مختاری پر یقین رکھتا ہے۔ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے۔ جمہوریت کے آئینی طریقہ میں ایسا ہوتا ہے‘۔ انہوں نے سپریم کو کے فیصلہ کو ’دانشمندانہ‘ قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر شہزاد اکبر کی باتیں اس لئے بھی قابل قدر ہیں کہ اثاثے واگزار کروانے اور انہیں سرکاری خزانے میں واپس لانے والے جس یونٹ (اے آر یو) کی قانونی حیثیت سماعت کے دوران خاص طور سے زیر بحث رہی تھی، وہ خود اس کے سربراہ ہیں۔
حکومت کی طرف سے عدالت عظمی کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اب حکومت اور اس ریفرنس کی تیاری میں سرگرمی دکھانے والے کابینہ کے تمام ارکان اپنی غلطیوں پر شرمساری محسوس کریں اور مستقبل میں اس معاملہ کے علاوہ کسی بھی ’ناپسندیدہ‘ جج کے خلاف غیر قانونی ہتھکڈے اختیار کرتے ہوئے نامناسب الزامات عائد کرنے اور کردار کشی کی مہم چلانے کی کوششوں سے گریز کریں۔ حکومت نے اگر اس فیصلہ سے یہ سبق سیکھ لیا تو اسے عدالت عظمی کے اس فیصلہ کی بڑی کامیابی قرار دیا جائے گا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے صرف مختصر حکم جاری کیا ہے اور اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے جس میں ان تمام پہلوؤں پر گفتگو متوقع ہے جن پر دوران سماعت بنچ میں شامل فاضل جج حضرات ریمارکس دیتے رہے ہیں۔ ان میں ملک میں احتساب کی صورت حال اور اثاثے واگزار کروانے والے یونٹ کی قانونی حیثیت کے معاملات شامل ہیں۔
اپوزیشن کی7 جماعتوں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں، نے اس فیصلہ کو عدلیہ کی آزادی کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ اس فیصلہ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم نے بدنیتی کی بنیاد پر ایک معزز جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا لیکن اس کی بنیاد کھوکھلی اور تعصب پر مبنی تھی۔ اپوزیشن کے اس مطالبہ کو سیاسی بیان سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ عدالت عظمی نے جو مختصر حکم جاری کیا ہے اس میں حکومت کی بدنیتی کے معاملہ کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا بلکہ اصل شکایت کو نمٹانے اور اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے اقدام کا حکم دیاہے جس کی بنیاد پر اس ریفرنس کو تیار کیا گیا۔ مختصر حکم اگرچہ واضح اور دو ٹوک ہے لیکن اس کی بنیاد پر صدر مملکت اور وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنا قبل از وقت ہے۔
امید کرنی چاہئے کہ حکومت اب خود بھی اس معاملہ سے باہر نکلنا چاہے گی اور اپنے سوشل میڈیا حواریوں کے ان تبصروں اور جائیزوں کو پالیسی سازی کی بنیاد بنا کر ایسا کوئی نیا فیصلہ نہیں کیاجائے گا جس کی وجہ سے حکومت اور اس کے سربراہ کو نئی خفت کا سامنا کرنا پڑے ۔ اور استعفوں کا مطالبہ اپوزیشن بیان کی بجائے عوامی مطالبہ بن جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یہ معاملہ صرف اس بنیاد پر عدالت عظمیٰ میں لے کر گئے تھے کی کسی جج کو اپنی خود کفیل اہلیہ اور خود مختار بچوں کی آمدنی اور املاک کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مختصر حکم میں ریفرنس مسترد کرنے کے علاوہ مسز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدنی اور اثاثوں کا معاملہ مجاز اتھارٹی کو بھجوا کر دو باتیں واضح کی گئی ہیں:
1)جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف گزشتہ برس دائر کیا گیا صدارتی ریفرنس درست نہیں تھا اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل نے غلط طور سے شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔
2)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ خود کفیل ہیں اور انہوں نے اگر اپنے مالی وسائل سے بیرون ملک کوئی املاک خریدی ہیں تو اس بارے میں ان کے شوہر سے استفسار کرنے کی بجائے براہ راست مسز قاضی سے سوال کیا جائے اور متعلقہ شواہد حاصل کرکے فیصلہ کیا جائے۔
اس حکم سے عدالت نے حکومت کی اس دلیل کو بے وزن اور ناقابل قبول قرار دیاہے کہ جج کے عہدہ کا وقار بحال کرنے کے لئے کوئی بھی جج اپنی اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کے بارے میں جوابدہ قرار دیا جائے گا اور اگر اس نے ان اثاثوں کو اپنے ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا تو اس پر مس کنڈکٹ کا الزام عائد کرکے اسے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے حکومت نے نہ صرف ایک مشکوک شخص کی فراہم کردہ ناقص معلومات کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیا بلکہ اس ریفرنس پر کوئی باقاعدہ کارروائی سے پہلے ہی کابینہ کے اراکین نے سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے خلاف الزام تراشی کی سنگین مہم چلائی۔ اس طرح کسی مجاز ادارے کے باقاعدہ فیصلہ سے پہلے ہی معزز جج کو بدعنوان اور عہدے کا نااہل قرار دینےکی کوشش کی گئی۔
اس معاملہ میں یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر عجلت میں شو کاز نوٹس جاری کرکے اس تاثر کو قوی کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی منصوبہ کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بارے میں شبہات کا اظہار کرچکے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف مئی 2019 میں موصول ہونے والے ریفرنس پر جولائی میں ہی کارروائی شروع کردی تھی حالانکہ اس وقت بھی کونسل کے پاس متعدد دوسرے ججوں کے خلاف درخواستیں موجود تھیں۔ اگر باقی تمام شکایات کو نمٹا کر اس صدارتی ریفرنس پر کارروائی ہوتی ، پھر بھی اسے جائز کہا جاسکتا تھا۔ لیکن ترجیحی بنیادوں پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی شروع کرکے اس تاثر کو قوی کیا گیا کہ طاقت ور عناصر ان کی خود مختاری کی وجہ سے اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ وہ اگست 2023 میں 14 ماہ کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ججوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کو نمٹانے کا ایک واضح طریقہ مقرر ہونا چاہئے جس کا اطلاق تمام شکایات پر ہو۔ کونسل کو یہ اختیار استعمال کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے کہ وہ زیر التوا معاملات کو نظر انداز کرکے کسی تازہ شکایت پر ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرلے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بارے میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اس حکم سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ’گرفت‘ میں لے لیا گیا ہے۔ اب وہ پہلے ایف بی آر کو مطمئن کریں گے، پھر سپریم جوڈیشل کونسل کو جوابدہ ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں طے کیا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ اپنے سو موٹو اختیار کے تحت خود چاہیں تو جج صاحب کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ فیصلہ کی یہ تفہیم ناقص کہی جاسکتی ہے۔ فیصلہ میں جسٹس عیسیٰ کو صدر مملکت کی طرف سے لگائے گئے الزام سے بری کیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی اہلیہ کو اپنے اثاثوں کی منی ٹریل متعلقہ حکام کو فراہم کرنے کا حکم ضرور دیا ہے لیکن ا س کی واحد وجہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے جج یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ سپریم کورٹ کا جج اور اس کے لواحقین بھی دیگر شہریوں کی طرح جوابدہ ہیں۔ ایف بی آر کو جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کے اثاثوں کے بارے میں رپورٹ دینے کا پابند کرکے ایک طرف ججوں کی جوابدہی کے اصول کو نمایاں کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس شبہ کو دور کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو خود کفیل بیوی کے اثاثوں کا جوابدہ قرارنہیں دیا جا سکتا ۔
یہ معاملہ ایک سال سے زائد مدت تک ملکی سیاست میں موضوع بحث رہا ہے۔ اس دوران عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی مدعی نہیں تھے بلکہ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے وکیلوں نے بھی اس ریفرنس کے خلاف دلائل دیے تھے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کی ہار جیت نہیں ہے لیکن اس نے عدلیہ کی خود مختاری کو مستحکم کیا ہے اور حکومت کو اس معاملہ سے باعزت طور سے باہر نکلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم اگر ایک بار پھر انکم ٹیکس حکام اور ایف بی آر کے ذریعے معاملہ کو الجھا کر ایک عدالتی معاملہ پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے حکومت کی ساکھ اور نیک نیتی متاثر ہوگی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker